اقبال، فلسفہ اور بغضِ ہودبھائی - ارسلان شکیل

سمئیر کیمپین اور کریکٹر اساسینیشن پولیٹیکل سائنس کی اصطلاحات ہیں جنکا بنیادی مقصد کسی فرد یا گروہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے، کئی دفعہ یہ محض کسی فرد تک محدود ہوتی ہے اور کئی دفعہ یہ طریقہ کار کسی گروہ کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ عمومی طور پر اسکا مظاہرہ الیکشن کمپئینز کے دوران نظر آتا ہے جب کسی سیاست دان کے خلاف یہ کمپئین چلا کر اسکی پارٹی کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

اس میں باتوں کو توڑ مروڑ کر، حقیقت کو جھوٹ میں ملا کر بیان کیا جانے لگتا ہے۔ اور کئی دفعہ حقیقت کو ہی ضروری سیاق و سباق سے ہٹا کر گمراہ کن طرز پر بیان کیا جاتا ہے کہ عام انسان مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اس سب کا مقصد نفسیاتی طور پر لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ اور اگر عوام کے دل میں آپکے مخالف کے لئے محض شک ہی پیدا ہو جائے تو کریکٹر اساسینیشن کرنے والے کی یہی بڑی کامیابی ہوتی ہے ۔ کیونکہ شک ہی باقی سب چیزوں کا دروازہ ہے۔

پاکستان میں موجود فزکس کے ایک پروفیسر پرویز ہودبھائی نے ایسی ہی سمئیر کیمپین پاکستان کی مذہبی اساس کے خلاف شروع کر رکھی ہے، چونکہ پاکستان کی مذہبی اساس میں علامہ اقبال کو بہت اہمیت حاصل ہے لہذا اسی کیمپئین میں اکثر علامہ اقبال کو ٹارگٹ بنائے رکھتے ہیں، اور کئی دفعہ انکی کریکٹر اساسینیشن کرنے میں بہت حد تک گر بھی جاتے ہیں اسی طرح اقبال کی کردار کشی کرتے ہوے کہتے ہیں ۔جس نے میٹرک بھی نہیں کی ہو وہ آئن سٹائن کو للکارنے لگا

اقبال کا آئن سٹائن سے اختلاف تھا بھی یا نہیں یہ تو الگ موضوع ہے، لیکن انکو اقبال کا آئن سٹائن پر کچھ کہنا بھی آئن سٹائن کی شان میں اتنی بڑی گستاخی بن گیا کہ اقبال کے بارے میں کہہ دیا کہ جس نے میٹرک بھی نہیں کی ہوئی آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہودبھائی اقبال کی کریکٹر اساسینیشن کرنے میں کس حد تک گئے ہیں۔

11 اکتوبر 2019 کو پرویز ہودبھائی نے حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد میں اقبال فلسفہ اور سائنس کے عنوان سے ایک لیکچر دیا ہے جس میں اقبال کے بارے میں بات کرنے سے پہلے تمہید باندھتے ہوئے فرمایا" ایسی شخصیتیں جو پہلے سے بہت قد آور ہیں ان کو ہم اور زیادہ قد آور کرتے ہیں۔ جو 6 فٹ کا ہے ہم اسکو 12 فٹ کر دیتے ہیں۔ جو 7 فٹ کا ہے اس کو 14 فٹ کر دیتے ہیں۔ شاید اس سے بھی زیادہ " یہ بات انہوں نے اقبال سے متعلق اس قوم کے رویے پر کی ہے۔ کیونکہ اس کے فورا بعد فرماتے ہیں " آج کا موضوع علامہ اقبال ہیں" یعنی ہود بھائی کے نزدیک پاکستانی مسلمانوں نے اقبال کو اسکے قد سے کہیں زیادہ بڑا کیا ہوا ہے اور کم سے کم دگنا تو ضرور کیا ہوا ہے ۔

