کیا پاکستان میں برقی ذریعہ تعلیم ممکن ہے - عبدالقیوم

جام حکومت ویسے ہی ”جام“ہے کیا سندھ میں بھی ان کےحصے کا ”جام “ بیٹھا ہواہے ؟ جسے طلبا کے مستقبل کا اتاپتا نہیں اور نہ ہی اپنے صوبے کے مٹھی اور تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کی مستقبل کو سنوارانے کا کوئی ارادہ ہے ؟

کیا خیبرپختونخواہ میں بھی ”جام “ مسندنشین ہے جسےاپنے علاقوں میں فورجی اور تھری جی کی سہولت کا علم نہیں اور نہ ہی ان طلبا کا جوآن لائن کلاسز کے نام پرمصیبت بھگت رہے ہیں خاص کرپسماندہ اور دور افتادہ علاقوں کے طلبا کےلیے یہ سہولت مصیبت کاباعث بنی ہوئی ہے اورذہنی کشمکش کا باعث بھی بنی ہوئی ہے ۔ہاں !!!کیا پنجاب میں بھی ”جام “ حکومت ہے جہاں حکومت کو اپنے لاکھوں طلبا جن میں سے آدھے سے زیادہ طلبا کاتعلق پوٹوھار ،کوہ سلیمان اور گاؤں سے ہے ان کےہاں توبجلی نہیں ہے ،فورجی اور تھری جی تو بعد کی بات ہے ۔

کچھ لوگ درختوں پہ تھری جی کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں لیکن انہیں اپنی محبوبہ تھری جی نہیں ملتی فور جی تو شہری بابوؤں کی محبوبہ ہے ۔ تو کیا یہ تمام لوگ اپنےحصے کے ”جام“ہیں جنہوں نے تمام طلبا کے مستقبل کو”جام“ ہونے سے روکنے کےلیے انتظامی کوشش نہیں کی ؟کیا یہ ”جام “ہیں اس لیے یہ تمام طلبا کو”جام“ ہوتے دیکھناچاہتے ہیں ؟ویسے بھی کیا ایچ ای سی کا چیرمین بھی “جام “ ہے جو زمینی حقائق جانے بغیر اپنی آن لائن کلاسز سے طلبا کو ”جام “ کرنے کافریضہ بخوبی ادا کررہے ہیں ،یہ لوگ ایسے عہدوں پر کیوں متمکن ہیں جو سب کو”جام“ کرنے پر اکتفا کررہے ہیں ۔

ہمارا جانی اور ہینڈسم بھی ”جام “ ہے جس نے کبھی تعلیمی کرائسس پر بات ہی نہیں کی شاید!!!انہیں تعلیم سےزیادہ ”چندے“ کی ضرورت ہے اس لیے !!!وہ بھی طلبا کے مستقبل کو کورونا کے بہانے ”قرنطینہ“میں ”جام“ ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں اور ہمارا صدر بھی نمائشی”جام “ ہے جس کو ۲۳ مارچ میں نہ نکلنے کا بڑا دکھ ہے اور اس کاغصہ طلبا پر نکال رہے ہیں اور انہیں ”مستقل “ جام ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں جب تک وہ خود نمائشی ”جام پنی “ سے نہیں نکلتے اور گورنرزمیں سے ایک صرف تھوڑا ”جام “ ہے وہ ہے گورنر پنجاب ۔انہوں نے کمیٹی بنائی، طلبا کے تحفظات کے بارےرپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔البتہ سیاسی جماعتیں ،پارلیمنٹ اور سینٹ بھی اس معاملے میں ”جام “ ہیں انہیں بھی خبر نہیں، ہوکیارہاہے تعلیم کے نام پرطلبا کےساتھ ؟ شاید!!!وہ بھی انہیں اپنی طرح ”جام“ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں البتہ طلبا نے”جام “نہ ہونے کی ٹھان لی ہے ۔

پاکستان کےکئی چھوٹے بڑے شہروں میں اس “جام “ پالیسی کےخلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے مگر شنوائی نہیں ہوئی حتی کہ ایچ ای سی کےسامنے بھی ”جام “پالیسی کےخلاف احتجاج نکلے ،بھوک ہڑتالی کیمپ منعقد ہوا مگر ”جام “ ابھی تک ”جام “ ہے ۔ پھر بھی طلبا باز نہ آئے طلبا نے”جام “ کےخلاف جم کر کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا تو پولیس نے طلبا کو ”جام “کرنے کےلیے انہیں گرفتار کرکے تھانہ بند کیا جس کی تمام طلبا مذمت کرتے ہیں اور اس ”جام “پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے رہیں گے تا آنکہ طلبا”جام “ پالیسی کو طلبا ”چالو“ پالیسی میں نہیں بدلتے ۔۔۔طلبا !!!”جام“ پالیسی کےخلاف ہیں نہ کہ ”جام“ حکومت کے ۔۔۔!!!
میری طرف سے حکومت اور ریاستی سانجھے داروں کودستہ بستہ عرض ہے کہ طلبا کو برداشت کرنا سیکھیں اور انہیں آگے آنے کا موقع دیں تاکہ ان میں خوداعتمادی چالو رہے ۔۔۔نہ کہ ”جام“ رہیں ۔

ویسے بھی ایچ ای سی کی اس پالیسی کو طلبا میں کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی ،آن لائن کلاسز لینے والے طلبا کی تعداد ایک اندازے کے مطابق آدھے سے کم ہے ۔میں جس یونیورسٹی سے تعلق رکھتاہوں وہاں تو کلاس کےآدھے سےزیادہ بچے کلاس سےغیرحاضر رہتے ہیں ۔۔۔یہ کلاسز زوم نامی ایپ پر ہورہے ہیں جہاں یکسوئی کا ہونا ناممکن ہے کبھی آڈیو کنکٹ نہیں ہوتا۔۔کبھی جوائن نہیں ہورہا ۔۔کبھی آواز نہیں آرہی ۔ سمجھ نہیں آرہی ۔ جیسی شکایات طلبا کی طرف سے عام ہیں۔

نہ جانے۔! ایچ ای سی کب ”کہیں کا اینٹ ،کہیں کاروڑا ،بھان متی نے کعبہ جوڑا“ والی پالیسی سے روگرداں ہوکر ہمارے ملکی تناظر اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع پالیسی مرتب کریں گے جس سے کسی بھی طالب علم کا نقصان نہ ہو ورنہ ترقی یافتہ ممالک کی منقول نظام سے ہم اتنا ہی سیکھ پائیں گے ” کوا چلا ہنس کی چال،اپنی بھی بھول بیٹھا“۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */