شیر کی وفات - احسن سرفراز

کھیلوں کی دنیا میں عالم اسلام کے مایہ ناز سپوت، لائٹ ویٹ UFC چیمپئن حبیب نورماگیمیدوو کے والد جناب عبدالمناف نورماگیمیدوو چند روز پہلے اٹھاون برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔عبدالمناف صرف حبیب کے والد ہی نہیں بلکہ اسکے کوچ، مینٹور اور آئیڈیل بھی تھے۔ داغستان سے تعلق رکھنے والے عبدالمناف نے وہاں مکس مارشل آرٹس ٹریننگ کی بنیاد رکھی اور اپنے آبائی گھر کو نوجوانوں کی تربیت کیلیے جم میں تبدیل کر دیا۔

جنگ، بد امنی اور غربت میں گھرے داغستان کے بچوں اور نوجوانوں کو دنیا میں نام پیدا کرنے اور باعزت روزگار کمانے کا ایک حقیقی موقع فراہم کرنے کے حوالے سے پورے داغستان اور روس میں عبدالمناف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور سراہا جاتا ہے۔عبدالمناف جو خود فوج کے سابق ملازم رہ چکے تھے، اپنے شاگردوں میں تسلسل کے ساتھ نظم و ضبط، سخت محنت اور بلند اخلاقی قدریں پیدا کرنے کے خوگر تھے۔ حبیب شروع ہی سے ایک غیر معمولی کھلاڑی نہ تھا لیکن عبدالمناف ہی وہ جوہری تھے جنہوں نے ننھے حبیب جیسے ہیرے کو ایسا تراشا خراشا کہ آج دنیا کی آنکھیں اسکی چمک دمک سے خیرہ ہیں۔ حبیب ابتداء میں امیچور سطح پر کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیت نہ پاتا تھا لیکن عبدالمناف کی مسلسل نگرانی اور حبیب کی صلاحیتوں پر اعتماد بالآخر رنگ لانا شروع ہوا اور حبیب آہستہ آہستہ روس بھر میں پہچانا جانے لگا اور پھر حبیب دو بار عالمی سامبو چیمپئن بنا اور آج دنیائے ایم ایم اے میں اتنے مقابلوں کے بعد بھی واحد ناقابل شکست عالمی چیمپئن ہے۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اپنے UFC کیریر کے ابتداء ہی میں حبیب کو پسلیوں کی انتہائی خطرناک انجری کا سامنا کرنا پڑا اور حبیب دو تین سال کیلیےکھیل سے باہر ہو گیا۔ اس لمحے اس انجری سے حبیب اتنا دلبرداشتہ ہوا کہ اسنے کھیل ہی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا لیکن یہ عبدالمناف ہی تھے کہ جنہوں نے حبیب کی ہمت ٹوٹنے نہ دی اور دوبارہ اسکی مایوسیوں کو دور بھگاتے ہوئے حوصلہ دیا اور کھیل میں واپسی کے ساتھ عالمی چیمپئن بننے کی راہ دکھائی۔

عبدالمناف ویزہ پابندیوں کی وجہ سے حبیب کے مقابلے دیکھنے امریکہ جا نہیں پاتے تھے، لیکن پچھلے ستمبر میں جب ابوظہبی میں حبیب کو اپنے اعزاز کا دفاع کرنا تھا تو خوش قسمتی سے حبیب کو اپنے کارنر میں اپنے والد کا ساتھ میسر تھا۔ اس وقت ہر صحافی کا حبیب سے ایک ہی سوال تھا کہ " وہ اس بار اپنے والد کا اپنے کارنر میں ساتھ پا کر کیسا محسوس کر رہا ہے؟" یہ سوال ہر پریس کانفرنس میں اتنے تسلسل کے ساتھ دہرایا گیا کہ ایکدفعہ حبیب کو بھی مسکراتے ہوئے کہنا پڑا کہ "آپ باقی سوال چھوڑیں آج صرف میرے والد کے متعلق ہی باتیں کریں، آپ لوگوں کو علم نہیں ہے کہ میں اپنے والد سے کتنا پیار کرتا ہوں۔" اس مقابلے کے بارے حبیب کا کہنا تھا کہ مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے والد اور میرے کوچ ہاوئیر مینڈز دونوں کا میرے کارنر میں ہونا دو شیروں کا میرے ساتھ ہونے کے مترادف ہے۔

عبدالمناف سب سے چھوٹا بیٹا ہونے کی وجہ سے داغستانی روایات کے مطابق حبیب کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ جب کونر میک گریگور جیسے بدتمیز مخالف کو حبیب نے بری طرح پچھاڑا تو اسکی بدتمیزیوں سے تنگ حبیب اسکے ٹیم ممبران کی گالیوں کا جواب دینے کیلیے مقابلے کے اختتام پر رنگ کے باہر کود گیا اور بعد ازاں اسے بھاری جرمانے اور وقتی پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مقابلے سے واپسی پر روس کے صدر پوٹن نے حبیب اور اسکے والد کو مبارکباد دینے کیلیے صدارتی آفس بلایا۔ اس موقع پر پوٹن نے مذاقاً حبیب کو کہا کہ میں آپکے والد کو کہوں گا کہ آئندہ ایسی غلطی ہو تو آپکے کان بھرپور طریقہ سے کھینچیں۔

دوماہ پہلے عبدالمناف کو کو کرونا وائرس نے آن گھیرا، پہلے سے دل کے مریض عبدالمناف اسکی تاب نہ لا پائے اور جلد ہی وینٹی لیٹر تک جا پہنچے، کرونا تو جان چھوڑ گیا لیکن اسکا حملہ انکے کمزور دل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکا تھا اور بالآخر دو ماہ شدید بیمار رہنے کے بعد وہ اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے۔ اللہ عبدالمناف کی مغفرت فرمائے اور حبیب سمیت تمام لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے۔ آپ احباب سے بھی اس عظیم انسان کی مغفرت کیلیے دعا کی اپیل ہے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com