سید منورحسن مرحوم - نصراللہ گورائیہ

صبح منور۔۔۔ شام منور

روشن تیرا ۔۔۔ نام منور

علامہ محمداقبال ؒ کے درج ذیل اشعار کا مطالعہ فرمائیں اور سید منور حسنـؒ کی شخصیت اور ان کے محاسن و اخلاق کو یاد کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ علامہ اقبالؒ کے ان اشعار کا مخاطب سید بادشاہ ہی تھا۔ ایک ایک ادا اور ایک ایک لفظ ان کی شخصیت کو چار چاند لگاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ ٔ مومن کا ہاتھ غالب و کار آفریں ، کارکشا ء کار ساز

خاکی و نوری نہاد، بندہ ٔ مولا صفات ہر دوجہاں سے غنی اس کا دل ِ بے نیاز

اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل اس کی ادا دل فریب، اس کی نگہ دل نواز

نرم دم گفت گو، گرم دم جستجو رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز

نقطۂ پر کار حق ، مرد خدا کا یقیں اور یہ عالم تمام ، وہم و طلسم و مجاز

عقل کی منزل ہے وہ، عشق کا حاصل ہے وہ حلقۂ آفاق میں گرمیٔ محفل ہے وہ

سید منور حسن ؒ کا نام زبان پر آتے ہی ذہن میں ایک خاکہ ترتیب پاتا ہے ۔ جناح کیپ پہنے، چشمہ لگائے، اپنے کردار کی طرح اجلا اور سفید لباس پہنے، چہرے پر مومنا نہ بصیرت اور پروقار شخصیت کا سحر لیے اذان سے پہلے ہی مسجد کی طرف روانہ ہونے کو تیارکیوں کہ جب رب کا بلاوا آ رہا ہو تو بندہ ٔ مومن کے پائوں کہاں رکتے ہیں وہ تو لپکتا ہے فلاح اور کامیابی کی طرف، وہ تو ہمیشہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتا تھا حتیٰ کہ جب وہ ’’کامریڈ‘‘ تھا تو تب بھی رب کے بلاوے پر ہر چیز کو چھوڑ کر رب کی طرف چل پڑتاکیوں کہ جس کا مقصود اور مطلوب رب بن جائے جو رب سے ملاقات کا متلاشی ہو تو وہ بھلا کیسے رک سکتاہے؟ بروز جمعۃ المبارک مورخہ 26جون2020 بمطابق 04ذوالقعدہ 1441 ھ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دار فانی سے ابدی اور لافانی جنتوں کی طرف چلا گیا جس کے لیے وہ عمر بھر مضطرب رہا۔

منور حسن ؒ کے بارے میں لکھنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا ان سے بات کرتے وقت مشکل دکھائی دیتا تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ابتدائی دنوں سے ہی مجھ کو تو ان سے بہت خوف آتا تھا بالخصوص کوئی سوال کرتے ہوئے کیوں کہ جواب آنے پر چپ سی لگ جاتی تھی، لیکن جوں جوں تعلق مضبوط ہوتا چلا گیا تو پتہ چلنا شروع ہوا کہ جیسے سخت یہ دکھائی دیتے ہیں اس سے کہیں زیادہ محبت اور پیار ان کے دل میں موجود ہے۔ بالخصوص اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکز میں گزارے ہوئے مہ و سال اور فراغت کے بعد بھی ان سے تعلق بنتا ہی چلا گیا اور بغیر کسی کام اور وجہ کے بھی جب تک وہ منصورہ میں رہے تو مہینہ میں ایک آدھ چکر ان کی زیارت کے لیے لگ ہی جاتا تھا۔اور وہ ہر دفعہ کہتے کہ ’’آپ لوگ پھر آ گئے‘‘ (اکثر نوید انور صاحب اور میں ملاقات کے لیے حاضر ہوتے تھے)ان کے کمرے میں جانے سے پہلے ابرار صاحب مرحوم کو سلام کرنا اور پوچھنا کہ آج مزاج کیسے ہیںمنور صاحب کے ؟؟ تو ان کا مخصوص انداز میں مسکرانا اور ہمارا اندر جانے کے لیے اجازت لینا تو مسکراتے ہوئے کہنا کہ ’’اندر تو آ چکے ہیں آپ اب اجازت کیسی‘‘بقول شاعر

