مصرکی پراسرار ملکہ - ایم سرورصدیقی

مصرکو دنیا کی سب سے پراسرارسرزمین کہاجاسکتاہے دنیا آج بھی اہرام ِ مصر کے ہرہیبت اوراسرارو تجسس میں لپٹی ہوئی عمارات کو دیکھتی ہے توان کے دل پر رعب سا پڑجاتاہے اسی پراسرار مصرمیں طویل عرصہ اقتدار میں رہنے والی تاریخ عالم کی پہلی مطلق العنان ملکہ ہط شب سوط (Hatshepsut) کی کہی ان کہی کہانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔

اس نے صدیوں پہلے مغربی ایشیا پر 17 حملے کئے جس کے بارے متعدد مورخین کا خیال ہے کہ ہط شب سوط (Hatshepsut) کو دنیا فتح کرنے کا خبط تھا مزے کی بات یہ ہے کہ اس نے 15 برس کی عمر میں تخت نشین ہو کر مردانہ حلیہ میں تقریبا 22 سال (1479-1458 قبل مسیح)مصر پر حکومت کی۔ پاکستان کے ماہر مصریات مرزا ابن حنیف عمارت سازی کے شوق کی وجہ سے اسے ’’شاہجہان مصر کہلانے کی مستحق قرار دیتے ہیں۔ اس ملکہ کا عہد تاریخ مصر میں پرامن اور خوشحال ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہط شپ سوط کے اہم کارناموں میں سب سے نمایاں کارنامہ اس کا دیرالبحری کے مقام پر چٹانوں کو تراش کر ایک دلکش اور ناردروزگار معبد تعمیر کرانا اور سرزمین ’’پنٹ کی طرف ایک اہم اور بڑی تجارتی مہم روانہ کرنا تھا۔ بیشتر محققین کا خیال ہے کہ ’’پنٹ مصر کے جنوب مشرق کا کوئی علاقہ تھا۔ توتمس دوم کی زندگی میں وہ اس کی شریک حکمران تھی، اس کی وفات کے بعد جب وہ چھ سالہ توتمس سوم کی نگران اور ایک مطلق العنان ملکہ بنی تو اس نے پہلا اعلان یہ کیا کہ اس کے معبود اعظم آمن رع نے اسے حکمران منتخب کیا ہے۔ اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اس نے اپنی مملکت کے سب سے قابل ترین شخص سیننموٹ (Senenmut) کو اپنا دست راست اور اپنی بیٹیوں کا اتالیق مقرر کیا۔

اسی شخص نے ملکہ کے حکم پر دارالحکومت تھیبیس کے سامنے دریا کے مغربی کنارے پر دیرالبحری کے مقام پر معبوداعظم آمن رع، دیوی باثور اور دیوتا انوبیس کے لیے ایک شاندار مندر تعمیر کرایا تھا۔ اس مندر کی دیواروں پر ملکہ نے اپنی زندگی کے واقعات اور دیوتاوں سے اپنے تعلق کو تصویروں کی شکل میں نقش کرایا تھا۔ آج یہی تصویریں ملکہ ہط شپ سوط کی زندگی کے متعلق سب سے بڑا ماخد تصور کی جاتی ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح آج بھی اس مندر کے طرزتعمیر اور اس کی دلنشین نقاشی، مصوری اور کندہ کاری کو دیکھ کر ششدر رہ جاتے ہیں۔ ملکہ نے ایک اور معبد بنی حسن کے مقام پر بنوایا تھا، اس کے علاوہ ایک اور معبد یا مندر چونے کے سنگ مرمر سے تعمیر کروایا تھا۔ اس کے دروازے پیتل کے تھے۔ سنگ سرخ سے چار خوبصورت ستون تراش کر تیار کیے گئے اور ملکہ کے حکم پر یہ ستون تھیبیس کے ایک مندر میں نصب کئے گئے۔ یہ ستون بالترتیب 98 اور 105 فٹ بلند تھے۔ اتنے بلند ستون مصر کی تاریخ میں پہلی بار تیار کئے گئے تھے جو بھی اسے دیکھتا مبہوت رہ جاتا۔ ملکہ ہط شپ سوط نے نہ صرف تعمیرات پر توجہ دی بلکہ اس نے مصر کے تجارتی تعلقات جو سابق بادشاہوں کے عہد میں بیرونی ممالک سے منقطع ہو گئے تھے، دوبارہ بحال کرنے لیے باقاعدہ منصوبہ بنایا۔ اس نے اس سلسلے میں سب سے پہلے بحیرہ قلزم کے جنوبی ساحلوں پر کچھ بندرگاہیں قائم کر کے ایک بڑا بحری بیڑہ تیار کرنے کے احکامات صادر کئے۔

اس کے حکم پر ایسے جہاز بنائے گئے جو بادبانوں اور چپووں دونوں طرح سے چل سکتے تھے۔ اپنے ملک میں جہاز رانی کے انتظامات کرنے کے بعد ملکہ نے اس وقت کی دنیا کے متعدد ملکوں کو دوستانہ وفد بھیجے، اس کی سب سے بڑی سفارتی و تجارتی مہم سرزمین ’’پنٹ کے باشندوں کے لئے قیمتی تحائف کے ساتھ روانہ کی گئی۔ یہی مہم ملکہ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ تصور کی جاتی ہے۔ اس سے پہلے بارہویں حکمران خاندان کے زمانے میں اہل مصر کے ’’پنٹ کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم تھے مگر اس کے بعد کے بادشاہوں کے زمانے میں مصر کے مواصلاتی ذرائع تباہ ہونے کی وجہ سے اس کے بیرونی ممالک سے تعلقات ٹوٹ گئے اور اہل ’’پنٹ کے ساتھ بھی اس کے تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔ ایک روز جب ملکہ آمن دیوتا کے مندر میں کھڑی تھی تو اسے ندا آئی کہ ’’پنٹ کو دوبارہ دریافت کیا جائے۔ پھر ملکہ کی کوششوں سے اہل مصر دوبارہ سرزمین ’’پنٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر اس کامیاب مہم کے نتیجے میں مصر میں بہت سی بیش قیمت اشیاء لائی گئیں جن میں ایک زندہ چیتا بھی شامل تھا۔ ملکہ نے یہ سب اشیاء آمن دیوتا کے حضور میں نذر کردیں۔

ملکہ ہط شپ سوط کا عظیم الشان عہد مصر کی تاریخ کا ایک زریں باب ہے۔ اس عہد میں مصر ہر قسم کی اندرونی شورشوں اور بیرونی حملوں سے محفوظ رہا۔ ملکہ کے پیش رووں نے نوبیا اور مغربی ایشیا میں جو کامیاب یلغاریں کی تھیں، ان کے نتیجے میں بیرونی دولت مصر میں خراج کی شکل میں وصول ہوتی رہی، جس سے ملک کی معیشت کو استحکام ملا۔ ملکہ نے اس بے پایاں دولت کا رخ ملک کا نظم و نسق بہتر بنانے اور اس کی تعمیر و ترتیب و تزئین کی طرف موڑ دیا، جس سے ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گیا۔ ملکہ شپ سوط ہمیشہ خود کو مردانہ القاب سے مخاطب کرانا پسند کرتی تھی۔ اسی وجہ سے وہ اکثر مردانہ لباس زیب تن کیے رہتی اور یہاں تک کہ بعض مواقع پر مصنوعی داڑھی مونچھیں تک لگا لیا کرتی تھی۔ اثریاتی کتبوں میں اکثر اس ملکہ کو مذکر کے صیغہ سے مخاطب کیا گیا ہے۔ مندر کی دیوار پر منقش تصویروں میں وہ البتہ ایک عورت ہی کے روپ میں نظر آتی ہے جہاں اسے باثور دیوی کی حیثیت دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ ایک اور فرعونہ ہط شپ سوط سے قبل حاکم رہی تھی لیکن اس کا دور انتہائی مختصر تھا۔ہط شپ سوط کی وفات کے بعد تھیبیس کے تخت پر تاریخ عالم کا پہلا بین الاقوامی فاتح توتمس سوم یا تحوت مس سوم جلوہ افروز ہوا۔ وہ ملکہ ہط شپ سوط کا داماد اور بھتیجا تھا۔

ملکہ کی زندگی میں وہ محض ایک شریک حکمران اور پھوپھی کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے والا ایک مجہول فرعون ثابت ہوا تھا۔ لیکن اپنی تحت نشینی کے صرف دو ماہ بعد اس نے کامیاب عسکری برق رفتاری کا مظاہرہ کر کے خود کو پہلے عظیم فاتح عالم کے طور پر منوالیا۔ توتمس سوم کی تخت نشینی سے مصری تقریبا پچاس سال پہلے کی شکستوں کا انتقام لے سکے۔ ملکہ کی موت کی خبر سنتے ہی مغربی ایشیا کے حکمرانوں نے مصر کی بالادستی کا جوا اپنے کندھوں سے ہٹا دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے نزدیک اس سے بہتر موقع اور کیا ہو سکتا تھا، جب ایک مجہول فرعون مصر کے تخت پر بیٹھ چکا ہو۔ دوسری طرف جب توتمس سوم کو مغربی ایشیا میں مصر کے خلاف ایک اتحادی فوج کے قیام اور جنگی تیاریوں کی اطلاع ملی تو اس نے مصر میں بیٹھ کر مدافعانہ جنگ لڑنے پر دشمن کے علاقے میں جارحانہ جنگ لڑنے کو ترجیح دی۔ وہ مغربی ایشیائیوں کی سرکوبی کے لیے 30 ہزار فوج لے کر مصر سے نکلا اور نو دن سے کم مدت میں ایک سو 60 میل سے زائد کا فاصلہ سرعت سے طے کر کے اس نے فلسطینی شہر غزہ پر قبضہ کر لیا۔ ابھی دشمن اس کی اس فتح سے سنبھل نہ پائے تھے کہ صرف ایک دن بعد اس نے 90 میل دور ایک مقام لیم کی طرف کوچ کیا۔ اسی اثنا میں ایشیائی اتحادیوں نے کدیشہ کے حکمرانوں کی قیادت میں ایک اہم فوجی چھاونی مگدو پر قبضہ کرلیا۔ توتمس سوم ابھی لیم میں قیام پذیر تھا۔ لیم سے مگدو کو تین راستے جاتے تھے جن میں سے دو طویل مگر آرام دہ اور میدانی تھے جب کہ تیسرا راستہ مختصر مگر انتہائی دشوار کن اور پہاڑی تھا۔ اس کی فوج کے جرنیلوں نے اسے کسی بھی طویل راستے سے مگدو جانے کا مشورہ دیا تاکہ لشکر کو کوئی گزند نہ پہنچے۔

