ہجوم بڑا کہ آئین؟ وسعت اللہ خان

وزارتِ مذہبی امور کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی نئی عبادت گاہ کی تعمیر کے لیے پیسے نہیں دے سکتی البتہ پہلے سے قائم عبادت گاہوں کی دیکھ بھال ، مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے مدد کر سکتی ہے۔نیز حکومت کو فلاحی کاموں کے لیے مختص قطعاتِ اراضی میںسے عبادت گاہوںکے لیے رعائیتی سرکاری قیمت پر الاٹمنٹ کا اختیار بھی ہے۔
مگر کیا کوئی مخیر شخص ، ادارہ یا غیر مسلم مذہبی برادری اپنی مدد آپ کے تحت بھی عبادت گاہ تعمیر کر سکتے ہیں۔بظاہر نجی ملکیت کی خرید و فروخت کے قوانین کے تحت اس بنیادی آئینی حق پر کوئی قدغن نہیں۔عدلیہ بھی اس معاملے کو آئین و قانون کی روشنی میں ہی دیکھتی ہے۔مگر یہاں ایک اور طبقہ درمیان میں آ کر کہتا ہے کہ اس کی رائے سب سے بالا ہے ۔

مثلاً بھارت میں نئی عبادت گاہوں کی تعمیر پر بظاہر کوئی قدغن نہیں۔البتہ تعمیر سے پہلے متعلقہ محکموں کی اجازت حاصل کرنا اور نقشہ منظور کرانا ضروری ہے مگر عملاً آپ کا تعلق اگر اکثریتی گروہ سے ہے تو آپ کہیں بھی مندر بنا سکتے ہیں۔بھلے وہ قانونی زمین ہو کہ قبضے کی زمین کہ فلاحی اراضی۔ ایک بار مندر بن گیا تو کسی مائی کے لال میں جرات نہیں کہ اس کی جانب انگلی بھی اٹھا سکے۔البتہ بھارتی مسلمان یا مسیحی برادری اس طرح مرضی و من مانی نہیں کر سکتے۔انھیں قانونی اجازت ملنے کے بعد بھی طرح طرح کی سماجی و قانونی لڑائیاں لڑنا پڑتی ہیں اور ہر طرف سے آنے والے دباؤ سے بھی نمٹنا پڑتاہے۔چنانچہ بہت کم غیر ہندو طبقات اب اس جھنجھٹ میں پڑتے ہیں اور اپنی پرانی عبادت گاہوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
سرحد پار پاکستان میں بھی کم و بیش یہی حالات ہیں۔یہاں راتوں رات کسی بھی جگہ مسجد کھڑی کی جا سکتی ہے اور ایک بار مسجد کی دیوار اٹھ گئی تو پھر آئین ، قانون، پولیس، عدلیہ کوئی بھی قبضہ نہیں چھڑوا سکتا۔ البتہ اقلیتیں اگر اپنے وسائل سے بھی نئی عبادت گاہ ، قبرستان یا شمشان گھاٹ بنانا چاہیں تو کوئی بھی ہجوم یا عدالتی پیٹیشنر ان کے اس حق کو جسمانی و قانونی طور پر چیلنج کر سکتا ہے۔چنانچہ یہاں بھی جو عبادت گاہیں پہلے سے موجود ہیں اقلیتیں انھیں پر اکتفا کرتی ہیں۔

پچھلے تہتر برس میں پاکستان میں اکادکا نئے چرچ تو پھر بھی بن گئے مگر کم ازکم میرے علم میں کوئی نیا مندر نہیں۔ جبکہ ہندو پاکستان کی پہلی بڑی اور مسیحی دوسری بڑی اقلیت ہیں۔
بہت سے علما نجی وسائل سے غیر مسلم عبادت گاہوں کی تعمیر میں حرج نہیں سمجھتے۔مگر کئی علما کا خیال ہے کہ کسی اسلامی ملک بالخصوص اس کے دارلحکومت میں نئی غیر مسلم عبادت گاہ نہیں بن سکتی۔البتہ پہلے سے موجود عبادت گاہ میں رسومات ادا ہو سکتی ہیں۔

دنیا کے بیشتر دارلحکومت سیکڑوں برس سے آباد ہیں لہذا وہاں ہر طبقے کی پرانی عبادت گاہیں موجود ہیں۔مگر مشکل یہ ہے کہ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کی عمر بشمکل ساٹھ برس ہے۔اسلام آباد کے وجود میں آنے سے پہلے سید پور میں ایک قدیم مندر تھا مگر اسے بھی چند برس قبل سیاحتی نمونے میں بدل دیا گیا اور وہاں عبادت رک گئی۔اب دارلحکومت میں آباد لگ بھگ دو سو ہندو کنبوں کے لیے کوئی عبادت گاہ ، کمیونٹی مرکز یا شمشان گھاٹ نہیں۔لہذا وہ کیا کریں اور کہاں جائیں۔ویسے تو پاکستانی آئین و قانون میں نئی عبادت گاہ کی تعمیر پر کوئی قدغن نہیں مگر جب ہجوم اکھٹا ہو جائے تب کوئی بتائے کہ ہجوم بڑا کہ آئین ؟
اسلام آبادمیں پہلا باضابطہ لیڈی فاطمہ کیتھولک چرچ سیکٹر ایف ایٹ میں مسیحی برادری نے اپنے وسائل سے تعمیر کیا۔اس کا افتتاح بارہ اکتوبر انیس سو اناسی کو ہوا۔تب ملک میں مارشل لا نافذ تھا۔اگرچہ ضیا حکومت ملک میں شرعی قوانین متعارف کرا رہی تھی اور امورِ مملکت میں علما نے فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا تاہم اس وقت کسی کو خیال نہ آیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارلحکومت کہ جس کا نام بھی اسلام آباد ہو وہاں یسوع مسیح کے صلیبی مجسمے والی عبادت گاہ کیوں تعمیر ہو رہی ہے جبکہ جڑواں شہر راولپنڈی اور مری میں انگریز دور کے کئی فعال چرچ موجود ہیں۔

یہ خیال شاید اس لیے نہ آیا ہو کہ یہ ضیا دور کے ابتدائی برس تھے۔شائد یو ٹرن لیتی ریاستی نفسیات میں دم توڑتی روشن خیالی و وسیع المشربی کی کچھ رمق باقی ہو یا پھر افغانستان میں سوویت مداخلت کے سبب مغربی دنیا سے روز افزوں بڑھتا منافع بخش معاشی و عسکری تعاون اس سوال کو اٹھانے کی اجازت نہ دیتا ہو کہ اسلامی جمہوریہ کے دارلحکومت میں ایک نئی غیر مسلم عبادت گاہ کا کیا کام۔ یا شائد یہ تصور بھی آڑے آ رہا ہو کہ مسیحی چونکہ اہلِ کتاب ہیں لہذا ان کی عبادت گاہ بننے سے اتنا نقصان نہیں ہو گا جتنا کہ کسی غیر اہلِ کتاب کے بت خانہ سے ممکن ہے۔
اگرچہ اسلام آباد کے جس سیکٹر ایچ نائن ٹو میں مندر کملیکس کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے وہیں پارسی معبد اور گرجا گھر کے لیے بھی بیس بیس ہزار مربع فٹ جگہ رکھی گئی ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ اگر مندر نہیں بنتا تو پھر مستقبل کے پارسی و مسیحی عبادت خانے والی جگہ کا کیا ہو گا۔
میرا اپنا خیال ہے کہ بات مندر یا مسجد کے بننے بنانے کی نہیں۔بات نفسیات کی ہے۔اگر سکھ برادری آج پاکستان میں کوئی نیا گوردوارہ تعمیر کرنا چاہے تو شائد ہی کوئی مخالفت کرے۔ہو سکتا ہے کہ نئے گرجے کی تعمیر پر چند ماتھے شکن آلود ہوں مگر نئے پارسی معبد پر شائد ہی کوئی اعتراض کرے۔

البتہ اگر آج کوئی کراچی یا لاہور میں کسی پرانی یہودی عبادت گاہ کو بحال کرنے کے منصوبے کا اعلان کر دے تو یہاں سے وہاں تک ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔حالانکہ یہودی بھی مسیحوں کی طرح اہلِ کتاب ہی ہیں۔اس ممکنہ شور و غوغا کی وجہ یہودی ہونا نہیں۔بلکہ یہودیوں کا اسرائیل و صیہونیت کے وجود سے نتھی کیا جانا ہے۔آخر کو پارٹیشن سے پہلے کراچی میں لگ بھگ پندرہ ہزار یہودی رہتے ہی تھے۔ممبئی اور کلکتہ میں تو آج بھی سیکڑوں ہیں۔
اسی طرح بھارت اور پاکستان میں تہتر برس قبل نئی مسجد یا مندر تعمیر کرنا اتنا سنگین مسئلہ نہیں تھا۔مگر تقسیم کے بعد سال بہ سال نفرتیں کم ہونے کے بجائے جس تیزی سے بڑھتی چلی گئیں۔اس کے سبب بھارت میں موجودہ پندرہ فیصد مسلمان اقلیت کو قدم قدم پر آج پہلے سے زیادہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ ان کی وفاداری بھارت کے ساتھ ہے۔جبکہ پاکستان میں موجود دو ڈھائی فیصد ہندوؤں کو دیگر اقلیتوں کے برعکس ہر ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا ہے مبادا ان کی حب الوطنی پر سوال نہ اٹھ جائے۔
یہ وہ نفسیات ہے جو بھارت کی ہندو اور پاکستان کی مسلمان اکثریت کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ اس نفسیات کی مزید آبیاری جاری ہے۔اس عدسے سے اگر اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مخالفت یا بابری مسجد سے متعلق عدالتی فیصلے کو دیکھا جائے تو معلوم یہی ہوگا کہ عدسے کا رنگ بھلے مختلف کیوں نہ ہو مگر موٹائی اور قطر ایک ہی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com