گمنام راز - کنور مزمل رشید

؎صدا آئی مجھے یا رب کہیں گمنام شہروں سے

کہ بُو آتی ہے غداری کو بھی ان مشہور چہروں سے

راز کئی طرح کے ہوتے ہیں ،ایک قسم وہ ہوتی ہے جو کہ عوام الناس کی چہ مگوئیوں کا سبب بنتی ہےاور دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو کہ محض اہل دانش جانتے ہیں۔یہ وہ راز ہوتے ہیں جن سے صدیوں کے بعد تحقیق و تجزیہ کے ذریعے نتائج اور اسباق حاصل کئے جاتے ہیں۔ایک ایسا ہی راز ہے ہمارے درمیان جو کہ مملکت خداداد میں اکثر ہی زیر بحث رہتا ہے۔یہ ایک ایسا راز ہے جو کہ کل تک عوامی تھا یعنی کہ عوام اس کے بارے میں سب جانتے تھے مگر سب ہی اس سے بے خبر رہنا چاہتے تھے۔

20ویں صدی انسانی تاریخ کے اہم ترین واقعات سے بھری پڑی ہے ۔اسی ایک صدی میں نہ جانے کتنی قوموں کے سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گئے اور کتنی ہی قوموں کے چراغ جل اٹھے۔20ویں صدی میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ توجہ طلب تھی تو وہ تھی Polarization of Globe یعنی کہ اقوام عالم کا دو مضبوط اور اہم دھڑوں میں بٹ جانااور اس مین اب تک کے حالات میں سرمایہ دار طبقہ جیتا ہوا ثابت ہوا۔ کھل کر بات کرتے ہیں،ہم بات کر رہے ہیں اشتراکیت اور سرمایہ داری کی بے مثل جنگ کی،یہ وہ پہلی جنگ تھی جس میں دونوں نظاموں کے علمبرداروں سے زیادہ دوسری اقوم نے نفع و نقسان اٹھایا۔اشتراکیت اور اشتمالی سوچ کا جو سورج صدی کے آغاز میں پوری آب و تاب سے چمکا بلکہ دھمکا وہی سورج ایک لمبی جنگ کے بعد تقریباـ 15 ممالک کی ایک ٹوٹی ہوئی شکل میں خود ہی غروب ہو گیا۔بغلیں بجنے لگیں کہ سرخوں کو دفن کر دیا گیا ہے،امریکہ اور اس کے حواری پھولے نہ سماتے تھے کہ انہوں نے ایک خونی انقلاب کو پاش پاش کر دیا ہے،ہمارے ملاؤں کو فرصت ہی نہ ملتی تھی یہ ثابت کرنے میں کہ ہم کفر کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ہر قسم کے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے کے بعد معلوم پڑا کہ لوگ اسی طرح خوش ہو رہے تھے جس طرح سے ن لیگ والے جے ۔

آئی ۔ٹی بننے پر مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔کیونکہ خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ کچھ ہی عرصہ کے بعد ایک اور طاقت اسی نطام پر چل کر دنیا کی بے مثل قوم بن چکی ہے۔جی بالکل بات چین سے روس تک آن پہنچی ہے۔روس ایک دور میں ہمارا Undeclared Opponent رہا ہے ۔ہم نے روس کے خلاف جنگ میں لڑنے کو مقدس جنگ کا نام دے دیا۔اسے جہاد عظیم بھی کہا گیا۔اور جیسے تیسے کر کے ہم نے امریکی ایما پر مل کر روس کو مار بھگایا اور پھر 2018 کی وہ شام بھی آئی جب ہم نے خود روس کو سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت دیدی۔

یہی تھی وہ مفادات کی جنگ جس میں ہم امریکہ کے کہنے کود پڑے اور امریکی حلقوں سے پینگھیں باندھ لیں۔یاد رہے کہ آج چین جو کہ ہمارا بے مثل دوست ہے وہ بھی ایک سوشلسٹ ملک ہے۔ہمارے تمام مدبرین فلسفی اور بڑے چہرے اشتراکیت کے خلاف جنگ میں شامل ہوئے،لیکن یہ جنگ محض روس کے خلاف تھی چین کے خلاف نہیں۔یہ دوغلہ پن اور dual Standard کہ اسی نظام کو ماننے والا ایک ملک ہمارا سخت دشمن تھا تو دوسری طرف اسی نظام کو ماننے والا ملک ہمارا بہترین دوست۔ہم لوگوں کو مسئلہ کس سے تھا؟ اشتراکیت سے یا روس سے؟نہ ہی تو روس ہمارے خلاف برسر پیکار تھا اور نہ ہی اشتمالی نظریات ہمارے نطریہء پالستان کو چاٹ رہے تھےتو پھر سارا معاملہ کیا تھا کہ ہم غیر کی جنگ میں کود پڑے؟اور آج تک گڑھے میں گرے پڑے ہیں۔دراصل یہ جنگ نہ ہی تو اشتراکیت بمقابلہ سرمایہ داری تھی اور نہ ہی اشتراکیت بمقابلہ اسلام،بلکہ اس نے ان دونوں کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اصل میں یہ جنگ تھی ڈالر بمقابلہ روبیل جس میں ڈالر جیت گیا۔اور روپیہ اپنے ہی ساتھی ڈالر کے ہاتھوں قیدی بن گیا۔ یہ ہیں وہ گمنام راز جو کہ راز بھی ہیں اور بہت گمنام بھی۔یہ وہ راز ہیں جن سے تاریخ جتنی جلدی پردہ اٹھا دے بہتر ہوتا ہے ورنہ بعد میں حقائق کبھی سامنے نہیں آتے۔

کل وہ دو رتھا کہ ہم ماسکو کو بھی سرخ نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور آج ہم لندن اور واشنگٹن کو بھی سرمایہ داری سے پاک کرنے نکل پڑے ہیں۔آخر کون ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہا ہے؟آکر کیوں ہم نے اتنی جلدی یارانے بدل لیے ہیں؟یہی ہیں وہ گمنام رازجن سے پردہ تو اٹھا دیا جاتا ہےمگر دیکھنے والوں کی آنکھوں کو مند دیا جاتا ہے۔یقین کریں کہ اب ہم کسی ایک بھی غیر کی جنگ میں شامل ہونے کے متمحل نہیں ہو سکتے۔اب ہم اس قابل نہیں ہیں کہ اس دفعہ بھی صف غیر میں جا داخل ہوں۔ اب ہم اگر سوشلزم اور کیپیٹل ازم کی جنگ میں کود پڑے تو ہم اپنی شناخت کو خود نا پید کر لیں گے۔ہم نے وہ جنگیں لڑی ہیں جن میں ہم نے کمانا تو کیا تھا سب گنوایا ہی ہے۔ایک دفعہ تقابلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سرمایہ دار امریکی بھی ہم سے بہت آگے ہیں اور اشتمالی سرخ بھی۔روس تمام تر شکست و ریخت کے باو جود جی 20 کا رکن ہے اور ویٹو پاور بھی رکھتا ہے۔

اسی فہرست میں چین بھی بہت سے میدانوں میں امریکہ کو مات دیتے ہوئے صف اول میں جا کھڑا ہوا ہے۔مگر ایک طرف ہیں ہم جو نہ ہی اسلام نافذ کر سکے،نہ ہی اشتراکیت اور نہ ہی سرمایہ داری۔ہم اپنی معیشت کے لیے جتنے مرضی سخت فیصلے کر لیں جب تک ہم اپنے خود کے نظام معیشت کو نافذالعمل نہ کریں گے کچھ بھی حاصل نہ کر پائیں گے۔ان تمام باتوں میں سب سے اہم راز بلکہ گمنام راز یہ ہے کہ ہم اپنا ایک معاشی نطام بھی رکھتے ہیں،جسے اسلامی مالیاتی نظام کہتے ہیں اور جو کہ زکوٰۃاورCirculation Of Money کے اصولوںٌ پر قائم ہے اور صدیوں تک دنیا میں نافذالعمل رہا ہے۔یہ ہے وہ گمنام راز جسے ہر صورت میں عیاں کرنا لازم ہے۔ورنہ ہم یونہی نظاموں اور طاقتوں کے درمیان میدان جنگ کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔اب ہم ایسے موڑ پر کھڑے ہیں کہ اگر اب درست فیصلہ نہ ہوا تو کبھی بھی نہ ہو پائے گا۔اور ایک اور غلط فیصلہ ہمیں دہائیوں پیچھے لے جائے گا۔وہ شاعر کہتا ہے نہ کہ

ذرا سی دیر لگتی ہے لہو کو خاک ہونے میں

پر مدت بیت جاتی ہے صحرا کو پاک ہونے میں

تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں اب اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ہم نے اپنی خود کی جنگ کب لڑنی ہے؟یا پھر ہم ہمیشہ ہی غیروں کی جنگوں میں دھکے کھائیں گے؟اب ہمیں چاہئے کہ اپنے سامنے عیاں حقیقتوں کو کو تسلیم کریں ۔گمنام رازوں کو عیاں حقیقتوں کا روپ دیں اور ہر حال میں اپنی بقا کی جنگ لڑیں نہ کہ اشتراکیت یا سرمایہ داری کی۔کیونکہ اصل میں یہ جنگ جن کی ہے وہ دیکھ لیں گے ایک دوسرے کو۔ہمیں اب کوئی ضرورت نہیں کہ اشتراکیت کے حق میں فتوے لیں یا سرمایہ داری کے حق میں کیونکہ دونوں ہی ہمارے اپنے نظام نہیں اور ان میں سے کوئی کامل نہیں ہے۔جیسے ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں اسی طرح سوشلزم اور کیپیٹل ازم سے آگے بھی ایک جہان آباد ہے۔ہمیں آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہی کیونکہ ہم سوشلسٹ چین کے بھی مقروض ہیں اور کیپیٹل امریکہ کے بھی۔کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے اب اس ورد کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔کیو نکہ

اک بات منافق کرتا ہے

ہر بات میں رب سے ڈرتا ہے

حالات بہت سنگین ہیں خصوصی طور پر اب جب کہ ہر طرف چین اور بھارت کے پھڈے کی وجہ سے دھڑا بندی عروج پر ہے۔اب ایک غلط فیصلہ ہمیں مٹانے کے در پر ہو گا اور ایک درست فیصلہ ہمیں مستقبل کا وعدہ کرے گا۔اہلیان اقتدار سے گزارش ہے کہ اس دفعہ ہمیں کسی غلط جنگ میں نہ جھونکا جائے،بلکہ ملکی تقاضوں کے مطابق فیصلے کئے جائیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com