اسلام آباد میں مندر اور شمشان گھاٹ کی تعمیر - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کئی دنوں سے شدید مصروفیت کی بنا پر میں اس موضوع پر لکھ نہیں پارہا۔ کئی احباب میری راے پوچھ رہے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ اگر اسلام آباد میں مسیحیوں اور قادیانیوں کی طرح ہندوؤں کی رہائش پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اور اسلام آباد میں مسیحیوں اور قادیانیوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر پر بھی اعتراض نہیں ہے، تو اسلام آباد میں مقیم ہندوؤں کےلیے ایک مختصر جگہ پر مندر اور شمشان گھاٹ کی تعمیر پر اعتراض کا کیا تک بنتا ہے؟

باقی رہا اس کےلیے حکومتی اخراجات کا معاملہ، تو اب تک کی اطلاع کے مطابق تو اس پر حکومتی خرچہ نہیں ہوا، لیکن اگر حکومتی خرچہ ہو بھی، تو سوال یہ ہے کہ جب آپ ہندوؤں سے ٹیکس کی وصولی کرتے ہیں تو اس ٹیکس میں سے ان پر خرچہ کیوں نہیں کیا جاسکتا؟

جو اصحاب علم بیت المال سے کنیسہ اور صومعہ کی تعمیر کی ممانعت والی عبارات پیش کررہے ہیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ زکوۃ کا مال بے شک کنائس پر نہ لگائیں لیکن خراج و جزیہ کے متعلق کیا خیال ہے؟ نیز پاکستان کا سرکاری خزانہ اس طرح صرف مسلمانوں کا بیت المال نہیں ہے، نہ ہی اس میں زکوٰۃ و عشر اور خراج و جزیہ کا الگ سے کوئی حساب چل رہا ہے۔ البتہ ”وزارت مذہبی امور“ کی ایک شاخ ”اقلیتی امور“ کی بھی ہے اور اس کا اپنا فنڈ بھی ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ اقلیتی امور کا فنڈ اقلیتوں کےلیے خرچ نہ کیا جائے؟

جو اصحاب علم اس ضمن میں وہ فقہی عبارات پیش کررہے ہیں جن میں ”مسلمانوں کے شہروں“ میں غیرمسلموں کےلیے نئے معابد کی تعمیر پر پابندی کا ذکر ہے، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ امام محمد کی کتاب السیر الکبیر میں اس مسئلے کے کئی پہلوؤں کی تفصیلات ذکر کی گئی ہیں۔ وہ ضرور ملاحظہ کیجیے۔

ایک اہم بات اس ضمن میں یہ ہے کہ کسی جگہ کو ”مسلمانوں کا شہر“ کا عنوان کب دیا جاسکتا ہے؟ نیز اگر مسلمانوں کے شہر یا گاؤں میں کسی حصے میں غیرمسلم مقیم ہوں تو کیا ان کو اپنی عبادتوں سے روکا جاسکتا ہے؟ ان پر کس حد تک حدود و قیود عائد کی جاسکتی ہیں؟ یہ ہیں وہ سوالات جن پر غور کرکے اس مسئلے پر فقہاے کرام کا موقف بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔

پس نوشت:
یہ ساری بحث اس اصول پر ہے کہ پاکستان کی سرزمین دار الاسلام ہے۔ جو اصحاب علم پاکستان کی سرزمین کو دار الاسلام ہی نہیں مانتے، ان کےلیے تو اعتراض کی کوئی گنجائش باقی ہی نہیں رہتی۔

اسی طرح وہ لوگ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ دار الاسلام و دار الحرب کی بحثیں سرے سے آج متعلق ہی نہیں رہیں، وہ نہ صرف یہ کہ دار الاسلام و دار الحرب کے تصورات کو نہیں سمجھے بلکہ معاصر بین الاقوامی قانونی نظام کو بھی نہیں سمجھ پارہے۔

ایسے ہی جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے غیر مسلم ”ذمی“ نہیں بلکہ ”شہری“ ہیں، وہ ذمی کی حیثیت کو شہری کی حیثیت سے برا سمجھتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے تصور ذمہ کو آج کےلیے غیرمتعلق قرار دیتے ہوئے وہ رومی قانون کے تصورِ شہریت کو نافذ العمل قرار دیتے ہیں!

مؤخر الذکر دونوں گروہوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کوے کو فاختہ کہہ بیٹھا تھا تو سننے والے نے کہا کہ آپ نہ کوے کو جانتے ہیں، نہ ہی فاختہ کو پہچانتے ہیں! اس شدید غلط فہمی پر تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری پہلے گروہ کی غلط فہمی اور اصولی تناقض پر گفتگو ہے۔ اسی طرح اس غلط فہمی پر بھی بات کی ضرورت ہے کہ ہمیں اس لیے ان کو اجازت دینی چاہیے کہ پھر ہم غیرمسلم ممالک میں مساجد کی تعمیر کےلیے اجازت نہیں مانگ سکیں گے۔ یہ بھی میرے نزدیک کوئی دلیل نہیں ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com