امریکہ کا سیزر ایکٹ اور ایران کی مذمت سب بدنیتی کی علامتیں - شہباز رشید بہورو

امریکی کانگریس نے گزشتہ سال سیزر ایکٹ کے نام سے ایک قانون پاس کیا اور 17 جون2020 کو اس قانون کی تنفیذ عمل میں لائی گئی۔امریکی حکومت نے رواں مہینے سے سیزر قانون کے تحت شام کے حکام، کارپوریٹ اشخاص اور اداروں پر مزید پابندیاں نافذ کردی ہیں۔سیزر قانون ایک شامی ملٹری فوٹوگرافر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جس نے بشار الاسد کے جنگی جرائم سے متعلق ہزار ہا کی تعداد میں تصاویر اسمگل کی تھیں۔

امریکی سیزر قانون کے تحت کوئی بھی غیر ملکی تاجر کسی بھی نوعیت کی تجارت نہ موجودہ شامی حکومت اور نہ ہی شامی عوام کے ساتھ کر سکتا ہے۔کیونکہ اس طرح سے بشار الاسد کی حکومت مضبوط ہو جانے کا خدشہ ہے ۔اگرچہ امریکہ نے شام پر پہلے سے ہی کچھ چھوٹی چھوٹی پابندیاں عائد کی ہوئی تھیں لیکن سیزر ایکٹ کی وجہ سے عائد کردہ پابندیاں وسیع اور پیچیدہ ہوں گی جو بیرونی ٹریڈرس، بنکس، انسان دوستی کی بنیاد پر مدد کرنے والی تنظیموں کو بھی انفرادی سطح پر بے ضرر لین دین کرنے سے محروم کر دے گیں ۔اس طرح سے بشار الاسد کے مقابلے میں عام مفلوک الحال شامی زبردست متاثر ہونگے۔امریکہ کی یہ پابندی بظاہر بشار الاسد کی حکومت کو کمزور کرنے اور بالآخر اسے حکومت کی گدی سے ہٹانے کے لئے عائد کی گئی ہے لیکن اس سے کسی بھی قسم کا خاطر خواہ نتیجہ حاصل ہونے کی توقع قطعاً نہیں ہے۔کیونکہ امریکہ یہ پابندی کسی نیک نیتی سے عائد نہیں کررہا ہے بلکہ امریکہ کا پہلا مقصد روس کو شام کی سرزمین پہ رہ کر کمزور بنانے کا ہے اور دوسرا مقصد شام میں بشار الاسد جو کہ ایران اور روس کا حلیف ہے اسے ہٹا کر کسی دوسرے سفاک کو گدی پر بٹھا کر شام پر اپنی چودھراہٹ برقرار رکھنے کا ہے۔

امریکہ کو شامی مظلوموں کی خوشحالی سے کوئی سروکار نہیں اسے تو شام میں اپنی حکومت چاہیے جس کی خاطر وہ جنگ لڑ رہا ہے۔دوسری طرف بشار الاسد روس اور ایران کی مدد سے برابر اپنی پوزیشن شام میں مستحکم کرتا جا رہا ہے ۔وہ کسی بھی پابندی کا مقابلہ اپنی ذاتی اور حکومتی سطح پر کرنے کے قابل ہے۔پابندی کا اثر اس ظالم پر پڑنے کے برعکس مظلومین پر زیادہ سخت ہوگا۔جس کے نتیجے میں شامی عوام نہ ہی مستقبل میں بشار الاسد کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی اور نہ ہی دوسری کسی قسم کی افتاد کا مقابلہ کرنے کی پوزشن میں ہوگی۔امریکہ اور روس کا میڈل ایسٹ میں اپنا اپنا ایک منصوبہ ہے جس کے تحت وہ صرف اور صرف اپنے مفادات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں نہ کہ شامی عوام کے مسائل کا حل ۔امریکہ کی سیزر پابندی سے شامی عوام کی عمومی زندگی متاثر ہو گی ناکہ حکومت کی حاکمیت اور عیاشی ۔بشار الاسد شام پہ حکومت ظلم اور عیاشی کرنے کے لئے کر رہا ہے۔اسے عوام کی خوشی اور خوشحالی کے بدلے اپنی عیاشی اور اپنے آقاؤں کی خوشنودی چاہیے۔میڈل ایسٹ آئی پہ لکھنے والا کریسٹوفر فلپس لکھتا ہے کہ"سابق پابندیوں کی طرح یہ پابندی بھی غالباً زیادہ متاثر شامی عوام کو کرے گی,جب کہ اسد اور اس کے حلیف کسی طریقے سے بھی اس پابندی سے اپنے مفادات بچانے کابندوبست کریں گے اور اپنی حکومت کو مزید مضبوط کریں گے اور پاپندی سے پیدا شدہ مشکلات کو عوام پر تھونپ دیں گے۔"

امریکہ بظاہر یہ اعلان کر رہا ہے کہ اس کی پابندی کا حتمی نشانہ صرف بشار الاسد اور اس کے رفقاء ہیں ۔یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے ایک بیانیہ میں کہا تھا :"سیزار ایکٹ کے تحت عائد ہونے والی پابندی اور ایکزکیٹیو آرڈر 13894کا ہدف شامی عوام کو نقصان پہنچانے کا نہیں ہے بلکہ بشار الاسد کی زیادتیوں کی روک تھام کرنا ہے ".لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیزار پابندی کا براہ راست اثر مظلوم شامیوں پر ہے ۔سیزار پابندی کی رو سے کوئی بھی غیر ملکی تاجر کسی بھی بڑے یا چھوٹے شامی تاجر سے تجارت نہیں کر سکتا ہے ۔جس کا براہ راست اثر معاشی نظام کے خطرناک اضمحلال کی صورت میں نکل سکتا ہے۔امریکہ کا یہ قدم بالآخر شامی عوام کو معذور کر کے دکھ دے گی اور نتیجتاً شامی عوام مغربی این جی اوز کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے گی۔پہلے ہی گزشتہ چند مہینوں میں شام کی معیشت بری طرح گر چکی ہے نتیجتاً شدید افراطِ زر، کاروباری جمود،غذائی قلت اور شدید بے روزگاری جیسے سنگین مسائل نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے۔اب اگر یہ پابندی عائد کی جاتی ہے تو اس سےمستقبل میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بآسانی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔

پولیٹکو میگزین پر لکھنے والے چارلس لسٹر کے مضمون کے مطابق شام میں ایک متوسط مہینے کی تنخواہ سے صرف ایک تربوزہ خریدہ جا سکتا ہے اور شام کی 80فی صد آبادی شدید غربت و افلاس میں زندگی گذار رہی ہے ۔سیزر پابندی کا زیادہ اثرامدادی تعمیراتی کمپنیوں پر ہوگا جو جنگ سے تباہ مکانات کی تعمیر کر رہے تھے۔اس پابندی نےامدادی ورکرس کے ہاں مختلف خدشات پیدا کئے ہیں جن کے سبب ان کو کام روکنا پڑ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق سیزر ایکٹ کی وجہ سے شام کا میکرو اکنامک فری فال مزید ابتر ہوگا۔مئ اور جون 2020کے درمیان شامی کرنسی نے اپنی 50فی صد قیمت کھوئی ہے ۔جس کی وجہ سے تاجر، دکاندار وغیرہ نے اپنی دوکانیں اور کاروبار بند کر لئے ہیں اور کرنسی کی بحالی کا انتظار کر رہے ہیں۔جس کی وجہ سے عوام کو سخت معاشی صورتحال کا سامنا ہے۔بھوک اور بیماریوں کے علاج کے لئے دو وقت کی روٹی اور دوائیاں بہت مشکل سے دستیاب ہیں۔دمشق کے زرعی مضافات میں ایک کارکن نے چند صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا "ہر ایک یہاں قیمتوں کی بحالی کا خوفزدگی کے ساتھ انتظار کر رہا ہے۔لوگ نامید ہیں اورانہیں مستقبل میں مزید حالات بگڑنے کا خوف ہے اور انہیں کسی مزید بہتری کی توقع نہیں ہے".لوگوں کو اب شام میں جنگ کے بدلے زیادہ خوف بھوک کا ہے۔باسما الوش انسانی حقوق کی شامی کارکن ہے۔ان کے مطابق ان کے رشتہ داروں نے اسے کہا کہ ہم اب میٹ کا مزہ بھول چکے ہیں ۔

یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں پر عوام کن کن خطرناک حالات میں جی اورمر رہے ہیں.لیکن امریکہ اپنی عالمی پوزشن کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ظالم کو سبق سکھانے کے نام پر ظالم کو مضبوط اور مظلوم پہ ظلم کر رہز ہے۔وائٹ ہوس نے پابندی کے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے کہا"2011میں شام کی خانہ جنگی کے آغاز سے لیکر اب تک بشار الاسد نے مظلوم شامیوں پر بے شمار مظالم ڈھائے ہیں ۔۔۔۔جن کی وجہ سے شام کی آدھی آبادی نقل مکانی کرنے پر مجبر ہوگئی۔اس لئے یہ پابندی ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ کوئی بھی شخص یا بزنس اس گھٹیا حکومت کے ساتھ تجارت نہ کرے جس کی وجہ سے یہ مضبوط رہے".مائک پامپیو نے اہنے بیان میں کہا کہ پابندی کی صورت میں یہ ایک سیاسی اور معاشی مہم ہے جس کا مقصد صرف بشار الاسد کو شامی عوام پر ظلم کرنے سے روکنا ہے۔۔۔"

امریکہ کے اس اقدام کے خلاف سخت تنقید کی جارہی ہےکہ اس پابندی سے شام زبردست معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے ۔لیکن امریکہ پابندی ہٹانے کے بدلے صرف بشار الاسد کو کمزور کرنے کی بات کہہ کر ماہرین کے بیانات کو مسترد کرتا ہے۔شام ایک طرف سے روس، ایران اور بشار الاسد کے ظلم سے دوچار ہے اور دوسری طرف امریکہ، یورپی یونین اور کچھ عربی ممالک کے زیادتیوں کا شکار بھی ہے۔شام کی سرزمین امریکہ اور روس ،سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔امریکہ کی یہ پابندی صرف اور صرف اپنے مفادات کی خاطر ہے۔امریکہ میڈل ایسٹ میں مضبوطی کے ساتھ اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔امریکہ صہیونی ترجمان بن کر اسرائیل کے اردگرد مسلم ریاستوں میں جان بوجھ کے دخل انداز ہو کران کو خانی جنگی میں دھکیل کر کمزور کر رہا ہے جو آخر کار اسرائیل کہ مزاحمت کرنے کے قابل نہ رہ کر اسرائیل کے لئے ایک آسان لقمہ بن سکتے ہیں ۔

ایران نے بھی نئی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس "سفاکانہ" اقدام کے نتیجے میں خانہ جنگی سے تباہ حال ملک کی مصیبتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ چند دن پہلے ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کی طرف سے جاری ہونے ہوالے بیان میں کہا گیا کہ ایران اس قسم کی "یک طرفہ پابندیوں کو شام کے عوام کے خلاف معاشی دہشتگری سمجھتا ہے۔" بیان کے مطابق ایران "ان پابندیوں کو انسانی اقدار اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی سمجھتا ہے" اور کورونا وبا کے دوران ایسے اقدامات سے "شام کے لوگوں کی مصیبتوں میں اضافہ ہوگا۔ایران کے اس بیان میں اگرچہ بظاہر شامی عوام کے لئے ہمدردی جھلکتی ہے لیکن حقیقتاً یہ ہمدردی شام کی ظالم حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات ہونے کی وجہ سے ظاہر ہو رہی ہے۔ایران جیسا میں اپنےکئی مضامین میں لکھ چکا ہوں فرقہ وارانہ سوچ کا حامل ملک ہے۔اسے شام میں بشار اس لئے چاہیے کیونکہ وہ غالی شیعہ ہے ۔

شام کی مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی صرف اس صورت میں ممکن ہے روس، امریکہ، ایران اور سعودی عرب شام میں ایک آزاد انتخابات کروا کر وہاں پر نئی حکومت کو تشکیل دینے کی پرخلوص اور کامیاب کوشش کریں ۔لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ ان ممالک میں سے کوئی بھی ملک ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ہر ایک کا شام کے اندرونی معاملات میں دخل دینا ان کی بدنیتی واضح کرتا ہے۔شام میں ابھی تک سن دوہزار گیارہ سے جاری لڑائی میں پانچ لاکھ اسی ہزار سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ دربدر ہوگئے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */