A message from Soupore to Pakistan - بریرہ صدیقی

سنا ہے دودن سے میری تصویریں دیکھ دیکھ، میرے پڑوس میں سب بڑی تکلیف میں ہیں۔ تو میں نے سوچا آپ کو تسلی دےدوں۔

یہ میری تازہ ترین تصویر ہے۔ کہیں سے آپ کو خوف و دہشت محسوس ہوتو بتائیں؟؟ سنا ہے آپ کے ہاں لاک ڈاؤن ہوا تو آپ نے کہا یہ بالکل کشمیر جیسا لاک ڈاون ہے؟ لیکن لغت کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ، ہمارے ہاں لاک ڈاؤن کا مطلب ہے تین دن کی مسلسل فاقہ کشی کے بعد کوئی گھر سے دودھ دہی لینے نکلے گا تو وہ واپس کبھی نہ آئے گا۔ کئی بڑے بھائی ایسے ہیں جنھیں گاڑیوں میں بھر کر کہیں دور لے جایاگیا ہے، وہ آج تک لوٹ کر نہیں آئے۔

سنا ہے آپ نے لاک ڈاون میں ارطغل سیریز کوخوب انجوائے کیا؟ میرے بہن بھائیوں نے گتے سے تلواریں بناکر جنگ کا سماں باندھا اور اب آپ خود کوایک جنگجو قوم محسوس کرنے لگے ہیں؟ اور پھر آپ کے کچن کے بجٹ ،لاک ڈاؤن میں متاثر ہوکر تین گنا بڑھ گئے کہ گھر پہ انجوائے کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ اس لیے کھانے کے اوقات تین سے بڑھ کے چھے اور سات ہوگئے تھے۔

آپ میرے لیے فکرمند ہیں اور مجھے آپ کی فکرمندی پہ ہنسی آتی ہے۔ بھئی ہمارے ہاں تو یہ ایک معمول کی بات ہے۔ ہم دشمن کی گود میں پل کر بڑے ہونے والی قوم ہے۔ آپ نے سوچا توہوگا ، دادا ابو کے ساتھ ہی مجھے بھی انھوں نے کیوں نہ بھیج دیا۔ حالانکہ یہاں زندگی کا مفہوم یہی ہے۔ ماؤں کے سامنے بچوں کو شہید کرنا، اور بچوں کے سامنے ماؤں کی پکڑدھکڑ۔۔ اور پھر بچوں کے لیے تو وہ گولی بھی ضائع نہیں کرتے۔ بھاری بھرکم بوٹ ہی کافی رہتے ہیں۔ اوریہ بھی کہ شاید میں خود سےدادا ابو کے اوپر نہیں جا بیٹھا، مجھے تو ایک فوجی نے شرارت کے طور پہ تصویر بنانے کے لیے خود بٹھایا تھا۔

ہاں مجھے یاد آیا، کبھی کبھار شایدآپ کے ہاں بھی یونہی ، فیڈر پیتے بچوں کے سامنے ان کے امی ابو ، آپی کو گولی ماردی جاتی ہے۔ بس ایسے ہی غلطی سے۔ بغیر کسی بری نیت کے۔۔۔ اور ان بچوں کی شادی میں شرکت والے کپڑے اماں ابا کے خون سے لال لال ہوجاتے ہیں۔ تبھی تو چپکے سے ایسی ذرا سی غلطی کرنے والوں کوچھوڑ بھی دیتے ہیں۔ دل چاہتا ہے ان بہن بھائیوں سے پوچھوں، یوں اپنوں کی گولی کا زخم کتنا گہرا ہوتا ہے۔۔۔ لیکن سوچتا ہوں ، کیسے پوچھنے آؤں۔ میرے پڑوس میں اورہم میں لمبی مسافتیں ہوں گی۔ سمندر اور دریا اور پہاڑ ہوں گے، تبھی کوئی ہمارا حال دیکھنے نہیں آتا۔ پھرہمارے پاس تو مقابلے کو اینٹ اور پتھر ہیں۔عین ممکن ہے وہاں یہ بھی نہ ہوں گے۔ مجھے آپ کی فکر اس لیے بھی ہے کہ کیا ہوگا اگر۔۔۔ دشمن سامنے گن لیے کھڑا ہو، آپ کے داداابو کو گولیوں سے چھلنی کردے اور آپ دادا ابو کے خون میں نہلا دیے جائیں۔ اصلی خون کا رنگ اور اصلی گن کی آواز ہرگز ٹی وی پہ سنائی دینے والی تلواروں کی موسیقی جیسی نہیں ہوتی۔ ان مناظر کو "ارطغل " کی طرح بار بار فارورڈ کیاجاسکتا ہے نہ ریورس۔بس یہ منظر آنکھوں میں ٹھہر جاتاہے۔

میں نے یہ بھی سنا ہے کہ آپ کے دارالحکومت میں 178 ہندوؤں کے لیے، مسجد کو مسمار کر کے مندر کی تعمیر کاکام تیزی سے جاری ہے۔۔۔ ضرور جاری رہنا چاہیے۔ آخر اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت آپ نہیں کریں گے توکون کرے گا؟ لیکن وہاں، دارالحکومت کی شاہراہوں سے وہ بڑے بڑے بل بورڈز بھی تواتار لیں جس پہ لکھوایا ہے کہ یہ شامی بچے کی بددعا ہے اور اس نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی ہوگی۔۔۔

پھر کبھی آپ کو لگتا ہےکہ یہ ہم کشمیریوں کی بددعائیں ہیں جس کی وجہ سے آپ کو بھی لاک ڈاؤن میں رہنا پڑا۔ اب کیا خبر کل کو خدانخواستہ کچھ اور آپ کے ساتھ ہواور آپ یونہی سب کچھ میرے کھاتے میں ڈال دیں۔۔۔ ہمارے پاس آپ کے لیے صرف دعائیں ہیں، کیونکہ مجھے لگتا ہے آپ ہم سے زیادہ قابل رحم ہیں۔۔۔ سوپور میں رات کے سائے گہرے ہونے لگے ہیں اورمیرے ناناابو کے پاس جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ صرف یہ کہہ کے جانا چاہتا ہوں، کوئی ایکشن نہ لیں اور میری چنداں فکر نہ کیجیے۔۔۔ شب بخیر۔

Comments

Avatar

بریرہ صدیقی

بریرہ صدیقی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مختلف قومی جرائد اور دلیل کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کے بعد چار سال جرمنی میں قیام بھی کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com