ناصر زیدی امجد اسلام امجد

یُوں تو ہم عصری کا اطلاق ہمارے اردگردکے بے شمار لوگوں پر ہوتا ہے مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا لڑکپن اور فنی کیرئیر کم و بیش ساتھ ساتھ گزرتا ہے اور یوں آپ انھیں اپنی آنکھوں کے سامنے اور اپنے ساتھ ساتھ بڑھتا اور سنورتا دیکھتے ہیں۔
ناصر زیدی کا شمار بھی ایسے ہی دوستوں اور ہم عصروں میں ہوتا تھا۔ اسکول کے زمانے میں وہ عطاء ا لحق قاسمی کا ہم جماعت تھا اور دونوں کے دوستانہ تعلقات میں اس زمانہ کا لڑکپن بڑھاپے تک قائم رہا، عطا اُسے پُھسپھسا اور وہ ا ُسے مولوی زادہ کہہ کر بلاتا تھا ۔ دونوں ہی بندہ ضایع ہوجائے پر جملہ ضایع نہ ہوکے قائل تھے سو اُن کی موجودگی میں کسی محفل کا سنجیدہ یا بے رنگ رہنا ممکن ہی نہیں تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اسّی کی دہائی میں ایم اے او کالج کے شعبہ اُردو میں ناصر اپنے مخصوص بیگ اور دراز زلفوں کے ساتھ مسکراتا ہوا میرے اور عطا کے مشترکہ کمرے میں داخل ہو ا اور ایک کتاب میز پر رکھتے ہوئے بولا،’’اوئے مولوی زادے دیکھ میری کتاب کا دوسرا ایڈیشن آگیا ہے ‘‘

عطا نے پلکیں جھپکائے بغیر کہا۔’’پہلا کدھر گیا ہے؟‘‘
اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس جملے کا سب سے زیادہ مزا خود ناصر زیدی نے لیا اور اسی حوالے سے بھارتی مزاح نگار مجتبیٰ حسین کا وہ مشہور جملہ بھی دہرایا کہ ’’جو صاحب اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن کی ایک کاپی خریدیں گے انھیں پہلے ایڈیشن کی دو کاپیاں مفت پیش کی جائیں گی‘‘۔
اندرون ملک مشاعروں اور ادبی تقریبات کے حوالے سے ہم نے بے شمار سفر ایک ساتھ کیے ہیں ۔ اس کی نہ صرف آواز اچھی تھی بلکہ ریڈیو کی ٹریننگ نے اُسے اور نکھار دیا تھا اس پر اُس کی یادداشت اور ذوقِ مطالعہ نے مل کر اُسے ریڈیو، ٹی وی اور دیگر مشاعروں کا مستقل میزبان بنا دیا تھا ۔

جزوی نوعیت کی ملازمتوں سے قطع نظر وہ سار ی عمر تقریباً فری لانسر رہا اور غالباً سب سے زیادہ عرصہ اُس نے ماہنامہ ’’ادبِ لطیف‘‘ کی ادارت میں گزارا ۔ اتفاق سے وفات کے وقت بھی ایک بار پھر وہ اُسی رسالے سے منسلک تھا۔ صدیقہ جاوید کی وفات کے باعث رسالے کے مالی معاملات اُس کی ذاتی صحت اور گھریلو مسائل کی دیرینہ پیچیدگیوں نے اُس کی صحت پر بہت بُرا اثر ڈالا تھا جس کا اثر اس کی نقل و حرکت اور طبیعت کی شگفتگی پر بھی پڑا تھا کہ گزشتہ چند ملاقاتوں میں وہ پہلے جیسا ناصر زیدی نہیں رہا تھا ۔ جہاں تک کلاسیکی شاعری اور اشعار کی اصل شکل اور صحت کا تعلق ہے اُس کا مطالعہ بہت اچھا تھا اور اس سلسلے میں وہ اکثر اپنے ’’مستند‘‘ ہونے کا اظہار بھی کرتا تھا اور یہ اُسے سجتا بھی تھا کہ فی زمانہ ’’تحقیق‘‘ کی طرف لوگوں کا رجحان کم سے کم ہوتا جا رہا ہے ۔

