آیا صوفیا: گرجاگھر کو مسجد میں‌بدلنے کا جواز - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

استنبول میں جس جگہ بھی جس طرف بھی رخ کریں، آپ کو مسجد اپنے گنبد اور مناروں سمیت نظر آتی ہے۔ باسفورس میں کشتی رانی کے دوران جب ایک طرف یورپ اور دوسری طرف اناطولیا ہو اور آپ کو یورپ کی عین سرحد پر گنبدوں اور مناروں کی قطاریں نظر آئیں اور پھر یہ بھی خیال آئے کہ یہ گنبد اور منارے کئی صدیوں سے یورپی مسیحی طاقتوں کے سامنے مسلمانوں کے سیاسی اور فوجی غلبے کی علامت بن کر کھڑے رہے ہیں، تب آپ کو صحیح معنوں میں ان کی معنویت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
استنبول، جو پہلے قسطنطینیہ تھا، اگر ایک طرف مشرقی مسیحی کلیساؤں کا دل تھا تو دوسری طرف رومی بازنطینی سلطنت کا بھی مرکز تھا۔ جب 1453ء میں محمد الفاتح نے بالآخر اسے فتح کیا تو دیگر کاموں کے علاوہ یہ ہوا کہ آیا صوفیا، جس کی حیثیت مشرقی کلیسا کےلیے وہی تھی جو مغربی کلیسا کےلیے ویٹیکن کی ہے، مسجد میں تبدیل ہوگئی۔ پھر سنان نے، جو عثمانی خلافت کا تاریخی آرکیٹیکٹ تھا، یہاں بھی منارہ کھڑا کیا۔ وہ منارہ آج بھی موجود ہے۔

مصطفی کمال اتاترک نے اس مسجد کو میوزیم میں تبدیل کرلیا لیکن کچھ عرصہ قبل یہاں پھر سے اذان شروع ہوگئی ہے اور ایک مختصر حصے میں نماز بھی ہوتی ہے۔ کیا عجیب منظر ہوتا ہے جب پہلے سلطان احمد کی نیلی مسجد سے اذان بلند ہوتی ہے اور پھر آیا صوفیا سے اس کی گونج آتی ہے۔ آیا صوفیا کا منارہ بالکل کسی نیزے کی طرح نظر آتا ہے جو دشمن کے سینے میں پیوست محسوس ہوتا ہے۔
یہاں آکر سمجھ میں یہ بات آئی کہ کیوں سویٹزرلینڈ جیسے ملک میں، جو دو سو سال سے غیر جانبداری کا دعوی کررہا ہے، باقاعدہ ریفرنڈم کے ذریعے قوم کی اکثریت نے فیصلہ کیا کہ یہاں مساجد میں منارہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خواہ گرجا گھروں کے اوپر صلیب اور دیگر مذہبی علامات موجود رہیں۔

سیکولر غیر جانبداری کی حقیقت بس یہی ہے اور اس حقیقت سے پردہ آیا صوفیا کا منارہ اٹھاتا ہے جو آج بھی نام نہاد غیر جانبداروں کے دلوں میں نیزے کی طرح پیوست ہے۔

واضح رہے کہ سویٹزرلینڈ اور ترکی دونوں کا جھنڈا سرخ ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ ایک میں سفید صلیب ہے اور دوسرے میں سفید ہلال! اور ہاں، صلیب دوسرے بہت سے ممالک بالخصوص برطانیہ کے جھنڈے پر بھی ہے۔ اور یہی برطانوی صلیب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے جھنڈے پر بھی ہے۔ اور ہاں، برطانیہ کی ملکہ صرف برطانیہ یا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہی کی ملکہ نہیں بلکہ چرچ آف انگلینڈ کی سربراہ بھی ہے، یعنی چرچ آف انگلینڈ کے ماننے والے مسیحیوں کےلیے اس کی حیثیت ''خلیفہ'' کی ہے۔
-------
اس سارے تناظر کو سامنے رکھیں‌ ‌تو آیا صوفیا کے معاملے میں روس و امریکا اور یونان و یورپ کی تکلیف سمجھ آتی ہے۔ دوسری طرف ہمارے دیسی لبرلز کے پیٹ میں‌مروڑ کی وجہ بھی سمجھنا زیادہ مشکل نہیں‌ اور ان کی دیکھا دیکھی بعض مولوی صاحبان کی طبیعت پر بھی انقباض طاری ہونے کا سبب سمجھ آجاتا ہے۔ ان سے مزید کچھ نہ بن پڑا تو فرمانے لگے کہ مفتوحہ علاقے میں گرجا گھر کو مسجد بنانا ناجائز تھا اور اس وجہ سے سلطان محمد الفاتح کا آیا صوفیا کو مسجد بنانا ناجائز تھا۔

یہ بالکل ہی بے تکی اور بے بنیاد بات ہے۔ فتح کے بعد مفتوحہ علاقے کی ملکیت فاتح کو مل جاتی اور ملکیت حاصل ہونے کے بعد اسے حق ہوتا کہ وہ اس پر مالکانہ تصرف کرے۔ چنانچہ اگر کسی نے مفتوحہ علاقے میں گرجا گھر کو مسجد نہیں بنایا تو اس کی جانب سے احسان تھا، نہ کہ قانونی طور پر اس کے لیے یہ ناجائز تھا؛ اور جس نے اسے مسجد بنایا تو اپنے قانونی حق کا استعمال کیا۔ (اور ہاں، بیت المقدس کو صلح کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔)

بین الاقوامی قانون نے 1928ء تک اس اصول کو تسلیم کیا ہوا تھا۔ پہلی دفعہ 1928ء میں ایک دو ملکی معاہدے کے ذریعے فتح کے اصول سے انکار کیا گیا۔ بعد میں کئی اور ممالک اس معاہدے میں شامل ہوئے۔ 1928ء کے معاہدے سے طے شدہ اصول کو 1453ء میں فتح کیے گئے علاقے میں گرجا گھر کو مسجد بنانے پر کیسے لاگو کیا جاسکتا ہے؟

واضح رہے کہ اتاترک نے بھی یہ جرات نہیں کی تھی کہ آیا صوفیا کو واپس گرجا بنادیتا اور اسے میوزیم بنانے پر ہی اکتفا کیا۔ یہ بھی ایک قطعی غلط کام تھا۔ 1453ء سے 1935ء تک یہ مسجد رہی اور اس کا مسجد بننا شرعاً بالکل جائز اور قانوناً بالکل درست تھا۔ اس لیے اسے مسجد سے میوزیم بنانا قطعاً غیرشرعی اورغیر قانونی تھا۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com