رحمت مایوس ہے - ردا بشیر

وہ سرکاری ہسپتال کے بستر پر کراہ رہی تھی۔ دارالامان کے کسی جالے زدہ کمرے میں سرکاری ڈاکٹرز فرسٹ ایڈ دے رہے تھے۔ لیکن وہ خوشی یا غم کے کسی بھی احساس سے عاری چھت پر لٹکے پنکھے سے لگی چھپکلی کو گھور رہی تھی جو کب سے ایک جگہ ساکت تھی۔

کہا جاتا ہے کہ وقت بدل گیا۔ جی ہاں۔۔۔ بدل گیا، سب بدل گیا۔ 1400 سال پہلے اسلام کی تکمیل ہوئی۔ عورت کو رتبہ ملا، عزت ملی۔ مٹھی سے سرکتی ہوئی ریت کی طرح وقت کا پہیہ تیزی سے گھوما اور ہم اکیسویں صدی میں آگئے۔ عورت چاند پر پہنچ گئی۔ عورت نے فضاؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ سمندری مخلوقات سے رابطے کیے۔ لیکن پھر بھی وہ ان دیکھی زنجیروں میں جکڑی ہے۔

1400 پہلے اور آج، ایک ہی بات کا فرق ہے کہ تب لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفنا دیا جاتا تھا۔ آج بھی دفنایا جاتا ہے۔ پتا ہے فرق کہاں ہے؟ تب لڑکی بے حس ہوتی تھی، بول تک نہیں سکتی تھی۔ آج پورے ہوش و حواس میں مرضی سے زندہ قبر میں اتر جاتی ہے۔ کبھی اسے باپ کے سر پر موجود `پگ کا واسطہ دیا جاتا ہے تو کبھی بھائیوں کی عزت کا۔

”تمہاری شادی کردی ہے، اب گھر سنسار وہی ہے وہاں سے مر کر ہی نکلنا۔ چاہے جس سے بیاہی گئی ہو، وہ جانور ہی کیوں نا ہو۔“

میں پوچھتی ہوں کہ کیا عزتوں کے سارے بوجھ بیٹیوں کے کندھوں پر ہیں؟ وہ تو صنف نازک نہیں؟ بلی اور کاکروچ سے خوفزدہ ہو جانے والی نہیں؟ اس کی اپنی کوئی رائے کوئی مرضی نہیں؟

وہ آہستہ آہستہ آنکھیں بند کرتی جا رہی تھی اور پھر میری آنکھوں نے دیکھا کہ اس پر سفید چادر تان دی گئی تھی۔ پنکھے کے پاس موجود چپکلی کب کی جا چکی تھی۔

کب تک بیٹیاں ان نام نہاد عزتوں کا ٹوکرا سروں پر اُٹھائے پھرے گی؟ اگر تو مان گئی، اس سے اچھا اور فرماںبردار کوئی نہیں اور نا مانی تو تباہی اس کا مقدر؟ رحمت کا لقب جو میرے مذہب نے بیٹی کو دیا۔ اس رحمت کو زحمت مت بناؤ کہ رحمت مایوس ہوجائے۔ شوہر اور سسرال کے ہاتھوں آج ایک اور رحمت مٹی تلے جاسوئی۔ والدین کی عزتوں کا بوجھ اٹھائے۔۔۔ بڑے سے بڑے دریاؤں کی موجیں بھی وہ نہیں کرسکتیں جو تڑپ کر نکلا گیا آنسو کرسکتا ہے۔۔۔ دریاؤں کی موجیں عرش الٰہی کو نہیں ہلاسکتیں۔۔۔ ہاں مگر! تڑپ کر بھری گئی آہ اور آنکھوں سے نکلا ہوا آنسو میرے رب کے عرش کو ہلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور یوں تڑپ کر آنسو ایک بےبس اور لاچار کا ہی نکلتا ہے۔

میرے رب نے اگر کچھ حقوق مقرر کیے ہیں تو لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کے حقوق کے بدلے اللّٰہ پاک نے کچھ فرائض بھی مقرر کیے ہیں۔ جن کی ادائیگی لازم قرار دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لڑکیاں بات بات پر رونے کی عادی ہوتی ہیں، یا انگریزی کی اصطلاح میں ”ڈرامہ کویین“ بھی کہا جاتا ہے۔ نہیں صاحب! ہرگز ایسا نہیں ہے۔ دل دکھے تو آہ نکلتی ہے اور آنکھ بھرتی ہے۔ وہ الفاظ جو دوسروں کے چیتھڑے اڑانے کی طاقت رکھتے ہیں انہیں براہِ کرم خود تک محدود رکھیں دوسروں کو لہو لہان مت کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com