گوکہ قیود احرام میں ہوں - بنت فاطمہ

واپسی کا وقت جوں جوں قریب ارہا تھا دل رکا جارہا تھا انکھیں نم خون منجمد اور قدم ساکت اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار ہی نہ تھے پنچھیوں کو گھونسلوں میں لوٹنا پڑتا ہے دسمبر پچھلے سال کی باگ ہے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کی اڑان نے دل ودماغ روح وجسم کو معطر کردیا اپنے تصوراتی محسوسات میں گویا حرمین شریفین میں گھوم رہی ہوں چوبیس گھنٹوں کا ایک ایک لمحہ بس ایک ہی دعا تھی ۔کبھی تو بلاے گا مجھے اپنے گھر میں ۔

متحرک پُر خلوص روح پرور حج وعمرہ مربین تربیت گاہ حرم فورم کے شفیق اور مہربان ساے میں گزرتا ہوق ہر گھڑی تڑپا کر رُلا دینے والی تھی میں حرم فورم سے بالکل انجان تھی ذہن میں بہت سوچیں پتہ نہی کیسی تربیتی نشست ہو گی کہیں بور ہی نہ ہو جاوں مگر چند روح پرور بازو پھیلاے مسکراتے چہروں کے پُرجوش استقبال نے دل کے وہمات کو شناسائی کی جگہ دے دی منصورہ میں بہت سی تربیتی پروگرامز کے لیے اسی استقبالیے سے گزرتے تھے مگر اج شمس وقمر کی روشنی کچھ الگ سی تھی اج فضا میں جیسے قوس قزاح نے خوبصورتی بکھیر دی ہو جیسے ایک ہی زمین سے اُگنے والے چنبیلی، سفید ، پیلے ،گلابی گل ابی نرگس ،وہیں سرخ گلاب کا مقام ہی نرالا ہے یہی حال دعوتی فورمز میں حج فورم کا محسوس ہوا۔

یہاں للہیت کا بہترین نمونہ گو کہ سب قیود احرام میں ہوں جہاں کسی ذی روح کو تکلیف تو درکنار الجھی نظروں سے دیلھنا بھی گناہ ہو جہاں نظم و ضبط کے جگنو اپنی چمکتی اب وتاب سے تربیت گاہ کو روشن کرنے کے لیے ڈورتے پھر رہے ہوں دسمبر کی شدید ٹھر دھند والے موسم میں بھی ان کارکنوں کے چہروں کو جوان خون کی سی خوشی جوش اور اطمینان جھلک رہا تھا ان کی پُر امید انکھیں اور خوشی سے چہرے کی دھمک سامیعین کو جلا بخش رہی تھی ان سب میں ایک بوڑھا باز بھی پوری قوت اور دلجمعی کے ساتھ بنام آپاجان فہمیدہ گل جس عمر میں گرم پانی سے وضو جاے نماز کی جگہ کرسی یا نرم جگہ بستر کے پاس ہیٹر کم مرچ والے کھانے شوگر بلڈ پریشر اور جوڑوں کی تکالیف کے لیے صبح دوپہر شام دواوں کے سبق پڑھے جاتے ہیں آپا جان کس قدر عاجزی اور پرسکون اطمینانی کیفیت کے ساتھ صبح سے شام تک کرسی پہ بیٹھی ننھنے پرندوں کے لیے ثبت وثبات کا مظاہرہ کرتی نظر ائی دسمبر کی سرد ہوا میں گرم بستر کو چھوڑ کر ایک کرسی پہ تشریف فرما گویاتربیت کی کامیابی اور کارکنان کے لیے دعائیں کر رہی ہوں ۔

سب سے حیرت والی بات یہ تھی وہ دوردراز سے انے والوں کے لیے قبل از تربیت گاہ منصورہ میں موجود تھی جبکہ کچھ نائبین بھی یہ کام کر سکتے تھے فروزی سکارف میں لپٹا مسکراتا گورا چہرہ ہر واقف نہ واقف شرکا کو والہانہ گلے لگا لگا کر ملتی احوال ایسے پوچھتی جیسے برسوں کا بچھڑا کوئی اپنا مل گیا ہو گو کہ قیود احرام میں ہوں انہی میں ایک اور باجی رخسانہ صدیق تتلی کی طرح مسکراہٹوں کی پنڈ اٹھاے گھنٹوں بیٹھ کر سننے والے شرکا کے اردگرد اڑتی پھر رہی تھی جیسے تھکن دور کرنے کی ذمہ داری انہی کے سپرد ہواب باجی یاسمین افتخار کا ذکر بھی خاص ہے خوش اخلاق اور خوش مزاج انداز میں کمزور جسم کے ساتھ پہلے دن کے اختتامیہ پہ تعارفی ملاقات میں گھنٹہ بھر بمعہ مسکراہٹ کھڑے رہ کر میری ہر بات کو پوری توجہ سے سننا اور ہاتھ میں ہاتھ لے کر سہلانا بار بار محبت سے بغل گیر ہونا اور پیار سے ماتھا چومنا گو حرم فورم نے پیار باٹنے کی ذمہ داری ان کی لگارکھی ہو نہ ماتھے پہ شکن نہ تھکاوٹ کا احساس پورا دن انتظامی امور میں اور جب سب سونے کو بستروں پہ تھے۔

باجی سلمی ناہید ذمہ داری کے اضطراب سے بے قرار ہر شہر سے انے والے افراد انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے رابطے نمبر جمع کرنے میں مصروف اور دوسرے روز کی تربیتی نشت کے لیے ہر کسی کے اندر ہمت پیدا کر رہی ہوں جیسے کسان بیج بو کر غافل نہی ہو جاتا اسی طری سلمی باجی بھی پورے دن کی سب سے روداد بھی سن رہی تھی اب ان دھمکتے ستاروں میں ایک چاند کا بھی دیکھئیے اپنی مسکراہٹ اور محبت بھری ماں کی سی نظروں ہر عام وخاص کو اپنائیت اور فکر کا تخفہ بذریعہ مسکراہٹ پیش کر رہی کراچی سے ائی حرم فورم پاکستان مرکز کی نگران باجی حمیرا جبین نے بھی اس تربیت گاہ کو چار چاند لگا دئیے ہر مقررہ کو یوں توجہ سے سنتی جیسے پہلی بار سنا ہو اور اپنی توجہ طلب عادت سے سامیعین کو توجہ کی طرف راغب کرنا مقصد ہوکرسیوں پہ گھنٹوں بیٹھنا بھی کسی جہاد سے کم نہی حمیرا باجی وقتا فوقتا کسی چٹکلے یا مزاخ سے ماحول کو فرحت بخش رہی تھی انکا ایک لفظ تو مجے بھی ہنسا دیتا کراچی کا تخلص "ارے "" میرے کو " کا استعمال پنجابیوں کے لیے بہت مزے کا تھا۔ رات اخری پروگرام باہم تعارف کا وقت تھا یہ بھی اپنے اندر ایک فرحت تھی سب باری باری تعارف کروا رہے تھے۔

اور ساتھ ساتھ ہنسیی مزاخ کا ماحول بنا ہوا تھا میری باری ائی میں حرمین شریفین کے تصور میں گم بہت محتاط انداز میں شاعر مشرق کے شہر کی مناسبت سے تعارف کروایا ایک شعر بھی کہا اور یہ کہ میری بہت درینہ خواہیش حج کا طریقہ سیکھو حج کی تیاری کر کے اللہ سے حج کی دعا کروں تعارف کے بعد بیٹھنے ہی لگی تھی اسٹیج سے ایک اواز سماعت سے ٹکرائی " ارے پیاری نام تو بتاتی جا " شہر اقبال کے باز یہ حمیرا باجی واہ کراچی والوں کا انداز بھی اپنے اپ میں انوکھا محبت والا ہے اپنا نام تعلیم بتا ہی رہی تھی پیچھے سے دو ہاتھ بغل گیر ہوے نم انکھیں کپکپاتی اواز کانوں میں سر سراہٹ سی ہوئی "میں نے کلام اقبال دس سال پڑھایا ہے" یہ اقبال کی مداح رخسانہ صدیق تھیں یوں پورا ھال میں اقبال کے اشعاروں سے فلسفہ اقبال تازہ ہو گیا مجے یوں لگا جیسے کسی نے زمین سے اٹھا کر فلک پہ بٹھا دیا ہو میری شہر مشرق سے صرف نسبت ہی تو تھی مجے یوں عزت دی گی کہ اپنے جاے پیدائش پہ فخر ہونے لگا نظم طعام بھی پرجوش چاے پانی کا وقفے وقفے سے پوچھنا طعام گاہ میں بار بار گرم روٹی سالن ایک ایک شرکا کو پیش کرنا گو عازمین حج کی مہمان نوازی کا ثواب سمیٹ رہے ہوں۔

اب رات کا کھانا اور اخری شب کی اخری ملاقاتوں باتوں میں نماز فجر ہو گی نماز ازکار ناشتہ کے بعد لیکچر ھال پنہچے اج دل واپسی کا سوچ کر بجھا بجھا ساتھا اج بھی پورا دن تربیت گاہ میں پرجوش ماحول تھا مگر جیسے ہی عصر کا وقت قریب ایا احساسات یادوں میں ڈھلتت جارہے تھے اپنی سوچوں کو مضبوط کیا ہمت باندھی اجازت لے کر ھال سے نکلی اخری لمحہ بھی ایک یاد بنے بنا نہ رہا رخسانہ باجی دروازے تک چھوڑنے ائی جیسے حج واپسی کا تخفہ دے رہی ہوں چند منٹ گلے لگا کر باتیں کرتی رہی منہ چوما دعائیں دی اور پتہ نہی کتنے احساسات ان کے دل میں تھے ۔گو کہ حج فورم استقبالیہ سے اختتامیہ تک قیود احرام میں ہو اور یہ سلسلہ ایک سال تک موبائل روابط میں مسلسل جاری ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com