اقبال پر تو خیر کتابوں کی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی سلوک ہودبھائی کے چاہنے والوں نے ہودبھائی کے متعلق اپنایا ہوا ہے، اور خود ہودبھائی نے آئن سٹائن کے متعلق اپنایا ہوا ہے جیسا کے پیچھے ہم نے ذکر کیا، ہودبھائی کی اکثر ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں جہاں وہ کسی جگہ گفتگو یا انٹرویو کے لئے انوائیٹ کئے گئے اور لوگ انکو سننے بیٹھے ہوئے ہیں، اور ہودبھائی ایسی سطحی گفتگو کر رہے ہیں کہ الامان والحفیظ بلکہ زیادہ دور کیا جانا، یہ مضمون انکی جس تقریر کی بنا پر لکھا جا رہا ہے وہ تقریر ہی اس کی بہت اعلیٰ مثال ہے۔ لیکن اپنے حلقہ میں بہت آوٹ سپوکن شخصیت کے طور پر جانے جانے والے ہود بھائی نے کبھی خود سے متعلق ایسے روئیے پر اصلاح نہیں کی، شاید ان کی تنقید تب ہی ہوتی ہے جب ایسا رویہ کسی مسلمان شخصیت سے متعلق روا رکھا جائے۔ اسکے بعد اقبال سے متعلق اس قوم کی غلط فہمیاں دور کرتے ہوئے فرماتے ہیں " ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ فلاسفر تھے۔ فلسفی تھے۔

"یہ فرمانے کے بعد عرض کرتے ہیں کہ علامہ اقبال سنہ1905 میں یونیورسٹی آف کیمبرج کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اور تین سال انہوں نے فلسفہ پڑھا۔ اور اس کے بعد پھر وہ انہی تین سالوں کے دوران یونیورسٹی آف میونخ گئے جہاں انہوں نے پی ایچ ڈی فلسفے کے شعبے میں کی تھی۔ ڈیپارٹمنٹ اوف فلاسفی، یونیورسٹی اوف میونخ۔ وہاں انہوں نے اپنی تھیسس بھی جمع کرائی۔ ڈیپارٹمنٹ اوف فلاسفی میں، جس کا عنوان تھا “دی ڈیویلپمنٹ اوف میٹا فزکس ان پرشین” ۔یعنی اقبال نے تین سال کیمبرج میں فلسفہ پڑھا، پھر جرمنی میں فلسفہ پر پی ایچ ڈی کے لئے تھیسیس لکھا،، جرمنی کی یونیورسٹی نے فلسفے میں ڈاکڑیٹ کی ڈگری دی جسکو حاصل کرکے وہ ڈاکٹر کہلائے۔عجیب و غریب صورت حال یہ ہے کہ ہودبھائی نے پہلے تسلیم کرتے ہیں لیکن اسکے باوجود فرماتے ہیں کہ اقبال فلسفی نہیں تھے اور انکو فلسفی سمجھنا محض ایک غلط فہمی ہے۔یعنی جرمنی اور جرمنی کی یونیورسٹی انکو فلسفہ کی ڈگری میں ڈاکٹریٹ دے کر فلسفی تسلیم کر رہی ہے لیکن ہودبھائی کے نزدیک یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔

پھر ہودبھائی یہاں تک ہی نہیں رکے آگے بڑھ کر اقبال کے پی ایچ ڈی کے مقالے کے متعلق کہتے ہیں کہ اس میں کوئی نئی سوچ تو نہیں ہے نا۔ یہ وہ سوچ ہے جو مولانا روم کی تھی۔ جو صوفیائے کرام کی تھی۔ہود بھائی کی اس بات کو سن کر تو واضح ہو رہا ہے کہ ہودبھائی نے اقبال کے تھیسیس کو پڑھنا تو دور کھول کر بھی نہیں دیکھا۔ بلکہ ظلم بلائے ظلم اگر اسکا انڈیکس ہی اٹھا کر دیکھ لیتے تو ایسی سطحی قسم کی بات کرنے کی نوبت نہ آتی۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ فلسفہ سے اس حد تک نابلد ہیں کہ مابعدالطبیات کو محض تصوف کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے۔ اور چونکہ اقبال کی شاعری مشہور ہے اور مولانا روم کی بھی شاعری موجود ہے تو انہوں نے مابعدالطبیعات اور شاعری کی دو جمع دو کر کے چار میں مولانا روم جیسی صوفیانہ سوچ نکالی ہے ۔

