اپنی نماز کو کیسے بہتر کریں؟ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

نماز جہاں مؤمن کی معراج ہے، وہیں وہ مؤمن کی بھرپور آزمائش بھی ہے اور حق و باطل کی جنگ کا میدان بھی۔

مؤمن پر اللہ تعالی نے اپنا یہ حق بتایا ہے کہ وہ اس کے لیے دن میں پانچ مرتبہ قبلہ رو ہوکر نماز پڑھے۔ عبادات میں جس قدر اصرار نماز کے حوالہ سے ملتا ہے، وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ قرآن میں آیا کہ جب اہلِ جہنم سے پوچھا جائے گا کہ تم یہاں کیونکر پہنچے تو وہ بول اٹھیں گے: ”ہم نماز نہیں پڑھتے تھے“۔

نماز کی اس اہمیت کا ہمارے رفیقِ دیرینہ ابلیس کو بھی بخوبی اندازہ ہے، شاید ہم سے بھی کہیں بڑھ کر۔ اس لیے وہ بھی کمر کس کر ہمہ وقت میدان میں رہتا ہے۔ کبھی سستی، کبھی تھکاوٹ اور کبھی مصروفیت۔۔۔ جاذب طبیعت بہانے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ اور جب کہیں نماز کے لیے کھڑے ہو ہی جائیں پھر تو باقاعدہ اعلان جنگ شروع ہو جاتا ہے۔ خیالات کا ایسا جم غفیر چلا آتا ہے کہ بس الامان الحفیظ۔

اس جنگ و جدل کا کلائمیکس پوائنٹ ”سجدہ“ ہے، اس مقام پر تو شیطان بالکل بے دید ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نماز کو جس وجہ سے مؤمن کی معراج کہا گیا، وہ یہ سجدہ ہی تو ہے۔ جہاں انسان اپنا مقام بھی جان لیتا ہے اور خالق کا بھی۔ وہ یہ بھی سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اور خالق کے مابین حفظ مراتب کیا ہے اور یہ بھی کہ اس حفظ مراتب میں اس کے اور رب کے مابین دوجا کوئی بھی نہیں۔ یہی انسان کا اصل شرف بھی ہے۔ بہر حال عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس توجہ ہٹاؤ مہم کا اغاز تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے سجدہ ہر اس کی انتہا ہو جاتی ہے کیونکہ سجدہ نماز کی شاہ کلید ہے۔ جو سجدہ میں توجہ کے ارتکاز میں کامیاب رہا، اس نے نشان منزل پا لیا۔

گفتگو آگے بڑھانے سے قبل، بظاہر ایک غیر متعلق بات۔

ابراہام میسلو، بیسویں صدی کا نہایت معروف امریکی نفسیات دان تھا۔ اس نے 1943ء میں ایک خاکہ پیش کیا جو انسان کی ضروریات اور انسانی نفسیات میں ان کی ترجیح و ترتیب سے متعلق تھا۔

اس نے اس کی شکل ایک تکون کی صورت رکھی۔ اس کا کہنا تھا کہ انسان کے لیے اولین ترجیح وہ ضروریات ہیں جن سے زندگی کی بقا کا براہ راست انحصار ہے۔ مثلاً: خوراک، ہوا،پانی، لباس وغیرہ۔ یہ تکون کا سب سے نچلا اور سب سے کشادہ حصہ ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ انسانی نفسیات میں سب سے اہم اور انسانوں کی غالب اکثریت کے لیے اہم ترین مسئلہ ہے۔ اس کے بعد اس نے تحفظ کو رکھا اور پھر محبت اور سماجی تعلقات کی اہمیت کو رکھا۔ اس کے بعد جیسے جیسے تکون کا نسبتاً تنگ حصہ آتا ہے تو اس میں پہلے انسان کی انا اور شخصیت کے تقاضے ہیں اور سب سے اوپر ، عین تکون کے بالائی کونے سے متصل اعلی اخلاقیات اور ذات کی تکمیل سے متعلق تقاضے جمع کیے گئے۔ گویا مختلف مراحل سے گزرتے بالآخر اعلی اقدار کی باری آتی ہے اور وہ نہایت مطلوب ہونے کے باوجود کافی کمیاب منزل ہے۔

