سلام انسانیت کے محافظو سلام - الطاف جمیل ندوی

دنیا میں اب ایک کلچر سا بن گیا ہے کہ کسی کی خدمات کے اعتراف کے بطور ہم اسے یادگار بنانے کے لئے ایک دن مقرر کر جائیں جو کسی خاص شعبہ سے وابستہ محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مخصوص ہو آج کل وبائی آفت کی اس مارا ماری صورت حال جس کے خوف سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔

اس کڑے وقت میں جو طبقہ سب سے آگئے کھڑا ہے آہنی زندگی آرام و سکون کو بلا کر اپنے گھر سے دور اپنے بچوں کی کلکاریاں سننے کو ترسنے کے باوجود اپنے کام میں مگن ہے وہ ہے شعبہ طب سے وابستہ طبی عملہ جو اپنی خدمات کو انجام دیتے ہوئے اپنی زندگیوں سے بھی کچھ اطباء اور نیم طبی عملہ کہی ایک جگہوں پر ہاتھ دھو بیٹھے ہیں آج کے دن کی مناسبت سے ہم نے بھی سوچا چلو انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے کیوں کہ آج ڈاکٹروں کا قومی دن منایا جارہا ہے۔ انسانیت کے لئے ڈاکٹروں اور Physitions کی کڑی محنت پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ہر سال پہلی جولائی کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس سال Doctor's Day کا موضوع ہے ”کووڈ19سے ہونے والی ہلاکتوں کو کم کرنا“۔

آج جبکہ پوری دنیا کورونا وائرس وبا کے خلاف لڑ رہی ہے‘ ڈاکٹروں کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ دن اُن تمام ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ہے‘ جو اپنی صحت پر اپنے مریضوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں اور چوبیس گھنٹے انہیں طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا پہلا قومی دن جولائی 1991 میں منایا گیا تھا۔ بھارت میں یہ دن ڈاکٹر Bidhan Chandra Roy کی سالگرہ کے ساتھ ساتھ برسی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر Roy بھارت کے مشہور ڈاکٹر اور مغربی بنگال کے سابق وزیراعلیٰ تھے وبا کے چلتے ڈاکٹر صاحبان اور نرسز نے جو ان تھک محنت کی اس کا صلہ ہم انہیں کہاں دے پائیں گئے صلہ رب الکریم کے پاس ہے انکی محنت ان کی کاوشوں کا کسی نے کیا خوب کہا ہے۔

Some heroes don’t wear caps, we call them doctors

کسی نامعلوم شخص کی طرف سے ڈاکٹرز کی شان میں کہا گیا یہ یک سطری جملہ ایسا ہے جسے ہم سب اپنی زندگیوں میں کبھی نہ کبھی محسوس کرتے ہیں۔ بے شک ڈاکٹرز ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک، دونوں واقعات کی تصدیق یہی کرتے ہیں۔ مرض کیسا ہی خطرناک کیوں نہ ہو، اللہ کے حکم سے یہ ڈاکٹرز ہی ہیں جو علاج کرکے ہمیں شفایاب کرتے ہیں۔ یہ بے غرض لوگ ہیں جو ہم سب کے فائدے کےلیے اس خطرناک وبا کے دنوں میں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک مختلف تاریخوں میں ڈاکٹرز کا دن مناتے ہیں تاکہ ان فرشتوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ مگر سال 2020 میں اس وبا کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اس دوران اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے بعد یہ مستحق ہیں کہ کسی خاص دن نہیں بلکہ ہمیشہ ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے اور ان کا شکریہ ادا کیا جائے۔

قومی یومِ اطباء اگر چہ ہمارے ہاں ان Anverseries کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ہو بھی کیونکر جب کہ ہم ایک ایسی امت کے اجزائے تراکیبی ہیں جس کا مقصدِ وجود ہی پوری کائنات کی بھلائی ہو۔ہمیں ایک ایسے بلند و بالا نصب العین سے متصف کیا گیا کہ رہتی دنیا تک ہم ہی مِشعَلِ راہ بننے کے اہل ہیں ہمیں کہا گیا کہ،کنتم خیر امة اخرجت للناس، گویا سارے جہاں کا درد ہمارے سینوں میں بھردیا گیا اور اب ہم ہی ہیں جو اس کا درماں تلاش کریں لیکن اس مطلب یہ نہیں کہ ہم قوم کے ان جانبازوں کو کسی مقام کے قابل نہ سمجھیں مشکل حالات میں اپنی جانوں کو بے خطر آزامئشوں کی بٹھیوں میں یہ جان کر بھی ڈالتے ہیں کہ وہ شاید اپنی عزیز جانوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ہمیں اپنے آقا صلى الله عليه و سلم نے صاف صاف یہ بات سکھادی کہ اہلِ زمین کے احسانات کبھی فراموش نہ کرنا۔

تو یہی ہے وہ بات جس کی بدولت جب آج اقوامِ غیر اپنے اطباء کو ان کی جانفشانی کے عوض یاد کرتے ہیں تو ہمیں تو بدرجہء اولیٰ یہ فریضہ انجام دینا ہے کہ اپنے ان عظیم لوگوں کو شاباشی دیں ان کی پیٹھ تھپتھپائیں جو آج کے ان ناگفتہ بہ حالات میں اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کو اس عالمی وباء سے بچانے کے لئے دن رات کوشش کرتے ہیں۔مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہے کہ ہم ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکاپائے بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں کہی بار ہم نے انہیں خون کے آنسو رلایا ہے اور ان کے احسانات کا وہ صلہ دیا کہ یہ ہی نہیں بلکہ ہر صاحب فہم شرم سار ہوگیا اور ہمارے لئے سوہان روح بن گیا کئی بار ان کے بچے آنسو آنکھوں میں سجا کر کہتے ہیں بابا مت جائیں آج پر یہ اپنے فرائض کے تئیں ہلکی سی غفلت کے بھی روادار نہیں ہوتے ہمارے ہاں تو اس کی اور زیادہ افادیت بڑھ جاتی ہے جب یہ ہڑتال ہو کرفیو ہو یا کتنے بھی نامساعد حالات ہوں اپنے گھروں سے نکل جاتے ہیں تو ان کے اہل خانہ انتہائی غم و اندوہ کی حالت میں ان کی واپسی کے لئے پریشان رہتے ہیں۔

آج اس وبائی صورت حال میں ہمارے عزیز محترم جہانگیر احمد ندوی حفظہ اللہ اپنے چھوٹے بھائی کے تجربات بتاتے ہیں جو اپنی آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں بیان کرتے ہیں ندوی صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اپنے چھوٹے برادر کے توسط سے یہ تکلیف دہ معلومات حاصل ہوئی کہ Isolation Wards میں تعینات طبی و نیم طبی عملہ اپنی پہچان اس خوف سے مخفی رکھتے ہیں کہ کہیں ان کے عزیز و اقارب کے ساتھ لوگ ناروا سلوک نہ کریں بہت افسوس ہوا یہ سن کر کہ ہم کس قدر گرچکے ہیں کہ اپنے محسنوں کو احسان کے بدلہ اپنی شناخت چھپانی پڑھ رہی ہے کیسی عبرت ناک صورت حال ہے کہ ہم اپنے ہی محسنون کے تئیں بجائے ان کی دلیری و جرآت کا اعتراف کرتے ان سے کچھ ایسا وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ ہم سے خوف محسوس کرتے ہیں اس وبا کے چلتے تو ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہئے تھا پر ہم واقف ہیں کہ کہی ایک مقامات پر ڈاکٹر حضرات کو گالی گلوچ سے بھگایا گیا اور ان کی تذلیل کی گی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے لئے آہنی کلیجہ بنانے والے ان اطباء حضرات اور نیم طبی عملہ کو اس نازک مرحلہ پر ساتھ دیں ان کی ہمت باندھیں ان کی کمر تھپتھپائیں اور انہیں سلامِ عزیمت و عقیدت پیش کریں تاکہ فہ فخر کے ساتھ سر اُٹھاکر انسانیت کو اس وبا سے باہر نکالنے کے لئے کام کرسکیں اور انہیں فخر محسوس ہو کہ ہم واقعی قوم کی امیدوں پر کھرےاترے ہیں چین جہاں اس وبا کی ابتداء ہوئی ایسی بھی تصاویر سامنے آئیں کہ ڈاکٹر لوگ جب اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تو انہیں ملائیں پہنائیں گئی مختلف ممالک میں ان کے جرآت مندانہ اقدامات کے اعتراف کرتے ہوئے ان کی عزت افزائی کے لئے مختلف طریقوں سے انہیں احساس دلایا گیا کہ واقعی آپ سب قوم کے سب سے پیارے ہو۔

کشمیر

یہاں لوگ صرف غیض و غضب کرنا اچھا سمجھتے ہیں مانا کہ اس شعبہ سے وابستہ عملہ جو ہے ان میں بھی ہزاروں خامیاں ہیں پر یہ کیا کم ہے کہ اپنی زندگی اپنی خوشیاں اپنے گھریلو معاملات کو بلا کر یہ آج کھڑے ہیں یہ آج پوری جرآت سے اس مصیبت میں کام کر رہے ہیں ہمیں شکایت ہوسکتی ہے ان خونی بھیڑیون سے جو اس عظیم شعبہ سے وابستہ ہوکر اپنی دنیا بنانے میں مگن ہیں پر ہم نے بھی دیکھا ہوگا کہ کچھ اطباء حضرات ایسے بھی ہیں جنہیں دیکھ کر یا جن کو سن کر ہی سکون سا آتا ہے کہ یہ ضروری میرے مرض کا علاج کرے گا جنہوں نے کٹھن اور صبر آزما حالات میں بھی اپنے کام کے تئیں غفلت نہیں کی ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بھی اپنے بیمار کی موت پر بھیگ جاتی ہیں جب یہ علاج و معالجہ کے سلسلے میں انتھک محنت کرکے کہتے ہیں NO MORE تو یقین کریں سب سے زیادہ دکھ انہیں کو ہوتا ہے کیونکہ یہ زندگی کے آخری مرحلہ پر اس بیمار کو بچانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کردیتے ہیں۔

اور اس کے کرب کو انہیں لمحات میں جان کر اپنی مقدور بھر کوشش کرنے کے باجود بھی جب بیمار زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے تب ان کی بے بسی ان کی بے کسی قابل دید ہوتی ہے اور NO MORE کہنا ان کے لئے سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے اور سر جھکا کر سامنے سے گزر جاتے ہیں جیسے سب سے بڑے گناہگار یہی ہوں چلئے ہم ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لئے انہیں ایک بار دل سے سلام کہتے ہیں ان کے ہاتھ چوم لیتے ہیں کہ آئے مسیحا جا اللہ تیری دنیا و آخرت تیرے لیے وجہ تسکین قلب و جگر بنا دے
سلام اے انسانیت کے محافظو سلام

آج میری طرف سے اپنے ان محسنوں کے نام

آج دل میں اک ہوک سی اٹھی یہ سوچ کر سوچا

کہ ارے کون لوگ ہیں یہ اتنی بڑی بڑی ڈگریاں لے کر

بھی اسپتال میں بیمار کو سہارا دیتے ہیں

کیا یہ بہت غریب ہیں کہ انہیں جیب خرچ بھی نہیں

کیا انہیں کھانے کو بھی کچھ ملتا نہیں

کیسے لوگ ہیں یہ دو پیسوں کے لئے موت سے آنکھیں ملا رہے ہیں انہیں کیا ڈر نہیں لگتا کیا انہیں اپنوں کی یاد نہیں آتی ان کے بچے نہیں ہیں کیا کیا ان کا دل نہیں ہے جو بچنے کی خواہش نہیں مچلتی ۔ یہ اپیلیں کر کیوں رہے ہیں خود گھروں میں کیوں نہیں رہتے یہ کیا بات ہوئی خود اسپتال میں پیسہ کما کر ہمیں گھر رہنے کا کہہ رہے ہیں یہ کیا بات ہوئی اسپتال میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ دعوتیں اڑا رہے ہیں۔

تو یاد آیا

اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو

یہ ہمارے اصلی ہیرو ہیں

یہ ہمارے اصلی جانباز ہیں

یہ ہمارے اصلی خیر خواہ ہیں

ان کے دل میں پر صرف اپنوں کے لئے نہیں دڑھکتے ۔بلکہ انسانیت کے لئےان کے ارمان بھی مچلتے ہیں جینے کے پر یہ اپنے ارمان دفن کردیتے ہیں یہ ذرق برق لباس کا شوق تو رکھتے ہیں پر بیمار کے لئے ہلکا پھلکا ہی ہیں لیتے ہیں ۔انہیں بھوک لگتی ہے پر مریض کو دیکھ کے ہی مر جاتی ہے ۔یاردل کرتا ہے آج تک سیلوٹ کرنا نہیں سیکھا پر دل سے انکو سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہےکیوں کہ اب انہوں نے دل میں جگہ بنا لی ہے۔تم جیو اس مشکل وقت میں پوری قوم تمہارے لئے دعا گو ہے۔

تم جیت جاؤ یہ بازی

ہزاروں نگاہیں منتظر تک رہی ہیں

سلام تمہاری ہمت و شجاعت کو یہ دل تم پر قربان ہوئے جارہا ہے آئے ملت کے خیر خواہو تم سلامت رہو۔ اب میرےدوستو پلیزسب کے سب انہیں ایک سیلوٹ دل سے ہی کردو کومنٹ میں کسی ساتھی ڈاکٹر کو ایڈ کرکے دل سے سلام و سیلوٹ کرے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com