حج اور عمرہ مہنگا ہو گیا - آصف علی خان

سعودی عرب نے ہوٹلوں میں قیام، ریستورانوں میں کھانے پینے، اندرونِ ملک چلنے والی ٹرانسپورٹ اور تجارتی اور رہائشی جائیدادوں کے کرائے پر عائد ویلیو ایڈڈ ٹیکس تین گنا بڑھا دیا ہے۔ پہلے یہ ٹیکس 5 فیصد کی شرح سے وصول کیا جاتا تھا مگر اب اس کی شرح 15 فیصد ہو گئی ہے۔

اس اضافے کا براہِ راست اثر حج اور عمرے کے اخراجات پر پڑے گا اور چونکہ ہر سال لاکھوں پاکستانی حج اور عمرہ کرنے سعودی عرب جاتے ہیں اس لئے ٹیکس کی شرح میں تبدیلی سے پاکستانیوں کو یہ مذہبی فرائض انجام دینے کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ رقم درکار ہو گی۔

سعودی وزارتِ حج کے مطابق 2019 میں 17 لاکھ پاکستانیوں نے عمرہ ادا کیا تھا۔ پچھلے سال ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں نے حج بھی کیا۔ 2020 کے لئے سعودی حکومت نے پاکستانیوں کا حج کوٹہ مزید پچاس ہزار بڑھا کر دو لاکھ کر دیا تھا لیکن کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث اس سال پاکستان سمیت کسی بھی ملک سے لوگ حج کرنے کے لئے سعودی عرب نہیں جا سکیں گے۔

اگر 2019 کے اعداد و شمار کو پیشِ نظر رکھا جائے اور عمرہ کرنے کا اوسط خرچ ڈیڑھ لاکھ روپے فرض کیا جائے تو گزشتہ سال محض عمرہ کرنے پر پاکستانیوں نے کم از کم 255 ارب روپے خرچ کئے۔ اس طرح اگر حج کا اوسط خرچ پانچ لاکھ روپے تصور کیا جائے تو پچھلے سال پاکستانیوں نے اس پر 75 ارب روپے خرچ کئے۔

سعودی ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قدر میں پچھلے ایک سال میں تقریباً 8 فیصد کمی کی وجہ سے مستقبل قریب میں ان اخراجات میں کم از کم بیس فیصد اضافہ متوقع ہے۔

آئندہ چند سال میں عمرے اور حج کے اخراجات کے طور پر پاکستان سے سعودی عرب منتقل ہونے والی رقومات میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا جبکہ سعودی عرب سے پاکستان آنے والی رقوم کم ہو جائیں گی

لاہور میں کام کرنے والے ایک ٹور آپریٹر محمد برہان نے سُجاگ کو بتایا کہ سب سے سستے سعودی ہوٹل میں ایک فرد کی رہائش کا پندرہ دن کا خرچہ پاکستانی کرنسی میں 25000 روپے تک ہوتا ہے۔ ٹیکسوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اب یہ خرچ بڑھ کر 30000 روپے تک ہو جائے گا۔ اسی طرح پندرہ دن کے کھانے کا کم سے کم خرچ 20000 روپے سے بڑھ کر لگ بھگ 26000 روپے ہو جائے گا۔

سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں اضافہ ناگزیر تھا۔ اس کے مطابق سعودی معیشت پچھلے دو سال سےکساد بازاری کا شکار ہے جبکہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے لگائی گئی سفری پابندیوں کی وجہ سے عمرہ اور حج کے لئے دوسرے ملکوں سے آنے والے زائرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

ان دونوں وجوہات کا مجموعی اثر یہ ہے کہ سعودی حکومت کی آمدنی میں ریکارڈ کمی آئی ہے۔ ٹیکس میں اضافہ اس کمی کو روکنے کے لئے کیا گیا ہے۔

سعودی معیشت میں سرد بازاری سے پاکستان پہلے سے ہی متاثر ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ سے وہاں مقیم پاکستانی مزدروں کی نوکریاں اور آمدنی دونوں کم ہو رہے ہیں اور وہاں سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم میں بھی کمی آ رہی ہے۔چند دن پہلے ختم ہونے والے مالی سال میں ان رقوم کا کل حجم 4 ارب 81 کروڑ ڈالر تھا جبکہ اس سے پچھلے سال ان رقوم کی کل مالیت 5 ارب ڈالر تھی۔ 18-2017 میں بھی ان رقوم کی مالیت 2020-2019 سے زیادہ تھی۔

اس تناظر میں یہ کہنا درست ہو گا کہ آنے والے چند سال میں عمرے اور حج کے اخراجات کے طور پر پاکستان سے سعودی عرب منتقل ہونے والی رقومات میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا جبکہ سعودی عرب سے پاکستان آنے والی رقوم میں کمی آنے کا رجحان برقرار رہے گا تاوقتیکہ سعودی معیشت دوبارہ ترقی کرنے لگے اور وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد اور آمدن دونوں میں اضافہ ہو جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */