جماعت اسلامی کا ہیرا سید منور حسن - شہزاد سلیم عباسی

بچپن سے ہی سید زادے کو دیکھتے آرہے تھے۔ ہم چھوٹے تھے اور کراچی میں ہی پلے بڑھے تھے اسی واسطے کبھی کبھار دیدار کی سعادت حاصل ہو جاتی۔ 25 جولائی 2010کو یوتھ لیڈر شپ کانفرنس کے موقع پر سید منور حسن ؒسے میری پہلی باقاعدہ بالمشافہ ملاقا ت ہوئی جو کافی خوشگوار ثابت ہوئی کہ آج بھی اس ملاقات کا اثر محسوس کرتا ہوں۔

کانفرنس کا انعقاد سید بلال اور عبد السلام بنیری نے کیا تھا ۔سید مرحوم ؒ کی رحلت اطہر کے بعد اب تک سینکڑوں ،ہزاروں تحریریں لکھی جاچکی ہیں، مگر ان کی صداقت شرافت اورامانت پر جتنا لکھا جائے کم ہے ۔ سیدؒ ایک ویثرن، ایک نظریہ ، ایک سوچ ، ایک بحر بے کراں، ایک انقلاب ، ایک جماعت ، ایک اصول پسنداور یقین محکم عمل پیہم ، محبت فاتح عالمی کی زندہ و جاوید تصویر تھے۔ جوانی سے آخری سانس تک ظلم و استبدادکو للکارتے نظر آئے۔ گویا ایک ایک حرف ایک ایک لفظ اور ان کا ایک ایک قدم گواہ ہے کہ وہ نہ کبھی جھکے نہ کبھی پلٹے نہ کبھی بکے اور نہ کبھی کسی اسلام و پاکستان دشمن سے ہاتھ ملایا ۔ قومی و بین الاقوامی صہیونی طاقتوں کے تانے بانوں کی ہمیشہ سختی سے تردید کی۔

کشمیر ہو یا فلسطین ، چیچنیا ہو یا شام ہر مظلوم قوم کے لیے آوازہ حق بلند کیا ۔ وہ مینارہ امید تھے۔ رب کے حضور کے سجدہ ریزی کو توشہ آخرت اور اولواالعزمی سے ثابت کرتے تھے کہ ہاں سجدوں میں عرق ریزی اور طوالت ہی یوم حساب کو سرخروکرسکتی ہے۔ قرون اولی کی نشانی اور اسلام کے حققی عملی تفسیر تھے۔چار خوبیاں ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔

(1)۔راسخ العقیدہ اور ختم نبوت کے پیامبر: ختم نبوت پر اٹل ایمان تھا کہ اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر کوئی بہتان گھڑے گا وہ یقینا منور حسن کی لسٹ میں کورا اور ہیچ ترین ہو گا۔جب منور حسن جماعت کے امیر تھے تو ان دنوں نبی مہربان ﷺ کے معاذاللہ خاکے اڑائے گئے تو آپ بہت روئے اور کہا کہ ظالموں کو اللہ پکڑے گا ۔

(2)۔ مولانا مودودی ؒ کے سچے اور پکے سپاہی : جماعت اسلامی حضرت مولانا ابولاعلیٰ مودودی کی روایت کے امین اورنظریاتی آدمی تھے۔اس سے قطعاََ یہ تاثر نہ لیا کہ جماعت اسلامی کے دیگر رہنمائوں کی شریف النفسی اور اصو ل پسندی پر حرف گیر ی ہے۔ بلاشبہ جماعت اسلامی کے باقی رہنماء اور امرا ء بھی شرعیت مطہرہ کے اصول و مبادی کے مطابق زندگی گزارنے پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔

(3)۔ بلا کے ایماندار : اگر سید منور حسن اپنی بیٹی کو ملنے والی سلامیوں کی رقم جماعت اسلامی کے بیت المال میں یہ کہہ کر جمع کرا دیتے ہیں کہ بیٹی یہ تحائف اور رقومات منور حسن کی بیٹی کو نہیں بلکہ امیر جماعت کی بیٹی کو ملے ہیں لہٰذا اس پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے اور اسے جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کرادیا جائے ۔ تو کیا آج کے دور میں کوئی بڑا لیڈر یا طاقتور شخص اس طرح ایثار، قربانی اور ضمیر کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے!

(4)۔ متقی ،زہد و تقوی : کتنی ہی بار باہر کے دورے کیے مگر جب بھی باہر گئے تو مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرنے کے بجائے کسی مسجد یا اسلامی سنٹر کو اپنا مسکن بنا لیتے تھے۔

(5)۔ اصو ل پسند: جس بات کو ٹھیک اور حق بجانب سمجھا تو پھر پیچھے نہیں ہٹے اس پر ڈٹ گئے اور ایک بار نجی ٹی وی کے اینکر نے پوچھا کہ اسامہ بن لادن کے اسٹیٹس کو آپ کیا سمجھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ شہید ہے ، اور پھر اینکر کے اصرار پرکہا کہ ہاں وہ سوبار شہید ہے ۔ جو بات دل میں وہ زبان پر ہے یہ ملکہ اللہ رب ذوالجلال نے صحیح معنوں میں سید منور حسن کو ہی عطا کیا تھاوہ اپنوں میں ہوتے تو کڑے احتساب کو اپنا عمل اور مضبوط دینی اعمال اور اخلاقیا ت کو زیور سمجھتے تھے۔قال اللہ وقال الرسول کے ترانے پڑھنے والے انتہائی منکس المزاج سید منور حسن کی ذات جاہ و حشمت اور حفظ مراتب سے مبرا ہے۔منور حسن کسی قسم کے کر و فر اور کمپلکس سے بلکل آزاد تھے۔

یہ غازی یہ پراسرار بندے ۔ جنہیں نے بخشا ہے ذوق خدائی دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا ہو دریا ۔ سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی۔ جماعت اسلامی کے کسی روایت پسند، سادہ، درویش طبع اور قلندرانہ مزاج کی حامل شخصیت سید منور حسن کا انتخاب کیا تو بہت سارے نام نہاد لیڈران جو بیسیوں برس سے جماعت اور جمعیت کی وجہ سے آسودہ حال ہو گئے تھے وہ دلبرداشتہ ہو کر جماعت سے ہی الگ ہو گئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں میں ذاتی مفاد پرستی کے بیج ہوتے ہیں انکی چاہے کتنی ہی نظریاتی تربیت کیوں نہ کر لی جائے وہ جونہی یہ دیکھتے ہیں کہ انکے ذاتی مفادات پر زد آ رہی ہے تو اسلامی تحریکوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔

جماعت اسلامی سے بھی دو طرح کے لوگوں نے علیحدگی اختیار کی، ایک تو وہ افراد جو فکری اور نظریاتی اختلافات کی وجہ سے جماعت اسلامی سے الگ ہوئے مگر انکی ذاتی زندگی مکمل اخلاص کا بھرپور نمونہ رہی اور انکی ذات پر کسی قسم کا کوئی کرپشن اور ذاتی مفاد کا دھبہ نہ تھا۔ مثلاً امین احسن اصلاحی، ارشاد احمد حقانی، ڈاکٹر اسرار احمد اور نعیم صدیقی.... یہ وہ افراد تھے جو جماعت اسلامی سے ضرور نکلے مگر جماعت اسلامی ان کے اندر سے نہ نکل سکی اور جماعت کے حلقوں میں ہمیشہ انکا احترام برقرار رہا۔ دوسرے وہ رہنما جو سیاسی عزائم پا کر کرپشن یا لیڈرشپ کے حصول میں ناکامی کی وجہ سے جماعت اسلامی سے الگ ہو گئے۔

مولانا کوثر نیازی، محمد علی درانی، اعجاز چودھری، محمود رشید ، حنیف عباسی، جاوید ہاشمی، سعد رفیق، فیاض الحسن چوہان اور ایسا بہت سے مختلف پارٹیوں کے بڑے لیڈر۔۔ان لوگوں نے جماعت اسلامی اور جمعیت کے پلیٹ فارم سے تربیت، شہرت اور مقام حاصل کیا مگر بعد میں اپنی سیاسی آرزئوں کی تکمیل کی خاطر نظریات سے انحراف کر گئے کیونکہ ایسے لوگوں کی زندگیوں میں عظمت اور بلند کردار کے چند لمحے ہی آتے ہیں۔

120 گز کے گھر کا واحد اثاثہ رکھنے والے سید منور حسن جماعت اسلامی کی نظریاتی اساس پر سیاسی سمجھوتہ کرنے پر کبھی آمادہ نہ ہوئے۔ یاد رکھیئے جماعت اسلامی کسی ایک ریاست و ملک کی سیاسی پارٹی نہیں بلکہ دنیا کے متعد د ممالک میں مولانا مودودی ؒ کے چاہنے والے اور جابروںکو ٹف ٹائم دینے والے موجود ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */