LGS سکینڈل : استاد نما ’’ درندے‘‘ اور لبرل منافقت کا شاہکار مظاہرہ - محمد عاصم حفیظ

استاد کی عظمت سے انکار نہیں ! لیکن بعض درندوں کی ’’ حیوانیت‘‘ کو استاد کے مقدس پردے کی اوٹ میں نہیں چھپایا جا سکتا ہے ۔ لاہور کے ایلیٹ کلاس سکول میں سالوں سے جاری ایک گھناونا کھیل بے نقاب ہوا ، سرگودھا میں سب سے بڑے نجی پنجاب کالجز نیٹ ورک کے ٹیچر نے طالبہ کو بہانے سے بلا کر بے آبرو کر دیا ۔ یہ دو واقعات صرف وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے ۔

سوشل میڈیا تک پہنچے ورنہ تو یہ ایل جی ایس سکینڈل کی طرح سالوں سے جاری اس حیوانیت کو کون سامنے لاتا ہے ؟۔ کہانیاں چھپ جاتی ہیں ، کوئی شکایت کرے تو چپ کرا دیا جاتا ہے ، ادارے معاملہ دبا دیتے ہیں ۔ ان درندوں کو ان سب معاشی ضروریات کا بخوبی علم ہے ، اسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انہیں پتہ ہے کہ مہنگی فیسوں والے سکول و کالجز ان کا کیس اچھلنے نہیں دیں گے اور انہیں تحفظ مل ہی جائے گا ۔ ایک پرائیوٹ ادارے سے نوکری چلی بھی گئی تو کئی دوسرے دینے کو تیار ہوں گے۔ انہیں کریکٹر سے کیا غرض ، بس کلاس چلانے والا ٹیچر چاہیے۔ وہ کلاس میں جو چاہے کرے انتظامیہ کو کیا لگے۔ انہیں تو فیس ملنی چاہیے ۔ ایل جی ایس کا معاملہ کئی سال دبایا گیا ، اب سوشل میڈیا پر پرانی طالبات بھی اظہار کر رہی ہیں کہ کس طرح انہیں کئی سال تک ہراساں کیا گیا۔ لڑکیاں چیخ رہی ہیں کہ ہم نے اپنی خاتون ٹیچرز کو بتایا تھا ، ہم نے انتظامیہ کے علم میں لایا تھا لیکن کہیں شنوائی نہ ہوئی ۔ ایک لڑکی کا کمنٹ پڑھیں تو کانپ اٹھیں گے ’’ ہمیں ایسے لباس پہننے پر مجبور کیا گیا جس سے ہم پرکشش لگیں، ہمارا یونیفارم ہی ایسا تھا ‘‘ اور یہی وجہ تھی کہ ہم ان درندوں کا شکار بنتی رہیں ۔

سکول انتظامیہ اندرون و بیرون ملک تفریحی ٹور پر ان ہی درندوں کو نگہبان بنا کر بھیج دیتی ۔ یہ وہاں پر ان طالبات کے سامنے شراب نوشی کرتے ، انہیں شراب کی آفر کرتے ، شراب پینے کے مقابلے کراتے ، اور شراب پلا کر طالبات کی عزتیں پامال کرتے ۔ جی ہاں یہ سب ہوتا رہا تعلیمی تفریحی ٹورز میں ۔ کیا انتطامیہ تک خبر نہیں پہنچتی ہو گی ۔ یقینا ہاں! لیکن سب چھپایا جاتا اور آوازوں کو دبایا جاتا ۔ ہم نصابی سرگرمیوں میں ڈرامے ، ڈانس اور اداکاری کے نام پر ایسا ماحول بنایا جاتا کہ جس کا نتیجہ یہی نکل سکتا تھا ۔ اس کا ایک بھیانک رخ خواتین ٹیچرز اور عملے کے ذریعے طالبات تک رسائی بھی تھا ۔ جی ہاں اس نیٹ ورک میں لیڈیز ٹیچر اور عملے کی ارکان ملوث رہیں جو کہ طالبات کو اس سرکل کا حصہ بناتی جس کے ذریعے یہ درندے اپنی ہوس پوری کرتے ۔ اب اس پر کون یقین کرے گا ؟ اسے تو چھپانا ضروری ہی تھا کیونکہ پھر ’’ حقوق نسواں‘‘ کی این جی اوز نے سڑکوں پر آ جانا تھا کہ خواتین کا نام کیوں لیا گیا۔ کلاس میں شراب کے تذکرے ، اپنے معاشقوں کے قصے اگر ایسا ہی ماحول ہو تو پھر نتائج یہی آ سکتے ہیں جو کہ آ گئے۔

یہ سکینڈل لبرل و سیکولر این جی اوز اور اس طبقے کی شاہکار منافقت کا اظہار بھی تو ہے ۔ اگر کسی داڑھی والے پر ، کسی مدرسے سے جڑا جھوٹا الزام بھی ہوتا تو انہوں نے اب تک سڑکوں پر چیخ چیخ پر آسمان سر پر اٹھا لینا تھا ۔ میڈیا پر ادارے کا نام بھی آتھا ، بار بار استاد اور شاگرد کی تصاویر بھی دکھائی جاتیں ، فرزانہ باری ، ماروی سرمد ، جیلانی اور پتہ نہیں کون کون ’’ انسانی حقوق‘‘ کی علمبردار چینلز کو انٹر ویو دے دے کر اپنے گلے پھاڑ چکی ہوتیں ۔ غیر ملکی میڈیا پر سکینڈل کا چرچا ہوتا اور گرفتاریوں کی لائنیں ہوتیں ۔ فواد چوہدری کے دو چار انٹر ویو آ چکے ہوتے ۔ سارے مدرسے ہی بند کرانے کے مطالبات سامنے آ چکے ہوتے ۔ لیکن اب کوئی نہیں بولے گا۔ میڈیا اتنا شرمیلا ہو چکا کہ اداروں کے نام تک لکھنے سے ڈرتا ہے ۔ استاد نما درندوں کے نام لکھنے سے اجتناب کیا جا رہا ہے ۔ معاملہ سوشل میڈیا پر نہ آتا تو اب تک دب بھی چکا ہوتا۔ کسی اخبار ٹی وی کا رپورٹر خصوصی نیوز پیکج نہیں تیار کر رہا ۔ یہ ایشو کسی بڑے اینکر کے شو کا موضوع نہیں بن سکا ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارا میڈیا اتنا مودب ہو چکا کہ اسے دبانے میں جتا ہوا ہے ۔

اسے کہتے ہیں لبرل و سیکولر طبقے کی منافقت کا شاہکار مظاہرہ ۔ یہ این جی اوز اور ان کی نام نہاد لیڈرز جب میرا جسم میری مرضی اور خواتین کے حقوق اور ہراسیگی کے خلاف سڑکوں پر ہوتی ہیں تو دراصل ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ مغربی طرز معاشرت لاگو کیا جائے ۔ ان کی انسانی حقوق کی ساری جدوجہد دراصل ہماری معاشرتی روایات ، خاندانی نظام اور اسلامی شعائر کے خلاف ہی ہوتی ہیں ۔ جہاں ایسا کوئی معاملہ نہ ہو تو یہ قرنطینہ میں چلی جاتی ہیں بلکہ زیر زمین ہی گم سم ہو جاتی ہیں ۔ مختاراں مائی کا جھوٹا واقعہ ہو یا سوات میں کوڑے مارنے کی ڈرامہ ویڈیو ۔ ان کی چیخ و پکار آسمان تک سنی جا سکتی ہے لیکن ایلیٹ سکول کے معاملے پر انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے ۔ ہاں یہ پھر منہ پھیلائے بھاشن دیتی نظر آئیں گیں جب کسی دینی شخص ، مدرسے یا مولوی سے جڑا کوئی معاملہ ہو ۔ اب یہ بیچارے کیا بتائیں کہ کیمیرج اور امریکہ ، برطانیہ سے پڑھے ان استاد نما درندوں نے یہ سب کیا ہے۔ ان کا تو سارے کا سارا کاروبار ہی ٹھپ ہو جائے گا ۔
استاد کی عظمت سے انکار نہیں ۔

لیکن ان استاد نما درندوں کو کسی مقدس پردے میں نہیں چھپایا جا سکتا ہے ۔ اگر کارروائی کرنا ہی ہے تو پھر اس ماحول کو بدلنے کی بھی کوشش کی جائے جس کی نشاندہی وہ متاثرہ لڑکیاں کر رہی ہیں اور جو اس سب درندگی کے رونما ہونے میں مدد کرتا ہے ۔ لباس ، یونیفارم ، ہم نصابی سرگرمیاں ، کلاس کا ماحول ، تفریحی ٹورز ، ٹیچنگ سے ہٹ کر غیر ضروری اختلاط اور لیڈیز و دیگر عملے کا بھیانک کردار ۔ اس سب کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ بعض لڑکیوں نے اس سکینڈل کو بے نقاب کیا لیکن سکولز انتظامیہ کو خود بھی اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اگر جانتے بوجھتے آنکھیں بند رکھیں گے تو پھر یونہیں بدنامی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ہمارے معاشرے کی بقا شرم و حیا اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بنی روایات میں ہیں ۔ اسی سے ہم ایسے شرمناک واقعات سے بچ سکتے ہیں ۔

درسگاہوں کو رقص گاہیں اور مادر پدر آزاد ماحول بنانے کی بجائے تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دینی چاہیے ۔ اس سے ہم یقینا ایسے واقعات سے بچ سکتے ہیں ۔ اور ایک سبق یہ بھی کہ مغرب زدہ این جی اوز اور لبرل و سیکولر طبقہ صرف اپنے فنڈڈ ایشوز اور مقاصد کے تحت ہی ایکٹو ہوتے ہیں انہیں معاشرتی اصلاح اور حقیقی ایشوز کو حل کرنے سے کوئی غرض نہیں اس لئے بعض مخصوص مواقع پر ان کی اٹھک بیٹھک اور چیخ و پکار سے متاثر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com