دوریاں - محمد طیب زاہر

سیاست کو مفادات کا نام دیا جائے یا پھر بےوفائی کا دوسرا نام تو غلط نہ ہوگا بقول بشیر بدر

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

بے وفا ہونے کی آخرکوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہی ہے۔ماضی کی گرد سے پردہ اُٹھایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدان موقع پرست ہونے کے ساتھ ساتھ کتنے زیادہ مفاد پرست بھی ثابت ہوئے ہیں ۔90 کی دہائی میں یہی لیڈران ایک دوسرے کے گریبان پکڑتے ہوئے نظر آئے اور اسی کے چلتے ان کی حکومتیں قلابازیاں کھاتی رہیں ۔اس کے بعد عدلیہ بحالی کی تحریک چلی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے روایتی دشمنی کو پس پشت ڈال کر (عوامی مفادات ) کا مل کر تحفظ کرنے کے عزم کا اعادہ کرلیا۔عدلیہ بحالی تحریک شروع ہوئی زرداری اور نواز شریف ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اپنی منزل کی جانب نکل پڑے ۔خیال رہے یہاں دونوں جماعتوں کا مقصد عدلیہ کی بحالی کے علاوہ سابق صدر جنرل ر مشرف کے خلاف مواخذہ کرنا بھی شامل تھا ۔

بالآخرسابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججز کے بحالی کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں معاہدے طے ہوگئے۔لیکن مفاہمت کے بادشاہ نے اپنے حلیف کو پیٹھ دکھانا شروع کردی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ ججز کو کب بحال کیا جائے گا تو انہوں نے کہا معاہدہ قرآن اور حدیث نہیں جس کو پورا کرنا ضروری ہو اس بات کے پس منظر میں دیکھا جائے تو زرداری عدلیہ کو دباؤ میں رکھ کر اپنے اوپر تمام کیسز ختم کرنا چاہتے تھےاور وہ اس میں پوری طرح کامیاب بھی رہے ۔15 فروری 2008ء کو آصف زرداری نے اپنی آئینی پٹیشن سندھ ہائی کورٹ میں پیش کی جس میں وفاقی حکومت اور نیب سے کہا گیا تھا کہ این آر او کے تحت ان کے خلاف درج تمام کیسز واپس لیے جانے کے احکامات کا فائدہ انہیں دیا جائے۔ 18 فروری کو انتخابات منعقد ہوئے اور27 فروری کو ڈوگر نے تمام ماتحت عدالتوں کو احکامات جاری کیے کہ این آر اوکے تحت انہیں یہ فوائد فراہم کیے جائیں۔

28 فروری کو سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے متعلقہ ہدایت نیب اور وفاقی حکومت کو جاری کردی۔اسی دوران زرداری نے نواز شریف سے کئی ملاقاتیں کیں اور محض پی سی او ججزکو دباؤ میں رکھنے کے لیے9 مارچ 2008ء کو مشہور زمانہ معاہدہ مری کیا۔ اس معاہدے کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کو 30روز میں بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ججز کو دباؤ میں لاکر زرداری کو ان تمام کیسز سے بری کردیا۔12 مارچ 2008ء کو ایس جی ایس کوٹیکناکیس ختم کردیا گیا۔ 14 مارچ 2008ء کو احتساب عدالت نمبر 3 راولپنڈی نے آصف علی زرداری کو بی ایم ڈبلیوکیس سے بری کردیا۔24 مارچ 2008ء کوجسٹس نظام اور ان کے بیٹے کے دہرے قتل کے مقدمے میں ان کو بری کیا گیا۔8 اپریل 2008 کو سندھ ہائی کورٹ نے انہیں مرتضیٰ بھٹو قتل کیس سے بری کردیا۔غرضیکہ انہوں نے نواز شریف کے ساتھ ہاتھ کرکے اور عدلیہ کو دباؤ میں رکھ کر ایک تیر سے دوشکار کرڈالے اور اپنےاوپر قائم تمام مقدمات ختم کرالئے ۔انہوں نے این آر او کو اپنی تلوار اور معزول ججز کو اپنی ڈھال بنالیا اور اپنی شاطرانہ تدبیر سے بگڑی ہوئی بنا لی ۔

جب اپنا مطلب پورا ہوگیا تو انہوں نے عدلیہ کی بحالی کا اعلان کرکے اس کا بھی کریڈٹ اپنے سر سجانے کی کوشش کی ۔نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ وفاق میں مخلوط حکومت کے خاتمے کا اعلان اس وجہ سے کیا کہ ان کے بقول وہ ججز کو اُس وقت کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی سے بحال کروانا چاہتے تھے اور اُس وقت آصف زرداری کو اپنا مفاد نظر آرہا تھا جبکہ مسلم لیگ ن کو اپنا جبکہ ایک کے ساتھ دوسرا جو مفت تھا وہ پرویز مشرف کا نام نہاد مواخذہ تھا۔نواز شریف افتخار چوہدری کو اس لئے بحال کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ اپنی انتخابی نا اہلی کو ختم کراسکیں اور بعد ازاں ایسا ہوا بھی لیکن مشرف کے مواخذے کے حوالے سے دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرتی رہیں۔جس طرح وزیر اعظم عمران خان پر نواز شریف کو لندن بجھوانے اور ان کے ساتھ ڈیل کرنے کا الزام لگتا ہے ٹھیک اسی طرح الٹا چورکوتوال کو ڈانٹے، زرداری نے نواز شریف پر مشرف کو باہر جانے دینے کا الزام لگایا ۔

