نظرے خوش گزرے- ارشاد احمد عارف

سیاست پرلکھنے سے بہتر ہے انسان شاعروں‘ ادیبوں کے لطیفوں سے جی بہلائے سو اردو زبان کے معروف شعرا‘ ادیبوں اور آئن سٹائن جیسے سائنس دانوں کے چند لطیفے نذر قارئین ہیں۔ ایک روز مرزا اسد اللہ غالب سے ملنے ان کے کچھ دوست آئے ہوئے تھے کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ دستر خوان بچھا اور کھانا آ گیا‘ برتن تو بہت زیادہ تھے لیکن کھانانہایت قلیل تھا۔ مرزا نے مسکرا کر اپنے دوستوں سے کہا: ’’اگر برتنوں کی کثرت پر خیال کیجیے تو میرا دستر خوان یزید کا دسترخوان معلوم ہوتا ہے اور جو کھانے کی مقدار کو دیکھیے تو بایزید کا۔‘‘ ایک دفعہ شہر میں سخت وبا پھیلی‘ میر مہدی مجروح نے پوچھ بھیجا کہ حضرت غالب وبا شہر سے دفع ہوئی یا ابھی تک موجود ہے۔ اس کے جواب میں لکھتے ہیں:’’بھئی کیسی وبا‘ جب ایک ستر برس کے بڈھے اور ایک ستر برس کی بڑھیا نہ مار سکے تو تُف بریں وبا۔‘‘ ٭٭٭٭ اکبر الہ آبادی کے مشہور ہو جانے پر بہت سے لوگوں نے ان کی شاگردی کا دعویٰ کر دیا۔ ایک صاحب کو دور کی سوجھی اور انہوں نے خود کو اکبر کا استاد مشہور کر دیا‘ اکبر کو جب یہ اطلاع پہنچی کہ حیدر آباد میں ان کے ایک استاد کا ظہور ہوا ہے تو کہنے لگے: ’’ہاں مولوی صاحب کا ارشاد سچ ہے‘ مجھے یاد پڑتا ہے‘ میرے بچپن میں ایک مولوی صاحب الہ آباد میں تھے۔ وہ مجھے علم سکھاتے تھے اور میں ان کو عقل‘ مگر دونوں ناکام رہے‘ نہ مولوی صاحب کو عقل آئی اور نہ مجھ کو علم۔‘‘ ٭٭٭٭ لاہور کے میکلوڈ روڈ والی جس کوٹھی میں علامہ اقبالؒ رہائش پذیر تھے۔ اس کے پچھواڑے میں ایک میدان تھا۔ جس میں اکثر پانی بھرا رہتا اور مینڈک ٹراٹرا کر ساری رات سونا حرام کر دیتے۔ جاوید اقبال کی والدہ نے علامہ سے اس کی شکایت کی تو آپ ہنس پڑے اور بولے:’’یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ لوگ شب بیداری کے لئے کیا کیا جتن کرتے ہیں لیکن آپ کے لئے قدرت نے خود ہی انتظام کر دیا ہے۔

اس لئے مینڈکوں کو برا بھلا کہنے کی بجائے اللہ اللہ کیجیے۔‘‘ ٭٭٭٭ علامہ اقبال کا لباس نہایت کم قیمت اور سادہ ہوتا تھا۔ آپ انگریزی لباس پسند نہیں کرتے تھے۔ گھر کے اندر عموماً تہمد اور بنیان ہی پہنے رہتے تھے۔ انگلستان سے واپس آنے کے بعد صرف عدالت تک جانے کے لئے انگریزی سوٹ پہنتے تھے‘ پھر گھر آتے ہی سب سے پہلے اپنے خاص ملازم کو بلند آواز میں کہتے:’’علی بخش:انسانوں والے کپڑے لے کر آئو۔‘‘ ٭٭٭٭ دلی کے ایک پاک و ہند مشاعرے میں حفیظ جالندھری اپنی غزل سنا رہے تھے کہ فراق گورکھپوری نے دفعتاً بلند آواز سے کہنا شروع کیا:’’واہ حفیظ پیارے!کیا گلا پایا ہے‘ یار میرا سارا کلام لے لو مگر اپنی آواز مجھے دے دو۔‘‘ حفیظ فوراً شعر ادھورا چھوڑ کر فراق سے کہنے لگے: ’’جناب فراق صاحب!میں آپ کا نیاز مند ہوں۔ میری آواز تو کیا آپ مجھے بھی لے لیجیے لیکن خدا کے لئے مجھے اپنا کلام نہ دیجیے۔‘‘ ٭٭٭٭ پچاس کی دہائی کا تذکرہ ہے۔ ریڈیو پاکستان کراچی میں ارم لکھنوی اور شمس زبیری ’’مصلح زبان‘‘ کی ملازمتوں پر فائز تھے۔ ان کا کام یہ تھا کہ وہ ریڈیو پر پڑھے جانے والے الفاظ کا تلفظ درست کروائیں۔ مگر قباحت یہ تھی کہ ارم لکھنوی‘ لکھنوی تلفظ کے ماہر تھے اور شمس زبیری‘ دہلوی تلفظ کے ‘ جس کی وجہ سے ان دونوں میں اکثر تکرار بھی ہو جاتی تھی۔ ایک دن زیڈ اے بخاری صاحب کو شکایت ملی کہ کل کسی لفظ کے تلفظ کی صحت پر ارم لکھنوی اور شمس زبیری میں تکرار اتنی بڑھی کہ نوبت گالم گلوچ تک پہنچ گئی۔ بخاری صاحب نے ارم لکھنوی کو بلایا اور وجہ پوچھی۔ ارم صاحب نے کہا : ’’ایک تو زبیری صاحب کو فلاں لفظ کا صحیح تلفظ نہیں معلوم‘ پھر مجھے گالی دی تو اس کا تلفظ بھی غلط تھا۔ میں نے تو صرف ان کا تلفظ درست کرنے کے لئے وہی گالی درست تلفظ کے ساتھ دہرائی تھی۔ اب وہ کہتے ہیں کہ میں نے جوابی گالی دی۔‘

