سفر (قسط نمبر 3) - عظمیٰ ظفر

ذرا سی دیر کو سوچو

زباں کو روک کر دیکھو

تسلی سے سنو سب کی

تســـلی سے کہو اپنـــی

جو یونہی طیش کھاؤ گے

اکــیلے ہـــوتے جــاؤ گے

ثروت منزل میں رات کے ایک بج چکے تھے، سارے پرندے چپ کی نیند سوئے تھے۔ ملازم بھی نیند کی مہربان وادی میں تھے، چند گھنٹوں کی نیند ان کی اپنی تھی جس کے مالک وہ خود تھے ثروت بیگم نہیں۔ان نفوس میں جاگنے والی صرف وہی تھیں جو کمرے میں موجود کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی میں کسی سوچ میں میں گم تھیں۔ دیوار گیر گھڑی نے اپنی سوئیاں دو بجائیں تو محسن صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ آج وہ معمول سے زیادہ دیر سے آئے تھے۔

"تم ابھی تک جاگ رہی ہو، سوئی نہیں، طبیعت ٹھیک ہے؟" محسن صاحب نے بنا کسی تاثر کہ پوچھتے ہوئے گھڑی اور رومال سنگھار میز پر رکھا اور شیشے میں ثروت بیگم کو دیکھتے پایا۔"کیوں! تمہیں کیا لگتا ہے میں جب مرنے والی ہوں؟ تب ہی تم جلدی گھر آؤ گے؟ ورنہ سیر سپاٹے کرتے رہوگے؟"باتوں کے غلط مطلب نکالنا کوئی ثروت بیگم سے سیکھتا۔"مگر میں نے اپنےدیر سے گھر آنے کی وجہ بوا کو فون پر بتادی تھی۔" محسن صاحب نے لہجے کو دھیما رکھتے ہوۓ کہا۔" تو مجھ سے اچھے تو یہ ملازم ہی ہوئے نا، جن سے رابطہ ہے تمہارا۔ جیسے تم ہو ویسا ہی تمہارا بیٹا،،، بےحس اور خود غرض، مطلبی،، سب نے تنہا کر دیا مجھے،،، اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو تم سب،،، "غصے میں خوب بول کر ثروت بیگم چپ ہوگٸیں۔

محسن صاحب یہ سن کر مسکرائے :" آپ تنہا کیسے ہوسکتی ہیں بھلا؟ملازموں کی فوج ہے نا آپ کے پاس،،،" یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گٸے۔باغیچے میں کھلے آسمان تلے چاند کی روشنی پھیلی تھی۔ وہ ویسے بھی آج کافی تھکے ہوئے تھے مگر بیوی سے کہتے بھی تو کیا کہتے،، عمر کے اس حصے میں آکر اگر مطلبی اور خود غرضی کا طعنہ ملے تو کیسا لگتا ہے!اس سوچ کو ایک طرف رکھتے ہوئے وہ آج تاجر برادری کی ہونے والی یونین میٹینگ کا سوچنے لگے۔ بیرون ملک سے آنے والے ریشمی کپڑوں نے کاٹن اور سوتی مال کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔ دھاگوں کی نٸی قیمتیں بہت تیزی سے بڑھ رہی تھیں، کاٹن انڈسڑی پر برا وقت آنے والا تھا۔ محسن کلیم فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے، بیٹا اتنی دور تھا کہ وہ چاہ کر بھی اس سے مشورہ لے نہیں سکتے تھے کجا یہ کہ اسے پریشان کرتے، بیوی کی کاٹ دار باتیں ہی الگ تھیں۔ انھوں نے بے اختیار نانا میاں کو یاد کیا،"میں اور کیا کروں؟ نانا میاں! کس سے کہوں اور کیا کیا کہوں؟" وہ زیر لب کہنے لگے۔

