کوئی برتر نہیں، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا - حبیب الرحمن

آخرِکار ایک جنرل نے بر سرِ عام فرماہی دیا کہ سویلینوں میں ملک چلانے کی صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ ان کا فرمان بہر صورت درست ہی ہے اس لئے کہ اگر کوئی جرات سے کام لیکر کہہ ہی بیٹھے کہ ایسا نہیں ہے تو پھر اگلے ہی دن کہنے والا ہوتے ہوئے بھی "نہیں" ہو سکتا ہے۔پاکستان کوئی ایک دن میں تو نہیں بن گیا تھا۔ بر صغیر کے مسلمانوں کو ایک طویل عرصے تک اس کیلئے جد و جہد کرنی پڑی اور جانی و مالی قربانیاں دینا پڑیں تھیں۔

اس خطے کے مسلمانوں کو پاکستان بنانے کیلئے دو رخی جنگ لڑنی پڑی۔ مسلمانوں کو نہ صرف ہندوؤں اور انگریزوں سے نجات چاہیے تھی بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنی دین و مذہب کو بھی اسی طرح قائم دائم رکھنا تھا جیسا کہ اللہ اور اس کے بنی کا فرمان تھا اور پھر اس نظام کو نافذ کرنے کرنے کیلئے اسے ایک خطہ زمین بھی درکار تھا۔ یہ دوہری جد و جہد کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن بر صغیر کے بڑے بڑے بے وردی "کرنیلوں" اور "جرنیلوں" نے وہ کمال کر دکھایا جس نے دنیا بھر کے عاقلوں کو عاجز کر کے رکھ دیا۔

یہ ایک مشترکہ اور منظم جد و جہد تھی جس میں بر صغیر کے مسلمانوں کا ہر طبقہ شریک تھا۔ کیا ہمارے بے وردی "کرنیل" علما جنھوں نے اس تباہ حالی میں بھی اپنے دین کی حفاظت کی۔ کیا "جرنیل" شعرا اور ادباء جنھوں نے اپنی اعلیٰ شاعرانہ اور ادیبانہ صلاحیتوں کو کام میں لا کر مسلمانوں میں نہ صرف پڑھنے لکھنے کا شعور بیدار رکھا بلکہ اپنی شاعری اور تحریروں سے مسلمانوں میں مسلمانیت کی رمق اور چنگاریوں کو شعلہ جوالہ بنا نے میں اہم کردار ادا کیا۔کچھ مصلحانِ قوم نے "سپہ سالار" بن کر بڑے بڑے تعلیمی مدارس کھولے تاکہ تعلیم کے میدان میں پیچھے دھکیل دیئے جانے والے مسلمانوں میں تعلیم کی اہمیت کا شعور اجاگر کریں اور ان کو اقوام عالم میں صف اول میں لا کر کھڑا کر سکیں۔ اس دور کا وہ کونسا بے وردی کرنل، جنرل اور سالار ہے جس نے ہندوؤں اور انگریزوں کی مخالفت اور ان کے ظلم و ستم کا سامنا نہیں کیا، کس نے جیلیں نہیں کاٹیں اور کس کس نے ہر قسم کی اذیتیں برداشت نہیں کیں۔

یہ ساری جد و جہد کوئی ماہ دو ماہ یا سال دو سال پر مشتمل تو نہ تھی، ڈیڑھ صدی سے زائد اس جد و جہد میں ان سارے کرنلوں، جرنلوں اور سالاروں کے جسم سے ان کی چمڑیاں تک اتار کر رکھ دی گئیں تھیں لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی پیچھے کی جانب مڑ کر دیکھنا گوارہ نہیں کیا۔ برصغیر کے عام مسلمانوں نے جب بے وردی کرنلوں جرنلوں کی جراتیں اور استقامتیں دیکھیں تو ہند کا بچہ بچہ بے وری ہونے کے باوجود سپاہی بن گیا اور یوں ایک طویل جد و جہد اور قربانیوں کے صلے میں بے وری فوجیوں نے انگریزوں کو ہند چھوڑ کر جانے اور ہندوؤں کو آزاد وطن دینے پر مجبور کر دیا۔ اس ساری جد و جہد میں سارے وردی والے "سویلین" انگریزوں کے ساتھ رہے اور تاریخ گواہ ہے کہ کوئی ایک باوردی سپاہی، کرنل اور جنرل اپنی ملازمت پر لات مار کر بے وری سویلین کی جد و جہد میں شریک نہیں ہوا۔پاکستان بن جانے کے بعد ان ہی بے وردی سالاروں نے ملک کو آئین دیا، اپنی جائیدادیں وقف پاکستان کیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ادا کیں اور یوں ملک کو آگے لیجانے کا عزم صمیم باندھا۔

پھر ہوا یوں کہ وردی والے سویلینوں نے تمام بے وردی فوجیوں کو لات مار کر نکال باہر کیا۔ اعتراض کی بات تو شاید یہ بھی نہیں تھی لیکن اپنے آپ کو سب سے زیادہ اہل سمجھنے والوں نے ہر ہر مقام پر مدد بے وردی سویلینوں ہی حاصل کی۔ یحییٰ بھٹو کو لے کر آئے، پسند نہیں آیا تو ضیا جونیجو کو لے آئے۔ ایک حادثے کے نتیجے میں نواز ہوں، بے نظیر ہو، جمالی ہوں، شجاعت ہوں، شوکت عزیز ہوں، زرداری ہوں، اور اب کاٹھ کا الو، یہ سارے کے سارے بھان متی کے کنبے والوں میں سے کوئی ایک فرد بتایا جائے جو "صاحب" کی مرضی کا نہ ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بے وردی سویلین کرنیل جرنیل اور سالار کسی بھی قسم کے ادارے چلانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تو پھر معین قریشی، شوکت عزیر اور بیشمار مشیران باہر کے ملکوں سے درآمد کیوں کرنے پڑ تے ہیں یا پھر ملک کے اندر توڑ جوڑ کرکے کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑھا جمع کر کے بھان متی کا کنبہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آ تی ہے۔

جب تک کچھ ادارے کچھ اداروں پر برتری حاصل کرنے اور اپنی اپنی حدود سے باہر نکل کر سب پر چھا جانے کی کوششوں اور سازشوں سے باز نہیں آئیں گے، ملک کیا،ایک گھر نہیں چلایا جا سکتا۔ گھر کے چوکیدار سے لیکر آل اولاد، مردو زن اور بیوی بچے اگر اپنی اپنی چلانے اور ہر فرد اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھنے میں مصروف ہو جائے گا تو ایک جانب وہ گھر گھر کہلانے کے قابل نہیں رہے گا تو دوسری جانب اس کے سارے در و دیوار شکستگی کا شکار ہو کر پوری عمارت کو کسی بھی وقت زمین بوس کر کے رکھ دیں گے۔

پوری دنیا میں ہر وہ ملک جہاں "حکومت" نام کی کوئی شے ہے، وہی مضبوط ہے باقی، افغانستان، مصر، لیبیا، یمن اور ناجانے کتنے ممالک ہیں جو کہلاتے تو ملک ہی ہیں لیکن جہنم سے بھی بد تر حالت میں ہیں۔ اللہ پاکستان کو ایسی صورتِ حال سے محفوظ رکھے اور طاقت کے غرور کو ذہن میں جگہ نہ بنانے دے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com