اب بات کا سلسلہ وہیں نماز اور اس میں آنے والے خیالات سے شروع کرتے ہیں۔

اگر آپ دیکھیں تو نماز میں آنے والے خیالات بھی کچھ اسی ترتیب سے آتے ہیں جو ہمیں میسلو کی تکون میں دکھائی دیتے ہیں۔ اولین یا تو روزی روٹی یعنی روپے پیسے کے معاملات ہوتے ہیں یا پھر نفسانی تقاضوں سے جڑے خیالات، اس کے بعد صحت و سلامتی کے مسائل اور پھر پیاروں کی فکر ۔

آپ نوٹ کیجیے دورانِ نماز یہ خیالات اسی ترتیب سے وارد ہوتے ہیں۔ امیر ہو یا غریب۔۔۔ سب کے لیے یکساں ہے۔ اگر آپ روپے پیسے کے خیال کو جھٹک دیں گے تو تحفظ و عدم تحفظ کی کشمکش آپ کو گھیر لے گی اور اگر وہاں سے بھی بچ نکلے تو پیاروں کی فکر آ دامن گیر ہوگی۔ اگر آپ ہمت کرکے اس سے بھی آگے نکل جائیں تو پھر دو اور اسٹیشن آپ کے انتظار میں ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ کتنے اچھے ہیں سب کام چھوڑ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔۔۔ ہوسکتا ہے نیکی اور بھلائی کے کچھ اور آئیڈیاز بھی ذہن میں آنے لگیں۔ اگلی اسٹیج اس سے بھی خطرناک ہے کیونکہ اب آپ کو یہ خیال آنے لگے کا کہ آپ نہ صرف اچھے ہیں بلکہ دوسروں سے کہیں بڑھ کر ہیں جو نماز نہیں پڑھ رہے۔ دل ہی دل میں اپنے لیے تعریفی کلمات کہنے اور سننے میں مصروف ہوجائیں گے۔ یہ شیطان کا آخری اور سب سے خطرناک حملہ ہوتا ہے۔

نماز کوئی آسان معاملہ نہیں۔ اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔ آپ غور کریں کہ نتیجہ ان سب خیالات کا ایک ہی ہے، توجہ نماز میں باقی نہ رہے۔ اس لیے ہر لحظہ ہوشیار رہیں۔ جس اسٹیج پر اٹک جائیں گے بس اسی میں پھنس کر رہ جائیں گے، ورنہ پھر اگلی اسٹیج۔ یہ دو، تین یا چار رکعات پڑھنا گویا جوئے شیر کا لانا ہے۔

اس مضمون کا مقصد آپ کو اس ضمن میں کسی تریاق سے آگاہ کرنا نہیں، بلکہ صرف اس قدر ہے کہ آپ بھانپ سکیں آپ کو کس سطح سے ”گھیرنے“ کی کوشش ہو رہی ہے اور اس کے بعد اگلا حربہ کیا ہوگا۔ کوشش یہ کریں کہ خود اس بات پر مرتکز کر سکیں کہ نماز کا دورانیہ یوں ہے گویا میں دنیا سے گزر چکا۔۔۔ وہ زندگی پیچھے رہ گئی، اس کی خواہشات و خدشات بھی۔ اب اس کائنات میں دو ہی ہستیاں ہیں۔۔۔ میں اور وہ جس کے سامنے میں کھڑا ہوں۔ اور بھرپور شعوری کوشش کریں کہ سجدہ میں توجہ سجدہ اور مسجود پر ہی رہے۔ یہ کام ہو جائے تو باقی نماز میں بھی آسانی ہونے لگتی ہے۔

نماز بھی زندگی کے دیگر تمام معاملات کی طرح جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ ہر بار نیا عزم ہے، کبھی ناکامی ہے کبھی کامیابی ہے۔ لیکن صبر اور تسلسل اس کا اصل جوہر ہے۔۔۔ خوب سے خوب کی کوشش اس کا حسن۔ اور اللہ تعالی کے ہاں کوشش ہی دیکھی جائے گی۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com