جولائی کی وہ رات- مجیب الرحمان شامی

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک طرف وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اپنے ساتھیوں عبدالحفیظ پیرزادہ اور مولانا کوثر نیازی کے ساتھ میز پر تشریف فرما تھے، تو دوسری طرف مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصراللہ خان اور پروفیسر عبدالغفور براجمان تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ میز چوکور تھی، یا گول، خیال یہی ہے کہ گول ہو گی۔ جب ہم پلّہ جماعتوں یا گروپوں کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو اس کے لیے گول میز کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ برصغیر کی سیاسی روایت یہی ہے۔ گول میز کا کمال یہ ہے کہ اس کے ذریعے بڑے چھوٹے یا اونچے نیچے کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ سب شرکا کا مرکزی نقطے سے ایک سا فاصلہ ہوتا ہے، اور سب میں برابری کا احساس موجود رہتا ہے۔ بات ذرا دور چلی گئی عرض یہ کرنا تھا کہ وزیر اعظم بھٹو اور ان کے حریف مذاکرات کی میز بچھا چکے تھے۔ وزیراعظم کی اپنی پارٹی پر گرفت بھرپور تھی، وہ جب کوئی بات کرتے تو پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ کرتے، انہیں کوئی خدشہ لاحق نہیں ہوتا تھا کہ ان کے رفقا ان سے اختلاف کریں گے یا ان کی بات رد کر دیں گے، جبکہ ان کے حریفوں کا معاملہ الٹ تھا۔

تینوں شرکا علی الترتیب اپنے اتحادی بندوبست کے صدر، نائب صدر اور سیکرٹری جنرل تھے، لیکن ایک نو رکنی کونسل کے سامنے جوابدہ۔ مذاکرات میں جو بھی پیش رفت ہوتی (یا نہ ہوتی) وہ جا کر اپنے باقی ماندہ چھ ارکان (یا ستاروں) کو رپورٹ کرتے۔ ان میں ایئر مارشل اصغر خان، شاہ احمد نورانی اور میر بلخ شیر مزاری جیسے دیو شامل تھے۔ ایک ایک نکتے بلکہ شوشے پر انہیں مطمئن کرنا پڑتا، نتیجتاً یہ ہماری سیاسی تاریخ کے مشکل ترین مذاکرات بن گئے تھے، جن میں مذاکراتی نمائندوں کے پاس ''مختار نامہ عام‘‘ نہیں تھا۔
مذاکرات کے بعد پروفیسر عبدالغفور اور مولانا کوثر نیازی میڈیا کو بریف کرتے، اور سوالات کا سامنا بھی کرتے، یوں (بعض اوقات) ایسے گوشے سامنے آ جاتے جن کو چھپا کر رکھنا مقصود ہوتا تھا۔ مَیں نے اپنے جواں سال بھتیجے عامر ضیا شامی کے ساتھ لاہور سے راولپنڈی کا رُخ کیا۔ (چند سال پہلے جو اللہ کو پیارے ہو چکے) ہمارے پاس سرخ رنگ کی ایک لشکیلی مزدا کار تھی، جسے عامر چلاتے تھے۔ یہ کار اپنے مرحوم دوست میجر (ر) سعید ٹوانہ سے خریدی گئی تھی، جو 1965ء کی جنگ کا ایک روشن کردار تھے، ستارہ جرأت انہیں عطا ہوا تھا۔ ہمارے ہفت روزہ میں کالم بھی لکھتے تھے۔ ان کا جوش و جذبہ ایک ایک لفظ سے ٹپکا پڑتا تھا۔ وہ اپوزیشن کو آگے بڑھانے کے جنگی حربوں پر غور کرتے رہتے تھے۔

انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ ہوا تو نیلا گنبد لاہور سے نکلنے والے پہلے جلوس کی قیادت ایئر مارشل اصغر خان کو کرنا تھی کہ اس وقت وہی مرجعٔ خلائق تھے۔ میجر ٹوانہ میرے پاس آئے، اور اس بات پر زور دیا کہ ایئر مارشل کو گلے میں قرآن کریم ڈال کر میدان میں آنا چاہئے کہ یہ تحریک اسلام کا کلمہ بلند کرنے کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔ مَیں اپنے دفتر (پرانی انار کلی) سے ان کے ساتھ اٹھا اور فین روڈ پر میاں محمود علی قصوری مرحوم کی رہائش گاہ کا رُخ کیا، جہاں ایئر مارشل ٹھہرے ہوئے تھے۔ چند لمحوں بعد ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر تھے۔ میجر ٹوانہ کی پیش کردہ تجویز پر گفتگو ہوئی اور ایئر مارشل اس کے قائل ہو گئے۔ اگلے روز وہ نیلا گنبد جلوس کی قیادت کے لیے پہنچے تو قرآن کریم کا نسخہ زیب گلو تھا۔ اس ایک بات سے کارکنوں کے اندر لڑنے مرنے کا جو جذبہ ابھرا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ بات یہ ہو رہی تھی کہ عزیزم عامر شامی کے ہمراہ راولپنڈی پہنچے، اور چودھری ظہور الٰہی مرحوم کی رہائش گاہ پر ڈیرہ جما لیا۔ اس زمانے میں جب بھی راولپنڈی جانا ہوتا تھا، چودھری صاحب کی میزبانی خیرمقدم کے لیے موجود ہوتی تھی۔ چودھری صاحب کی رہائش گاہ کے بالائی حصے میں ایک بیڈ روم کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد اِدھر اُدھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ پاکستان قومی اتحاد کے قانونی ماہرین کی ٹیم یہیں ٹھہری ہوئی ہے۔

جناب خالد ایم اسحاق اور عامر رضا خان دونوں سے ملاقات ہوئی۔ عامر رضا ان دِنوں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سربراہ تھے، اور چند ہی روز پہلے کوٹ لکھپت جیل لاہور سے رہا ہوئے تھے۔ مجھے وہاں ان کی ہمسائیگی کا شرف بھی حاصل رہا تھا۔
نوابزادہ نصراللہ خان اسلام آباد میں تھے، ان سے اور قومی اتحاد کے دوسرے رہنمائوں سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ ہر روز کہیں نہ کہیں عشائیہ ہوتا، اور تبادلۂ خیال کا مرغن سلسلہ جاری رہتا۔ بہت جلد واضح ہو گیا کہ پاکستان قومی اتحاد دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو مذاکرات کے ذریعے نئے انتخابات تک پہنچنا چاہتے تھے، اور دوسری طرف بھٹو صاحب کی (بطور وزیر اعظم) موجودگی میں انتخابی مشق کو لا حاصل سمجھنے والے مورچہ زن تھے۔ ایک دن نوابزادہ صاحب نے مجھے اور زیڈ اے سلہری صاحب (اب مرحوم) کو یاد کیا، اور ایئر مارشل کی ''مزاحمت‘‘ کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے ہمیں مجبور کیا کہ جا کر ان سے بات کریں تاکہ دستور سے بالاتر کسی اقدام کا راستہ روکا جائے۔ زیڈ اے سلہری صاحب کے ساتھ ایئر مارشل کے قریبی تعلقات تھے اور مجھے بھی ان کی نیاز مندی کا شرف حاصل تھا۔ مذاکرات کے آغاز سے پہلے جب ایئر مارشل اور دوسرے نظر بند رہنمائوں کی رہائی عمل میں آئی، تو کوٹ لکھپت جیل میں ان کے ساتھ ہم نشینی کا شرف مجھے حاصل تھا، جیل میں ان کا ''روم میٹ‘‘ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ تعلق میں مزید گہرائی پیدا ہو گئی تھی۔ ہم ایئر مارشل کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور ان کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا، ایئر مارشل بھٹو صاحب کی موجودگی میں منصفانہ انتخابات کا کوئی تصور قبول کرنے پر تیار نہیں تھے۔

بات کسی نہ کسی طور سنبھالی گئی، ڈیڈ لاک ختم ہوا، گاڑی پھر رینگنے لگی۔ دو، تین روز گزرے ہوں گے کہ مَیں نے لاہور واپسی کا ارادہ کر لیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان کو بھی اطلاع کر دی کہ ایک چکر لگا کر آتا ہوں۔ اس دن شاید جولائی کی چار تاریخ تھی۔ چودھری ظہور الٰہی مرحوم کی رہائش گاہ ہی پر محوِ آرام تھا، اور اگلی صبح واپس لاہور روانہ ہونے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا کہ رات گئے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ سردار عبدالقیوم خان کی رہائش گاہ (کاکا جی ہائوس) پر پاکستان قومی اتحاد کے رہنمائوں کا اجلاس ختم ہو چکا تھا۔ نوابزادہ صاحب فون پر تھے، ان کے الفاظ کچھ اس طرح کے تھے، آپ کے دوست پھر ناراض ہو گئے ہیں، آپ کل واپس نہ جائیں۔ ہاں میں جواب دیے بغیر چارہ نہ تھا۔ صبح اٹھے تو فون بے جان تھا، معلوم ہوا کہ فوج نے حکومت سنبھال لی ہے۔ کچھ ہی دیر میں برادرم سعود ساحر بھی تشریف لے آئے، سب لوگ تفصیل معلوم کرنے کے لیے بے چین تھے، لیکن کسی کو کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ٹیک اوور کو لیڈ کون کر رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے علی الرغم کسی گروپ نے بغاوت نہ کر دی ہو، یا جنرل ضیاء الحق کو ایک طرف کر کے کسی اور جنرل نے اقتدار نہ سنبھال لیاہو کہ جنرل موصوف وزیر اعظم بھٹو کے جانثار اور وفادار تصور ہوتے تھے۔ اس گومگو کے عالم میں سعود ساحر صاحب نے نعرہ مارا کہ اُٹھیے، آئی ایس پی آر چلتے ہیں۔ فوراً گاڑی میں بیٹھے، اور پندرہ، بیس منٹ بعد ہم کرنل صدیق سالک کے سامنے تھے۔ ان دِنوں آئی ایس پی آر کے دفاتر بیرکوں میں تھے، اور آج کی شان و شکوہ عنقا تھی۔ صدیق سالک اپنے دفتر میں بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ پوچھا: کیا لکھ رہے ہیں؟ جواب ملا! تقریر۔ کس کی؟... چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی... وہ کون ہے؟... مولوی ضیاء الحق... (وہ جنرل صاحب کو مولوی صاحب کہہ کر پکارتے تھے) ہم سب حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com