مابعدالطبیات خاص طور پر فلسفے کا ایک وسیع موضوع ہے جس کو انگریزی میں میٹافیزکس کہتے ہیں، اور اسکے فلسفے سے گہرے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگائیں کے ارسطو کے مرنے کے تقریبا سو سال بعد کسی فلسفی )شاید اینڈرانکس آف رھوڈیز( نے اسکے 14 مضامین کا مجموعہ جمہ کیا اور اسکا جو نام رکھا اس سے لفظ میٹافزکس بنا ہے ۔ یعنی اسکا فلسفے سے تعلق اتنا گہرا ہے کہ یہ دنیا کے ایک عظیم فلسفی ارسطو کے مضامین سے وجود میں آیا ہے۔ مابعدالطبیات کا تعلق فلسفے سے اتنا گہرا ہے کہ اسکو فلسفہ کے بنیادی حصوں میں تسلیم کیا جاتا ہے اور چونکہ اس لیکچر میں ہودبھائی نے کیلیوفورنیا امریکہ کی مشہور یونیورسٹی سٹینفرڈ کا حوالہ دیا ہے لہذا ہم یہی کوشش کریں گے کہ فلسفہ سے متعلق تمام حوالے سٹینفرڈ کے ہی استعمال کئے جائیں۔

اور اسی سے دکھا دیتے ہیں کہ مابعدالطبیات یعنی میٹافزکس کو انہوں نے بھی فلسفے کے بنیادی موضوعات کی فہرست میں لکھا ہوا ہے، بلکہ اسی یونیورسٹی میں کئی استاذہ ایسے ہیں جنہوں نے مابعدالطبیات میں سپیشلائزیشن کر رکھی ہے۔اور یہاں ایک ہودبھائی ہیں کہ وہ اقبال کو فلسفہ سے الگ کرنے کے لئے میٹافزکس کو ہی تصوف تک محدود کرنے کا دجل دکھا گئے ہیں۔ پھر اقبال پر اپنی سطحی سی رائے کو تقویت دینے کے لئے بات مزید آگے بڑھاتے ہیں کہ اصل میں فلاسفی ایک بڑی ٹیکنیکل چیز ہے۔ اس میں ایسے ایسے شعبہ جات ہیں جن کے نام سے ہی انسان گھبرا جاتا ہے۔ ایپسٹیمالوجی، ایتھکس، ایگزسٹینشئیلزم۔ بیس اس طرح کے ہیں۔ جن کا اردو میں بھی کوئی ترجمہ نہیں۔ شاید ہولیکن بہت مشکل ہوگا۔ تو علامہ اقبال کا ایک مخصوص شعبے میں تھا اور وہ تاریخ کا تھا اور وہ اسلام سے متعلق تھا۔

پہلے تو خود فلسفہ سے متعلق اپنی کم مائیگی کا اقرار کر رہے ہیں کہ فلسفہ میں ایسے ایسے شعبہ جات ہیں جن کے نام سے ہی ہودبھائی جیسا انسان گھبرا جاتا ہے ۔) ظاہر ہے جس قسم کا فلسفے کا علم اقبال پر تنقید کرتے ہوئے ظاہر کر رہے ہیں ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ بات خود پر ہی قیاس کی ہے(۔ اور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ فلسفہ کی شاخوں کے جو نام ہیں انکے اردو تراجم سے بھی جاہل ہیں ۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر جو جاہلانہ بات ہودبھائی نے ارشاد فرمائی وہ یہ ہے ۔
تو علامہ اقبال کا ایک مخصوص شعبے میں تھا اور وہ تاریخ کا تھا اور وہ اسلام سے متعلق تھا۔

جیسا کہ میں پہلے واضح کر چکا ہوں کہ ہودبھائی کو نہ تو فلسفے اور اقبال کی شاعری کا کچھ علم ہے اور فلسفہ سے اپنی جہالت کا اقرار وہ کر ہی چکے ہیں اور فلسفے سے تو وہ اس حد تک جاہل ہیں کہ انکو یہ تک نہیں پتا کہ مابعدالطبیات اصل میں ہوتی کیا ہے۔ چونکہ جہالت کے ساتھ ساتھ انکو اقبال سے بغض بھی لاحق ہے لہذا یہاں بھی نہایت عجیب و غریب قسم کا دجل و فریب اور مکاری دکھانے کی کوشش ہودبھائی نے کی ہے ، پہلے خود ہی اقبال کے پی ایچ ڈی کے تھیسیس کا نام بتایا دی ڈیویلپمینٹ آف میٹا فزکس ان پرشین” یعنی ایران میں مابعد الطبیات کا ارتقا” ۔ پھر فرمانے لگے کہ اسکا تعلق تاریخ سے تھا ہودبھائی فلسفے تو جاہل ہیں ہی انکو ایران کی تاریخ کا بھی زرہ برابر علم نہیں اور اقبال کے تھیسیس کو تو انہوں نے بہرحال کھول کر دیکھا ہی نہیں، اگر دیکھا ہوتا تو انکو اندازہ ہوتا، بلکہ اگر نام کو ہی غور سے پڑھ لیتے تو انکو پتا چل جاتا کہ مقالے کا موضوع نہ تو تاریخ ہے نہ ہی خصوصی طور پر اسلام ہے، بلکہ مابعدالطبیات اور اسکا ارتقا ہے ، وہ بھی ایران میں۔

ایران کی تاریخ شریعت محمدی سے بھی ہزاروں سال پرانی ہے، اس میں پارسی مذہب کا بھی بہت عمل دخل ہے، بلکہ اسلام سے پہلے ایران میں پارسی مذہب ہی سرکاری مذہب کی حثیت کا حامل تھا، لہذا اقبال کے تھیسیس کا پہلا حصہ پارسی مذہب اور اسکے مابعدالطبیات سے متعلق ہے، اپنے مقالے میں اقبال نے شروع میں قدیم ایران کے میٹافزکس پر پہلا باب باندھا ہے، اس کے بعد فلسفہ کے ایک اور موضوع گریک ڈوولازم اسکے بعد دیگر فلسفی موضوعات اور انکے ایران میں وجود پر لکھتے ہیں۔

ایسے میں اقبال کے مقالے کے بارے یہ کہنا کہ یہ فلسفے سے متعلق نہیں بلکہ تاریخ اور اسلام سے متعلق ہے ایسا ہی ہے جیسے کوئی برٹرینڈ رسل کی کتاب تاریخ فلسفہ کا ٹائٹل دیکھ کر کہے کہ یہ تو تاریخ کی کتاب ہے ۔ پھر آگے چل کر اقبال پر الزام لگاتے ہیں کہ اقبال کا ذہن اور دماغ کھلا ہوا نہیں تھا جسکی وجہ سے انکا دل فلسفے سے اچاٹ ہو گیا ۔ اور اس بات کی دلیل کے طور پر اقبال کے اس شعر کو بنیاد بناتے ہیں

اس قوم میں شوخئی اندیشہ خطرناک

جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد

گو فکر خداد سے روشن ہے زمانہ

آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد

فرماتے ہیں کہ

اگر کھلا ذہن ابلیس کی ایجاد ہے، آپ فلسفہ نہیں پڑھ سکتے۔ آپ کا دل اس میں نہیں لگے گا ۔ اور علامہ اقبال کا دل نہیں لگا فلسفے کی طرف۔ ہودبھائی کی اقبال کے اس شعر کے فہم سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ خود انکا دماغ اتنا بند ہے کہ انکو اقبال کا شعر ہی سمجھ نہیں آرہا ۔ اقبال نے یہاں محض آزادی افکار پر تنقید نہیں کی بلکہ ایک مخصوص قسم کی آزادی افکار پر تنقید کی ہے اور اس پر تنقید کرنے سے پہلے اشارہ بھی کیا کہ

اس قوم میں ہے شوخئی اندیشہ خطرناک

جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد

اورقوم کے اس مخصوص روئیے اور اس سے پیدا ہونے والی آذادی اظہار پر تنقید کی ہے۔اور آجکل کے دور میں اس بات کو سمجھنے کے لئے کسی لمبے چوڑے مضمون کی بھی ضرورت نہیں ہے ، ہر بندا واقف ہے کہ کس طرح فیسبک نے سٹینڈرڈ بنایا ہوا ہے کہ کسی کی توہین وغیرہ کرنے پر پوسٹ ہٹا دی جاتی ہے۔ اور کچھ عرصہ پہلے جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل کا ویڈیو کلپ گردش میں تھا جس میں وہ ارشاد فرما رہی تھیں کہ آزادی اظہار رائے کی بھی حدود ہیں۔ اور یہاں اقبال بھی محض آزادی اظہار رائے یا آزادری افکار پر تنقید نہیں کر رہے بلکہ اس آزادی افکار پر تنقید کر رہے ہیں جسکی بنیاد شوخئی اندیشہ خطرناک ہے۔

آگے چل کر ہودبھائی نہایت ہی کوئی عجیب و غریب دلیل لے کر آئے ہیں اقبال کے فلسفی نہ ہونے کو ثابت کرنے کی ، علامہ اقبال کے بیٹے کی کتاب خود رو سے ایک اقتباس کوٹ کرتے ہیں جس میں اقبال نے ایک ایسی بات کی ہے جو دین کا شوق رکھنے والے ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ “میں جو اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمریورپ کا فلسفہ وغیرہ پڑھنے میں گنوائی۔ خدا تعالی نے مجھے قوائے دماغی بہت اچھے عطا فرمائے تھے۔ مگر یہ قوا دینی علوم پڑھنے میں صرف ہوتے تو آج خدا کے رسول صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خدمت کرسکتا۔ اور جب مجھے یاد آتا ہے کہ والد مکرم مجھے دینی علوم ہی پڑھانا چاہتے تھے تو مجھے اور بھی زیادہ قلق ہوتا ہے” ۔

یہ تو ایک ایسی بات ہے جو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے، اللہ کو راضی کرنے کی دین کی خدمت کرنے کی اور اپنی آخرت بنانے کی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ باتیں ہیں احساسات کی ، انکو وہی سمجھ سکتا ہے جسکے دل میں ایمان ہو جو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہودبھائی کو بھی عنایت فرمائیں۔ آمین۔ بہرحال ہودبھائی نے اس بات سے بڑا ہی عجیب نکتہ نکالا ہے

یہ دسمبر1919 کو لکھا گیا۔ یعنی کہ ٹھیک ایک سو سال پہلے۔ یہاں وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ میں نے جا کے کیا اپنا وقت ضائع کیا فلسفہ پڑھنے میں۔ مجھے تو دین کی خدمت کرنی چاہیے تھی۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ ان کو فلسفی کیوں بنانا چاہتے ہیں جب وہ اپنے منہ سے، اپنے قلم سے یہ کہتے ہیں کہ اس شعبے ہپر لعنت ہو۔ اس پر وہ لعنت بھیجتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ وہ اس شعبے کے بڑے ایک لیڈر تھے۔ دیکھیے نا جب بت بناتے ہیں تو پھر کس قسم کی غلطیاں ہم کرتے ہیں۔

اب مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی اس بات سے ہودبھائی نے فلسفہ پر بھیجی جانے والی لعنت کہاں سے نکال لی ؟ یہاں علامہ اقبال تو ایسی کوئی بات ہی نہیں کر رہے کہ فلسفہ بیکار تھا، یا جو شاعری وہ کرتے رہے وہ بیکار تھی، یا پھر جو خطبات دئیے تھے بیکار یا قابل لعنت تھے۔ یہاں تو علامہ اقبال وہی درد دل بیان کر رہے ہیں جو ہر مسلمان کے دل میں ہوتا ہے کہ دین کی خدمت کا اپنا حق ادا نہیں کر پایا، اور اس درد دل کو وہی سمجھ سکتا ہے جس کے دل میں ایمان ہو ، جیسے کے دل میں اللہ اور اسکی رضا کے لئے کچھ کرنے کی کسک ہو۔

ہودبھائی کی تقریر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اور اسکا پہلا اور بنیادی حصے میں انہوں نے سارا زور یہ ثابت کرنے میں لگایا ہے کہ اقبال فلسفی نہیں تھے، اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ساری ڈگریاں ہی پی ایچ ڈی میں لینے والا، اپنی شاعری اور خطبات میں فلسفے پر گہری گفتگو کرنے والا ، ایسا شخص جسکو دنیا فلسفی مانتی ہو اور جسکے فلسفے پر بعد میں لوگ پی ایچ ڈی کے مقالے لکھ رہے ہوں اگر وہ فلسفی نہیں ہے تو پھر ہود بھائی کے نزدیک فلسفی ہونے کا میعار کیا ہے ؟ اور کسی شخص کو فلسفی تسلیم کرنے کا میعار خود ہودبھائی اپنے اسی لیکچر میں بیان کرتے ہیں۔

“دیکھیے فلاسفر آجکل کے زمانے میں کچھ زیادہ آسانی سے نہیں بنتے۔ اگر آپ کو سٹینفورڈ میں، اگر آپ کو یونیورسٹی اوف کیمبرج میں کوئی ملازمت چاہیے، آپ کو پروفیسر بننا ہے وہاں پر تو آپ کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو اس شعبے میں فلسفے کے شعبے میں کتاب لکھنی پڑتی ہے۔ ایسے تحقیقی مقالات لکھنے ہوتے ہیں جو فلسفے کے شعبے کے جرائد میں شایع ہوئے ہوں۔ پبلیکیشنز جن کو کہتے ہیں۔ اور ڈھیر ساری چاہئیں۔ اور ایسی چاہئیں جو دنیا مانے کہ واقعی یہ بہت بڑا کام ہے۔ “۔

ہود بھائی کی اس عجیب و غریب سٹیٹمینٹ سے فلسفی بننے کا جو طریق سامنے آیا ہے کہ اسکو یونیورسٹی میں پروفیسری کرنی چاہئیے، کتابیں لکھ کر اپنی زندگی میں ہی دنیا سے منوانا چاہئیے اور جدید جرائد میں مضامین شائع کروانے چاہئیں تو اگر اسکے مطابق لوگوں کو فلسفی تسلیم کیا جانا شروع کر دیا جائے تو مغربی یونیورسٹیوں میں فلسفہ کے ڈیپارٹمنٹ بننے سے پہلے اور علمی موضوعات پر جدید جرائد کے سلسلے شروع ہونے سے پہلے کے جتنے لوگ بھی فلسفی کہلائے ہوئے ہیں جیسے افلاطون، ارسطو ، کنفیوشس وغیرہ وہ بھی فلسفیوں کی لسٹ سے خارج ہو جائیں گے ۔