لیکن توتمس سوم نے دشوار کن راستے سے مگدو جانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے بعد اس نے اپنے لشکریوں کو اختیار دیا کہ جو چاہے اس کا ساتھ دے اور جو نہ چاہے وہ دوسرا راستہ اختیار کرے۔ اس کے لشکریوں نے اس کے ساتھ دشوار کن پہاڑی راستہ سے مگدو جانے کا فیصلہ کیا۔ توتمس سوم نے خود لشکر کے آگے پیدل چل کر اس سفر میں اپنے لشکر کی قیادت کی۔ دشوار کن پہاڑی راستے سے سفر کر کے وہ انتہائی کم وقت میں مگدو جا پہنچے جس سے اتحادی افواج کو بڑی حیرت ہوئی، ان کے نزدیک اتنی مدت میں مگدو پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ ایک گھمسان کی جنگ کے بعد توتمس سوم نے ایشیائی اتحادی افواج کو شکست دی۔ اس جنگ میں توتمس سوم نے ذاتی شجاعت کے زبردست مظاہرے کیے۔ کدیشہ کا حکمران جو اتحادی افواج کی قیادت کر رہا تھا میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اس جنگ میں بڑی تعداد میں مال غنیمت توتمس کے ہاتھ آیا۔ اس فتح کے بعد اس نے لبنان پر حملہ کیا اور وہاں کے تین شہر بھی فتح کر لیے۔ ان فتوحات کے بعد اگرچہ وہ مصر لوٹ گیا مگر اس کے بعد وہ چین سے کبھی نہیں بیٹھا اور اس نے مشہور مسلم فاتح محمودغزنوی کے ہندوستان پر 17 حملوں کی طرح مغربی ایشیا پر 17 حملے کئے۔ اس نے اپنے دور میں ایک زبردست بحری بیڑا تیار کیا جس کی کمان ایک معتمد نب آمن کے سپرد کی گئی۔

اس بحری بیڑے کی مدد سے اپنے پانچویں حملے میں توتمس نے شمالی فونیقیہ میں فوجیں اتار دیں اور بغیر جنگ کے اہم شہر صور پر قبضہ کر لیا۔ چھٹے حملے میں اس نے اپنے دیرینہ دشمن شاہ کدیشہ کے ملک کا محاصرہ کر لیا اور اسے شکست دی۔ اس کا ساتواں حملہ شام کے ساحلی شہر الدترا کے خلاف تھا۔ آٹھویں حملے کے لیے اس نے وسیع پیمانے پر تیاریاں کیں اور ایک سال تک وہ اپنے ملک سے نہ نکلا۔ اگلے سال وہ شامی بندرگاہ سمیرا پر اپنے لشکر سمیت اترا اور عراق تک بڑھتا چلا گیا۔ حلب کی فتح کے بعد دنیا کا قدیم ترین تمدن رکھنے والی وادی دجلہ و فرات اس کے قدموں میں تھی۔ وہ فرات سے آگے کیش تک بڑھتا چلا گیا۔ یہاں اس نے متانی کے آریائی حکمران کو شکست دی، جس کے بعد وہ ایک اور قدیم سلطنت آشوریہ کے دارالحکومت نینوا پر حملہ آور ہوا اور اسے خراج دینے پر مجبور کر دیا۔ اس عظیم مصری فاتح کو ایشیائے کوچک کے حتیوں نے بھی خراج ادا کر کے اپنے ملک سے واپس کیا۔ توتمس سوم ایک عظیم فاتح ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم سفارت کار بھی تھا۔ اس نے آج سے تقریبا ساڑھے تین ہزار سال پہلے انگریز قوم جیسی سفارت کاری اپنائی۔

وہ مفتوح اقوام کے شہزادوں کو مصر لے جا کر مصر سے وفاداری اور ان کے جذبہ حب الوطنی کو سرد کرنے کے نت نئے تربیتی طریقے اختیار کرتا تھا۔ توتمس سوم نہ صرف سیاسی مدبر تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ علوم و فنون کا سرپرست، تعمیرات کا رسیا، فیاض اور مشفق، زیرک، بدترین دشمنوں کو معاف کر دینے والا عفو پرور مگر بعض اوقات رونگٹے کھڑے کر دینے کی حد تک منتقم مزاج بھی تھا۔ اسی توتمس سوم کے بیرونی یلغاروں کے لیے پرعزم کوچ کرنے اور پھر مال غنیمت سے لدے ہوئے فاتحانہ آن بان کے ساتھ واپسی کے مناظر بھی مصر کے قدیم دارالحکومت تھیبیس کی سڑکوں اور شاہراہوں پر شہریوں نے دیکھے تھے، جو آج اس کے اہرام کی دیواروں پر رقم ہیں جو اس پراسرار ملکہ کے دورکی یاددلاتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com