سفـــر( قسط 2) - عظمیٰ ظفر

گلابی جوڑے اور گلابی دوپٹے میں ملبوس قندیل چھت کی سیڑھیاں چڑھنے لگی،"کہاں جا رہی ہو قندیل؟" تمکنت بیگم نے چائے کی پیالی اپنی خالہ ساس گل بہار بانو کے سامنے رکھتے ہوئے کرخت لہجے میں ایسے پوچھا کہ اندر کمرے میں لیٹے زبیر صاحب نے پہلو بدل لیا۔"جج،، جی امی وہ چچی جان کے گھر جارہی ہوں۔ فاطی سے ملنے،، اس نے کالج کی سب دوستوں کو بلایا ہے شام کی چائے پر۔"قندیل نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔

بچوں کو جلدی جلدی ٹیوشن پڑھا کر چلتا کیا تھاکہ کہیں امی نا روک دیں، دل میں آل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو کا ودر کرتی وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔" اب تم بڑی ہوگئی ہو، چھت سے پھلانگنا چھوڑ دو۔ دروازے سے جاؤ،،، بلکہ ایسا کرو شکر پارے لے جاؤ، جو ڈبے میں رکھے ہیں۔ خالی ہاتھ کیا جاؤ گی دوستوں کے سامنے۔"تمکنت بیگم کی تفتیش اور مہربانی پل پل بدلتا مزاج قندیل کے آج تک سمجھ نہیں آیا تھا۔خوشی سے جی،،، اچھا امی کہہ کر پلٹ آئی، پلیٹ بھر کر شکر پارے نکالے اور دوسری پلیٹ سے ڈھک کر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔دادی اور تمکنت بیگم نے بیک وقت اس کے چہرے کی خوشی دیکھ کر حفاظت کی دعا پڑھی جب تک وہ پڑوس میں جاچکی تھی۔دادی چائے کی پیالی لبوں پر لگائے کچھ دیر سوچتی رہیں،تمکنت کے ہاتھوں میں چائے کے بجائے ادھوری شال تھی جو وہ قندیل کے لیے بُن رہی تھیں۔ جانے کن سوچوں میں تھیں کہ اون کا گولہ گود سے پھسل کر دور جا گرا اور وہ چونک گئیں۔

"قندیل پر اتنی سختی مت کیا کرو تمکنت، بیٹی ذات ہے ہنسے بولنے دیا کرو۔ جانے کیسا سسرال ملے۔"دادی کے دل میں محبت کا دریا بہنے لگا۔"اسی لیے تو ڈرتی ہوں کہیں میرے جیسے نصیب نا ہوں اس کے۔"اون کا گولا ان کی پہنچ سے دور تھا جھک کر اٹھانے میں کافی مشکل ہوئی انھیں۔" اماں آپ یہ دو گھیر مکمل کردیں سلائی کے میں جب تک زبیر کو چائے دے دوں اب تک تو اٹھ چکے ہوں گے۔"انہوں نے سلائی پلنگ پر ہی چھوڑی اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔

قندیل نے دروازہ بجایا تو چچی جان نے دروازہ کھولا "السلام علیکم چچی جان، یہ امی نے بھیجا ہے۔"اس نے پلیٹ انھیں پکڑائی اور خود بڑے کمرے میں گھس گئی۔ ہنسی ٹھٹھول کی آوازیں وہیں سے آرہی تھیں۔اللہ،، قندیل کتنی پیاری لگ رہی ہو۔"یہ فاطمہ تھی جو سب سے پہلے اٹھ کر اسے گلے سے لگائے گھومنے لگی۔" توبہ ہے فاطی،، چھوڑو تو تم بھی نا پاگل ہو۔"قندیل نے اس کے بازو ہٹائے اور مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے زہرا کے پاس بیٹھ گئی۔"کس خوشی میں ہے یہ دعوت اب پھوٹو بھی منہ سے۔"فوزیہ نے بھی بے قراری دکھائی۔"آنا فانا بلالیا ہمیں مجھے آج ناول ختم کرنا تھا۔"فوزیہ نے چشمہ ناک پر ٹکاتے ہوئے کہا۔" تم نانی کے گھر رہنے گئی تھیں؟ ایک ہفتے کا کہہ کر اور آئی مہینہ لگا کر،،، خیر تو ہے؟ بہت دل لگ گیا، ایک فون تو کردیتیں۔"

قندیل نے چوڑی دار پجامے میں مقید پیروں کو نازک چپل سے آزاد کیا اور سلیقے سے پلنگ پر بیٹھ گئی۔"بھئی اسی لیے تو تم سب کو بلایا ہے، ایک زبردست سی خبر دینی ہے۔ "فاطمہ نے کین والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا،" جلدی بتادو فاطی، کچن سے جو گرما گرم سموسے کی خوشبو آرہی ہے نا وہ برداشت نہیں ہورہی۔"فوزیہ نے پھر بے صبری دکھائی۔"بھئی،،، بے صبروں اور ندیدیوں!!! مابدولت کا رشتہ طے پا گیا ہے، ماموں کے بیٹے سے۔"جلدی سے یہ کہہ کر فاطمہ نے دوپٹے میں منہ چھپا لیا۔"کیا،،،،؟؟"

