ہمارا سید بھی چل بسا (3) - عارف الحق عارف

منور بھائی کی شخصیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی کشش رکھی تھی کہ ان سے جو بھی ملتا، متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ جمعیت ان کی پہلی اور آخری محبت تھی۔ وہ یوں تو 1968ء میں جمعیت سے فارغ ہوگئے تھے اور عملی طور پر ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہا تھا، لیکن انہوں نے خود کو کبھی اس سے الگ نہیں سمجھا۔ جمعیت نے جب بھی ان کو یاد کیا، انہوں نے لبیک کہا۔ وہ اس کی تربیت گاہوں اور سالانہ اجتماعات میں شرکت کرتے اور اپنی ایمان افروز تقریروں سے کارکنوں میں اسلام کےلیے کام کرنے کا نیا جذبہ اور تڑپ پیدا کرتے۔ انہوں نے زندگی بھر اس تعلق کو قائم رکھا اور جمعیت کی قیادت اور کارکنوں نے بھی ہمیشہ ان کو اپنا رہبر اور قائد سمجھا۔ ان کی جمعیت سے اس لا زوال محبت کی وجہ ان کا یہ احساس تھا کہ وہ اسلام کی حقانیت سے اسی کی وجہ سے واقف اور مالا مال ہوئے تھے۔ جمعیت نہ ہوتی تو اسلام کی روشنی سے وہ روشناس نہ ہوتے اور زندگی بائیں بازو کے نظریات کی نذر ہوجاتی۔

منور بھائی،محمد آصف صدیقی کا بڑا احترام کرتے اور ان کو اپنا محسن تصور کرتے تھے جن کی وجہ سے وہ سرخ لکیر پار کرکے سبز دائرے میں داخل ہوئے تھے۔ وہ ان کو مثالی کارکن قرار دیتے تھے۔ وہ کبھی کبھی اس واقعہ کا ذکر کرتے تو ان کے لیے ان میں محبت اور احترام کے جذبات ابھر آتے۔ وہ کہا کرتےتھے کہ ان جیسا کارکن بنو جو اپنا ہدف پورا کیے بغیر آرام سے نہیں بیٹھتا۔ انہوں نے کئی بار اس واقعہ کا ذکر کیا۔ وہ بتاتے کہ آصف بھائی نے کالج میں مجھ سے رابطہ کیا، جمعیت میں شامل ہونے کی دعوت دی،پڑھنے کو لٹریچر دیا، مسلسل رابطہ رکھا، دوستی کی، میں ان کا دل رکھنے کےلیے تعارف اور کتابچے لےلیا کرتا اور گھر پر جاکر ایک طرف رکھ دیتا۔ وہ جان لیتے کہ میں نے کچھ بھی نہیں پڑھا لیکن وہ اس کا اظہار نہ کرتے۔ وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے، ملاقاتیں جاری رکھیں، ایک دن کھانے پر اپنے گھر مدعو کرلیا۔ کالج اور پڑھائی کی خوب باتیں کیں اور واپس گھر روانگی سے ذرا پہلے مجھ سے مخاطب ہوئے:

”منور بھائی ،ایک بات بتاؤں؟ ناراض تو نہیں ہوگے؟ مجھے معلوم ہے تم نے میرا دیا ہوا تعارف اور کتابچوں میں سے کوئی کتابچہ نہیں پڑھا۔ کوئی بات نہیں۔ میں ایک کتابچے کے چند صفحات پڑھ کر سناتا ہوں،تمہیں پسند آئیں تو وہ کتابچہ پڑھ لینا۔ اس وقت وہ خلوص کا پیکر نظر آرہے تھے۔ انہوں نے چھ سات صفحات آہستہ آہستہ پڑھ کر سنائے۔ جن میں اسلام کا تعارف اور مقصد اس قدر موثر اور آسان اردو میں بیان کیا گیا تھا کہ میرے دل میں اترتا چلا گیا۔ میں نے وہیں فیصلہ کر لیا کہ گھر جا کر وہ سارا لٹریچر پڑھوں گا جو آصف بھائی نے دیا تھا اور گھر پر موجود تھا۔ اس کے بعد میں اپنے بھائی کے پاس پشاور چلاگیا جہاں وہ ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ وہاں میں نے اس کتابچے کو پندرہ سولہ بار پڑھا۔ جس کے کچھ صفحات پڑھ کر آصف بھائی نے سنائے تھے۔ اس نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی۔ جمعیت کا یہ لٹریچر چھوٹے چھوٹے کئی کتابچوں پر مشتمل تھا جو دراصل مولانا مودودی کی تقریریں تھیں۔ ان کو پڑھ کر زندگی کا مقصد سمجھ میں آگیا اور جمعیت میں شامل ہوگیا۔ پھر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا اور اسی کے لیے کام کرنا مقصد زندگی بنالیا۔“

یہ تھی ہمارے سید کی جمعیت سے عشق کی کہانی! کہ اسی کی وجہ سے وہ اسلام کی روشنی سے متعارف ہوئے تھے اور زندگی کا مقصد پالیا تھا۔ پھر وہ کالج میں کارکن اور ناظم بنے۔مولانا مودودی اور دوسرے علما کی کتب کا درسی کتب کی طرح سوچ سمجھ کر سبقاً سبقًا صرف مطالعہ ہی نہیں کیا بلکہ ان کو عمل کے ذریعہ اپنے اندر جذب اور مجسم بھی کیا جس کی جھلک ان کی زندگی میں ان کی عبادات، دوسروں کےساتھ معاملات و تعلقات، حقوق، لین دین، دیانت و امانت اور سیاست غرض ہر معاملے میں پائی جاتی تھی۔

سید نے اسلام کا مومن مطلوب اور اقبال کا شاہیں بننے کی کوشش کی اور چاہا کہ جمعیت اور تحریک کا ہر کارکن بھی انہی کے نقش قدم پر چلے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے دور میں تربیت گاہوں اور اسٹڈی سرکلز کا جال بچھایا اور اچھے سے اچھے اسکالرز کو دعوت دی۔ خود عملی نمونہ بنے اور پھر دوسروں کو عمل کرنے کی ترغیب دی۔ ان کا تعلق اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تھا۔ والد ایک بڑے اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ والدہ کا محبوب مشغلہ خاندان اور پڑوس کی بچیوں کو قرآن کی تعلیم سے آراستہ کرنا تھا۔ ہم نے خود ان کے ناظم آباد نمبر تین کے گھر میں بچیوں کے ہجوم کو آتے جاتے دیکھا ہے۔ ان کے تین بھائی اور ایک بہن اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔

خود سید نے عمرانیات اور اسلامیات میں ماسٹر کرلیا تھا۔ مستقبل بڑا رو شن تھا۔ جس شعبہ کا انتخاب کرتے، اس کی بلندی پر پہنچنے کی پوری اہلیت رکھتے تھے۔ اس زمانے میں امریکا اور یوروپی ملکوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف کی کوئی کمی نہ تھی۔ جہاں چاہتے جاسکتے تھے۔ اردو تو مادری زبان تھی ہی، اردو کے الفاظ اور محاورے ہاتھ باندھے ہر وقت حاضر رہتے، انگریزی پر اہل زبان کی طرح عبور تھا۔ شعلہ بیاں مقرر کی شہرت ہر طرف تھی۔ وجیہ اور شکیل بلا کے تھے۔ فوج میں جاتے تو جنرل کے عہدے تک پہنچتے۔ سول سروس میں جاتے تو ایک منجھے ہوئے کامیاب بیوروکریٹ ہوتے۔ کسی بھی مضمون میں امریکہ اور یورپ سے پی ایچ ڈی کرتے تو دنیا کی کسی بڑی یونیورسٹی کے بڑے پروفیسر اور نامور دانشور ہوتے۔ مروجہ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوتے تو اپنی قائدانہ اور شعلہ بیانی سے بڑے سیاستدان بن کر ابھرتے۔ کوئی کاروبار کرتے تو بڑے تاجر اور صنعتکار ہوتے اور پروفیشنل بننا چاہتے تو اس میدان کے بھی شہسوار ہوتے۔

سید کے سامنے یہ سارے آپشن موجود تھے لیکن انہوں نے جمعیت میں آنے اور مقصد زندگی کا شعور پانے کے بعد اسی وقت اپنے لیے اسلامی نظام عدل کے عملی نفاذ کی جد وجہد ،اس کے پر خطر راستوں،اس کی راہ میں آنے والی صعوبتوں،جیل کی مشقتوں اور فقر و فاقوں والی زندگی کا انتخاب کر لیا تھا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔عہدے،پیسے اور تعیش کی زندگی کو حقارت کے ساتھ ٹھوکرمار دی، کانٹوں بھرے راستے پر آخر تک گامزن رہے اور دوسروں کو بھی اسی پر چلنے کی دعوت دیتے رہے۔ اللہ نے ان کے اس بے لوث عمل اور فقیرانہ طرز اور دین سے گہرے تعلق کی وجہ سے ان کو دنیا بھر میں دین سے محبت رکھنے اور کرنے والے لاکھوں شیدائیوں کا محبوب بنا دیا۔
***
ہم اپنی اس خوش نصیبی کا فخر یہ ذکر کرسکتے ہیں کہ ہم نے دو سیدوں، مرشدی سید مودودی اور ان کے مثالی کارکن سید منور حسن کا نا صرف زمانہ پایا بلکہ ان کو دیکھنے،ملاقات کرنے، ان کی باتیں سننے اور ان کے سفر آخرت کی خبر لکھنے کی سعادت بھی حاصل کی۔منور بھائی کے ساتھ تو ان کی نظامت کے دوران جمعیت کے دفتر، دفتر کے باہر، سفر میں بھی اور حضر میں بھی، کافی وقت ایک ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ جمعیت سے فراغت کے بعد کئی برس تک ہم دونوں ناظم آباد کے ایک ہی علاقے میں ایک دوسرے کے پڑوسی رہے، انہیں قریب سے دیکھا،ایک ہی مسجد میں ایک ساتھ نمازیں اداکیں اور ان کی شخصیت کے ہر پہلو کا جائزہ لیا۔ نماز کی جماعت کے ساتھ ادائیگی ان کی سب سے بڑی ترجیح تھی۔ وہ نماز اذان کے وقت کا انتظار کرتے، اس کی آواز سن کر یا وقت ہونے پر اپنی بڑی سے بڑی مصروفیت چھوڑ کر مسجد کی طرف روانہ ہوجاتے اور تکبیر تحریمہ کے ساتھ نماز ادا کرتے۔ وہ نماز پڑھتے تو اس انہماک سے کہ دنیا اور ومافیہا سے بے خبر ہوجاتے۔ دعا مانگتے تو ان پر عجزو انکساری اور گریہ زاری کی کیفیت طاری ہوجاتی۔ اپنے ماتحتوں، ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ خیر خواہی کے ذاتی تعلقات قائم کرتے،نبھاتے اور ان کے حالات کی خبرگیری کرتے۔ لین دین کے معاملات میں اکل کھرے اور پائی پائی کا حساب رکھنے والے تھے۔ جمعیت کے مالی امور، امانتوں اور اکیڈیمی کے انتظام اور مالیات کی ذمہ داری ان ہی کے پاس تھی،جس کو انہوں نے بڑی ایمان داری ، دیانتداری اور ذمہ داری سے نبھایا۔

وہ ہم چھڑوں کے اس گھرانے کے سربراہ تھے اور ہم سب پریشانی اور مفلوک الحالی کے اس دور میں ان سے کبھی کبھی قرض بھی لیتے۔ اس طرح ان کے اکثر مقروض ہی رہتے تھے۔ وہ وعدے پر ادھار کی ادائیگی نہ کرنے والے پر پابندی لگادیتے۔ وہ وعدے کی خود بھی پاپندی کرتے اور دوسروں سے بھی کراتے۔ ان کا طرز زندگی نہایت سادہ اور قناعت کا عملی نمونہ تھا۔ لباس ہمیشہ سفید اور صاف ستھرا پہنتے۔ ان کا کردار بھی ان کے لباس کی طرح اجلا اور صاف تھا۔
****

