سفــر (قسط 4) - عظمی ظفر

خُرد مندوں کا کہنا ہے

یہ دنیا اک کھلونا ہے

بساط بے ثباتی ہے

تمناوں کی گھاٹی ہے

جو خواہش کو بڑھاؤ گے

اکیلے ہوتے جاوگے

نانا میاں کے کمرے میں ثروت کی آمد کسی مقصد و مطلب کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔ جب وہ داخل ہوئی اس سے پہلے تمکین ان کے بالوں میں کڑوے تیل کی مالش کر رہی تھی۔واہ، بیٹی مزا آگیا!تمہاری ماں یاد آگٸی وہ بھی تمہاری طرح میرے کندھے دباتی اور مالش کرتی تھی۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے تمہارے ماں باپ کو نعیم میرے لیے داماد کم بیٹا زیادہ تھا، میرا بازو تھا۔ ابھی عمر ہی کیا تھی دونوں کی، اجل نے میرے بچوں کو بہت جلدی اچک لیا۔ مگر نہیں یہ تو میں اپنے جذبات میں کہہ جاتا ہوں، موت کا وقت تو مقرر ہے، اسے کون ٹال سکتا ہے۔

اففففففف! بڑا ہی خطرناک ایکسیڈنٹ تھا۔نانا میاں اپنی رو میں کہے جارہے تھے اور تمکین کے آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ نانا میاں! آپ یہ اچھا نہیں کر رہے میرے ساتھ، ثروت نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔نانا میاں نے قریب رکھا چشمہ اٹھا کر ہاتھوں میں لیا۔بیٹی تم وہ کہو جو کہنے آئی ہو، مجھے جو بہتر لگے گا، وہی کروں گا۔ انہوں نے نظریں نہیں اٹھائیں۔جب میں آپ سے کہہ کر گئی تھی کہ پروڈیوسر حشمت صاحب کا فون آئے گا تو آپ انھیں منع نہیں کریں گے تو آپ نے کیوں منع کیا؟ میں ٹی وی میں جانا چاہتی ہوں آخر اداکاری کرنے میں کیا برائی ہے؟؟؟ مجھ میں ٹیلنٹ ہے آپ مجھے گھر میں باندھ کر نہیں رکھ سکتے بس! ثروت کا لہجہ اس تربیت کی نفی کر رہا تھا جو اسے دی گئی تھی۔ بےباک اور بدتمیزی کی حدوں کو چھونے والی ثروت نانا میاں کے سامنے تن کر کھڑی تھی وہ نظریں اٹھاتے بھی تو کیسے، خود تمکین اس رویئے پر حیران ہو رہی تھی۔

کتنے لوگ ان کے آگے پپچھے ایک سین کے لیے پھرتے ہیں اور مجھے لینے کے لیے انہوں نے خود بات کی آپ سے مگر آپ نے منع کردیا آخر کیوں؟تمہیں اس شعبے میں کیا بہتر لگ رہا ہے ثروت ؟ ٹی وی، ادکاری وغیرہ اس خاندان کا مزاج نہیں ہوسکتا بیٹی، میں لاکھ آزاد خیال سہی، غیر مردوں کے ساتھ یوں تم کو کھڑا نہیں دیکھ سکتا۔ نانا میاں نے حتی الامکان اپنے لہجے میں در آئے غصے کو دبائے رکھا۔تو برائی کیا ہے اس میں نانا میاں آپ نے بھی تو سیاست میں ادکاری ہی کی ہے اتنے سال۔ثروت نے دھڑلے سے کہا۔

باجی۔۔۔! تمکین نے بے ارادہ اسے روکتے ہوۓ کہا۔ اسے امید بھی نہیں تھی کہ وہ ایسا بھی کہہ سکتی ہیں۔کہنے دو تمکین بیٹی، میرے لاڈ، پیار اور آزادی کا غلط استعمال کر رہی ہے ثروت مگر میرا فیصلہ کل بھی انکار میں تھا آج بھی انکار میں ہے، اس سے کہہ دو زیادہ شوق ہے تو میرے مرنے تک رک جائے۔پھر اپنے شوق پورے کرتی پھرے۔ انہوں نے چشمے کو اپنے ہاتھ میں اس زور سے پکڑا ہوا تھا کہ اس کی کمانی ٹوٹ گٸی۔تمکین، تم کو ہزار بار کہا ہے کہ میرے معاملے میں مت بولا کرو۔ ہر وقت کی جی حضوری کر کے سب کو میرے خلاف کر دیا ہے۔ بہتر ہوگا تم صرف یہ دکھاوے اور چاپلوسیاں ہی کرتی رہو ہونہہ!!

ثروت جیسے غصے میں آئی تھی ویسے ہی چلی گئی۔سیاسی سرگرمیاں عروج پر تھیں ایک ذرا سی بے احتیاطی احتشام الدین کو اپنے مخالفوں کے لیے کیچڑ اچھالنے کا موقع دینا تھا۔ان کے کاندھوں پر ثروت اور قندیل کو تنہا پالنا پہلے ہی بہت بڑی ذمہ داری تھی جبکہ ددھیال سے سوائے لالچی رشتے داروں کے کوئی آگے نہیں آتا تھا۔ اس وقت وہ بہت پریشان تھے جب چاندنی بوا نے محسن کلیم کے آنے کا بتایا۔ محسن آیا ہے ! امید کا سرا ان کے ہاتھ لگا تھا۔ہم آتے ہیں، قندیل سے کہیں شربت بنا دے، آپ مت بنانے کھڑی ہوجائیے گا، نانا میاں نے کہا۔چاندنی بوا ان کی بات سن کر منہ کھولے کھڑی رہ گئیں۔لو ہم کیا شکر کی جگہ پھٹکری گھول دیں گے؟ ہاں نہیں تو،!مگر نانا میاں مردان خانے میں جا چکے تھے۔محسن کلیم ان کے جگری دوست نواب کرامت کا نواسا تھا۔ سیاسی میدان میں چابک گھوڑے کا شاہ سوار، دوسرا خطاطی کا ماہر تھا، کتنے ہی سیاسی بینرز محسن نے اپنے ہاتھوں سے لکھے، پڑھائی میں بہترین ہونے کے ساتھ بہت تیزی سے وہ جامع کی یوتھ یونین میں جگہ بنا رہا تھا اور وہ بھی نانا میاں کو بچپن سے سب کی طرح نانا میاں کہتا آیا تھا۔

آپ نے بلایا تھا، نانا میاں؟ اس نے آگے بڑھ کر انھیں سلام کیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر صوفے تک لے آیا۔ہاں،احتشام الدین نےایک سرد آہ بھر کر اسے غور سے دیکھا اپنے ٹوٹے چشمے کو درست کیا پھر سر جھکاکر گویا ہوئے،ایک ضروری کام تھا سوچا پہلے اپنے دوست سے بات کروں پھر سوچا دستار جس جس کے آگے رکھوں گا وہ پیر مار کر دور اڑائے گا، لہذا اسی کے آگے رکھ دوں جو عزت اور غیرت کو آنچ نہ آنے دے گا۔انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ لیے۔ننن نانا میاں !!!! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کیا کر رہے ہیں ؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔محسن نے گھبرا کر ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔آپ بس حکم کریں، محسن نے غیر ارادی طور پر کہا۔پھر جو التجا اس سے کی گٸی محسن کو لگا اس کے پیروں سے زمین نکل گٸی ہو۔

رات کی تیز ہوا اور بارش نے خوب جل تھل مچائی تھی، بوا شور مچا مچا کر ملازم سے صحن کی صفائی کروارہی تھیں جبکہ پیچھے والے باغیچے میں موجود ثروت بیگم درختوں کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ انگریزی گلابوں کی جھاڑ پیچھے کی کیاری میں بھی موجود تھی جس میں زرد، نارنجی، گلابی رنگ کے گلابوں کی بہار تھی۔ انہیں میں کچھ جگہوں پر گہری سرخ رنگ کی مخملی بیر بہوٹی دوڑتی نظر آئی۔ رنگوں کا ملا جلا امتزاج بہت حسین تھا وہ بے اختیار مسکرا اٹھیں اور مسکراتے ہونٹ جب پھیلے تو اچانک انھیں خلیل اور تمکین دونوں یاد آگئے۔خلیل بچپن میں ان کے گال پر پڑنے والے ڈمپل پر ہاتھ رکھ کر اکثر کہتا تھا امی تمکین خالہ کے بھی ایسے ہی ڈمپل پڑتے ہیں نا مگر وہ آپ کی بہن نہیں لگتیں، وہ ہنستیں ہیں تو سرخ ہوجاتی ہیں۔ مگر وہ ہمارے گھر کیوں نہیں آتیں بس نانا میاں کے گھر ہی آتی ہیں کبھی کبھی۔ مسکراہٹ دھیرے دھیرے غائب ہونے لگی۔ بیٹا ہو یا باپ دونوں ہی اسی کا دم بھرتے ہیں۔

