تعلیمی نظام اور نیا پاکستان - سلمان ا سلم

آج بھی حسب معمول اپنی ڈیوٹی پہ چلا گیا، میں اپنی موجودہ ادراے میں نیا ہوں تو اسلیے جاب کے متلعق روٹ شیٹ کا مجھے مکمل علم ابھی تک حاصل نہیں ہوا۔ جہاں بھی ہم بزنس وزٹ کرتے ہیں تو فل حال ساری جہگیں مرے لیے نئی اور سرپرائز ہوتی ہیں۔ انہی وزٹ میں سے آج ہمارا اچانک متحدہ عرب امارت میں موجود اک "امریکن سکول فار کری ایٹیو سائنس " کا دورہ ہوا۔ میں سکول کی امارت کو دیکھ کر اسکی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔

یہ سکول صرف کے جی اور نرسری کے بچوں کے لیے ہے اور ان دو کلاسوں کے لیے موجودہ تعمیر شدہ سکول بلڈنگ کا احاطہ پاکستان کے اچھے نامی گرامی پرائیوٹ کالجوں سے دو گناہ بڑا تھا۔ سکول کا محل وقوع نہایت پر امن اور پرسکون جگہ سمندر کے قریب واقع تھا۔ نہ توآ س پاس میں ایسی بڑی ہائی وے ہے جس پہ ہر وقت بڑی گاڑیوں کا جم غفیر جما ہوا ہو اور نہ عوام کی کوئی ریل پیل تھی، دوسرا باہر کے ممالک میں نازیبا اور بدتہذیب قسم کے ہارنز گاڑیوں میں ہوتے بھی نہیں اور نہ بغیر ضرورت کے کوئی ہارن بجاتا ہے۔ یہ سوغات صرف پاکستان میں دستیاب ہوتا ہے۔ ان ممالک میں صرف اور صرف ایمبولنس، پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی سائرن کا والیوم بہت تیز ہوتا ہے۔ خیر میں سکول کے بلڈنگ کے اندر گیا، بلڈنگ کے اندر باہر سے بھی زیادہ سناٹا، سکون اور امن کی فضاء کا بول بالا تھا۔ مین دروازے سے اندر حال میں استقبالیہ کا ڈسک لگا ہوا تھا جہاں پہ دو لڑکیاں مہمانوں کو، والدین یا دیگر متعلقہ شخصیات کی رہنمائی اور معلومات کی فراہمی کے لیے میسر ہوتی ہیں۔

سکول کے دائیں ہاتھ پہ کے جی کے بچوں کیلیے ہال نما کلاس روم تھااور نرسری کے بچوں کے لیے بائیں ہاتھ پہ ہال نما کلاس روم تھا۔ سکول کے ہال میں ایڈمنسٹریشن اور پرنسیپل روم کی طرف جانے کے لیے درمیانی کونے میں سیڑھیاں جا رہی تھی۔ ان سیڑھیوں کا ڈیزائن اس انداز سے بنایا گیا تھا کہ ہر سیڑھی کی چوکٹ دروازے کے سامنے سے بلکل صاف اور پورا دکھائی دے رہا تھا اور ہر چوکٹ پہ انتہائی بامعنی اور نہایت خوبصورت جملے انگریزی میں لکھے ہوئے تھے۔ جس سے اس سکول اور اس سکول میں دی جانے والی تعلیم کا عکس نمایاں نظر آرہا تھا۔ میں وہ چند جملے آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں اسکے بعد پھر اک سطحی نظر پاکستانی تعلیمی اور اداروں کے ڈھانچے پہ ڈالیں گے۔ کہ کیا نئے پاکستان میں واقعی نیا اور یکساں تعلیمی نظام نافذ ہوگیا ہے؟ یا پھر وہ دعوے بھی ہوا میں بلبلا بن کر تحلیل ہوگئے ہیں۔

1) ہم اک خاندان ہیں۔ we are family

2) ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ we learn from our mistakes

3) ہم سخت مخنت کرتے ہیں۔ we work hard

4) ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں۔ we Try our Best

5) ہم اک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ we help each other

6) ہم معاف کرتے ہیں۔ we forgive

7) ہم اک دوسرے کی عزت کرتیہیں۔ we respect each other

8) ہم اک ٹیم ہیں۔ we are team

9) ہم کبھی ہار نہیں مانتے۔ we Never give up

اپنے سکول میں۔۔۔۔۔ (In our school)

اور یہ ساری باتیں مجھے سکول کی ماحول اور انفراسٹریکچر میں باقاعدہ محسوس بھی ہوئیں۔ گوکہ بچے ابھی سکول میں نہیں تھے مگر اسکا ماحول اپنی کہانی آپ ہی سنا رہا تھا، کہ کیسے بچوں کے مزاج اور طبیعیت کو مولنے میں کس طرح کے تعلیمی اور ادراتی ڈھانچے کا حقیقی کردار ہوتا ہے وہ یہ سکول کی عمارت باقاعدہ انصاف سے ادا کر رہا تھا۔ اک اور بہت بڑی بات جو میں نوٹ کی کہ وہاں بچوں کو کسی قسم کا سکول فیس کارڈ یا پرفارمینس شیٹ نہیں دی جاتی یہ سارے معاملات استقبالیہ اورایڈمن ٹیم بچوں کے والدین سے الگ تلگ نپٹھاتے ہیں۔ اور نہ کسی بچے کو فیس کی ادائیگی پہ کلاس روم سے نکالنے یا سکول سے گھر واپس بھیجنے کی دھمکئ دی جاتی ہے اور نہ ہی ڈاریا یا دھبکایا جاتا ہے۔ کیونکہ انکو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ بچے معصوم پھول کی پنکھڑیوں کی مانند ہوتے ہیں جو ہلکی سی تیز ہوا سے بھی مرجا جاتے ہیں۔

وطن عزیز میں ذرا سکولوں کا حال تو دیکھیں اول بلڈنگ ایسی خستہ حال کی اللہ کی پناہ اور بعض اسکولز تو کسی زیر تعمیر رہائشی گھر میں کھولے گئے ہیں جہاں نہ کمروں میں کھڑکیاں اور نہ ہی دروازے لگے ہوتے ہیں اورنہ بجلی کا نظام موجود ہوتا ہے اور حد تو یہاں تک کی ہے اک ہی کمرے میں دو دو کلاسیں زیر تعلیم رہتی ہیں۔۔ ایسے تھرڈ کلاس کی انفراسٹکچر میں بھی بڑے ڈھٹائی کے ساتھ اچھے اور معیاری تعلیم کے دعوے بے بانگ دہل کیے جاتے ہیں۔ اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس تھرڈ کلاس سکول میں تھرڈ کلاس تعلیم دینے کے عوض جب بچے کا ماہانا فیس لیٹ ہوجاتا ہے تو ہر استاد کو اس بات کا باقاعدہ پابند کیا جاتا ہے کہ اس کو ڈرا دھمکا کر فیس کا دباو ڈالیں۔ پہلے کلاس سے ابتداء ہوتی ہے، پھر بات سکول کی اسمبلی تک بات لائی جاتی ہے یعنی بچے کے عزت نفس کو سر عام پیروں تلے کچلنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جاتی۔ اور اس میں قصور اس بزنس مین پرنسیپل کا نہیں کیونکہ جو بزنس کرنے کے لیے آتا ہے وہ اپنا نفع ہی دیکھے وہ تو کسی کا بھلا نہیں چاہے گا۔