آزاد کشمیر سے کراچی تک کا ہمارا، جو سفر شروع ہوا تھا وہ اب بھی شہر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے جاری رہا۔1965ء تک ہم کیماڑی ہی میں رہے اور پھر حالات نے ہمیں بی ہائنڈ جیکب لائنز کے تین مقامات میں رہنے کا موقع دیا۔ اس وقت تک ہماری شادی نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے ہمارا قیام ہم خیال چھڑوں کے ساتھ رہا۔ ہم اسی علاقے میں تھے کہ ہمارا داخلہ جامعہ کراچی کے شعبہ صحافت میں ہوا۔ اس کے سال اوّل میں تھے کہ 16 اپریل 1967 ء کو ہمارا تقرر روز نامہ جنگ میں ہوگیا۔ وہاں سے ہماری ہجرت حیدر آباد کالونی میں ہوئی۔ ممتاز احمد، نصیر سلیمی اور ایک دو اور ساتھی ہمارے ”ہانڈی وال“ بنے۔ وہاں سے پیر الٰہی بخش کالونی سے ہوتے ہوئے ہمارا بسیرا ناظم آباد نمبر ایک میں ہوا۔ دو تین سال تک ہم وہیں رہے۔ تھوڑے عرصے کے لیے ہمارا قیام ناظم آباد بڑا میدان اور فیڈرل بی ایریا بلاک بارہ میں بھی رہا۔ لیکن زیادہ عرصہ ناظم آباد ایک ہی میں رہائش رہی۔ اس کی وجہ اسلامک ریسرچ اکیڈیمی اور منور بھائی تھے۔ وہ اس کے فیلو اور سیکریٹری تھے۔ 15 مئی 1970 کو ہماری شادی بھی One- H-2/2 ناظم آباد میں ہوئی اور چھڑوں کا یہ گھرانا اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

ہم یہ سطور اس وقت 53 برس بعد یکم جولائی 2020 کو لکھ رہے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے،جیسے یہ کل کی بات ہو اور ڈاکٹر ممتاز، ان کے چھوٹے بھائی شیراز، ان کے کزن سعید قاضی، پیر سید اختر گیلانی ،کالم نگار نصیر سلیمی، حشمت حبیب ایڈوکیٹ اور محبوب بلوچ سب ہی ناظم آباد نمبر ایک میں عزیز یہ مسجد کی گلی کے ایک مکان میں موجود ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہلکی پھلکی سرحدی جھڑپیں اور ہنسی مذاق کی باتیں جاری ہیں۔ ان سارے پیارے دوستوں سے وابستہ ساری یادیں ایک دم تازہ ہو گئی ہیں۔ ”چھڑوں“ کے اس گھرانے میں کچھ عرصے کے لیے راؤ محمد اسلام، شاہد افضل، راؤ محمد اسرار، اے بی سعید کا اضافہ بھی ہوا۔ کتنے اچھے تھے وہ دن کہ ہم سب ”اف یہ بیویاں“کی الجھنوں اور بچوں کے ”نت نئے مسائل“ سے آزاد ایک الگ ہی دنیا میں جی رہے تھے۔ اس وقت ہمارے مسائل اور اختلافات کی نوعیت بالکل دوسری تھی۔

سید بادشاہ کا گھر اور دفتر یعنی اکیڈیمی ہمارے گھر سے ایک دو منٹ کے پیدل راستے پر تھا۔ دوستانہ اور برادرانہ کھٹ پٹ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کے لیے منور بھائی جیسا سخت گیر، عادل، غیر جانبدار منصف اور قاضی چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر دستیاب تھا۔ اس قاضی کو اپنے درمیان دیکھنے کے لیے ہم اختلافات اور تنازعات کا ڈھونگ بھی رچاتے۔ سید آجاتے اور ہم ان سے باتیں کرتے۔ جب وہ مقدمہ پیش کرنے کو کہتے تو ہم سب کا مشترکہ قہقہہ یا مسکراہٹ اس بات کا اعلان ہوتا کہ معاملہ طے پاچکا ہے۔ ہم تو بس آپ سے ملنا اور آپ کی زیارت کرنا چاہتے تھے۔ کبھی کبھی اعجاز شفیع گیلانی، خواجہ جمیل، مجیب الرحمن شامی اور افسانہ نگار اعجاز احمد بھی آجاتے تھے کہ شامی صاحب اس وقت کراچی ہی میں تھے اور ان سے ہماری اور ممتاز کی دوستی پکی ہو چکی تھی۔ ”چھڑوں“ کے اس گھرانے میں سے ابھی کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی تھی لیکن اس کی فطری خواہش ہر ایک کوتھی۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ فجر کی نماز کے بعد ہم اور سید صاحب گول مارکیٹ کے ایک پارک میں سیر کے لیے جارہے تھے کہ کچھ لوگوں کو اپنے چھوٹے بچوں کی انگلیاں پکڑے سیر کو جاتے دیکھا تو ہم نے منور بھائی سے بڑی حسرت سے پوچھا ”کیا ہماری بھی کبھی شادی ہوگی؟ اور کیا ہم بھی اسی طرح اپنے بچوں کے ساتھ سیر کو آیا کریں گے؟“ سید صاحب نے مسکراتے ہوئے بڑے یقینی لہجے میں کہا کہ ”ان شاء اللہ شادی بھی ہوگی، بچے بھی ہوں گےاور اسی طرح پارک میں ہم ان بچوں کے ساتھ ان کی انگلیاں پکڑے سیر بھی کریں گے۔“

اور پھر ایسا ہی ہوا۔ یکے بعد دیگرے ہم میں سے ایک ایک کی شادیاں ہوتی گئیں اور ہمارا ”چھڑوں“ کا یہ ”رستا بستا اور ہنستا مسکراتا گھرانا“ آہستہ آہستہ اجڑنے اور بکھرنے لگا۔ شادی اور بچوں کی انگلی پکڑ کر سیر کرنے کی خواہش کرنے والا اب 11پوتے پوتیوں، نواسی اور نواسوں کا گرینڈ پا ہے بلکہ ان میں سے ایک دو کی شادی کی فکر میں بھی ہے۔ اس لیے کہ ان میں سے ایک کی عمر 21 اور دوسرے کی 19 سال ہو چکی ہے۔ اس گھرانے کے دو افراد ڈاکٹر ممتاز احمد اور محبوب بلوچ پہلے ہی رخصت ہوگئے تھے اور اب ہمارے جعلی تنازعات کا فیصلہ کرنے والے فاضل عادل مگر سخت گیر جج سید بادشاہ بھی جدائی کا غم دے کر آخری سفر پر روانہ ہوچکے ہیں اللہ تعالی ان تینوں پر اپنی رحمت کی بارش کرے۔ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ سید منور حسن کی یادوں کو بھلانا کوئی آسان کام نہیں۔
(جاری ہے)

Comments

عارف الحق عارف

عارف الحق عارف

عارف الحق عارف پاکستان میں اردو صحافت کا ایک بڑا نام ہے۔ 1967ء میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا۔ جس سے 2002 تک وابستہ رہے۔ ایڈیٹر اسپیشل اسائنمنٹس کے منصب پر تھے کہ اسی سال جیو ٹی وی شروع ہوا تو اس میں شامل ہوگئے اور 18 سال بعد ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر کے مردم خیز شہر کھوئی رٹہ (وادی بناہ) ضلع کوٹلی سے ہے۔ ان کے کالم اور مضامین، جنگ کے علاوہ ملک کے دوسرے اخبارات میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com