حق پرستی اور وفاداری کا ثمر ایسا ہوتا ہے - حمادحسن

ہم ایسے گئے گزرے بھی تو نہ تھےکیونکہ میری ماں حمامہ افریقہ (ایتھوپیا )کی شہزادی تھی لیکن زمانہ جاھلیت کے عام الفیل نے ہم پر قیامت ڈھا دی اور میری ماں کو جیل میں ڈالا گیا جبکہ میرا باپ رباح بنو جمعہ قبیلے کا غلام بنا ۔میں ایک غلام کا بیٹا اور ایک نیم وحشی معاشرے کا فرد تھا سو مجھے نوجوانی ہی میں مکے میں غلاموں کی ایک منڈی میں قریش سردار اُمیّہ بن خلف نے خرید لیا ۔

ہم کم نسب اور غلام ہی سہی لیکن خون پاکیزہ بھی تھا اور غیور بھی سو بے ایمانی اور بے وفائی چھو کر بھی نہیں گزری تھی اس لئے جہاں قریش کے بت رکھے گئے تھے اس گھر کی چابیاں ایک غلام زادہ یعنی مجھے سونپ دی گئیں تھیں ۔میری غلامی اور زندگی عذابوں کے بیچوں بیچ گزرتی رہی کہ ایک دن میں نے محمد صلیّ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام سنا اور یہ پیغام پلک جھپکتے میں میرے خون میں سرایت کر گیا تو میرے منہ سے بے ساختہ لبیک نکلا .لیکن اس کے بعد تاریخ کی بد ترین بربریت اور مزید ظلم نے میری بے بس زندگی کا رُخ کیا ۔

مجھے یاد ہے کہ یمن کے مھاجر اور میری طرح کمزور حضرت عمار بن یاسر کو قریش سردار باندھ کر لے آئے تو عمار بن یاسر تکرار کے ساتھ پیغمبر انسانیت کا پیغام دھراتا رہا کہ خُدا ایک ہے اور انسانوں میں رنگ نسل اور قبیلے کی کوئی تفریق نہیں بلکہ تمام انسان برابر ہیں اور سب خُدا کی مخلوق ہیں ۔عمار کی والدہ سمیّہ کو مکے کے بازار میں ابو سفیان(قبول اسلام سے پہلے ) اپنی تیز دھار نیزے سے چیر کر اسلام کی پہلی شہید بنا چکا تھا اور اب سمیہ کا بیٹا سفاک سرداروں کے رحم و کرم پر تھا ۔میں غلام تھا اور ایک دیوار کے ساتھ اکیلا کھڑا تھا حکم ہوا کہ کوڑا اٹھاؤ اور عمار کے چھرے پر برساتے رہو میں نے کوڑا اُٹھایا اور عمار کے قریب گیا اس نے چہرہ آگے کیا میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو میرے ہاتھ کانپنے لگے کیونکہ اس کی آنکھوں میں ایک صداقت اور پاکیزگی تیر رہی تھی ۔

میں غلام تھا لیکن انکار کی جرات پر اُتر آیا اور کوڑا پھینک دیا ۔اس غلام زادے کی یہ جرات ؟ایک آواز گونجی۔ابوجھل نے میرے مالک اُمیّہ سے کہا کہ اسے باندھ دو اور مکے کی تپتی ہوئی ریت پر کھینچتے رہو اور ایسا ہی ہوا لیکن محمدٌ کا پیغام زبان پر جاری رہا بچے تالیاں بجاتے اور میرا مذاق اُڑاتے رہے اور میرا وجود خاک اور خون میں گم ہو تا گیا ۔حالت یہاں تک آئی کہ بھاری اور گرم پتھر بھی سینے پر رکھے گئیے اور تپتی ہوئی ریت پر لٹایا گیا ۔بات حضورٌ تک پہنچ گئی تو دکھ اور بے بسی عروج پر تھے لیکن حوصلہ اور تدبر تو ساتھ ہی تھے ۔فورًا اپنے بے مثال رفیق ابوبکر صدیق کو دو شرائط کے ساتھ میرے مالک سے مذاکرات کرنے بھیجا ۔پہلی شرط یہ تھی کہ بلال کی قیمت ہم ادا کریں گے اسے آزاد کر دیں ۔

اور دوسری شرط یہ تھی کہ اگر چاہیں تو بلال کے بدلے ہم آپ کو غیر مسلم غلام دیں گے اور بلال ہمارے حوالے کریں ۔ھوشیار اور شیریں سخن ابوبکر کو مکالمے کا ھنر خوب آتا سو پہلی شرط ہی میرا مالک مان گیا تو ابوبکر صدیق نے دو سو درھم دے کر مجھے آزاد کرد یا اور شدید زخمی حالت میں اپنے گھر لے آیا چار دن شدید بخار اور بے ھوشی میں گزرے پانچویں دن طبیعت سنبھلنے لگی تو ایک مہربان آواز سماعت سے ٹکرائی ۔

بلال۔۔۔۔بلال
آنکھیں کھولو ۔

آنکھیں کھلیں تو میرے محسن ابوبکر صدیق مسکراتے اور میرے گھنگریالے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے بتانے لگے کہ بلال کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضورٌ روز آکر آپ کے سرھانے بیٹھے اور تمہیں دیکھتے رہتے ۔میں نے یہ بات سنی تو میری آنکھیں بھر آئیں کیونکہ میں تو ایک غلام زادہ تھا اور آپ(ص) بنو ھاشم جیسے معتبر قبیلے کے فرزند لیکن معا" خیال آیا کہ آپ تو رحمت ال للعالمین ہیں. دوسرے دن حضورٌ کے پاس گیا تو ایک پرانی چٹائی پر حضرت علی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے فورًا اُٹھے اورمجھے سینے سے لگایا میں نے دیکھا کہ حضورٌ کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے ،ھاتھ سے پکڑا اور اپنے گھر لے گئے یہ میری زندگی میں پہلا موقع تھا کہ میں کسی قریش کے برابر بیٹھا تھا اور قریش بھی بنو ھاشم جیسے معتبر ۔

کچھ عرصے بعد ھجرت کا حکم ہوا اور ھم چھوٹے چھوٹے قافلوں کی صورت میں مدینہ کےلئے نکلنے لگے مجھے شدید حیرت ہوئی کہ جس قافلے میں میں شامل تھا اس کا سالار بھی مجھے بنایا گیا کیونکہ میں تو ایک غلام زادہ تھا لیکن نیا بیانیہ اور پیغام تو یہ تفریق مٹا چکا تھا . تمام ساتھیوں کو وقفے وقفے سے رخصت کرنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخر میں مکہ سے نکلے اورایک جھلسا دینے والی سہ پہر کو مدینے میں داخل ہوئے. اگلے چند دنوں میں مدینہ ریاست قائم ہوئی تو مجھے بیت المال کا منسٹر بنا دیا گیا ۔

حضورٌ نے مجھے تاکید کی کہ یتیموں ، بیواؤں ، غریبوں ، اور معذوروں کا ڈیٹا اکھٹا کریں اور بیت المال سے ان کی مدد شروع کریں چند دنوں بعد حکم کو عملی شکل دے دی گئی تھی اور راشن وغیرہ کی رسد مستحقین کو پہنچنے لگی تھی ۔ اذان کا حکم آیا تو اس معتبر ترین منصب کے لئے قرعہ فال بھی اسی غلام زادے کے نام نکلا میں مسجد نبوی میں اذان دیتا اور حضورٌ امامت فرماتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رحلت فرما گئے تو بلال نے بھی مدینہ چھوڑ دیا اور شام چلے گئے اب گوشہ نشینی اختیار کر چکے تھے. مہ و سال گزر گئے تھے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چوبیس لاکھ مربع کلو میل پر حکومت کر رھے تھے. خلیفہ وقت شام کے دورے پر گئے تو بلال حبشی سے ملنے گئے انہیں بار بار سینے سے لگاتے اور چومتے رھے اذان کا وقت ہوا تو خلیفہ وقت وھی خواہش زبان پر لے آیا جو مدتوں سے دل میں مچل رھا تھا. بلال مدت ہوئی آپ کی اذان نہیں سنی.

بلال کی آنکھیں بھر آئیں اور کہا ابن خطاب میں نے تو حضور کریم کے بعد پھر ایک بار بھی اذان نہیں دی ھے.چوبیس لاکھ مربع میل کا حاکم وقت التجا پر اتر آئے تو بلال حبشی کو ایک ساتھ اٹھائی صعوبتوں اور ھجرتوں کے ساتھ ساتھ حضور کریم کی بے پناہ محبتیں بھی یاد آئیں سو ایک ٹیلے پر چڑھے اور اذان کی صدا بلند ہوئی تو عمر جیسا مظبوط آدمی بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا راوی بتاتا ھے کہ قمیض کا اگلا حصہ اور داڑھی کے تمام بال آنسوؤں سے تر بتر ہو گئے. حضرت بلال حبشی عمر کے آخری حصے میں مدینہ تشریف لائے تو حضرت عمر فاروق والی خواہش پیغمبر اسلام کے دونوں نواسوں حسن اور حسین نے بھی ایک نیاز مندی کے ساتھ کرڈالی ظاھری ھے بلال جیسا آدمی اس گھر کے ھستیوں کی خواہش کو کیسے ٹالتا جس کی دھلیز پر وہ مر مٹتا سو روضے کے قریب اذان کےلئے کھڑے ہوئے اور نگاہ روضۂ رسول پر پڑی تو درد کا ایک دریا دل میں اتر آیا مدینے کا پورا شہر گوش بر آواز تھا اور جوں ھی انتہائی درد اور خوش الحانی کے ساتھ اللہ اکبر کی صدا گونجی تو پورا مدینہ ھچکیاں اور سسکیاں لینے لگا.

قارئین کرام اگر اجازت ہو تو موضوع کا بعد از بلال تھوڑا سا ایک اور رُخ بھی دکھاآؤں ؟مالی مغربی افریقہ کا امیر ترین اور رقبے کے لحاظ سے ایک بہت بڑا ملک ھے جس میں وسیع پیمانے پر سونے کی کانیں ہیں ۔مانسی موسیٰ تیرہ سو بارہ سے تیرہ سو سینتیس تک اس ملک کا بادشاہ رہا ۔اسے انسانی تاریخ کا سب سے امیر ترین آدمی سمجھا جاتا ہے ۔ آپ اندازہ لگائیں کہ جب وہ حج کے لئے روانہ ہوا تو بارہ ھزار غلام ساتھ تھے اور ہر غلام کے پاس دوکلو سونا تھا گویا چوبیس ھزار کلو سونا.اس قافلے میں اسی اُونٹ بھی تھے اور ہر اُونٹ پر تئیس سے ایک سو چھتیس کلو تک سونا لدا ہواتھا یہ سونا بادشاہ مانسی موسٰی اپنے چار ھزار میل سفر حج کے دوران راستے میں آنے والی آبادیوں میں بانٹتا رہا ۔سفر کے دوران اس نے اتنا سونا بانٹا کہ اگلے بارہ سال تک دُنیا میں مسلسل سونے کی قیمتیں گرتیں رہیں ،لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ شاہی خاندان کون ہے؟

جی ھاں یہ مکے کے اس غلام زادے کی اولادہیں ۔جسے ہم بلال حبشی کے نام سے جانتے ہیں اور جسے غلاموں کی منڈی میں چند درہم پر بیچا گیا تھا لیکن مشکل حالات اور اپنی بے بسی کے باوجود بھی حق کے ساتھ کھڑا اور وفاداری پر ثابت قدم رہا تو قدرت نے نہ صرف دنیا اور آخرت کو سنوار کر رکھ دیا بلکہ اس کی تمام نسلوں پر برستی دنیاوی نعمتوں کو بھی کھبی رکنے نہیں دیا ۔کہنا یہی ھے کہ یہ ہوتا ہے حق پرستی اور وفاداری کا ثمراور یہ سلسلہ غلام ابن غلام بلال حبشی کے محترم ترین زخموں اور معتبر ترین پسینے سے عبارت ہے جس کے پیچھے صداقت آمیز عقیدت اور روشن قربانیوں کی لازوال تاریخ ھے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com