؎ سب کے ہونٹوں پہ میرے بعد ہیں باتیں میری

میرے دشمن بھی میرے لفظوں کے بھکاری نکلے

سید منور حسنؒ نے جس طرح سے زندگی کو گزارا وہ ہمارے لیے ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس میں ہم اگر اپنی شخصیت کو سنوارنا چاہیں تو کوئی مشکل نہیں ، کیوں کہ منورحسنؒ جیسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہی اس لیے ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگ موجود رہیں کہ جن کی موجودگی معاشرے کے لیے باعث خیرو برکت ہو۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا نام سن کر جو چمک ان کی آنکھوں میں آتی تھی اکثر احباب اس چمک سے واقف ہیں اور منور حسن ؒ کے بقول ’’یہ جوانی کا رومانس ہے جو زندگی بھر نہیں بھولتا۔‘‘ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ایک خط جو ان کو بہت عزیز تھا جب وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوئے تو مولا نا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ نے ان کو اپنے ہاتھ سے لکھا تھا اور تحریر تھا کہ خورشید صاحب کے بعد آپ کا آنا ہمارے (تحریک اسلامی) لیے خیر و برکت ہو گا۔ مولا نا سید ابوالاعلیٰ ؒ کی یہ پیشین گوئی بھی سچ ثابت ہوئی کہ آپ کے آنے سے پوری تحریک اسلامی اور امت مسلمہ کو تقویت ہی پہنچی۔محترم پروفیسر خورشید صاحب کے یہ الفاظ اور خواہش کہ اللہ تعالیٰ مجھے منور بھائی جیسی نماز نصیب فرمائے اس بات کی گواہی ہے کہ’’ یہ بندہ دوعالم سے خفا تیرے لیے تھا۔

نظریے کے ساتھ وابستگی اور کمٹمنٹ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا اور مجال ہے کہ جس دن سے انہوں نے اس راہ پر خار میں قدم رکھا کبھی ایک لمحے کے لیے بھی قدم ڈگمگائے ہوں۔ اختلاف بھی کیا تو پورے دلائل کے ساتھ لیکن اجتماعیت کے ساتھ جڑے رہنے کو ہمیشہ ترجیح دی اور اس کا عملی نمونہ بھی بن کر دکھایا۔ استعمار کی استعماریت سے آگاہ رہنا اور اس کی چالوں کو سمجھنا بھی قیادت کے فرائض منصبی میں سے ہے اور وہ اس بخوبی آگاہ بھی تھے اور ’’گو امریکہ گو‘‘مہم اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جس بات کو اس بندۂ مومن نے پہلے دن سے جان لیاتھا پوری ریاست اور پوری قوم کو وہ بات دس بارہ سال بعد اسی ہزار سے زائد قربانیاں دینے کے بعد سمجھ میں آئی۔اسی بات پر تو کہتے ہیں کہ بندہ ٔ مومن خدا کی دی ہوئی فراست سے دیکھتا ہے ۔ پاکستان آرمی کے متعلق ان کا بیان اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہنا یقینا خدائے بزرگ و برتر کی استعانت کے بغیر ممکن نہ تھا۔

بقول شاعر

؎ موسم بدلا، رت گدرائی، اہل جنوں بے باک ہوئے

فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے

اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیش بہا صلاحیتوں سے نوازا تھا ان میں سے ایک گفت گو کا فن، ہنر اور سلیقہ بھی تھا اور یوں لگتا تھا کہ جب وہ بول رہے ہیں تو الفاظ کا چنائو ، آواز کا زیر و بم تمثیلی انداز اورا شعار کا استعمال تو دل میں گھر کرتا چلا جاتا تھا۔ بقول ولی خان’’ جماعت اسلامی نے ایسا ہیرا کہاں چھپا کے رکھا ہوا تھا‘‘ سمع و طاعت کا مجسم پیکر، صاحب الرائے قاضی حسین احمد مرحوم ؒ کے ساتھ لمبا عرصہ بطور قیم جماعت رہے اور اس عرصے میں جس مثالی اطاعت کا مظاہرہ انہوں نے کیا وہ آج ناپید ہے۔ لہذا جہاں ان کے محاسن اور فضائل بیان کیے جارہے ہیں وہاں پر ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ان کی خوبیوں کو تحریک اسلامی کے کارکنان سے لے کر ذمہ داران تک اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں تا کہ اجتماعیت کو مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے۔مطالعہ آپ کی شخصیت کو بہت نمایاں کرتا ہے اور سید منور حسنؒ کو یہ خوبی اپنے مرشد سید ابوالاعلیٰ ؒ سے ورثے میں ملی تھی۔ آپ کا معاصر اسلامی تحریکوں کا مطالعہ ، حالات حاضرہ سے نہ صرف آگاہی بل کہ اس پر گہری نظر اور کمیونزم سے لے کر سوشل ازم ، کیپٹل ازم پر گہری نظر ، دنیا کے حالات اور پیدا ہونے والے امکانات کو بھی یہ مرد درویش پوری بصیرت کے ساتھ دیکھتا تھا اور اس کے مقابلے لیے ہمہ تن تیا ر بھی رہتا تھا۔

