پارلیمان کے بعد - جہاں تاب حسین

قرۂ عرض پے موجود ایک سو پچانوے ممالک میں سے سو سے زائد ممالک میں پارلیمانی طرزِ حکومت رائج ہے۔آخر یہ پارلیمانی نظامِ حکومت ہے کیا؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی خطّے کو مختلف اکایوں میں تقسیم کر کے اُن تقسیم شدہ علاقوں سے ایک نمائندہ پارلیمان میں قانون سازی کے لئےمنتخب کرلینا ۔ عموماً یہ تقسیم جگرافیائی ، لسانی، مذہبی، ثقافتی اور انتظامی بنیادوں پر ہوا کرتی ہے۔

اس نظام کے تحت ہونے والے انتخابات میں عوام الناس کو حقِ رائے دہی دیا جاتا ہے ، جس کی شرائط صرف عاقل اور بالغ ہونا ہے۔اگرچہ رائے دہندہ کی ذہنی کیفیت ،صحت، تعلیمی قابلیت اور دیگر معاشی و معاشرتی مجبوریاں بھی ایسے عوامل ہیں جو اظہارِ رائے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جن کے سبب ہمیشہ ایسے نمائندے ایوان کا حصہ بنتے ہیں جن کی پہلی ترجیح ذاتی مفاد ہوا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اتنے سالوں کی پارلیمانی جدو جہد کے باوجود پاکستان ترقی کی پٹھری پر تو کجا اُ س کے قریب ہوتا ہوا بھی نظر نہیں آتا۔

تاریخ شاہد ہے کہ وجودِ پاکستان کی اساس دو مختلف نظریات تھے ،ایک جانب وہ لوگ تھے جو ایسٹ انڈیا کمپنی یا سلطنتِ برطانیہ سے آزادی نہیں جاہتے تھے۔ یہ وہ طبقہ تھا جس نے برِ صغیر میں انگریزی راج کو دوام بخشا تھا اور برِ صغیر کے علاوہ بھی دنیا کے ہر محاض پر برطانوی راج کو مضبوط کرنے کے لئے اپنا خون پسینہ بہایا تھا ۔ جن کی تین پشتیں پچھلے تہتر سال سے پاکستان کے سیاہ و صفید کی مالک ہیں اور یقین جانئےاُنہی کے طفیل آج تک پاکستان نہ صرف دنیا کے نقشے پر قائم ہے بلکہ ایک بڑی عسکری و جوہری قوّت کا حامل ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو کب کا بنگالیوں جیسا حشر ہو چکا ہوتا ہمارا۔اسی طبقے کے دم سے یہ سارا برطانوی نظام قائم ہے، آج بھی اٹھارویں صدی کے جاری کردہ قوانین رائج ہیں۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی ایک اور کمپنی مین زم ہو گئی جسے کامن ویلتھ کہا جاتا ہے اور اس کا عسکری حصہ نیٹو کہلاتا ہے۔یہ وہی لوگ ہیں جو انگریزوں کی بنائی ہوئی سرحدوں کی آج تک حفاظت کر رہے ہیں ۔ پاکستان کا مروجہ پارلیمانی نظام بھی اسی گورک دھندے کا ایک سیراب ہے جو عوام الناس کو غیر موجود آزادی کا احساس دلاتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں اُس دوسرے نظرئے کی جس نے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ یہ کوئی نیا نظریہ نہ تھا ،ہاں مگر دنیا اسے سیکڑوں سال سے نظر انداز کئے ہوئے تھی۔انیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں سلطنتِ عثمانیہ کے انہدام اور حجازِ مقدّس میں بادشاہت کے قیام کے دوران برِ صغیر کے مسلمانوں نے ایک عوامی سیاسی تحریک کو جنم دیا جسے تحریکِ خلافت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ برِ صغیر کی ایک ایسی تحریک تھی جس میں مذہبی اختلاف نہ تھااور گاندھی جی نے بکلم خود اس میں حصہ لیا تھا اور اس تحریک کے بارے میں ایم کے گاندھی کا کہنا تھا کہ خلافت موومنٹ یقیناً ہندوستان کی پہلی سیاسی تحریک ہے جس میں ہر ہندوستانی کو شریک ہونا چاہئے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ شمولیت بھی شاید کسی سازش کے تحت تھی کیونکہ جب حقیقی نتائج حاصل کرنے کا وقت آیا تو تحریک کو خیر باد کہہ دیا لیکن قبل ازیں برِ صغیر کے ہندو عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی جو ہندوستانی عوام کے اتحاد کے تابوت کی آخری کیل صابت ہوئی۔اس طرح تحریک خلافت کے حامی ہندو عوام کانگریس میں شامل ہو گئے اور مسلم عوام کی آخری جائے پناہ مسلم لیگ ٹھہری۔

وہ راہنما اور عوام جو خلافت کا اجرا چاہتے تھے وہ اس اُمید پر مسلم لیگ کا حصہ بن گئے کہ شاید نئی اسلامی ریاست میں احیائے خلافت کا خواب پورا ہو سکے گا لیکن اِنہیں کیا معلوم تھا کہ نئی ریاست کا قیام اُن لوگوں کے لئے کیا جا رہا ہے جو برطانوی راج سے آزادی چاہتے ہی نہ تھے۔ جن میں سرِ فہرست سر شیخ محمد اقبال لاہوری کا نام آتا ہے جو بھارت کے مقابلے میں کمزور اسلامی ریاست کے بجائے مظبوط برطانوی کالونی کے خواہاں تھے۔اُن حالات میں یہ نظریہ درست بھی تھا اور قابلِ عمل بھی ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پہلے سربراہ برطانوی گورنر بھی تھے اور فوج کے جرنل بھی ،یہ اور بات ہے کہ اُن کے ماتحت فوجی افسران نے کبھی حکم عدولی کے سوا کچھ نہیں کیاورنہ کشمیر کا مسئلہ کبھی کھڑا ہی نہ ہوتا ۔

اور پاکستان کا رقبہ آج کہیں زیادہ ہوتا۔بہر کیف لکیر پیٹنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والابلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نظریہ پاکستان کی اصل بنیاد یعنی تحریکِ خلافت کودوبارہ زندہ کیا جائے۔ گویا اس وقت نظامِ خلافت کو چاہئے ایک حیاتِ نو ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com