کرونا وائرس کے بعد ہمارے معاشی حالات - پروفیسر جمیل چودھری

وائرس کے حملے ابھی پوری دنیا میں جاری ہیں۔کہیں شدت زیادہ اور کہیں کم ہے۔پاکستان آجکل جزوی لاک ڈاؤن کے مرحلے میں ہے۔بڑے شہروں کے صرف ان علاقوں کو سیل کیاگیاہے۔جہاں سے کیسز زیادہ رپورٹ ہورہے ہیں۔جوعلاقے سیل ہیں وہاں کے کاروباروں پرمنفی اثرات جاری ہیں۔مریضوں کی مجموعی تعداد اب بڑھ کر ڈھائی لاکھ کے قریب ہے۔وزراء نے جزوی لاک ڈاؤن کے فوائد بتاناشروع کردیئے ہیں۔

پوری دنیا سے پھر اپنے پیارے ملک پاکستان سے یہ وباء کب ختم ہوگی اس کے بارے صرف قیاس آرائیاں ہیں۔وائرس کے حملے انسانوں اورمعیشت دونوں پر جاری ہیں۔معیشت چونکہ انسانوں نے ہی چلانی ہوتی ہے۔جب انسان ہی وباء سے متاثر ہوں یامتاثر ہونے کاخطرہ ہو۔ تو معیشت پر اثرات برے ہی پڑتے ہیں۔وباء نے پوری دنیا کوگھیرے میں لیاہوا ہے۔لہذا اس کے اثرات بھی عالمی سطح کے ہونگے۔کچھ ماہرین اس بحران کو دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بحران سے تشبیہ دے رہے ہیں۔تب یورپ میں بڑے پیمانے پرتباہی ہوئی تھی۔ایشیاء اور افریقہ پربھی اثرات پڑے تھے۔دوردراز واقع امریکی براعظم اورآسٹریلیا پرجنگ کے اثرات برائے نام تھے۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ جنگ میں بھی آخر میں شریک ہواتھا۔

اس سے پہلے وہ اپنے اتحادیوں کوصرف مالی اور اسلحی سپورٹ فراہم کرتارہاتھا۔دنیا میں وباء سے معاشی بحران تو آچکا ہے۔سوال صرف یہ ہے کہ اس کادورانیہ کتنا ہوتا اورکسی ملک کوگہرائی میں جاکر کتنا کھوکھلا کرے گا۔وباء کوشروع ہوئے 6۔ماہ کاعرصہ گزرچکا ہے۔اس پورے عرصے میں عالمی سطح کے کئی کاروباری پروگرام ملتوی ہوئے یاختم ہوئے۔بارسلونا سپین میں موبائل کی دنیاکاسب سے بڑا ایونٹ موبائل ورڈ کانگریس منعقد نہیں ہوسکا۔صرف اس ایک ایونٹ سے بارسلونا کاشہر492ملین پونڈ کماتا ہے۔ایک لاکھ سے زائد لوگ اس میں شریک ہوتے ہیں۔14۔ہزار لوگوں کو اس سے جو روزگار ملنا تھا وہ نہیں ملا۔موجودہ سیشن کے اولمپیک کھیل ٹوکیو میں ہونے تھے۔جوملتوی ہوگئے ہیں۔آپ اس بڑے ایونٹ سے کمپنیوں کوہونے والے منافع جات اور کھلاڑیوں کی آمدنیوں کااندازہ لگاسکتے ہیں۔فیس بک کی ایک بڑی کانفرنسF8کے نام سے ہوتی ہے۔مائیکروسافٹ کی BUILD کانفرنس،ایپل کی عالمی کانفرنس،گوگل نمبر1کانفرنس اور دوبئی ورڈ ایکسپو۔یہ تمام عالمی سطح کے بڑے پروگرام اس سال منعقد نہیں ہوسکے۔

ذرا ان تمام ایونٹس کے نہ ہونے سے بڑی بڑی کمپنیوں پر پڑنے والے مالیاتی اثرات کااندازہ لگائیں۔یہ تمام پروگرام ہرملک کی آمدنی پرزیادہ یاکم اثرات ڈالتے ہیں۔یہ وہ پروگرام تھے جو وباء کے ابتدائی3۔ماہ میں ہونے تھے۔بعدمیں ہونے والوں کی تفصیل ابھی آناباقی ہے۔اور ابھی تووباء کے حملے پوری دنیا میں جاری ہیں۔ابتدائی3۔ماہ میں منسوخ ہونے والے پروگراموں سے عالمی معیشت کو2۔ارب ڈالرکانقصان ہوچکا ہے۔اگر ہم30 ۔جون تک کا اندازہ لگائیں تو نقصان کئی گنا بڑھ چکا ہے۔جولائی سے آگے وباء کب تک جاری رہتی ہے۔کسی کوبھی کچھ پتہ نہیں۔اگرتباہی دسمبر2020ء تک چلتی رہی توپورے ایک سال کی تباہی کااندازہ لگانا ہوگا۔گزرے چھ ماہ میں صنعت توبیٹھ چکی ہے۔ہوائی کمپنیوں کے جہاز مکمل ریسٹ کررہے ہیں۔کہیں کہیں کوئی ضروری فلائٹ اپنے پھنسے ہوئے لوگوں کوباہر سے لانے کے لئے استعمال ہوتی نظر آرہی ہے۔دنیا کے بڑ ے بڑے سیاحتی مراکز 6۔ماہ سے بند پڑے ہیں۔سیاحت مکمل طورپر ختم ہوچکی ہے۔ہولی وڈ اوربالی وڈ جیسے عالمی فلمی ادارے مکمل طورپر بند ہیں۔ان اداروں سے لاکھوں لوگوں کا روزگار متاثر ہوچکا ہے۔

انٹرٹینمنٹ اورریسٹورنٹ بھی جزوی طورپرسروس فراہم کررہے ہیں۔سماجی فاصلہ یہاں بھی آڑے آگیا ہے۔ابتدائی 3۔ماہ کے اندازوں کے مطابق ٹرانسپورٹ میں45۔فیصد ،شاپنگ میں60۔فیصد کمی آئی ہے۔البتہ پہلے سے Establishedآن لائن سیل کرنے والی کمپنیوں کاکام تیز ہوگیا ہے۔چونکہ ہوائی جہاز ،بحری جہاز اورزمینی ٹرانسپورٹ مکمل نہیں چل رہی اس لئے کچھ عرصہ پہلے آئیل کی قیمتیں کافی نیچے آگئی تھیں۔تیل پیداکرنے اور فروخت کرنے والے بڑے ملکوں نے نئی پالیسیاں بناکر قیمتوں کارخ اوپر کی طرف کیاہے۔تاکہ ان کو مناسب آمدن حاصل ہوسکے۔پاکستانی حضرات تیل کی کمی بیشی کے حالات سے گزرتے رہتے ہیں۔صرف مہنگے ہونے پرہی پٹرول دستیاب ہوا۔ہروہ کاروبار یاسروس جس میں گاہک سے بالمشافہ معاملہ ہوتاتھا۔وہ زوال کاشکار ہے۔حجام کی دوکان سے لیکر تھئیٹرز تک اورشاپنگ مالز سے لیکر پھول بیچنے تک جب کاروبار میں زوال آتا ہے تو لوگ ملازمتوں سے نکالے جاتے ہیں۔سب سے بڑی اورطاقتورمعیشت سے4۔کروڑ روزگار کے خاتمے کی خبریں آرہی ہیں۔پاکستان سے50۔لاکھ نوکریوں کے خاتمے کی خبر کئی ہفتے پہلے تھی۔

اب یہ ایک کروڑ سے لگ بھگ پہنچ چکی ہوگی۔نوکریاں نہیں ہونگی تولوگ بنکوںکی قسطیں نہیں اداکر سکیں گے۔یوٹیلٹی بلز کی ادائیگیاں نہیں ہوسکیں گی۔راشن خریدنے کے لئے رقومات دستیاب نہ ہوسکیں گی۔یوں مسائل ہی مسائل پیداہونگے۔آن لائن کاروبار بڑھتا ہوانظر آتا ہے۔یونیورسٹیوں اورسکولوں نے کلاسیں شروع کی ہوئی ہیں۔فیسیں وصول ہورہی ہیں۔گروسری شاپنگ آئن لائن جاری ہیں۔پاکستان جیسے ملک میں بھی یہ کام ہوتو رہے ہیں لیکن محدود پیمانے پرسرکاری سکولوں کے بچے گزشتہ چھ ماہ سے تعلیم سے محروم ہیں۔پرائیویٹ سکولوں نے آن لائن کلاسز کااجراء کیاہواہے۔آن لائن ویڈیوکیAPPSکاکام بہت اونچا جارہا ہے۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ معاشرے میں آن لائن کام کرنے والے محکمے اورادارے لوگوں کو نوکریاں فراہم بھی کررہے ہیں۔جیسےAmazonوغیرہ۔جوملک معاشی لہاظ سے مضبوط تھے۔انہوں نے اپنے عوام اورکاروباری لوگوں کی کافی مدد کی۔جاپان نے ایک کھرب ڈالرکا پیکج نکالا۔امریکہ نے 2۔کھرب اور20۔ارب کے پیکج کااعلان کیا۔اس سے ہربالغ کو1200ڈالر کاکیش مل رہا ہے۔

اس طرح کے پیکجز کااعلان جاپان اورامریکہ ہی کرسکتے ہیں۔ایشیاء اورافریقہ میں ایسا نہیں ہوسکتا۔امریکہ نے چھوٹے چھوٹے کاروباروں کوبھی مالی سپورٹ فراہم کی ہے۔ایسے ہی سپورٹ پروگرام یورپ کے ممالک نے بھی اپنی عوام اور کاروباری طبقے کودیئے۔پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ ہم یہاں مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے۔ہرروز کام کرکے کماکر کھانے والوں کی تعداد 50۔فیصد سے بھی زیادہ ہے۔پاکستان نے احساس پروگرام کے تحت کافی غریبوں کی مدد کی اورانہیں کیش پہنچایا۔لیکن یہ کام حکومت پاکستان باربار نہیں کرسکتی۔ایک بار12ہزار روپے دے دیئے گئے۔وسائل کی کمی کی وجہ سے اس پروگرام کودھرایا نہیں جاسکتا۔کاروباروں کے بند رہنے سے حکومت کی اپنی آمدنی ہی کم ہے۔ہرکوئی جانتا ہے کہ حکومت خود اندرون اوربیرون ملک سے قرض لیکر گزارہ کرتی ہے۔معیشت دان بحرانوں کوواضح کرنے کے لئے 3 ۔طرح کی تصویروں کوشائع کرتے ہیں۔ایک شکلVکی ہوتی ہے۔بحرانوں سے معیشت نیچے آتی اور بڑی جلدی پھر اوپر کی طرف چلی گئی۔بحران کی اثر بہت ہی مختصر عرصہ کا ہوتا ہے۔

مثلاً وباء فوری طورپر ختم ہو جائے یا ویکسین آجائے اورمعیشت اپنی شکل میں بحال ہوجائیگی۔2008ء کا معاشی بحران کچھ اسی طرح کاتھا۔یہ معاشی بحران جلد ہی ختم ہوگیا۔سپینش فلو سے لوگوں کاجانی نقصان کروڑوں میں تھا۔لیکن اس وباء کے اثرات جلد ختم نہیں ہوئے۔2008ء کامعاشی بحران بھی امریکہ اوریورپ سے جلد ہی رخصت ہوگیاتھا۔البتہ یونان اس میں لمبے عرصے تک رہا۔دوسری تصویر Uایسی ہوسکتی ہے اس میں نیچے آکر معیشت کے اوپر اٹھنے میں کافی عرصہ لگتا ہے۔ایشیاء اورافریقہ کی معیشتیں اوپر اٹھنے میں کافی وقت لیں گی۔تیسری تصویرLطرز کی ہوگی۔معیشت نیچے آنے کے بعد اوپر اٹھتی ہی نہیں۔ملک کی ہرچیز ہی انحطاط کاشکار ہوجاتی ہے۔اس کادورانیہ کئی سالوں تک پھیل جاتا ہے۔اور یہRecession سےDepressionمیں تبدیل ہوجاتا ہے۔2008ء کے بعدیونان کی صورت ایسی ہی ہے۔ابھی تک یونان معاشی بحران سے نہیں نکلا۔ایسی وباء کے بعد دنیا اپنے اپنے ملکوں میںبڑی بنیادی تبدیلیاں کرتی ہے۔جیسے1918ء کے بعد نیشنل ہیلتھ سروس کی بنیاد پڑی اور شعبہ صحت پربڑی بڑی رقمیں خرچ کرنے کارجحان پڑا۔

ہمارے اپنے ملک پاکستان کے معاشی حالات وباء سے پہلے بھی اچھے نہ تھے۔صنعت کاروں اور کاروباری لوگوں کے مذاکرات حکومت سے چلتے رہتے تھے۔وباء سے پہلے کاروباری لوگوں کی کافی باتیں مان لی گئی تھیں۔صنعت میں کچھ حرکت پیداہوگئی تھی۔پھر وباء کی وجہ سے لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔سندھ میں زیادہ سخت اورباقی صوبوں میں نرم تھا۔پاکستان کی حیثیت نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن جیسی ہے۔اگرلمبے عرصے کالاک ڈاؤن سخت کرتے ہیں۔تووباء کاپھیلاؤ توکم ہوجاتا ہے۔لیکن گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگ بھوک سے مریں گے۔اگرلاک ڈاؤن نہیں کرتے تب وباء کاپھیلاؤ تیزہوجاتا ہے۔یہ بات حکومت کے کئی اقدامات سے ثابت ہوچکی ہے۔جن علاقوں سے مریض زیادہ آرہے ہیں وہاں سختی سے لاک ڈاؤن کرنا بہتر ہے۔باقی شہر کاعلاقہ کھلا رکھا جائے تاکہ روزانہ کی بنیاد پرکام کرنے والے لوگوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔حکومت یہ ضروری چیک کرے کہ لوگSOPSپرعمل کررہے ہیں یانہیں۔

پارلیمنٹ کوچاہئے کہSOPSکوقانون میں بدل دے۔حکومت کے لئے عمل درآمد کروانا آسان ہوجائے گا۔ابھی تک پارلیمنٹ نے اپنا کردار ادانہیں کیا۔پارلیمنٹ کووباء کے بارے قانون سازی کرناضروری ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے۔ایک دوسرے کے خلاف تقریر یں کرنے سے تووباء ختم نہیں ہوگی۔پوری قوم کو سنجیدگی سے اس طرف توجہ دینی پڑے گی۔صنعتیں اورکاروبار کھلے بھی رہیں لیکن شرائط کی پابندی کے ساتھ۔شرائط پرعمل نہ کرنے والوں کے لئے پارلیمنٹ سزائیں تجویز کرے۔ابھی پاکستان میں وباء کے خاتمے کاقریب قریب امکان نظر نہیں آتا۔سرمایہ کاروں کواپنی معیشت میں سرمایہ کاری جاری رکھنی چاہئے۔تاکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔اس مشکل وقت میں ملک کے اپنے صنعتکار اورسرمایہ کار ہی ملک کی خدمت کرسکتے ہیں۔باہر سے آکر یہاں کسی نے کچھ نہیں کرنا۔وبائیں پہلے بھی اس کرۂ ارض پر آتی رہی ہیں۔ختم بھی ہوتی رہی ہیں۔

موجودہ شب تاریک کے بعد صبح نورضرورآئیگی۔پاکستانیوں کواپنے رویوں کووباء کے دنوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومتیں تواپنا فرض نبھا رہی ہیں۔عوام کے رویوں میں مثبت تبدیلی کم ہی دیکھنے میں آرہی ہے۔وباء کے دنوں کے بعد ہماری معیشت کی صورت حال کیسی ہوگی۔اس کاانحصار ہمارے اپنے رویوں پرہے۔پارلیمنٹ آگے بڑھے۔قوانین بنائے اور انتظامیہ اس پرعمل کرائے۔اس طرح ہم وباء کے دورسے جلد باہر نکل سکتے ہیں۔یہ حالات ایمرجنسی کے ہیں۔حکمرانوں اورطبی عملے کی باتوں کاماننا ضروری ہے۔ہرچھوٹا بڑا،عورت مرد،پڑھالکھا یاان پڑھ طبی عملے اور حکمرانوں کی ہدایات پرعمل کرنا زندگی کا مقصد بنالے۔اندھیری رات کے بعد صبح نور نے لازماً طلوع ہونا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com