ہودبھائی کی یہ باتیں اور رویہ دو میں سے ایک بات ہی ثابت کرتا ہے،نمبر ایک: یا تو ہودبھائی کو اقبال سے بغض ہے جسکی بنا پر وہ ایسے بیہودہ جھوٹ بول رہے ہیں نمبر دو: یا پھر وہ فلسفے سے اتنے جاہل ہیں کہ اسکی مبادیات کا بھی علم نہیں اور اپنی اس جہالت کے باوجود خود کو اقبالیات پر علامہ ثابت کرنے کے لئے لیکچر دینے پہنچ گئے ہیں اور میرے نزدیک تو دونوں باتیں ہی سچی ہیں۔ ہودبھائی نے انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا والوں کو اگر یہ بتا دیا ہوتا تو شاید وہ انکی بات مان کر اپنے انسائیکلوپیڈیا میں اقبال کو فلسفی نہ لکھتے اور دنیا انکو فلسفی کے طور پر نہ جانتی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہودبھائی کو اقبال سے ایسا بغض کیوں ہے جسکی وجہ سے وہ اقبال کی کریکٹر اساسینیشن کرنے کے لئے انکے خلاف ایک سمئیر کیمپین چلائیے ہوئے ہیں ۔ تو اسکا جواب خود ہودبھائی نے اسی لیکچر میں ڈھکے چھپے الفاظ میں ان وجوہات پر روشنی ڈال ہی دی جنکی بنیاد پر انہوں نے نہ صرف اقبال کو اپنی اس سمئیر کیمپین کا حصہ بنایا ہوا ہے بلکہ انکی کریکٹر اساسینیشن بھی کھل کر کرتے ہیں۔

ہودبھائی کہتے ہیں

اب عمران خان آپ کو پتہ ہے نا پچھلے دنوں جنرل اسمبلی میں انہوں نے تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا ۔۔۔ وہ بڑی ایک خبیث، خراب چیز ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سارے دہشت گرد ہیں، تلوار اٹھا کے آجائیں گے یورپ۔ یہ سب آپ کا خوف ہے۔ تو اقبال یہی کہہ رہے ہیں کہ دیں اذانیں ہم نے یور پ کے کلیساؤں میں دیں۔ کوئی آپ کی مسجد میں آکر اس طرح کی بے حرمتی کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ اقبال کے پاکستان سے مجھے بڑا خوف آتا ہے۔ پھر اسی تقریر کے بعد ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جھپٹ کر پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا ، وہ چیزیں جو ہیں مجھے ان سے بڑا ڈر لگتا ہے کیونکہ وہ بڑا ملیٹرسٹک اقبال ہے۔

یعنی ہود بھائی کو اصل تکلیف اقبال کی اس بات سے نہیں ہے کہ وہ صرف ماضی کے مسلمانوں کی شان اور عظمت کے قصیدے پڑھتا ہے نہ ہی انکے ان ادوار کا ذکر کرتا ہے جب مسلمان عروج پر تھے اور دنیا میں اپنی عظمتوں کے جھنڈے گاڑ رہے تھے۔ علم و فنون میں مسلمانوں کا ڈنکا بجتا تھا ۔ بلکہ ہودبھائی کو اصل مسئلہ اقبال کی وہ دور اندیشی ہے جس میں وہ 100 سال پہلے جب مسلمان انگریزی کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے وہ ان مسلمانوں کو انگریز کی فکری غلامی سے بھی آزادی حاصل کرنے کی طرف بلاتا ہے ۔ جیسے اقبال کہتا ہے

علاج آتش رومی کے سوز میں ترا

ترِی خودی پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

عاقل تھا مگر عقل کے پیچاک سے آزاد

اور حکمت افرنگ کے فتراک سے آزاد

اور میں اس مضمون کا اختتام اقبال کے اس شعر سے کرتا ہوں

یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینی

یقیں، اللہ مستی، خود گُزینی

سُن، اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار

غلامی سے بَتر ہے بے یقینی

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com