خوابوں کا تعاقب - احسن سرفراز

ایک لوئر مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے کی وجہ سےہمیشہ ہی سے وسائل کی کمی آڑے آتی رہی۔ والد محترم پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ کمپنی میں انکوائری آفیسر تھے لیکن اتنی "گولڈن" سیٹ پر ہونے کے باوجود رزق حلال کے ہی خوگر تھے کہ اپنے بچوں کے منہ میں حرام ڈالنے سے اللہ کا خوف آڑے آتا تھا، حالانکہ چاہتے تو روز ہزاروں روپے حرام کما سکتے تھے۔

میں نے پنجاب یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز، عریبک اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی تعلیم پر مبنی BA (HONS) کی ڈگری میں داخلہ لیا تو مہینے کا ڈیڑھ سو روپے جیب خرچ ملا کرتا، جسمیں بمشکل کورس سے متعلق نوٹس لائبریری سے لے کر فوٹو کاپی ہی کروا پاتا اور وقفے کے دوران کبھی اس ڈر سے کینٹین نہ جاتا تھا کہ ایک تو جیب میں پیسے نہیں اور اگر کسی نے صلح مار لی تو دوبارہ اسے کیسے دعوت دے پاؤں گا؟چھ میں سے دوسرے سمسٹر کے بعد ہی گرمیوں کی چھٹیوں میں واٹر فلٹرز کی کمپنی میں بغیر تنخواہ کے صرف کمیشن پر جاب کر لی۔ اس دشت کی سیاہی میں کیا گذری وہ ایک الگ کہانی ہے۔ کسی نے اگر جوتے گھسنا اور پانی سے روٹی کھانا محاورے میں سنا ہو گا تو میرے لیے یہ ایک حقیقت تھی۔

خیر پہلے ماہ سترہ سو روپے کمایا جو کہ اس وقت جب پٹرول غالباً پندرہ روپے لٹر سے بھی کم تھا ایک معقول آمدنی تھی۔ خیر پڑھائی کے دوران جاب کے تجربے نے پڑھائی کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا۔ سترہ، اٹھارہ سال کی عمر میں ان دو کشتیوں کی سواری ایک انتہائی مشکل کام تھا، نتیجتاً اسائنمنٹس تک جمع نہ کروا پاتا اور گریڈز جو پہلے سمسٹر میں شاندار تھے وہ گرنے لگے۔چوتھے سمسٹر کے اختتام پر گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے ننھیالی شہر سیالکوٹ میں واٹر فلٹرز متعارف کروانے کا فیصلہ لیا اور دوتین ماہ ہی میں ریکارڈ سیل کر ڈالی کہ یہاں تک کمپنی نے سیالکوٹ ہی میں برانچ مینجر بنانے کی آفر کر دی۔ اب ایک دوراہا تھا کہ ایک طرف تعلیم اور دوسری طرف پرکشش آفر اور حالات کے ستم کی بدولت تعلیم قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا اور پانچویں سمسٹر میں ڈگری ادھوری چھوڑ دی۔

سیالکوٹ میں خوب کمایا لیکن شہر کی آب و ہوا اور والدین سے دوری راس نہ آ پائی، ہیپاٹائیٹس B جیسے موذی مرض نے بھی آگھیرا اور ہفتے میں تین چار دن بستر پر ہی گذارنا پڑتے۔ لاہور چھٹی پر آتا تو خاصہ ہشاش بشاش ہو جاتا۔ لہذا ایک بہترین کاروبار چھوڑ کر چار پانچ سال بعد لاہور واپس لوٹ آیا۔ لاہور صحت تو بحال ہو گئی، لیکن کاروبار صفر سے سٹارٹ کرنے کی وجہ سے معیشت بری طرح متاثر تھی۔خیر کچھ ہی عرصہ میں کچھ نہ کچھ کمائی ہونے لگی اور پھر پڑھائی ادھوری چھوڑنے کا قلق بھی بڑھنے لگا۔ لہذا پڑھائی سے متعلق ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کی دوبارہ ٹھانی اور BCS کمپیوٹر سائینس میں داخلہ لے لیا۔ میں فطرتاً سائینس کی نسبت آرٹس سے زیادہ لگاؤ رکھتا ہوں لیکن سادہ BA کرنے کو دل نہیں مانا کہ آنرز چھوڑنے کا قلق دور کرنا تھا۔

کمپیوٹر سائینس کے چھ میں سے چوتھے سمسٹر کے اختتام پر شادی ہو گئی اور یوں شادی، کاروبار اور تعلیم کو لے کر تین تین کشتیوں کی سواری شروع کر دی، پھر پانچویں سمسٹر میں اچانک ہارٹ اٹیک سے چون سال کی عمر میں والد محترم کا انتقال ہو گیا۔ اب گھر چلانے کا ایک بڑا سہارہ بھی چھن چکا تھا، لیکن جیسے تیسے فرسٹ ڈویژن میں ڈگری مکمل کر لی۔ پھر ایم بی اے میں داخلہ لیا لیکن دوسرے سمسٹر کے خاتمے پر جماعت اسلامی کے حکم پر ناظم کا الیکش لڑنا پڑ گیا اور یوں پڑھائی ایکدفعہ پھر ادھوری چھوڑنا پڑ گئی۔ہمارے خاندان میں میری پھوپھیاں اور خاندان کی دیگر خواتین تک کیلیے ماسٹرز ایک معمولی تعلیم تھی، اس لحاظ سے بیچلر ڈگری کوئی بڑی بات نہ تھی اور مزید تعلیم کا شوق بدستور دل میں ہونے کے باوجود اب گھر چلانے کی مجبوریوں کی وجہ سے آگے داخلہ نہ لیا۔

ھر دس سال بعد دوبارہ پڑھائی سے متعلق ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کا شوق جاگا اور اپنی پہلی پسند اسلامک سٹڈیز میں ماسٹر کرنے کا فیصلہ کر لیا اور آج اسکی تکمیل کی باقاعدہ سند بھی ڈاک کے ذریعے سامنے آئی تو خوابوں کے تعاقب کا یہ سفر آپ کو سنانے کا فیصلہ کر لیا۔اب بھی یہ خواب ادھورے ہیں اور آگے ایم فل و پی ایچ ڈی کے بعد پڑھانے کا ارادہ ہے۔ آپ سب بھائیوں سے درخواست ہے کہ خوابوں کے تعاقب کے اس سفر میں میری کامیابی و استقامت کی دعا کریں اور اللہ آپ سب کی نیک خواہشات بھی پورا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com