اس طرح دوستی دشمنی میں بدل گئی اور اپنے مفادات پورے ہونے بعد دونوں نے اپنا اپنا راستہ ناپ لیا۔جون 2015 میں زرداری نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والا بیان دیا جس کو کیش کرانے کے لئے نواز شریف نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے قریب آنے کی کوشش کی اور زرداری کو بابا جی کا گھنٹا دکھا دیا۔جس کے بعد پاناما میں میاں صاحب نا اہل ہوئے اور ان کو پھر اپنے (چھوٹے) بھائی کی یاد ستانے لگی انہوں نے ان سے رابطے کی کوشش کی (کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ عالم تنہائی میں دونوں کی ملاقات ہوگئی تھی ، اللہ عالم)لیکن سابق صدر نے ان کے بیان پر فائدہ اُٹھانے کے سبب ملاقات سے انکار کردیا۔پھر اس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف بیان داغنے کا طویل سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔جب وزیر اعظم عمران خان منتخب ہوئے تو انہی آنکھوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ علی بابا چالیس چور اور پیٹ پھاڑ کر دولت نکالنے والے خادم اعلی نے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں زرداری کو گلے لگا لیا۔

لیکن اب ایک بار پھر یہ محبتیں سچیاں نہیں رہیں۔شہباز شریف قرنطینہ سے باہر آگئے ہیں لیکن ان کی سیاست اب بھی گھر میں کورینٹائین ہے۔بلاول بھٹو اپنا اور اپنے ابو کے مفاد کی خاطر مسلم لیگ ن کےساتھ مل کر حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن شہباز شریف ایسا کچھ نہیں چاہتے۔ بلاشبہ حکومت گرانا اس وقت مشکل نہیں لیکن مسلم لیگ ن کیا چاہتی ہے یا کسی حکمت عملی کے تحت وہ حکومت گرانے کی مہم میں حصے دار نہیں بننا چاہتی؟ جبکہ لیگی ارکان آئے روز حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔دونوں بڑی جماعتیں جو ایک دوسرے کی دوست تو کبھی دشمن بن جاتی ہیں پھر سے ان کے درمیان دوریاں جنم لے رہی ہیں۔بلاول زرداری اے پی سی کا انعقاد چاہتے ہیں لیکن شہباز نے خاموشی اختیار کرلی۔ بقول جون ایلیا

خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری

کوئی ہنگامہ برپا کیوں کرے ہم

سابق وزیر اعلی چونکہ تازہ تازہ کورونا سے لڑائی جیت کر آئے ہیں اب وہ ایک بار پھر کسی کورونا کا سامنا نہیں چاہتے میری مراد کورونا سے بالکل بھی بلاول نہیں ۔بس وہ احتیاط کرنا چاہتے ہیں کہ ان کو سیاسی کورونا نہ لڑ جائے۔بلاول کے ساتھ جو ہاتھ ہو رہا ہے اس کے پیشِ نظر بشیر بدر کا یہ شعر ملاحظہ ہو

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

ولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف لانگ مارچ کو جب نکلے تھے تو اُس وقت تمام جماعتوں نے ان کی حمایت کا اعلان کیا لیکن پھر مولانا اکیلے رہ گئے ایسا ہی چئیرمین پیپلزپارٹی کے ساتھ ہوتا نظر آرہا ہے ۔مسلم لیگ ن کے ساتھ نہ ہونے سے حکومت کسی بھی صورت گرتی نظر نہیں آرہی بلاول گرتی دیوار کو ایک دھکا دینا چاہتے ہیں پر میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا کا راگ الاپتے شہباز دیوار کو پکڑے رکھنا چاہتے ہیں۔شہباز مانتے ہیں یا نہیں لیکن بلاول ان کی طرف حیرانگی سے سوال پوچھتے ہیں جس کی ترجمانی شاعر عدیم ہاشمی اپنےا س شعر میں کرتے دکھائی دیتے ہیں

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

نواز شریف توشہ خانہ کیس میں اشتہاری قرار دے دئیے گئے لیکن وہ باہر ہیں اس سے نہ چھوٹے میاں کو فرق پڑتا ہے نہ بڑے میاں کو ۔بلاول اور زرداری کو کیونکہ اس کیس میں زرداری کے لئے مشکلات ہوسکتی ہیں ۔اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ بلاول کسی بھی صورت اے پی سی بلُائیں لیکن ان کی دال گل نہیں رہی بلکہ شہباز کی بے رخی سے ان کا خون ہی سڑ رہا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */