کرونا وَباکی آڑ میں داعش و شدت پسند تنظیموں کے مضبوطی کے خدشات لاحق - قادر خان یوسف زئی

اقوام ِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوٹرش کے اس بیان نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ کروناوائرس کے سدباب پر توجہ مبذول ہونے کے باعث دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں انتہا پسند تنظیموں نے خود کو زیر زمیں رکھنے کے بعد منظم ہونے کی کوشش کررہی ہیں۔ذرائع کے مطابق داعش نے کم آبادی والے ایسے علاقوں کو اپنا مرکز بنایا ہے۔

جو زرعی علاقے ہیں، کیونکہ کم آبادی و زرعی علاقوں میں کرونا وبا پھیلنے کے امکانات کم ہوتے ہیں اس لئے داعش نے ایسے علاقوں کا انتخاب کیا۔ 'داعش' کے جنگجو عراق میں زرعی علاقوں میں رہتے ہیں، ان علاقوں میں کرونا وائرس کا زیادہ خطرہ نہیں۔ حالیہ ہفتوں میں داعشی جنگجوؤں نے عراقی افواج کو نشانہ بنایا ہے۔ عراقی سیکیورٹی فورسز اس وقت کرونا کی وبا سے نمٹنے میں مصروف ہے۔ داعش شام سے لڑائی کو عراق کی طرف لے جارہی ہے، اور وہ مالی اور عسکری لحاظ سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔

کرونا وبا کی باعث عراق، شام اور افغانستان میں داعش کے دوبارہ منظم ہونے میں کی اطلاعات نے تشویش پیدا کردی ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں کرونا وَبا کے سدباب کے لئے انتظامات نہ ہونے کے باعث مستقبل میں انسانی جانوں کو بڑے پیمانے پر نقصانات کا سامنا اٹھانا پڑسکتا ہے۔شام میں بھی داعش کے جنگجو گذشتہ سال شام میں اپنے زیر قبضہ علاقے چھن جانے کے بعد اب وسیع وعریض بادیہ صحرا میں دوبارہ منظم ہورہے ہیں۔وہ اس علاقے میں گاہے گاہے شامی فوج یا اس کے اتحادی جنگجوؤں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔شام میں 2011ء سے جاری جنگ میں اب تک تین لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔افغانستان میں داعش(خراساں) کی جانب سے عام عوام و سرکاری سیکورٹی فورسز پر حملے جاری ہیں۔ جس میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ داعش تنظیم کا سربراہ ابو بکر البغدادی کو امریکا نے26/27اکتوبر 2019 کی شب کو شام کے علاقے مغربی صوبے ادلب میں ہلاک کردیا تھا، داعش نے اپنے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد غیر معروف کہلائے جانے والے ابو ابراہیم الیاشی القرشی کو نیا سربراہ نامزد کیا۔ امریکا نے داعش کے نئے سربراہ کی گرفتاری /معاونت فراہم کرنے والوں کے لئے انعامی رقم کو دوگنا کرتے ہوئے ایک کروڑ ڈالر کردی۔ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ابو ابراہیم الیاشی القرشی عرف میر محمد سعید عبدالرحمن المولی نے ''شمال مغربی عراق میں یزیدی مذہبی اقلیت کے افراد کے اغوا، ان کو ذبح کرنے اور ان کی تجارت کرنے میں مدد فراہم کی''۔تاہم بیشتر تجزیہ کاروں کے نزدیک القرشی معروف شخص نہیں ہے یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے تو اس کے وجود پر ہی شکوک کا اظہار کیا ہے۔ اس وقت سے اب تک کئی مغربی انٹیلی جنس اداروں نے داعش کے حقیقی سربراہ کے طور پر امیر محمد سعید عبدالرحمن المولی کا تعین کیا ہے۔افغانستان نے خراساں شاخ کے سربراہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا اور اس کے ساتھ افغان سیکورٹی فورسز نے خراساں شاخ کے کئی اہم کمانڈروں کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ افغانستان میں داعش(خراساں) کو کمزور کرنے کوشش جاری ہے۔