فوزیہ اور قندیل نے بیک وقت کہا۔" بہت مبارک ہو،،، تم اب بتا رہی ہو؟؟ "فوزیہ نےاسے گھورا۔"میں چچی جان کو مبارک باد کہہ دوں۔"قندیل نے خوشی سے کچن کا رخ کیا۔انھی خوشی اور مبارک بادی میں چائے ناشتے کا سلسلہ ہوا باتوں اور خوش گپیوں میں تیزی سے وقت گزر گیا۔"بس پھر یہ طے ہوا کہ ہم چٹا پٹی کا بنارسی غرارہ بنائیں گے۔" فوزیہ نے کہا۔"ٹھیک ہے فوزی!! مگر سینا بھی تم خود کیونکہ مجھے اپنی ساڑی پر کڑھائی مکمل کرنی ہے۔" قندیل یہ کہہ کر اٹھنے لگی مغرب ہوجائے گی میں گھر چلتی ہوں اب۔چھت کی سیڑھیوں پر جاتے جاتے وہ دروازے کی طرف مڑ گئی۔ ایک گھر سے دوسرے گھر جانے میں وقت ہی کتنا لگا۔مگر کسی کی نظروں میں یہ گلابی وقت جیسے ٹھہر گیا ہو۔" بی بی جی صاحب کا ٹیلی فون آیا تھا دکان سے، وہ کہہ رہے تھے کہ وہ رات کا کھانا کھا کر آئیں گے آپ کو بتادوں۔" کریمن بوا نے ثروت بیگم کو اطلاع دی جو برآمدے میں کرسی پر بیٹھی باغییچے میں لگے مالٹے کے پودے کو بڑی محویت سے دیکھ رہی تھیں۔

"ہوں،، ہاں،، اچھا ٹھیک ہے۔"مگر اگلے پل ان کا مزاج بدل چکا تھا، غصے کا ابال باہر آنے لگا۔" تم یہ پنجرے کا پانی بدل دو اور کل مالی سے کہنا ان پنیریوں کو پیچھے والی زمین میں لگا دے نا کھاد ڈلی ہے نا ہی دوا۔"تیز آواز میں بولتے بولتے وہ چیخنے لگیں۔"کہاں مر جاتے ہیں سب کے سب،، پیسے لینے کے وقت پر حاظر اور کام کرتے ہوئے موت آتی ہے۔" چیختے چیختے ان کا سانس تیز بھاگ رہا تھا۔کریمن بوا خاموشی سے وہاں سے چلی گئیں کیونکہ خاموشی ہی بہتر تھی کئی دن بعد ثروت بیگم کاجمود ٹوٹا تھا انھیں پتہ تھا اب سب پر غصہ نکلے گا۔

اکیلے ہوتے جاؤ گے،،

کسی سے اونچا بولو گے،،

کسی کو نیچا سمجھو گے!!

" تم کیا سمجھتے ہو محسن کلیم، میرے باپ کے کاروبار کو مزید چمکا کر مجھے نیچا دکھاؤ گے؟؟ ہر روز گھر دیر سے آکر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟"سنگ مرمر سے تراشی چھوٹی سی گڑیا کو انہوں نے میز سے اٹھا کر اتنی دور پھینکا کہ وہ کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ پھر انہوں نے ان ٹکڑوں کو غور سے دیکھا ہر ٹکڑے میں انھیں ایک ہی شکل نظر آرہی تھی روتی سسکتی تمکنت کی۔
برآمدے اور پودوں پر پانی کا چھڑکاؤ کرکے قندیل نے کونے والے کمرے کی کھڑکیاں کھول دیں۔ستون سے لپٹی موتیا کی بیل نکھر گئی تھی۔ جتنی گرمی آج دوپہر تک تھی، قندیل کو پتہ تھا آج بیلے کی مہک اور بھی تیز ہوگی۔ ٹیوشن والے بچوں کے آنے سے پہلے اس نے کمرہ از سر نو صاف کیا حالانکہ ایسی کوئی بے ترتیبی تھی نہیں مگر امی کا کیا پتہ وہ کب معائنہ کرنے آجاتیں۔
فی الحال وہ اور دادی چچی جان کے گھر گئی تھیں مبارک دینے۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں بچے ویسے بھی پڑھائی سے زیادہ کھیل کے پیچھے بھاگتے ہیں۔قندیل کا ٹیوشن کام کروانے کے بعد لوڈو اور کیرم بورڈ کا میدان بن جاتا اور آج تو بچے خوب شور مچا رہے تھے کیونکہ گھر کے بڑے گھر پر نہیں تھے۔ قندیل، احسن اور سحرش کی ایک پارٹی تھی جبکہ زوہیب، اشعر ایک طرف ننھے بچوں کے ساتھ کھیلنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔"بچوں شور کم کرو، امی آنے والی ہوں گی، ڈانٹ پڑے گی نا تب پتہ چلے گا۔"قندیل نے گوٹ سمیٹتے ہوئے کہا۔اس کی بات سن کر اشعر منہ چھپا کر ہنسنے لگا۔"کیوں بھئی خرگوش تم کیوں ہنس رہے ہو؟"
قندیل نے پوچھا جبکہ زوہیب نے نظر بچا کر کیرم بورڈ پر تھوڑا سا ٹیلکم پاوڈر چھڑکا جو وہ اپنے بیگ میں چھپا کر لایا تھا۔" کل جب آپ فاطی آپی کے گھر سے آرہی تھیں نا تو ہم چھت پر پتنگ اڑا رہے تھے۔ مکرم بھائی کہنے لگے اپنی قندیل آپی سے کہنا اتنا جگمگا رہی ہیں، بجلی کا بل زیادہ آئے گا نا تب پتہ چلے گا۔"

اشعر نے سجی گوٹیوں پر ٹریگر ایسے نشانے سے مارا کہ ساری گوٹیاں ادھر ادھر بکھر گئیں۔" مکرم نے مجھے کب دیکھا؟ وہ واپس کب آیا؟ "قندیل سوچتے ہوئی حیران سی ہورہی تھی اور کچھ قندیلیں اس کے اردد گرد واقعی روشن سی ہو رہی تھیں۔ جاری ہے ...........

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com