1990ء میں ہم دونوں نے پُونا بھارت میں ہونے والے گن پتی فیسٹیول کے مشاعرے میں ایک ساتھ شرکت کی اور کچھ دن اکٹھے گزارے یہ وہی دورہ ہے جس میں میزبان کے گھر ایک ظہرانے میں ہیما مالنی سمیت کچھ مشہور بھارتی فلم انڈسٹری کی خواتین شامل تھیں کسی شریف میزبان کی گھریلو خواتین کے احترام کے حوالے سے اور کچھ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے کچھ دیر باتیں کرنے کے باوجود ، ہم دونوں نے ہیما مالنی کو خاصی دیر تک نہیں پہچانا، جس کا اس نے بہت لطف لیا اور ہمیں خاص طور اُس رات کو ہونے والی اپنی ڈانس پرفارمنس میں مدعو بھی کیا جب کہ ہماری اس دانستہ بے نیازی کو کیفی اعظمی، ، مجروح سلطانپوری ، علی سردار جعفری اور جگن ناتھ آزاد بہت مزے لے لے کر دیکھ رہے تھے۔ ممبئی واپسی پر گلزار کے ساتھ ایک محفل میں اس صورتِ حال پر بہت دلچسپ گفتگو رہی کہ مشہور آدمی چونکہ فوری پہچانے جانے کے بہت عادی ہوتے ہیں اس لیے اس نوع کی بے خبری اُن کے لیے کسی انوکھے تجربے سے کم نہیں ہوتی۔

ضیاء الحق کے زمانے میں وہ کچھ عرصہ سرکاری تقریریں لکھنے کے شعبے سے بھی منسلک رہا جس پر بعد میں اُسے تنقید کا بھی سامنا رہا خصوصاً اسلام آباد ہوٹل میں روزانہ شام کو احمد فراز کی محفل میں اس حوالے سے ایسی جملہ بازی ہوتی تھی کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ جہاں تک اُس کا شاعری کا تعلق ہے وہ اپنی اٹھان کے زمانے کے ہم عصروں سرمد سہبائی ، عدیم ہاشمی، اقبال ساجد، ثروت حسین، جمال احسانی ، غلام محمد ناصر، خالد احمد، نجیب احمد، عبید اللہ علیم، نصیر ترابی اور دیگر کئی نئی غزل کے علمبرداروں کے مقابلے میں اُسی روائت سے جڑا رہا جو کلاسیکی اساتذہ اور اُن کے رنگ میں رنگی ہوئی نسل کے شعرا میں زیادہ مقبول تھی اس کی ایک غزل اور ایک سلام کے چند اشعار دیکھئے۔

جذبات سرد ہوگئے طوفان تھم گئے

اے دورِ ہجر اب کے ترے ساتھ ہم گئے

کچھ اس ادا سے اُس نے بُلایا تھا بزم میں

جانا نہ چاہتے تھے مگر پھر بھی ہم گئے

مہلت نہ دی اجل نے فراعینِ دِقت کو

قسطوں میں جی رہے تھے مگر ایک دم گئے

وہ ساتھ تھا تو سارا زمانہ تھا زیرِ پا

وہ کیا گیا کہ اپنے بھی جاہ و حشم گئے

ہر چند ایک ہُو کا سمندر تھا درمیاں

مقتل میں پھر بھی جانِ جہاں صرف ہم گئے

ناصرؔ نہیں ہے مجھ کو شکستِ انا کا غم

خوش ہُوں کسی کی آنکھ کے آنسو تو تھم گئے

مرثیے اور سلام پر اُس نے کام بھی بہت کیا ہے اور لکھا بھی بہت ہے ایک سلام کے چند شعر دیکھئے

ذکر جو روز و شب حسینؔ کا ہے

معجزہ یہ عجب حسینؔؓ کا ہے

دل میں جو بُغض پنج تن رکھّے

وہ کہے بھی تو کب حسینؓ کا ہے

سرِ نیزہ بلند ہے جو سر

با ادب ، باادب حسینؓ کا ہے

قلب و جاں پر فقط نہیں موقوف

میرا جو کچھ ہے سب حسینؓ کا ہے

اسی دوران میں نقاد اور افسانہ نگار رشید مصباح اور شاعر افراسیاب کامل بھی اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے ہیں، رب کریم ان سب کی روحوں پر اپنا کرم فرمائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */