اسلام آباد، مندر، مسجد اور تحریک انصاف - سجاداحمدشاہ کاظمی

نجی معاملات میں انتہا کی مصروفیت کی وجہ سے اسلام آباد میں بنائے جانے والے مندر بارے لوگوں کی اکثریت کی رائے سے تو واقف نہیں ہوں، البتہ اتنا اندازہ ضرور ہے کہ تین طبقات ہیں جن کا موقف ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔

پہلا طبقہ: سیکولر و لبرل لوگ ہیں، جن کیمطابق اسلام آباد نہ صرف مندر بننا چاہئے بلکہ مندر کے تمام اخراجات بھی حکومت کو برداشت کرنا چاہئیں مگر اسلام آباد میں موجود ایک بھی مسجد و مدرسہ ایسا نہیں ہونا چاہئے جہاں سے لوگوں کو ’’ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ‘‘ کی صدا پہنچ سکتی ہے۔

دوسرا طبقہ: سیاسی طبقہ ہے جو مزید دو حصوں میں تقسیم ہے۔ اسکا پہلا حصہ تحریک انصاف کے حامیوں پر مشتمل ہے اور دوسرا تحریک انصاف مخالف جماعتوں کے لیڈران و کارکنان پر مشتمل ہے۔ اس دوسرے طبقہ میں ہر دو فریقین مندر کی رکاوٹ چاہتے ہیں نہ ہی مندر بن جانے سے انہیں غرض ہے۔ ہاں اگر ہے تو بس ہر فریق کو صرف مخالفین کی تنقیص اور اپنی جماعت کو ڈیفینڈ کرنے سے غرض ہے۔

تیسرا طبقہ: مذہبی لوگوں کا طبقہ ہے جو اعتدال کیساتھ ہر معاملے کا قرآن و حدیث میں حل تلاش کرتے اور پھر اسکے مطابق (جو انہیں سمجھ آئے) اپنا بیانیہ جاری کر دیتے ہیں۔ قارئین محترم! پہلا طبقہ بھی گمراہ، دوسرا بھی گمراہ جبکہ تیسرا طبقہ ہے وہ درست راستے پہ چلنے والا طبقہ جسکی رائے قابل اعتبار، قابل احترام اور قابل عمل ہے۔ دراصل معاملا یہ ہے کہ کسی بھی آزاد (جمہوری) ملک میں، کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کی عبادتگاہ کو بننے سے روکا نہیں جا سکتا، لہذہ اسلام آباد ہو یا پاکستان کا دوسرا ایسا کوئی بھی شہر ، علاقہ یا بستی جہاں ہندووں کی کم از کم تعداد مستقل طور پر رہائش پذیر ہو، اس علاقہ میں مذہبی عبادتگاہ (ہندو مندر) بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے بس شرط یہ ہے کہ ہندو اپنا سرمایہ خرچ کر کے زمین خریدیں، اپنے خرچے پر اسکی تعمیر کریں اور پھر اسکے دیگر لوازمات بھی ہندو کمیوینیٹی خود برداشت کرے۔

لیکن چونکہ اسلام آباد میں بننے والے مندر کے لئے جگہ گزشتہ حکومت نے ہندو کمیوینیٹی کے پرزور مطالبہ پر الاٹ کی تھی اور مندر کی تعمیر موجودہ دور میں شروع ہوئی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ گورنمنٹ نے جگہ الاٹ کر دی تھی، ہندو اس جگہ اپنا مندر بنا لیتے، کوئی مسلاء نہ تھا اور دوسری بات یہ کہ اگر ہندووں کو جگہ کے ساتھ ساتھ تعمیر کے لئے فنڈز بھی گزشتہ حکومت جاری کرتی تو بھی تحریک انصاف بری الذمہ تھی۔

مانا کہ بلا معاوضہ مندر کے لئے جگہ الاٹ کرنے کی سنگین غلطی گزشتہ حکومت نے کی تھی مگر ضروری تو نہیں کہ موجودہ حکومت پچھلی حکومت کےفیصلے کو مزید تقویت دیتی، ممکن تھا کہ جگہ واپس لی جائے یا ہندو کمیوینٹی سے جگہ کے پیسے وصول کئے جائیں۔ لیکن بجائے اس کے موجودہ حکومت نے ناصرف مندر کا سنگ بنیاد رکھا بلکہ ابتدائی تعمیراتی مرحلے واسطے دس کروڑ روپت فنڈز بھی جاری کر دیے۔

حاصل بحث یہ کہ انصاف کے تقاضوں کو دیکھا جائے تو اگر ہندو اپنے خرچے پہ مندر بنائیں تو نا صرف مندر جائز بلکہ مندر کی حفاظت مومن کیلئے ضروری ہے اور مسلمانوں کی اکثریت سے جمع شدہ ٹیکس کے پیسوں پر مندر بنایا جائے تو ناصرف مندر ناجائز بلکہ حکومت کا یہ فیصلا، بیانیہ اور یہ پالیسی یا غیر ضروری فعل بھی ناجائز عمل ہوگا۔

دوسری طرف حکومت مساجد و مدارس کو ٹکے کی بھی رعایت دینے کو تیار نہیں، مسجدوں کو گرایا جا رہا ہے، علماء کو قید و بند میں ڈالا جاتا ہے اور اسلامی شعائر کی تشہیر و تجویز کو شدت پسندی و انتہاپسندی کہہ کر رولا جا رہا ہے۔ مسجد کے نیچے اگر دو مرلے جگہ آ بھی جاتی ہے تو حکومت کو اسکا متبادل تلاش کرنا چاہئے نا کہ مسجد کو ہی گرانا چاہئے۔ اور وہ لوگ جو مطلق حکومتی حمایت میں ڈٹے ہوئے ہیں انہیں بھی یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہر گناہ کو پچھلی حکومتی پہ ڈال کر جان چھڑائی نہیں جا سکتی۔۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com