باہر کے ممالک میں سکول چاہے پرائیویٹ ہو یا گورمینٹ کے اصول ضابطے، تعلیمی نصاب حکومت کا تیار کردہ لاگو ہوتے ہیں اور اس پہ چیک اینڈ بیلنس بھی حکومت کی باقاعدہ رہتی ہے۔ کسی بھی سرمایا دار کو سکول میں پیسے لگا کے اپنی مان مانی کی اجازت ہرگز نہیں ہوتی۔ اور نہ وہ کسی ایرے غیرے نہ تو خیرے کو استاد بھرتی کر سکتا ہے۔ لیکن وطن عزیز میں ہر دوسرا تیسرا شخص سکول کھول کے بیٹھا ہوا ہے۔ اور اپنے ہی مرضی کے اصول وضابطے اپناتے ہوئے میٹرک پاس فی میل سٹاف کو بھرتی کیا جاتا ہے کیونکہ انکی تنخواہیں 1200 روپے تک ہوتی ہیں جو نہایت ہی وارے میں پڑتی ہیں۔ اور دوسرا انہوں نے کونسا بچوں کو سکول میں تعلیم دینی ہوتی ہے ان کا سارا دارومدار تو ہوم ورک پہ رہتا ہے جس سے سکول پرنسیپل بھی خوش اور والدین کو بھی تسلی رہتی ہے کہ سکول میں کام کروایا جاتا ہے۔ اور گورمینٹ سکولوں میں تو اساتذہ کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ایسے اداروں دی جانے والی تعلیم صرف وقت اور پیسے کے ضیاں کے علاوہ اور کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں دیتی۔

یاد رکھیں کسی بھی ملک کی ترقی اور روشن مستقبل کا انحصار اسکے نوجوان نسل پہ ہوتا ہے۔ اور نوجوان نسل کی بہترین اور کارگر تربیت اک معیاری تعلیمی نظام سے ہوتی ہے۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے نوجوان نسل میں بہترین فکر کی آبیاری کی جاسکتی ہے۔ جیسے کہ اک مصمم اصول ہے کہ جس فصل یا درخت کی اچھی گوٹی اور بروقت آبیاری کی جاتی ہو تو وہ ویسے ہی خوشمنا، تازہ اور فربہ فصل پیدا کرتا ہے اسی طرح جتنا بہترین تعلیمی نظام سے بچوں کی بہترین فکر کی آبیاری کی جائے گی تو وہ اتنا ہی اعلی اور بہترین ذہن کے ساتھ قابل قدر نتائج دے گا۔ آج مغربی ممالک کے مقابلے میں ہمارے بچے تعلیمی معیار میں شکست خوردہ ، ہمارے ہاں موجود فرسوہ او حستہ حال تعلیمی نظام کی ہی مرہون منت ہیں۔ ہمار ا تعلیمی نظام نہ تو فکر کی نشوونما کرتا ہے اور نہ سوچ میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔بس اک رٹو طوطہ بن کر نکلتا ہے اور عملی میدان میں پھر "ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا" کی حالت میں گوناگوں، در بدر پھرتا رہتا ہے۔ ایسا تعلیم جو صرف کاغذ کی ڈگری کی صورت میں بچہ لے کر نکلتا ہے وہ ان پڑھ بچے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔۔۔ اسی لیے علامہ صاحب نے کہا تھا۔

شکایت ہے مجھے یا رب خُداوندانِ مکتب سے

سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالین ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

نئے پاکستان میں اب تک وہی پرانا اور فرسودہ نظام تعلیم رائج ہے جو اب اخلاقیات کی حدیں پار کرنے پہ اتر آیا، کہ اساتذہ کے نام پہ درندہ صفت سورما اب بچیوں کے ساتھ جنسی ہراسگی کرنے کی غلیظ حرکتوں پہ اتر آئے ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کر رہی کہ وہ فیصلہ کن موڑ اب نئے پاکستان کے قریب آرہا جس میں تحریک آزادی (1957) کی مانند پھر اک ہی مطالبہ ہوگا کہ ابھی یا کبھی نہیں۔ کرنے والے وقت کے تعین پہ انحصار نہیں کرتے وہ کام کرجاتے ہیں اور نئے پاکستان میں اب تک وقت کا واویلا ہی ختم نہیں ہو رہا۔ خان صاحب گر نئے پاکستان بنانے کا وعدہ پورا نہ کرسکے تو پھر آپ کو بھی دنیا پوری میں چھپنے کے لیے کوئی کونہ میسر نہیں آئے گا کیونکہ شہرت حاصل کرنے سے زیادہ شہرت کو قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com