‘ ٭٭٭٭
ایک بار احمد بشیر نے کہا پتا نہیں‘کیا بات ہے اب تو میں جب شراب پیتا ہوں ‘ جسم پر ’’دھپڑ‘‘ نکل آتے ہیں۔ منیر نیازی بولے: ’’اصل میں شراب کو بھی پتا چل جاتا ہے کہ اسے کون پی رہا ہے۔‘‘ ایک منتظم مشاعرہ معاوضے کی رقم میں کمی کے خواہاں تھے‘ چنانچہ انہوں نے ایک دوسرے شاعر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسے تو ہم جتنے پیسے بھی دیں وہ لے کر خوش ہو جاتا ہے۔ اس پر منیر نیازی بولے: ’’اس شاعر کا کیا ہے وہ تو آٹا لے کر بھی خوش ہو جاتا ہے۔‘‘ منیر نیازی نے پہلی بیوی کی وفات کے کچھ دنوں بعد دوسری شادی کر لی تھی۔ چنانچہ کالج کے ایک مشاعرے میں جونہی انہوں نے اپنی معروف نظم کا یہ مصرعہ پڑھا:’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں‘‘ تو پیچھے سے آواز آئی: ’’ویاہ کرن لگیاں تے ذرا دیر نئیں جے لائی’’ ٭٭٭٭ نظریہ اضافت کے دریافت کنندہ آئن سٹائن ابتدا میں زیادہ نہیں جانے جاتے تھے۔ نظریہ اضافت پیش کرنے کے بعد انہیں مختلف درس گاہوں میں لیکچر کے لئے بلایا جانے لگا۔ آئن سٹائن ایک روز ایسے ہی سفر پر تھے مگر وہ لیکچر کے موڈ میں نہ تھے۔ ان کے شوفر نے انہیں کہا:’’سر! میں آپ کی تقریر اتنی بار سن چکا ہوں کہ وہ مجھے زبانی یاد ہو چکی ہے۔‘‘ آئن سٹائن نے کہا:’’ٹھیک ہے‘ آج میں تھکا ہوا ہوں۔ اتفاق سے جس کالج میں ہم جا رہے ہیں‘ وہاں ہمیں کوئی نہیں جانتا۔ تم میرا لباس پہن لو اور لیکچر دے ڈالو۔‘‘ کالج پہنچ کر شوفر نے بڑی روانی سے ان کی تقریر دہرائی اور جب اس سے سوالات ہوئے تو اس نے نہایت چالاکی سے کہا:’’میرا وقت بہت قیمتی ہے ‘ آپ کے سوالوں کے جواب تو میرا شوفر بھی دے سکتا ہے۔

‘‘ اور ساتھ ہی اس نے آئن سٹائن کو جوابات کے لئے طلب کر لیا۔ آئن سٹائن سفر کرتے ہوئے بھوک لگنے پر کھانے کے کیبن میں پہنچا۔ مینو پیش کیا گیا تو اس وقت اس کے پاس عینک نہیں تھی۔ بہت کوشش کے باوجود جب وہ مینو نہ پڑھ سکا تو اس نے بیرے سے مینو پڑھنے کے لئے کہا تو بیرے نے فوراً جواب دیا: ’’معاف کیجیے گا‘ میں بھی آپ کی طرح اَن پڑھ ہوں۔‘‘ ٭٭٭٭ ڈاکٹر آمنہ خاتون علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں انشاؔ پر پی ایچ ڈی کے لئے کام کر رہی تھیں۔ ان دنوں پروفیسر رشید احمد صدیقی وہاں صدر شعبہ تھے۔اسی دوران آمنہ خاتون کے یہاں بچے کی ولادت کا وقت قریب آ گیا تو انہوں نے چھٹی کے لئے درخواست دی۔ درخواست جب رشید صاحب کے یہاں پہنچی تو انہوں نے چھٹی لینے کی وجہ دریافت کی۔ جب رشید صاحب کو معلوم ہوا کہ یہ ماں بننے والی ہیں تو انہوں نے فرمایا: ’’ہم نے تو انہیں تحقیق کے لئے بلوایا تھا‘ لیکن انہوں نے تخلیق شروع کر دی۔‘‘ ٭٭٭٭ کسی نے چراغ حسن حسرتؔ سے کہا:’’منٹو نے آپ کے بارے میں لکھا ہے‘ آپ تو محض ایک لغت ہیں جس میں مشکل الفاظ کے معنی دیکھے جا سکتے ہیں۔‘‘حسرت نے تلملا کر جواب دیا:‘‘ اور منٹو ایک فحش ناول ہے جس کے مطالعہ سے جنسی یتیم اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر اجمل نیازی ایک واقعہ کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ : منیر نیازی ایک دفعہ کراچی گئے تو جون ایلیا نے انہیں کہا کہ ’’منیر خان! تمہارے بال سفید ہو گئے ہیں۔‘‘ منیر نیازی نے جواب دیا: ’’بچو!جو مجھ پر گزری ہے تم پر گزرتی تو تمہارا خون سفید ہو جاتا۔‘

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com