کروڑ پتی موٹر مکینک سے مطالبہ۔ سجاداحمدشاہ کاظمی

ایک ایسا خاندان جسکا سربراہ بچوں کی روزی روٹی کیلئے جدوجہد کے دوران حادثہ کا شکار ہو اور پھر کئی سالوں تک کچھ کرنے قابل نہ رہے۔ بچے چھوٹے ہوں، ماں بے بس ہو، اپنی بے بسی کسی سے بیان بھی نہ کر سکے، عزت نفس کو بھی بچانے کی جدجہد کرے اور بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے بھی فکر مند رہے۔

تب یقیناً اس سے بہتر کوئی فیصلا نہیں ہوتا کہ بجائے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے (چھوٹے ہی سہی ) مگر بچوں کو معمولی معاوضہ کے بدلے کسی موٹر مکینک کی شاہگردی میں چھوڑ دیا جائے۔ یہ کوئی بری بات نہیں، فخر کی بات ہے، تعلیم نہیں تو کیا ہوا ہنر تو ہے جو کم از کم بچوں کو مستقبل میں حلال رزق کما کر کھانے قابل بنا ہی دیتا ہے۔ لیکن اگر خدا چاہے تو انہی بچوں کو والدین کی ایمانداری، اعلیٰ ظرفی، توکل کا صلا دیتا ہے اور وہ بچہ جسے حالات سے تنگ آ کر موٹر مکینک کے پاس کام کرنے، کچھ کمانے اور کچھ سیکھنے کیلئے چھوڑا جاتا ہے، زمانے میں آفتاب شاہ بن کر اُبھرتا ہے۔

زیر نظر تصاویر میں آپ کو ایک طرف وہ آفتاب شاہ دکھائی دے رہا ہے جو موٹرمکینک کے پاس کام سیکھنے کے دوران، پھٹے کپڑے، موبل آئل اور گریس سے لتھڑے ہاتھ، چہرے پر موبل آئل، اور گریس کے دھبے، بکھرے بال اور پاؤں میں ٹوٹی جوتی پہنے، بجری کے ڈھیر پر بیٹھا ہے مگر مسکرا رہا ہےِ اور دوسری تصویر میں آپ اس آفتاب شاہ کو دیکھ سکتے ہیں جو حال میں دولت ، شہرت اور عزت کی بلندیوں کو چھو چکا ہے۔

آفتاب شاہ نے یہ سفر صدیوں میں یا درجنوں سالوں میں نہیں بلکہ اپنی مسلسل لگن، ہمت اور حوصلے کیساتھ صرف چند سالوں میں طے کیا ہے۔ موٹر مکینک سے کروڑ پتی ( بزنس مین) بننے اور اپنے تمام خواب پورے کر چکنے کے بعد آفتاب شاہ اپنا ماضی بھولا ہے نا ہی کسی سے اپنے ماضی کو چھپانا چاہتا ہے۔ بلکہ آج آفتاب شاہ کی اس ادا نے دل ہی جیت لیا کہ مسلسل دو گھنٹے تک آفتاب شاہ نے اپنے ماضی کی تمام ایسی تصاویر اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے شیئر کیں، جن تصاویر میں سے ہر تصویر ماضی کی محرومیوں کے بعد ملنے والی کامیابیوں کے باوجود عجز و انکساری کی مکمل داستان کی حیثیت رکھتی ہے۔

اب اگلی بات میں آفتاب شاہ کو مخاطب کر کے کرنا چاہتا ہوں۔ سلام ہے آفتاب شاہ آپکی جدوجہد اور بلند حوصلے کو مگر ہم اب آپ سے کچھ مطالبات بھی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے مطالبات یقیناً وہ نہیں جو لوگ سوچ سکتے ہیں، بلکہ ہمارے مطالبات تھوڑے سے مختلف ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ دولت غریبوں میں بانٹ دی جائے لیکن ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ اگر اپنے ماضی کو نہیں بھول سکے تو اپنے حال پر اللّٰہ عزوجل کا شکر اس طریقے سے ادا کریں کہ دنیا آپ پر مزید رشک کرنے لگے، ہمارے سر فخر سے مزید بلند ہو جائیں اور ہم ہمیشہ آپکی کامیابیوں اور کارناموں کو بطور مثال پیش کرتے رہیں۔

آفتاب شاہ جی! ہم نے آپ سے جو سیکھنا ہے وہ ہم آپکے سکھائے بنا بھی اب سیکھیں گے، مگر آپ ایک کام کریں: ’’ ماضی میں جن حالات سے آپ گزرے آج ان حالات میں گھِرے غریب نوجوانوں کیلئے کچھ کر گزریں‘ آپ چاہیں تو سب کچھ کر سکتے ہیں‘ چاہیں تو اپنی طرح کئی دیگر نوجوانوں کو کامیابی کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔ یقیناً آپ کو احساس بھی ہے اور آپ کرنا بھی چاہتے ہیں مگر شاید آپ کے ارد گرد آج مخلصین کے بجائے وہ لوگ اکٹھے ہیں جو کل تک ورکشاپ ورکر کی حیثیت سے آپ کو کچھ سمجھا نہیں کرتے تھے، سو انکے الٹے سیدھے مشوروں کو رہنے دیں، اپنی پرانی سوچ کے ملبوتے پر نوجوانوں کی زندگیاں بدل لینے والی منزل کو بھی عبور کر جائیں‘‘ ـ

وہ بچے جو آپکی طرح بچپن ورکشاپس میں بسر کرنے پر مجبور ہیں انکے لئے قدم اٹھائیں، وہ نوجوان جو حالات کے مارے تاریک مستقبل کی نظر ہو رہے ہیں، انکا مستقبل بچائیں، آپ سیاستدان بھی بنیں مگر پہلے آپ اپنے معاشرے میں محرومیوں کی نذر اور مایوسیوں کا شکار نوجوانوں کا حوصلا بننے کی بھی ٹھان لیں۔
شاہ جی! خدا گواہ ہے آپ کر سکتے ہیں۔

آپ اس قابل بھی ہیں اور آپ کو ایک محروم انسان کی محرومیوں کا اندازہ بھی صحیح سے ہے۔ سیاست کریں، عزت کمائیں، شہرت بھی آپ کا حق ہے مگر معاشرہ بدحالی کی طرف بڑھ رہا ہے، اس معاشرے سے چند ایک ہی سہی مگر نوجوانوں کو حوصلا دینا، انکا سہارہ بننا اور مثبت و موثر حکمت عملی کیساتھ سیاست کرنا آپکا فرض بھی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ خدا آپ کو شاد و آباد رکھے، ہنستے رہیں، مسکراتے رہیں۔ آمین ثم آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com