؎ خود نمائی تو نہیں شیوۂ ارباب وفا

جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں

آج کے اس خودنمائی کے دور میں صدق و صفا اور راستی پر قائم رہنا یقینا مشکل ہے مگر ناممکن نہیں اور آپ نے اس کو بھی سچ کر دکھایا۔ صلے ، ستائش اور خودنمائی سے کوسوں دور صرف ایک اللہ کے لیے جینا اور مرنا اور اس کی خوشنودی کے لیے بننا اور سنورنا آپ کی کرشماتی شخصیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دنیا کے جھمیلوں سے دور رہنا اور اجتماعیت کو لیڈ کرنا اور دنیا کو اپنے پاس پھٹکنے بھی نہ دینا ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن یہ مشکل مرحلہ آپ نے اتنی آسانی سے طے کیا جو کہ یقینا رب کائنات کی خاص عنائیتوںمیں سے ایک عنایت ہے۔

؎ نفس کو آنچ پر وہ بھی عمر بھر رکھنا

بڑا محال ہے ہستی کو معتبر رکھنا

14نومبر2007ء جب ہم (اسلامی جمعیت طلبہ) نے عمران خان کی پنجاب یونی ورسٹی آنے کی مخالفت کی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں جوکردار سید منور حسنؒ اور خورشید صاحب نے ادا کیا وہ میرے لیے بطور ناظم اعلیٰ باعث صد افتخار تھا اور اس نے میرے قدموں کو تقویت بھی بخشی، وگرنہ اندرون اور بیرون ملک سے عمران خان کی محبت میں جو لوگ سرشار تھے قریب تھا کہ ان کا غصہ اور نفرت ہمارے لیے مسائل پیدا کردے لیکن واللہ جس طرح ان دونوں بزرگوں نے ہمارے سر پر ہاتھ رکھتا آج بھی وہ دن یاد کرتا ہوں تو آنکھیں اظہار تشکر سے بھیگ جاتی ہیں اور منورحسنؒ کا اپنے سینے سے لگانا اور ہمت بندھانا اگر شامل حال نہ ہوتا تو حالات مختلف ہوتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ 2013ء کے انتخابات اور اس کے نتائج اور بعد ازاں امیر جماعت کے انتخاب نے ان کی شخصیت اور سوچ میں بہت تبدیلی پیدا کی جس کا اظہار ان کی شخصیت کا خاصہ ہی نہیں تھا وگرنہ قریب رہنے والے اس سے ناآشنا کیسے رہ سکتے ہیں۔

اے کارکنان تحریک اسلامی!

آئیے ان کی نمازوں کی طرح اپنی نمازوں کو بنائیں، ان کی طرح دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں ، ان کی امانت و دیانت کو اپنی ذات اور شخصیت کا حصہ بنائیں ، ان کی طرح تحریک اسلامی کے ساتھ وابستگی کو نمونہ بنائیں اور ان کی طرح جب اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں تو اس کی رحمت ہمیں ڈھانپ لے اور سرخروئی عطا فرمائے۔۔

؎ اتنا میٹھا ہے وہ غصے سے بھرا لہجہ مت پوچھ

اس نے جس جس کو جانے کا کہا بیٹھ گیا

یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں

جو بھی اس پیڑ کی چھائوں میں گیا بیٹھ گیا

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت ہی کمال انداز میں دل کو موہ لینے والی علم تاثیر ی والی تحریر

  • اتنا میٹھا ہے وہ غصے سے بھرا لہجہ مت پوچھ

    اس نے جس جس کو جانے کا کہا بیٹھ گیا

    یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں

    جو بھی اس پیڑ کی چھائوں میں گیا بیٹھ گیا

    بہت خوبصورت تحریر ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ سید صاحب پر اس سے بہت زیادہ لکھ سکتے ہیں۔
    اللّٰہ رب العزت ہمیں عمل کی توفیق دے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */