چلیں تو کٹ ہی جائے گا سفر، آہستہ آہستہ - عظمیٰ ظفر

گلی سے گزرتے ٹین ڈبے والے کی آواز کے ساتھ گلوکارہ بھی غزل سرا تھی۔ایک خوبصورت آواز کے ساتھ ٹین ڈبے والے کی بھونڈی آواز کا سنگم،تمکنت بیگم کے منہ میں چھالیے کی جگہ جیسے کنکر آگیا ہو۔انھوں نے برا سا منہ بنا کر صحن میں جھانکا جہاں گل بہار بانو ہلکے ہلکے سے کھانس رہی تھیں مگر ان کا بھاری بھرکم وجود ایسے ہل رہا تھا جیسے زلزلے سے زمین ہلے۔

چلیں تو کٹ ہی جائے گا سفر،،
آہستہ،،،،
آہستہ،،،،

آواز دور ہوتی چلی گئی۔ تمکنت بیگم کا منہ پھر سے کڑوا ہوگیا۔ہونہہ،،، کٹھن سفر تو کٹتا ہی نہیں جلدی،،، آہستہ آہستہ ہی چلتا ہے۔وہ گلی بھر کا جائزہ لینے لگیں۔ ساتھ والے کامران صاحب کے گھر میں کھڑی ویسپا کے ساتھ نئی ہنڈا سیون بھی لشکارے مار رہی تھی۔بیٹا ابھی ڈاکٹر بنا نہیں اور ابا نے ہوائی جہاز دلا دیا ہونہہ!!عادت انہوں نے سر ہلایا اور صحن میں جھانکا، جہاں کھانسی کا دورہ گل بہار بانو کو اٹھ چکا تھا۔ارے کوئی پانی دے دو نہیں تو مر جائے گی بڑھیا!وہ اوپر سے ہی چیخیں! قندیل،، کہاں ہو؟یہ کہتی ہوئیں وہ خود ہی سیڑھیاں اترنے لگیں۔مگر جب تک قندیل دادی کو پانی پلا چکی تھی۔"دادی ایک چمچ دوا لے لیں ساتھ آرام آجائے گا"، مگر انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔ذرا سی گڑ کی ڈلی دے دو بچے مجھے۔ان کی حالت سنبھل گئی تھی۔

"کہاں تھیں تم؟آواز نہیں گئی تھی کیا میری تمہارے کان میں؟"تمکنت بیگم نے پوچھا۔ گھسی ہونگیں رسالے کے اندر، ماں چاہے چیخ چیخ کر گلا سکھا لے اولاد کو کب پروا ہے۔انہوں نے بے تکی قندیل کو سنادی اور وہ بےچاری اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔رسالہ تو دو دن پہلے ہی اس سے چھین چکی تھیں جو اب تمکنت بیگم کے تکیے کے نیچے پڑا تھا جبکہ قندیل تو بڑی دل جمعی سے اپنا گلابی ڈوپٹے، جس کے کنارے کروشیے کی بیل بنانے میں لگی تھی۔ اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے،" امی اتنی سخت کیوں ہیں؟" ہمیشہ کی طرح دل میں سوال اٹھا مگر جواب مانگنے کی ہمت نہیں تھی۔"کچھ کھانے پکانے کا ارادہ کرلو قندیل کب تک مراقبے میں کھڑی رہو گی؟"تمکنت بیگم نے کمرے کے اندر سے آواز لگائی جو اب تک پلنگ پر لیٹ چکی تھیں اور رسالہ ان کے ہاتھ میں تھا۔

" یا اللہ! امی کی آنکھیں پیچھے بھی ہیں کیا؟"وہ بوجھل قدموں سے چلتی دادی کے پاس سے اٹھنے لگی۔" کیا کہہ رہی تھی تیری ماں؟"" اللہ دادی، پورا محلہ سن چکا ہوگا بس ایک آپ ہی نا سنیں" (دادی قدرے اونچا سنتی تھیں)قندیل زچ ہوگئی، َاس گھر میں میرا کوئی نہیں، فاطمہ بھی اپنی نانی کے گھر رہنے چلی گئی۔اس نے پڑوسن چچی کی بیٹی کو یاد کیا۔

"دادی،،، کھانے میں کیا کھائیں گی آج؟"

" نہانے،،،؟ ؟ نہیں آج نہیں نہاوں گی بہت سردی لگتی ہے قندیل۔"

انہوں نے جلدی سے کروٹ بدلی کہیں وہ اٹھا کر نا لے جائے انھیں۔

"اب خود ہی سوچوں؟ "

تمکنت بیگم کے خراٹے کمرے میں گونج رہے تھے۔ صبح کے دس بجے ان کی دوسری نیند شروع ہوگئی تھی۔فریج کھول کر دیکھا تو ساگ کی بہار تھی۔ اس نے جلدی سے فرج بند کردیا، اسے کون بنائے گا؟ ابھی دوپٹہ بھی مکمل کرنا ہے۔" ائے قندیل برف والے خانے سے خیمہ نکال لو، دال چاول آلو کے ساتھ مٹر ڈال دینا۔"امی کی آواز نے اس کا کام آسان کردیا۔قیمہ کو خیمہ اور فریزر کو وہ برف والا خانہ ہی کہتی تھیں۔آلو مٹر قیمہ اور دال چاول بنیں گے،،، اس نے ترتیب دے کر سامان نکالا۔پتہ نہیں قیمہ قیمے کی شکل میں کب پکے گا؟؟ ہمیشہ کچھ نا کچھ ڈال ہی دیتی تھیں امی۔تمکنت بیگم نے رسالے کے اوراق پلٹے تھے کہ ماضی میں کھو گئیں جب ثروت باجی کے کتابوں کے ڈھیر میں چھپا رسالہ نکال کر وہ نانی جان کے کمرے میں بیٹھ گئی تھیں۔ماہانہ نقوش اور سیپ میں تو گویا جان تھی ان کی،،،، پڑھتے پڑھتے ان وادیوں میں تمکنت کھو جاتی جہاں سے واپسی یا تو نانی کی ڈانٹ سے ہوتی یا ثروت باجی کی چیخ پکار سے۔

اے لو ! میں پہلے ہی کہہ رہی تھی کہ تمکین بٹیا اسی کمرے میں ہوگی۔ چاندنی خالہ نے کمرے میں جھانکتے ہوئے کہا…اس گھر کی اکلوتی ملازمہ نے باہر کی طرف اعلان کیا چلو جی چلو!!! نانا میاں بلاتے ہیں۔ مہمان خانے میں کوئی آیا ہے ان سے ملو، سب ادھر ہی جمع ہیں۔وہ اس کے سر پر سوار ہوگئیں۔" کیا ہے؟؟ چاندنی خالہ!!! مجھے نہیں ملنا کسی سے، آپ کہہ دیں میں سو رہی ہوں۔ تمکنت نے رسالہ ایک طرف رکھ دیا۔" سن تو بٹیا! اے حال حلیہ سمیٹ کر درست کرلیں اچھے بھلے مانس لوگ لگتے ہیں۔ یہ،،، بڑی گاڑی میں آئے ہیں۔" چاندنی بوا نے یہ،،، کو ہاتھ کے اشارےسے لمبا کیا۔ان کا بس چلتا تو اس پیاری سی تمکنت کو جو ہمہ وقت اجاڑ اجاڑ پھرتی تھی، سجا سنوار کر رکھتیں جیسے ثروت بٹیا رکھتی تھی خود کو،،،، نک سک سی ثروت تھی بہت نک چڑی۔ہم کہے دیتے ہیں جا کر، تمکین بٹیا ابھی آرہی ہیں۔یہ کہہ کر چاندنی خالہ کمرہ خالی کر گئیں۔ "بب ،، بات تو سنیں خالہ،،،" تمکین منہ بناتی اٹھ کھڑی ہوئی۔بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑسا اور بڑے کمرے کی جانب چل پڑی۔جہاں قسمت اس کے لیے طوفان لیے منتظر تھی۔

اکیلے ہوتے جاؤ گے!!

کسی سے اونچا بولو گے،،،

کسی کو نیچا سمجھو گے،،،

کسی کے حق کو مارو گے،،،

بھرم ناحق دکھاؤ گے!!!

تو لوگوں کو گنواؤ گے،،،

اکیلے ہوتے جاؤ گے!!!

انہی ہواوں میں دور کہیں ایک بڑے سے گھر میں ثروت بیگم تھیں، جو دس ملازموں اور ڈھیروں پرندوں کے بیچ تنہا تھیں، اکیلی تھیں۔ شوہر لیاقت مارکیٹ میں کپڑوں کے بہت بڑے بیوپاری تھے۔ مصروف اتنے کے رات سونے ہی گھر آتے، اکلوتا بیٹا شرجیل وکیل بننے کی غرض سے باہر پڑھنے چلا گیا مگر جاتے جاتے ثروت بیگم کا غرور توڑ گیا تھا۔"میری شادی کے خواب چکنا چور ہوگئے امی، اب میں لوٹوں گا تو کسی اور لڑکی کے ساتھ،،،، میں یہاں کسی کی پسند سے شادی نہیں کروں گا، نا آپ کی منشاء سے نا ابو کی مرضی سے۔آپ کی ناک نہیں کٹے گی،،، نا ہی اس جھوٹی شان کا گھمنڈ ٹوٹے گا۔ آپ خوش رہیں اس دولت کدے میں، مجھے اجازت دیں۔"وہ آیا اور کہہ کر دیار غیر چلا گیا۔

آن بان شان ہی تو چاہیے تھی انھیں جو مل گئی تھی۔ اب چاہیے وہ کسی کے ارمانوں کا گلا گھونٹ کر ملے، چاہے کسی کی پلکوں پر سجے خواب چرا کر،،، اب وہ صرف تنہا تھیں بہت تنہا مگر صاحب ثروت تھیں۔

پھر یہ بے چینی کیسی؟؟

وہ اکثر خود سے الجھ پڑتیں۔

جاری ہے،

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com