دور جدید میں کسی بھی مخالف قوت کے خلاف سائبر حملے کرنا، عام روایتی حملوں کی طرح ہوگیا ہے۔ اہم و سرکاری و غیر سرکاری اداروں سمیت دفاعی تنصیبات کو بھی سائبر حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ روایتی حریف ممالک ایک دوسرے پر سائبر حملوں کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں، کرونا وبا کے دوران ایک بڑی کاروائی اُس وقت دیکھنے میں آئی جب اسرائیل کے قومی ڈائریکٹ نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کی سینکڑوں ویب سائٹس کو ہیک کرلیا گیا ہے، اسرائیل نے سائبر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے، ایران و اسرائیل کے درمیان سائبر حملے معمول کا حصہ بن چکے ہیں، اسی طرح امریکا و روس بھی ایک دوسرے کے خلاف سائبر حملوں کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ سائبر حملے کرنے و کروانے کے لئے دنیا کی تمام ا فواج میں سائبر سیکورٹی کا خصوصی شعبہ بھی قائم کیا جاتا ہے جو خصوصی طور حریف ممالک، انتہا پسند تنظیموں کے حملوں کو خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ اسرائیلی کمپنی چیک پوائنٹ نے مبینہ طور پر چین پر بھی الزام عاید کیا تھا کہ چین کی نائی کان نامی اس کارروائی میں جنوب مشرقی ایشیا کے سرکاری اداروں کے کمپیوٹر ڈیٹا کو چوری کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ چیک پوائنٹ کے ایک اعلیٰ عہدے دار لوٹیم فنکل سٹائین کا کہنا ہے کہ ہم نے کئی سال پہلے اس حملے کا سراغ لگا لیا تھا۔

کرونا وبا کو سات مہینے ہوچکے ہیں اور دنیا میں 11,812,612سے زائد افراد متاثر کرنے اور542,635سے زیادہ قیمتی جانیں لینے والی ہولناک وبا کی تباہ کاریاں جاری ہیں، دنیا کے قریباََ تمام ممالک کرونا وبا کی پہلی اور دوسری لہر سے بچنے کی تیاریاں کررہے ہیں، تو دوسری جانب انتہا پسند تنظیموں کے منظم ہونے کی کوششوں کی اطلاعات تشویش ناک ہیں۔پاکستان گذشتہ دنوں انتہا پسندوں کی منظم ہونے کی ایک کاروائی میں دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملہ جہاں ملکی سا لمیت و سی پیک منصوبے کے خلاف منظم سازش تھی تو دوسری جانب آپریشن ردالفساد کے بعد بکھری ہوئی ٹولیوں کو اکھٹا کرنے کی منظم سازش بھی تھی، جس کے تانے بانے کھل کر سامنے آچکے ہیں۔ پاکستان، میں کرونا وبا کے مضمرات کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو دوسری جانب انتہا پسندوں و شدت پسندوں کی جانب سے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ خطے میں امن کے لئے افغان مفاہمتی عمل کو کامیاب کرانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تو دوسری جانب بین الافغان مذاکرات کے منعقد ہونے کے اہم مرحلے کو امن دشمن قوتیں سبوتاژ کرنے کی سازشیں بھی کررہی ہیں۔

پاکستان کی جانب سے پڑوسی ممالک کے ساتھ سیکورٹی معاملات میں سنجیدگی کو ترجیح دی جا رہی ہے تاہم بھارت نے ازلی دشمنی اور ہندو توا کے نظریئے کو پروان چڑھانے کے لئے خطے کے امن کو داؤ پر لگایا ہوا ہے۔ گو بھارت کرونا وبا سے بدترین متاثر ہے، لیکن یہاں بھی مسلم کش نظریئے کو پروان چڑھانے کی سازشوں میں کرونا کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں جارح بھارتی افواج نے پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات بڑھانے کے ایجنڈے کو اپنایا ہوا ہے۔ کرونا وائرس کے حوالے سے سائنسی نظریات یا اختلافی معاملات کو ایک طرف رکھنے کے باوجود اس اَمر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کرونا وبا کی تھیوری سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے اور اس سنگین صورتحال سے باہر آنے میں مزید کتنا وقت لگے گا اس پر حتمی طور پر کوئی یقینی رائے نہیں دی جاسکتی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com