دلوں کا مکین چلا گیا - فریحہ مبارک

عائشہ منور باجی کا یہ گھر ۔ جس کے راستوں کی زمین پیروں کو لگی ہوئی تھی،جہاں عائشہ باجی کے دور نظامت میں اس گھر میں جمع ہونے والے مرکزی شعبہ جات انتھک محنت کی تصویر بنے اپنے کاموں میں مصروف نظر آتے ،ایسے میں امت الرقیب خالہ جان کی صدا سنائی دیتی ۔

بھئی عائشہ! چائے کے ساتھ جلیبیاں ضرور منگوانا۔۔۔عائشہ باجی کی ایک جاندار مسکراہٹ بھری آواز آتی ہاں بھئی بالکل جلیبیاں منگواتے ہیں۔یہ ماحول ہماری روحانی تربیت کے لئے تازہ آکسیجن تھا ۔اور آج عائشہ باجی کے گھر کے سامنے کھڑی میں سوچ رہی تھی ،ان کے عزیز از جان شوہر ، اس گھر کے شجر سایہ دار سید منور حسن کی جدائی کی تعزیت کیسے کروں؟؟ ۔۔۔میں نے تو ہمیشہ انھیں مطمئن اور ہشاش بشاش دیکھا ہے ،آج میں انھیں غمزدہ کیسے دیکھوں گی، انھوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ،قدم قدم پر حوصلہ دیا،ہماری ہر خوشی اور غم کو اپنا سمجھا ،آج میں انھیں کیسے دلاسہ دوں گی،کیسے ان کے دکھ میں ڈوبے وجود کو سہارا دوں گی ،ہر ایک کی خوشی اور غم میں شرکت عائشہ باجی کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ۔

مرکزی شوری کے اجلاس سے واپسی پر ادارہ نور حق سے وہ اپنی شوری کے ساتھ میرے ایک فون پر کی گئی درخواست، کہ آج میری کھیر پکوائی کی چھوٹی سی تقریب ہے ،پر وہ میرے گھر تشریف لائیں، میری خوشیوں کو چار چاند لگانے۔۔۔عائشہ باجی ،امتل خالہ ،نوشابہ خالہ،صفیہ ناہید،ناصرہ الیاس۔۔۔گویا چاند ستاروں کا جھرمٹ ہمارے گھر میں اتر آیا ہو ۔۔۔وہ لمحات زندگی کا حاصل تھے ،اور آج میں ان کی دہلیز پر کھڑی آنسو بہارہی تھی ۔۔کہ وہ جو ہمیشہ اٹھ کر استقبال کرتیں تھی آج کس قدر ٹوٹ گئیں ہوں گی ۔ ۔۔ دروازے پر کھڑی نفیسہ طیب سب کے ہاتھ سینیٹائز کر رہی تھیں ،سب نے ماسک لگائے کہ آواز سے ہی پہنچان پا رہے تھے ۔۔۔دردانہ باجی کی آنسوؤں میں بھیگی دعا کے لئے اٹھے ہاتھوں کے بیچ مجھے وہ پیاری ہستی نظر آئی ۔

عائشہ باجی سے نظروں میں تعزیت کر پائی ،الفاظ نے جذبات کا ساتھ نہیں دیا ،الحمد للہ۔۔۔۔ زندگی بھر مہر و وفا کا درس دینے والی حلیم الطبع عائشہ باجی صبر ورضا کا پیکر بنیں ۔۔فقط یہ کہہ رہی تھی ۔۔بس دعا کریں ۔۔۔!!یہ کمرہ جہاں سے ابھی ابھی منور صاحب کا جسد خاکی لے کر گئے تھے ،سینکڑوں کتابوں کا مسکن تھا، مکین تو چلا گیا تھا لیکن کتنے ہی نوٹس ان کتابوں پر بعد والوں کی رہنمائی کے لیے چھوڑ گیا تھا ۔۔ ۔اور میں سوچ رہی تھی اس گھر پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ سب اہل خانہ اللہ کی رضا پر راضی نظر آئے ۔

وہی سو گز کا منور حسن اور عائشہ منور کا متوسط علاقے میں سادہ سا گھر آج بھی اسی شان سے کھڑا تھا،جماعت اسلامی کے ماضی کی شاندار روایات کا ایک اور امین دنیا سے اس حال میں رخصت ہوا کہ دامن پہ کوئی چھینٹ ،نہ کردار پہ کوئی حرف۔۔۔زندگی میں حق بات پر ڈٹ جانے والے منور حسن کےحق میں آج دشمن بھی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ سچے کھرے اور دیانتدار انسان تھے ،اللہ تعالیٰ ان کی بہترین میزبانی فرمائے اور عائشہ باجی ،ان کے بچوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com