اندر کھڑکی سے چھنے والی چاندنی اور ثروت بیگم تنہا تھیں۔ آج سے کئی سال پہلے ہی وہ ایسے تنہا ہوگئی تھیں جب انھوں نے تمکنت کی ایک نہ سنی تھی اور اپنی ہی بات کا شور مچا کر سب کو کف افسوس ملنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس رات نانا میاں اور چاندنی بوا بھی تمکنت کے ساتھ خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آئے تھے۔
بس کمرے میں تمکنت کے سسکنے کی آواز اور ثروت کمرے میں تنہا رہ گئی تھیں۔راحیلہ نے تمکنت کے کمرے میں موجود لکڑی کے مخملی ڈبے میں سے چاندی کی بجلی (کانوں کازیور) نکالا،"بس بھابھی اسی طرح کا بنواؤں گی فاطمہ کے لیے،،، اسے پسند بھی بہت ہے۔ میرا زیور تو منجھلی دادی نے ایسے ہتھیایا جیسےان کا ہی ہو جانتی ہیں نا آپ؟""ہاں جانتی ہوں، جانے دو تمہیں ہی واپس ملےگا،،، بے فکر رہو، ان کے دماغی توازن کی بدولت سب ہی خاموش ہیں۔ تمہاری چیز کہیں نہیں جاۓ گی!بلکہ تم یہ بجلی فاطمہ کے لیے رکھ لو۔" تمکنت نے باقی زیور واپس ڈبے میں رکھتے ہوئے کہا۔

راحیلہ یہ بات سن کر جلدی سے پیچھے ہٹیں۔" یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں بھابھی؟ میں نے اس لیے تو دیکھنے کو نہیں مانگا، آپ یہ رکھیں مجھے شرمندہ مت کریں۔"
تمکنت نے راحیلہ کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہا، " کیوں راحیلہ! میں شرمندہ کیوں کروں گی؟ فاطمہ بھی میری قندیل جیسی ہے، بلکہ تمہارے بھائی صاحب کہہ رہے تھے کہ تنویر کو بتا دینا، شادی کے کھانے اور قناتوں وغیرہ کا بندوبست وہ خود کرلیں گے اور باراتیوں میں مرد حضرات کے رُکنے کا انتظام مکرم کے گھر ہوگا۔ کامران بھائی سےبات ہوگئی ہے، تم پریشان مت ہونا۔"وہ یہ کہہ کر اپنے گلو بند کو غور سے دیکھنے لگیں۔راحیلہ آبدیدہ ہوگئیں،کیا کیا پریشانیاں لے کر وہ تمکنت کے پاس آئی تھیں اور بہت ہلکی پھلکی ہو کر جارہی تھیں۔" آپ لوگ پہلے ہی بہت خیال کرتے ہیں، اب ان احسانوں کا بدلہ کیسے اتاروں گی بھابھی!! "راحیلہ کہتے کہتے رو پڑیں۔اسی لمحے گلبہار اندر داخل ہوئیں۔

"اے میں کہوں تمکین!! میرے پاندان کی چھان بین کس نےکی ہے؟ سب الٹا پڑا ہے،،،" یہ کہتے ہوئے جب راحیلہ کو آنسو صاف کرتے دیکھا تو کہنے لگیں، “کیوں چھوٹی دلہن! یہ ساون بھادوں، بِن بادل برسات کیوں؟" " نہیں اماں کچھ نہیں،،،" راحیلہ نے مسکراتے ہوئے کہا،"بس ویسے ہی فاطمہ کی رخصتی کی بات کر رہے تھے آنکھیں بھر آئیں۔"

"اے لو!! اس میں رونا کیسا؟ بیٹیاں تو نبیوں کی بھی رخصت ہوئیں، بادشاہ بھی اپنی بیٹیوں کو بٹھا کر نہیں رکھتے،، خیر سے خوشی کا موقع ہے، ہم تم بھی تو میکہ چھوڑ آئے تھے، بس دعا کرو اللہ نصیب اچھے کرے۔"

" جی اماں!! آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔" راحیلہ نے کہا۔" اے تمکین! ایک گلوری پان کی لگادو، اب ہم نہیں جارہے پاندان الٹنے،، ہو نا ہو یہ اشعر میاں کا ہی کام ہوگا،، پڑھنے کم آتا ہے ادھم زیادہ مچاتا ہے۔"گلبہار بیگم نے پلنگ پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔قندیل اخبار کا پلندہ اٹھائے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو دیکھا تمکنت فون کا رسیور تھامے چپ چاپ کھڑی ہیں۔
" امی !!! خیریت تو ہے کس کا فون تھا؟ "

" خلیل کا فون تھا، ائیر پورٹ سے،،، وہ لندن جارہا ہے، رات کے جہاز سے۔" تمکنت نے اداسی سے کہا۔"خلیل بھائی اتنی جلدی واپس جارہے ہیں؟ حیرت ہے، ثروت خالا تو ان کی شادی کرنے کروانے کا شور مچا رہی تھیں۔ کیوں جارہے ہیں کچھ بتایا انہوں نے؟"

"تم کو کیسے پتہ کہ باجی نے شادی کا سوچا ہے خلیل کی؟ تم کب ملی ان سے ؟"

" ان سے کون مل سکتا ہے، امی؟ دادی بتا رہی تھیں۔ شاید انھیں بتایا ہوگا فون پر" تمکین اخبار سیدھے کرنے لگی۔" ناراض ہوکر جارہا ہے ماں سے،،، کیسی ماں ہے، بیٹے کو بھی الگ کردیا،، پہلے سب لوگوں سے، اب اپنے آپ سے۔" تمکینت کی اداسی سے آنکھیں بھر آئیں ۔خلیل کا جملہ کانوں میں گونج رہا تھا، " میں قندیل کو اپنانا چاہتا تھا خالہ، تاکہ دوری کی یہ دیوار گر جائے، مگر امی نہیں بدلیں گی۔ اب تو کبھی نہیں بدلیں گی،،، خالی گھر میں پہلے بھی میرا دم گھٹتا تھا اب بھی گھٹتا ہے، میں جا رہا ہوں،، میں جارہا ہوں،،،"

"افف اللہ !! چچی جان کتنے پیارے جوڑے ہیں،،، سچ میں یقین نہیں آرہا کہ یہ آپ کی شادی کے ہیں۔"قندیل نے راحیلہ کے جوڑوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔" اور یہ کمخواب والا یہ تو بہت ہی حسین ہے، امی نے تو کبھی دکھائے ہی نہیں اپنے کپڑے، نا ہی وہ کبھی کچھ بتاتی ہیں کہ ان کی شادی کیسے ہوئی،،، اتنے بڑے سیاسی رہنما کی نواسی تھیں،، آپ کو پتہ ہوگا چچی آپ ہی بتائیں کچھ۔"

"تمکین بھابھی کی شادی ،،،" راحیلہ بس سوچ کر رہ گئی،"ارمانوں کو خاک میں ملتے دیکھا ہے اس شادی میں بس کیا کہوں، کیا بتاوں تمہیں۔"قندیل نے کہتے کہتے یونہی دیکھنے کی غرض سے کرن لگی جھالر والے بروکٹ کے سرخ دوپٹے کو اپنے سر پر ڈالا اور کمرے سے باہر صحن میں نکل آئی۔" فاطمہ ،، فاطمہ!! دیکھو تو میں کیسی لگ رہی ہوں؟"
قندیل نے صحن میں آکر دوپٹے کے گھونگھٹ میں اپنا چہرہ نکال کر کہا۔فاطمہ سل پر شامی کباب کا مصالحہ پیس رہی تھی۔ اس نے مڑ کر اسے دیکھا اور دیکھتی رہ گئی، "اللہ ! سچی قندیل تم تو بالکل دلہن لگ رہی ہو، بہت ہی پیاری۔"

“اچھا!!! تم بھی نا،،،"قندیل ہسنتے ہوئے شرما گئی۔پرانے دور کے گھر تھے نا دلوں میں تنگی تھی نا گھر گلیوں میں،مکرم نے بے ارادہ چھت سے نیچے دیکھا تو نظر دوپٹے میں چھپے چاند پر پڑ گئی،سرخ آنچل میں پھر قندیلیں روشن تھیں،وہ وہیں تھم گیا۔ جاری ہے.............

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com