خلیل میرے بیٹے ،ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ واپس آجاؤ، آنکھیں صاف کرتے ہوئے وہ اسے یاد کر رہی تھیں۔سامنے جھاڑ میں مکڑے اور بیر بہوٹی الجھ پڑے تھے۔انھیں لگا بالکل ایسے ہی وہ بھی تو تمکین سے الجھ پڑی تھیں۔جب تمکین نے یہ بتایا تھا کہ موتی محل کے سنار نے گلوبند واپس کردیا۔گلو بند،،، انھیں یاد آیا سچی موتیوں اور سونے سے بنا نہایت قیمتی زیور تھا نانی کا۔ان کا موڈ یکلخت بدل گیا ہونہہ پتہ نہیں کیا سمجھتی تھی خود کو تمکنت بیگم!!!!

قندیل اور فاطمہ سر جوڑے جانے کن باتوں میں گم تھیں۔ فاطمہ گھر سے مکرامے کا سامان لے تو آئی تھی البتہ باتوں کے سوا کچھ بھی نہ بنا تھا۔ٹیوشن پڑھنے والے بچے قندیل کو مصروف دیکھ کر بادشاہ وزیر کی پرچی والا کھیل کھیلنے لگے۔دادی کہیں باہرسے آئی تھیں۔ اپنے بھاری وجود اور پھولتی سانسوں کے ساتھ پلنگ پر بیٹھیں اور اپنی سفید چادر اتار کر رکھی،توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا،دادی کی بات سن کر سب ہی سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔کیا ہوا دادی سب سے پہلے اشعر ہی پرچی چھوڑ کر بولا،اے ہونا کیا ہے قرب قیامت ہے بچے، عبدالقیوم کی بیوی کے گھر کسی نے جادو ٹونا کرودایا ہے الٹی سیدھی چیزیں اور تعویزیں نکلیں ہیں گھر سے،، بڑی پریشان ہے بے چاری۔قندیل اورفاطمہ نے دادی کو دیکھا اور مکرامے کی لڑی پرونے لگیں۔سچ دادی جادو ایسا ہوتا ہے گیارہ سالہ اشعر دلچسپی سے سننے لگا۔اے لو تو کیا میں جھوٹ گھڑوں گی؟ ہڈیاں بھی نکلی ہیں جادو گر ہڈیوں پر ہی تو عمل کرتے ہیں۔ دادی نے پاندان اپنی طرف گھیسیٹا۔

اچھا،،، پھر تو مکرم بھائی بھی جادوگر ہیں۔ جب دیکھو ڈھانچے کے ساتھ بولتے رہتے ہیں۔ کبھی ہاتھ اور پیر، تو کبھی ہڈی کو ہلا ہلا کر کچھ پڑھتے ہیں۔اشعر نے جس طرح معصومیت سے کہا قندیل کی ہنسی چھوٹ گٸ۔تمکنت جو باورچی خانے سے گلبہار بانو کو منع کرنے آئی تھیں کہ بچوں کے سامنے ایسی باتیں مت کریں وہ بھی اس بات کو سن کر ہنس پڑیں۔نہیں اشعر، وہ تو اپنی پڑھائی کے لیے ان ہڈیوں کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں کیونکہ ڈاکٹری پڑھ رہے ہیں اور بہت جلد وہ ڈاکڑ بن جائیں گے، فاطمہ اسے سمجھانے لگی۔چلو بھئی! تم لوگ اب چھٹی کرو،،، قندیل نے آزادی کی خبر دی تو بچے شور مچاتے اٹھ کھڑے ہوئے۔

یہ دیکھو، سحرش نے اشعر کے ہاتھ سے گری پرچی اٹھائی۔ اس نے نشانی رکھی تھی پرچی پر جبھی تو بار بار بادشاہ کی پرچی اسی کے پاس آرہی تھی۔کچھ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں کہ بار بار بادشاہ بننا چاہتے ہیں چاہے کسی کا کتنا ہی نقصان ہو، تمکنت نے اداسی سے سوچا۔ جاری ہے.................

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com