مذھبی روداری یا ظلم عظیم کی ترویج - صفیہ نسیم

حکومت وقت کی جانب سے سکھ کمیونٹی کی سہولت کے لئے کرتار پور راہداری کھولنے کے کچھ ہی عرصہ بعد اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جس کے لئے چار کینال اراضی مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ بیس کروڑ کی خطیر رقم بھی مختص کی گئی ہے ۔

ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ قومی املاک کو کسی اور مذھب کی عبادت گاہ کی تعمیر میں صرف کیا جارہا ہے ۔ اگر چہ اس پر ازروئے شریعت علمائے کرام کی رائے آ چکی ہے لیکن مضمون کے آغاز میں ایسے نکات پیش خدمت ہیں جو عام طور پر مندر کی تعمیر کے حمایتیوں کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں ، مثلا ایک خیال ہے کہ :ہر مذہب کے ماننے والے کو عبادت گاہ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے ہم مسلمانوں کو کسی ایسے ملک میں جہاں ہم اقلیت میں ہوں مسجد چاہیے.... اسی طرح غیر مسلموں کو اپنی عبادت گاہ چاہیے..... اپنے دل کو وسیع رکھیں تاکہ دنیا میں ہر جگہ آپ کیلئے لوگوں کے دلوں میں وسعت ہو۔

ایک اورجذباتی نکتہ یہ ہے اتنی مساجد کے ہوتے ہوئے ایک مندر کی تعمیر ہمارا کیا بگاڑ لے گی۔ یا اپنے اخلاق کی درستگی کی فکر کرو ۔ دل اخلاق سے بدلے جاتے ہیں ۔ مندروں کی تعمیر سے نہیں ۔ سب کو حق ہے کہ اپنی عبادت گاہ تعمیر کرے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سب سے پہلے تو یہ تعین ہونا چاہیئے کہ اسلام میں غیر مسلموں کے لئے گنجائش نکالنے اور دلوں میں وسعت پیدا کرنے کی حد کیا ہے؟؟؟ دلوں میں وسعت پیدا کرنے کی حد یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور ان کو عبادت کرنے کی پوری اجازت دی جائے۔ ان کی عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے یہ مثالیں دور نبوی ﷺ ،دور اصحاب رض ، اور بعد کے خلافت و ملوکیت اور مسلم سلطانین کے زمانے میں موجود رہی ہیں لیکن ان کے لئے عبادت گاہوں کی باقاعدہ تعمیر کا ذکر نہ تو دور نبوی اور نہ دور خلافت راشدہ میں ملتا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مشہور زمانہ "شروط عمریہ" جو انھوں نے اہل ذمہ کے لئے مقرر کی تھیں اس میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ہم اپنے شہر یا اس کے ارد گرد کوئی دیر ، کینسہ ، پادری کی رہائش گاہ یا راہب کا جھونپڑا نہیں بنائیں گے اور نہ ہی اس میں سے جو خراب ہو گیا اس کی تزئین و آرائش کریں گے اور نہ ہی ان میں سے جو مسلمانوں کے علاقوں میں ہو اسے آباد کریں گے۔

جہاں تک پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تعلق ہے تو یہاں اقلیتوں کو حکومتی سطح پر ہر طرح کے حقوق حاصل ہیں ۔ یہاں تک کہ ماضی میں گستاخ رسولﷺ کے مرتکبین کو بھی معاف کر دیا گیا۔ قانون توہین رسالت ﷺ میں اقلیتوں پر زیادتی کے خیال سے تبدیلیاں کرنے کی ماضی میں بھی کوشیشیں کی گئیں اور آج بھی کی جا رہی ہیں ۔ ایسے میں ذرا غور کرنے کی بات ہے کہ آخر ایسی کیا ضرورت پیش آ گئی کہ عبادت گاہ کی تعمیر ناگزیر ہو گئی؟ یہاں اقلیتیوں کو جان و مال ، تعلیم و ملازمت اور نمائندگی کا حق حاصل ہے۔ یہاں اقلیتی افراد اہم پوسٹوں پر فائز رہے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود اگر ان کی کوئی حق تلفی ہو تو اس کا ازالہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن مسلم باشندوں کے ادا کردہ ٹیکسز اور ان کی قومی املاک کو غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی تعمیر میں صرف کرنے کا کس طرح سے حق دیا جا سکتا پے ۔ وہ بھی ایک ایسے شہر میں جو مسلمانوں نے ہی بسایا ہو ۔ازروئے شریعت ایسا شہر جس کو بنایا اور آباد دونوں مسلمانوں نے ہی کیا ہو وہاں مندر نہیں بنایا جا سکتا ۔ اسلام آباد پاکستانی حکومت نے خود بنایا اور آباد کیا ہے لہذا یہاں پر مندر کی تعمیر اسلامی اصولوں کے بالکل خلاف ہے.

دوسرا اسلامی اصول بھی پیش نظر رہے کہ اسلامی حکومت کبھی بھی کسی مندر ،گردوارہ یا کنیسہ کی زمین یا تعمیر کے لیے مدد نہی کر سکتی کیونکہ ملک میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور ٹیکس کا پیسہ مسلمانوں کا ہے جو مندر کی تعمیر پر خرچ نہی کیا جا سکتا ۔ جہاں پر بھی کسی عبادت گاہ کی تعمیر ہوگی تو اس مذہب کے ماننے والے اس کی زمین اور تعمیر کا خرچہ خود اٹھائیں گے.

ایک مسلم حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں اشاعت و ترویج اسلام کا ماحول تشکیل دے ۔ معروف کے نفاذ اور منکرات کو روکنے کے اقدامات کرے۔ سورۃ الحج آیت41 میں فرمان الہی ہے کہ "جب ہم ان کو زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے۔ زکوۃ دیں گے اورنیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور تمام کاموں کا انجام اللہ کے قبضہ میں ہے"۔ اللہ نے شرک کو سب سے بڑا ظلم قرار دیا ہے۔فرمایا گیا اِنّ الشِّرْکَ لَظُلْم عَظِیْم۔(سورہ لقمان:۳۱) اس ظلم عظیم اور بڑی برائی کا خاتمہ اسلامی معاشرے اور مسلم حاکم سے مطلوب ہے اور یہی امن وامان اور غلبہ دین کی اساس ہے۔ اسی طرح سورۃ المائدہ آیت 90 میں ارشاد ہوتا ہے: "اے لوگو! جو ایمان لائے ہو بات یہی ہے کہ یہ شراب ، جوا اور شرک کے لئے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گندے شیطانی کام ہیں ، سو ان سے بچو تاکہ تم فلاح پا جاؤ"۔ گویا جن کاموں کو شیطانی کام قرار دیا گیا اس میں شرک کےلئے نصب کردہ تمام اشکال اور بت بھی شامل ہیں۔ چہ جائیکا خود بت گری کی جائے اور بت خانے آباد و تعمیر کئے جائیں۔

غیرمسلموں سے وسعت النظری و قلبی اور ہمدردی کا پیمانہ یہ ہے کہ ان کی اسلام کی طرف رہنمائی کی جائے ۔ ان کو گمراہیوں کی دلدل سے نکالا جائے دین حنیف کی طرف راغب کیا جائے۔ اسی کی ہم سے بحیثیت امت وسط پوچھ بھی ہو گی۔ اگر کسی غیر مسلم سے تعلقات ہیں تو ان کی نوعیت ایسی ہو کہ کہ ان کو دین اسلام کے حسنات اور خوبیوں کی طرف مائل کیا جائے۔ اشاعت و تبلیغ اسلام کا فریضہ ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے اگر اپنے طرز عمل سے مسلمان غیر مسلموں کو اسلام سے متنفر کرنے کا باعث بن رہے ہیں تو یہ مسلمانوں کی چھوٹ کا نہیں شدید پکڑ کا ذریعہ ہے ۔ دوسرا یہ کہ آج بھی غیر مسلم جو اسلام قبول کر رہے ہیں وہ اسلام کے پیرو کاروں کا طرز عمل دیکھ کر نہیں بلکہ دین اسلام کی حقانیت اور اس کے حسنات و خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اور اپنے اندر امڈتے ہوئے سوالات کی دین اسلام میں تشفی حاصل کر کے مسلمان ہو رہے ہیں ۔

ہمیں بحیثیت مسلمان اپنے معذرت خواہانہ رویوں کو ترک کرتے ہوئے یہ سوچنا چاہیئے کہ ہم ایک غالب دین کے ماننے والے ہیں ہم اپنے ملک میں یہ سوچ کر غیرمسلموں کو عبادت گاہ بنانے دیں کہ ہمیں دنیا میں کہیں پریشانی نہ ہو۔ ایک گمراہ کن فلسفہ ہے۔ بقول اقبال۔۔۔ مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا۔ یہ ساری زمین ہماری ہے اور ہم ایک غالب دین کے ماننے والے ہیں ۔ ہماری اولین کوشش یہی ہونی کہ اہل علم کی رائے آنے کے بعد باہمی بحث و مباحثے میں الجھنے کی بجائے اپنی توانائیاں غلبہ اسلام کی جدوجہد پر صرف کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com