ہمارا سید بھی چل بسا (2)- عارف الحق عارف

پہلی قسط ملاحظہ کریں
سید منور حسن کے سفر آخرت اور جنازے کا منظر ویڈیو میں دیکھا، جسمانی طور پر شریک نہ ہونے کا افسوس ہوا لیکن روحانی طور پر خود کو اس میں شامل محسوس کیا۔جس کو ویڈیو کے ذریعہ ممکن بنانے والے سید کے شیدائیوں کے لئے دل سے دعا نکلی ۔سرد خانے سے شادمان ٹاؤن،ان کے 100 گز کے گھر تک اور وہاں سے ناظم آباد عید گاہ تک کے سفر اور ان کے جنازے کے دلدوز مناظر دیکھے تو ان کے اس آخری سفر اور بڑے جنازے پر بڑا رشک آیا۔ ان کے ہزاروں شیدائیوں اور ان کے نورانی چہرے کی ایک جھلک دیکھنے کے مشتاق پروانوں کے بڑے ہجوم کو دیکھ کر فیض احمد فیض کا یہ شعر یاد آگیا۔ ع


وہ تو وہ ہے، تمہیں ہو جائے گی، الفت مجھ سے
تم، اک نظر، مرا، محبوب نظر تو دیکھو

ہم سمجھ رہے تھے کہ سید سے صرف ہم ہی محبت کرتے ہیں لیکن اب معلوم ہوا کہ سید نے اپنے حسن عمل، اعلی اخلاق، مثالی کردار ، غلبہ دین کےلئے بے لوث جد و جہد اور جابر سلطان کے سامنے بلا خوف و خطر حق گوئی و بے باکی کے عمل سے پاکستان اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو اپنی محبت کا اسیر بنا رکھا ہے۔ ہم نے ان سے اپنے تعلق کے 56 برسوں کے دوران سفر و حضر کا ایک طویل عرصہ ساتھ گزارا ہے۔ ہم ان کے ایک ایک عمل کے گواہ ہیں اور شرح صدر کے ساتھ گواہی دیتے ہیں کہ
اے اللہ ہم نے تیرے اس بندے کو زندگی بھر اسلام کے نظام عدل کے نفاذ کی جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا۔اس نے غلبہ اسلام کو زندگی کا مشن بنایا اور اس کی تکمیل کےلیے بڑی بہادری اور بے خوفی کے ساتھ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہا اور صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے دنیاوی مناصب، فوائد، کوٹھی بنگلے اور شاندار مستقبل پر درویشانہ طرز بود و باش کو ترجیح دی اور آئینے کی طرح صاف شفاف زندگی بسر کی۔ اس نے دوستی اور محبت کی تو تیری رضا کے لیے اور مخالفت اور دشمنی کی تو وہ بھی تیری رضا کے لیے کی۔ اس کا اوڑھنا، بچھونا صرف تیری بندگی،تیری مخلوق کی خدمت اور اسلامی نظام کے نفاذ کی جہد مسلسل تھی۔

اے پروردگار! ہم تیرے اس بندے سے راضی ہیں، تو بھی اس سے راضی ہوجا۔اور اس کو جنت الفردوس کے اعلی ترین درجات پر فائز کر۔ آمین۔

ان کے پیاروں نے ان کو اشک بار آنکھوں سے آخری آرام گاہ میں اتارا تو کچھ یوں محسوس ہوا۔


ستارے روز ٹوٹ کر گرتے ہیں
غضب ہوا آج تو آفتاب ٹوٹا ہے

اور یہ آفتاب، زندگی کی 79 بہاریں گزار کر آج غروب ہو گیا۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ اس موقع پر ہمیں الطاف گوہر کا ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ وہ مکالمہ یاد آگیا جو انہوں نے اس کے ساتھ لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ پر مرشدی مولانا سید ابوالاعلی مودودی رح کا جنازہ پڑھنے کے بعد واپس جاتے ہوئے کیا تھا۔ ڈرائیور نے ان سے پوجھا تھا۔ کیا مرنے والا آپ کا عزیز تھا ؟ تو الطاف گوہر نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا۔ ”نہیں وہ عزیز جہاں تھا۔“

علامہ اقبال نے اپنی والدہ مرحومہ کی یاد میں ان کو ایک طویل نظم کے ذریعہ خراج عقیدت پیش کیا ہے ہم بھی اس کا آخری دعایئہ شعر سید کی نظر کرتے ہیں۔


آسماں تیری لحد پر، شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ، اس گھر کی نگہبانی کرے

منور بھائی کے سفر آخرت نے پاکستان اور دنیا بھر میں تحریک اسلامی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کو سوگوار کر دیا ہے اور وہ اپنے اپنے اندازمیں ان کے ساتھ اپنی یادوں کو تازہ کررہے ہیں۔لیکن سید ان کو شاد عظیم آبادی کا یہ شعر پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔


ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں، نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

ان سے وابستہ ہماری یادوں اور باتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو چشم تصور میں چل رہا ہے۔ ہماری پریشانی یہ ہے کہ ان کا ذکر کیسے اور آغاز کس یاد اور بات سے کریں؟

ہم اس وقت تصور خیال میں خود کو جمیعت کے دفتر 23 اسٹریچن روڈ میں پاتے ہیں۔یہ دفتر جمیعت کے خاندان کا پہلا گھر ہے جس کے سربراہ سید منور حسن ہیں، وہ سب کے محبوب اور ان کی نگاہوں کا تارہ ہیں۔ یہ کافی بڑا خاندان ہے اتنا تو نہیں، جتنا آج کل ہے لیکن اس دور کے حالات میں کچھ کم بھی نہ تھا۔ اس خاندان کے نمایاں افراد میں شیخ محمود علی، ظہور نیازی،شوکت علی ، محمد کفایت ، محمد صدیق سنگاپوری، محمد انور کلہوڑی،شیخ مقصود علی،محمد ادریس، پیر محمد کالیا،محمد خان منہاس،سید احمد،ملک محمد شریف،ہمایوں عزیز،اسامہ اسمعیٰل مراد،محمد حسین محنتی،احمد سلیمانی،محمود حسین،عظمت اللہ، ممتاز احمد،ظفر احمد خان،نصیر سلیمی، شمس الدین ہاشمی، محمد حسن، چوہدری افضل، سید یوسف علی،اسکول کے بچوں کے ذمہ دار اقبال ( شیخ الاطفال)، نسیم الدین، ساجد افضل،جنید فاروقی اور جاوید اکبر انصاری اچھی طرح یاد ہیں۔بعض کے نام اب یاد نہیں ہیں۔ مسلم سجاد، شیخ محبوب علی اور محمود احمد مدنی تعلیم سے فارغ ہوچکے ہیں لیکن اتوارکے اجتماع میں آنا نہیں بھولتے اور لازمی شرکت کرتے ہیں اور اس کے پروگرام میں حصہ لینے میں خوشی محسوس کرتےہیں۔

ان سب کی محبتوں کا محور و مرکز ہمارا سید ہے اور کیوں نہ ہو، وہ ہے ہی ایسا کہ جس کو دیکھتے ہی محبت ہوجائے۔ وہ اپنی گفتار کی روانی سے، اپنے عمل کے اخلاص سے،اپنی تقریر کی شعلہ بیانی سے اور دین سے گہرے تعلق سے سب کو اپنا گرویدہ بنالینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ دن اور رات کا زیادہ وقت وہیں گزارتا ہے۔ یہ دفتر این ای ڈی، ڈی جے اور ایس ایم آرٹس کالج سے چند منٹ کے فاصلے پر ہے، اردو کالج اور ایس ایم سائنس کالج بھی کچھ دور نہیں ہیں۔اس لیے اس میں طلبہ کا آنا جانا معمول کی بات ہے۔ہر وقت رونق لگی رہتی ہے، ایک کمرے میں جمیعت کی چھوٹی سی لائبریری ہے، جس میں سید مودودی، مولانا منظور نعمانی، ابوالحسن علی ندوی، ڈاکٹر حمیداللہ، حسن البنا، سید قطب،امین احسن اصلاحی، محمد اسد اور پروفیسر خورشید سمیت مختلف علماء کی دینی کتب موجود ہیں، اخبارات بھی ہیں۔ باقاعدگی سے دفتر آنے والوں میں جمیعت کے کارکن بھی ہیں اور اپنے مسائل لے کر آنے والے عام طلبہ اور مخالف تنظموں کے کارکن بھی۔

سید ہر ایک کی بات سنتا اور ان کے مسائل کا حل بتاتا، اعتراضات کا جواب دیتا، سب کو مطمئن کرتا اور انہیں اتوار کے اجتماع میں شرکت کی دعوت دینا نہ بھولتا کہ ان دنوں کراچی جمیعت کی سب سے بڑی سرگرمی ہر اتوار کی صبح 9 بجے کارکنوں کا یہی اجتماع ہے۔ اسی اجتماع سے جمیعت کو مزید کارکن ملتے اس لیے اس کو ہمیشہ بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی۔ یہ دفتر مرکزی جگہ پر ہونے کی وجہ سے طلبہ سیاست کا بھی گڑھ ہوتا۔دوسری طلبہ تنظیموں کے لیڈر بھی سید سے ملنے اور طلبہ سیاست پر بات چیت کرنے اکثر یہیں آتے۔

سید منور حسن ہر اتوار کو منعقد ہونے والے کارکنوں کے اس اجتماع کو تربیت کا موثر ذریعہ بناتے ہیں۔ کئی پروگرام شروع کر کے اسے سب کے لیے دلچسپ بنا تے ہیں۔ شیخ محبوب علی، مقصود علی یا سید خود درس قرآن دیتے، معتمد محمد آصف صدیقی گزرے ہفتے کی رپورٹ پیش کرتے، مسلم سجاد یا کوئی اور کارکن سید مودودی کی کسی کتاب سے منتخب اقتباس پیش کرتے اور محمود احمد مدنی ہفتے بھر کی خبروں پر تبصرہ کرتے، معلومات عامہ کے مقابلے ہوتے اور تقریری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے ممتاز احمد اور سید احمد کی نگرانی میں تقریر کرنے کے گر سکھائے جاتے۔اچھا لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور ان کے درمیان تحریری مضامین کا مقابلہ کرایا جاتا۔ میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں جمیعت کے کسی نہ کسی کارکن کی پوزیشن آتی، اخبار میں اس کا انٹرویو آتا، جس میں وہ لازمی طور پر ذکر کرتا کہ اس کا تعلق جمیعت سے ہے اور اس کی یہ پوزیشن جمیعت کی تربیت اور پاپندی سے مطالعہ کی وجہ سے آئی ہے۔ اس کی وجہ سے جمیعت کے بارے میں یہ بات مشہور ہوجاتی کہ یہاں بچوں کی اسلامی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی پڑھائی کی بھی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، اس لیے والدین اپنے بیٹوں کو اتوار کے پروگرام میں خود لاتے اور انہیں اس میں شرکت کی ترغیب دیتے۔پیر محمد کالیا اور محمد حسین محنتی کی اسی زمانے کے امتحانات میں پوزیشن آئی، اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی کہ جمیعت میں شامل ہونے اور کام کرنے سے پڑھائی کا کوئی حرج نہیں ہوتا، یہ بات تھی بھی درست۔

سید منور حسن اپنے کارکنوں کی تربیت اور ان میں بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کےلیے پکنک کے پروگرام بھی بناتے۔ کلفٹن کا ساحل اس کے لیے بہترین جگہ تھی۔ کبھی کبھی ایسی پکنک رات بھر میں جاری رہتی اور فجر کی نماز قریبی مسجد میں ادا کرنے کے بعد ختم ہوتی۔ اس وقت ساحل سمندرمچھلی گھر کی جگہ تک پھیلا ہوا تھا اور سمند کی لہریں اس تاریخی عمارت کی چادیواری سے مچل مچل کر ٹکراتی تھیں جو جہانگیر کوٹھاری پیریڈ کے نام سے آج بھی مشہور اور موجود ہے۔ہم ان کی سیڑھیوں سے نیچے اترتے تو فوری طور پر سمندر کا کنارا آجاتا اور ہم وہیں مناسب جگہ بند پر ڈیرا جمالیتے۔ ایسے مواقع پر سید کا رویہ بدل جاتا اور سخت گیر مربّی سے ہر ایک کی دلجوئی اور خیال رکھنے والے بن جاتے، بے تکلفی کے ساتھ کارکن ایک دوسرے کے ساتھ اپنے اپنے حالات، دلچسپیاں اور پسند ناپسند شیئر کرتے۔ لطیفے سنائے جاتے، شعروشاعری ہوتی اور سید وہیں نماز کی امامت کراتے۔ سورہ مدثر یا سورہ مزمل کی خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرتے، نماز کے بعد خشوع و خضوع و گریہ زاری سے دعائیں مانگتے تو رلا دیتے۔اللہ تعالی کے یہاں دعا کے وقت حضور ی کی کیفیت میں اور ان کی طرح توجہ اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھتے کم ہی لوگ نظر آتے۔ علامہ اقبال کی مشہور نظم

“خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لالہ الا اللہ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

اور اس کے آخری شعر "اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں.... مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ" تک اپنے مخصوص ترنم میں پڑھتے تو سماں باندھ دیتے جس سے ہم سننے والے سب وجد کی سی کیفیت میں آجاتے۔ ہمیں کلفٹن، ہاکس بے، جھمپیر اور منصورہ کی پکنکس آج تک یاد ہیں۔ ان کے بہترین دوست سید کاظم علی ان کے ساتھ ہی ان پکنکس اور پروگراموں میں موجود ہوتے۔ ہم ان دونوں کی دوستی کی مثالیں دیتے کہ وہ جمیعت کے کارکن نہیں ہیں لیکن سید کی وجہ سے تربیتی پروگراموں اور پکنکس میں شرکت کرتے۔وہ جماعت اسلامی کے بہترین کارکن تھے افسوس کہ ان کا جوانی ہی میں انتقال ہوگیا۔ سید پر پر غم و اندوہ کا جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔ اللہ ان کے درجات بھی بلند کرے۔سید کاظم علی اپنے جگری دوست کو برسوں بعد اپنے پاس پا کر کتنے خوش ہوئے ہوں گے۔
(جاری ہے)

Comments

عارف الحق عارف

عارف الحق عارف

عارف الحق عارف پاکستان میں اردو صحافت کا ایک بڑا نام ہے۔ 1967ء میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا۔ جس سے 2002 تک وابستہ رہے۔ ایڈیٹر اسپیشل اسائنمنٹس کے منصب پر تھے کہ اسی سال جیو ٹی وی شروع ہوا تو اس میں شامل ہوگئے اور 18 سال بعد ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر کے مردم خیز شہر کھوئی رٹہ (وادی بناہ) ضلع کوٹلی سے ہے۔ ان کے کالم اور مضامین، جنگ کے علاوہ ملک کے دوسرے اخبارات میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */