معصو میت مائنس ون - نصرت مبین

‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‌آ ج کل اسمبلیوں جینلز ہر طرف ا یک ہی شور ہے۔ما ئنس ون پہلے ‍ز ما نے میں ایک محا ورہ تھا ایک اور ایک گیا رہ ہو تے ہیں۔ اس ا صول کے تحت بہت سی تنظیمیں بنیں ۔ما ؤ زے تنگ ایک فر د وا حد تھا جس نے چین کی تا ر یخ بد لی ایک ہی شخص نے پار ٹی شرو ع کی وہ خود ہی صدر ، سیکٹری اس خود ہی کار کن تھااس کے نظریات سے لوگ متا ثر ہو تے گئے اور اس سے ملتے گئے اور آ گے بڑ ھتے گئے جین میں انقلا ب بر پا کر دیا۔

اب ما ئنس ون کا شور سن کر ذ ہن میں ایک معصوم سا سوال ذہن میں آ تا ہے کہ کیا لیڈر شپ کا فقدان ہے ۔ہم اس قحط کی کیفیت سے دو چار ہیں جس سے ہندو پا ک اس وقت دو چار تھا جب تک قا ئد اعظم منظر عام پر نہیں آ ئے تھے۔قا ئد اظم نے تمام مسلما نوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ایک تنظیم میں تو ما ئنس ون پر عمل ہو گیا۔ اس کا شیرازہ بکھر گیا اب تحر یک ا نصاف میں بھی یہی شور ہے ۔ایک اینکر پرسن نے کہاپیپلز پار ٹی میں 1- کا مطلب ہےآصف زرداری کے بغیرتحر یک انصاف ،عمران خان کے بغیرذہن میں معصوم سوال سر ا بھار تا ہے کہ سیا ست کو ایک ادارے کی طرح کیونہیں چلا یا جا ر ہا ہے کر کٹ تک کو تیکنیکی بنیا دوں پر چلا یا جا رہا ہےایسے تر بیتی ادارے بن جا ئیں جہاں لو گون کی تر بیت کی جا ئے جیسے جما عت اسلا می میں ہر سطح پر کی جا تی ہے ۔

احتسا ب ہو جیسا آج کل عمران خان اپنی جما عت میں آ ج کل کر رہے ہیں جلد از جلد وزیر تبد یل ہو جا تا ہے ۔انصا ف ہو اس انصاف کی راہ میں جو بھی ر کا وٹ ہو دور کی جا ئے جس طر ح پیپلز پا ر ٹی کا دعو ی ہے کہ انھوں نے جمہوریت کے لئے ا پنے لوگ قر باں کئے ۔پا ر ٹی میں انتخا با ت کرا ئے جا ئیں تا کہ جمہوریت پر وان چڑ ھے جیسا جما عت اسلا می کر وا تی ہے ۔ ما ہر نفسیات ہر پار ٹی میں مشا ورت کے لئیے مو جو د ہو ۔لیڈر پیدا ئشی ہوتا ہے یعنی اس میں صلا حیتیں پیدا ئشی ہو تی ہیں لیکن انھیں تر بییت سے نکھارا جا سکتا ہے ۔

اگر صرف مار کیٹنگ کے ‌زر یعے کسی کو اوپر لا ئیں گے تو پھر وہ اس کی چکا چو ند کے ما ند ہو نے کے بعد نہیں چل سکے گا ، کچھ دیر تو آ نکھیں تیز رو شنی میں چندھیا جا تی ہیں کچھ نظر نہیں آ تا لیکن جیسے ہی آ نکھیں تیز رو شنی کی عا دی ہو جا تی ہیں سب کچھ نظر آ نے لگتا ہے۔لہذا عوام کھرے کھو ٹے کی پہچان کر نے لگتی ہے ۔

لیڈر وہ جو عوام کے دلوں میں بستے ہیں رگوں میں خوں بن کر ان کی محبت دوڑ تی ہے۔ عوام ان کے سا تھ کھڑے ہو تے ہیں ، جہاں سا یہ بھی سا تھ چھوڑ دے وہاں مو جود ہو تے ہیں ۔ لیکن آج کل لیڈر کی بجا ئے با س رہے گئے ہین جو لو گوں کے دلوں پر را ج نہیں کر تے، ان کی رگوں مین حون بن کر نہیں دوڑ تے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com