پیٹرولیم مصنوعات کا بحران، عوام کو ”چونا“ کس نے لگایا؟ - عمر فیضان

ندیم بابر اس وقت وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ڈویژن ہیں۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخی لحاظ سے کم ہوئیں تو اس کے بعد ایک مصنوعی بحران پیدا ہوا اور پھر ان کا تذکرہ بھی شروع ہوا، مگر ندیم بابر کا نام پہلی بار کسی اسکینڈل میں سامنے نہیں آیا۔ اس سے پہلے ریاست پاکستان کو عالمی عدالتوں میں رسوا کرنا ہو یا پھر آئی پی پیز کے ذریعے ملکی خزانے کو نقصان پہنچانا ہو، ان کا نام سامنے آتا رہا ہے۔

ندیم بابر سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کے بھی قریبی سمجھے جاتے ہیں اور پنجاب میں کئی عہدوں پر فائز رہے۔ اس کے وقت کے کئی معاملات میں موصوف نیب کے چکر بھی کاٹ چکے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان کی پرانی داستان بتائی جائے، حالیہ دنوں میں کھڑے ہونے والے بحران کی بات کرتے ہیں جس کا دفاع وہ ہر چینل پر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

حالیہ پیٹرول بحران پر ندیم بابر پر الزام ہے کہ انہوں نے آئل کمپنیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کی کوشش کی اور عوامی مفاد پس پشت ڈال دیا۔ عالمی منڈی میں آئل کی قیمتوں کی کمی کے بعد بھارت، چین نے آئل کی غیر معمولی خریداری کرکے قومی خزانے کو کروڑوں کا فائدہ پہنچایا، مگر بدقسمتی سے پاکستان کچھ دنوں کا بھی پیٹرول ذخیرہ کرنے میں ناکام رہا۔ ندیم بابر کے پاس اس کا جواب یہی ہوتا ہے کہ ہمارے پاس ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں تھی اور نہ ہی گنجائش بنائی گئی۔

لیکن معاملہ یہاں تک نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر پیٹرولیم ڈویژن نے ایک مراسلے کے ذریعے آئل کمپنیوں کو آئل کی خریداری سے ہی منع کردیا، جبکہ دوسری طرف پاکستانی ریفائنریز کو بھی بند کردیا۔ بعد ازاں صرف دو ریفائنریز کو کام کی اجازت دی گئی جو کہ خط کے ذریعے کی گئی۔ اے آر وائے نیوز کے پروگرام پاور پلے میں ارشد شریف کو ندیم بابر نے بتایا کہ باقی رفائنریز کو پیغام دیا گیا جو اجازت طلب کرے گا اسے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے گی مگر اس بات کے دفاع میں کوئی دستاویز ندیم بابر نے پیش نہیں کی۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کیا یہ کام انڈر ٹیبل ہوتا رہا؟ یا صرف من پسند کمپنیوں کو کام کی اجازت دی گئی؟ کیا یہ اختیارات سے تجاوز نہیں؟

پیٹرولیم ڈویژن، جس کے مشیر ندیم بابر ہیں، وہاں سے ایک خط اوگرا کو جاتا ہے جس میں تجویز دی جاتی ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کو ملتوی کیا جائے تا کہ کمپنیوں کو نقصان سے بچایا جائے، مگر جواب میں اوگرا نے تجویز مستردکرتے ہوئے کہا کہ آئل کمپنیوں کو عوام کی جیب اور ملکی خزانے سے نہیں بچایا جاسکتا۔ آیا پیٹرولیم ڈویژن کی یہ تجویز عوامی مفاد میں تھی؟ یا کسی مافیا کے دبائو میں یہ تجویز دی گئی؟ جب تک پیٹرول کی قیمت کم رہی عوام پیٹرول سے محروم رہے اورحکومت کی جانب سے اعلان در اعلان ہوتے رہے مگر نہ پیٹرول عوام کے ہاتھ آیا نہ پیٹرول مافیا حکومت کے ہاتھ اور ایک اور کمیٹی بنا دی گئی۔۔

یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کہ ندیم بابر پہلے ہی کئی الزامات کی زد میں رہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران ندیم بابر شہباز شریف کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے تھے، اسی لیے ندیم بابر پنجاب میں کئی عہدوں میں فائز رہے جن میں چیئرمین پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ، چیئرمین پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن، چیئرمین آف بورڈ آف ڈائریکٹرز پنجاب ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، ممبر چیف منسٹر اکنامنک ایڈوائزری کونسل، ڈائریکٹر پنجاب انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور چیئرمین پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کی ذمہ داریاں ان کے پاس رہیں۔ اس کے علاوہ ندیم بابر لاہور ویسٹ مینجمنٹ کے ڈائریکٹر بھی رہے اور اسی کمپنی پر بننے والے کرپشن کیس پر نیب کے چکر بھی لگاتے رہے۔۔ندیم بابر نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیاتھا کہ ان کی ایک کمپنی ہے، جبکہ پروگرام پاورپلے میں انکشاف کے بعد انہوں نے اقرار کیا کہ ان کی 8کمپنیاں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں، جن میں بیشتر اب کام نہیں کررہیں۔

سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کمپنیاں کیوں ای سی سی پی کے ریکارڈ کے مطابق ایکٹیو ہیں اور یہ کیوں بنائی گئیں؟ اتنی جلدی موبائل سمز کوئی لے کے بند نہیں کرواتا ہوگا جتنی ندیم بابر کمپنیاںبناکر بند کردینے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ آئی پی پیز انکوائری رپورٹ میں ندیم بابر کی تین کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی جنہوں نے زائد منافع حاصل کیا۔ رپورٹ میں اورئینٹ پاور، صبا پاور اور ارسن پاور کمپنی ندیم بابر کے ساتھ منسوب کی گئی ہیں۔

وزیراعظم مافیاز کی بات کرتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں ان کا سامنا ہے، لیکن کیا بہتر نہ ہو کہ وہ صرف باتیں‌کرنے کے بجائے کچھ عملی اقدام بھی اُٹھائیں. وہ اپنے آس پاس ایسے لوگوں سے متعلق بھی معلومات رکھیں، جو ان کے لیے بوجھ بنتے جارہے ہیں۔ اگر وزیراعظم پیٹرولیم مصنوعات بحران کی تحقیقات کروائیں تو کوئی بعید نہیں کہ ایسے ہی ”اپنوں“ سے ملاقات ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com