افسر شاہی- خالد رشید

کاش ہماری حکومت بھی لڑ لیتی۔۔۔ ۔ یا کاش کپتانی حکومت بھی لڑ لیتی ۔۔۔۔۔

کورونا ایشو پر لکھنے کے لئے جب بھی وقت نکالا کوئی نہ کوئی دفتری مصروفیات آڑے آ گئی آج بڑے عرصے کے بعد ہمت کر کے کورونا وائرس پر لکھنے کی جسارت کر ہی ڈالی ۔۔۔۔ کہتے ہیں تائیوان میں 2003ہی میں کرونا وائرس سے نپٹنے کے لئے کمانڈ سینٹرز بنا لئے گئے تھے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی ،کہ اسے کرونا وائرس کی کسی بھی ملک کی لیبارٹری میں ممکنہ تیاری کی خبر ہو چکی تھی۔وجہ یہ تھی کہ دنیا اس سے پہلے سارس اور ایبولا جیسی وباﺅں کا شکار ہو چکی تھی اور ماہرین کا خدشہ بتا رہا تھا کہ عنقریب اس سے ملتی جلتی کوئی وبا دنیا میں تباہی پھیلانے کا باعث ہو سکتی ہے۔اسی لئے تائیوان نفسیاتی و انتطامی طور پر اس حملے کے لئے بلکل تیار تھا۔اس نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ فوری طور پر چین اور ہانگ کانگ سے اپنا رابطہ منقطع کیا۔جنوری کے اوائل میں ہی ماسک کی تیاری کے لئے بڑا مالیاتی حصہ مختص کردیا گیا ۔اگلا قدم وائرس سے ہر ممکن بچنے کے لئے اپنے عوام کو فوری طور پر احتیاطی تدابیر کو اپنانے کے لئے آمادہ کرنے کا تھا۔حکومت نے ڈیٹا ٹیکنالوجی سے فی الفور استفادہ کیا، تاکہ مشتبہ مریضوں تک فوراً پہنچنا ممکن ہوسکے۔ہر گاﺅں، دیہات کے منتظم کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا کہ وہ اپنی حدود میں موجود قرنطینہ سینٹر میں مریض کو خوراک اور پڑھنے کو کتابیں مہیا کرسکے۔ سوشل میڈیا پر وبا کے بارے پھیلائی جانے والی ڈس انفارمیشن کو بھی مکمل طور پر کنٹرول کیاگیا۔ان کی لیبارٹریوں میں ریسرچ کر کے ایسے اینٹی باڈی کو ٹیسٹ کیا گیا جو کرونا وائرس کی وجہ بننے والے پروٹین کو فوری اور حتمی طور پر جانچ سکے۔یہ اور ایسے بہت سے دیگر سنجیدہ اقدامات تھے جن کی وجہ سے وہاں وائرس تباہی مچانے سے باز رہا۔ اس وقت وہاں صرف چھ مریض ہیں اور کل ہلاکتیں محض سات ہیں ۔ابتلا و آزمائش اور خونی وباﺅں سے نپٹنے کا یہ وہ طریقہءکار ہے جو منجھی ہوئی، سنجیدہ اور حقیقی جمہوری حکومتیں اپنے لوگوں کے لئے اپنایا کرتی ہیں۔ وہ اپنے عوام کے حال ہی نہیں بلکہ مستقبل کے لئے بھی متفکر رہا کرتی ہیں۔وہ ہر طرح کے حالات کے لئے پہلے سے تیار ہوتی ہیں اورگر کوئی آفت بے خبری میں ان کے دروازے پر دستک دینے بھی لگے تو وہ حالات کی سنگینی کا فوری ادراک کرتے ہوئے حتی الامکان بچاﺅ کے انتظامات میں جت جاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج نیوزی لینڈ اور چائینہ جیسے ذمے دار ممالک بھی اس خونی وبا کے شکنجے سے خود کو نکالنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس کٹھن وقت کو لمبی لمبی بحثوں یا تاویلوں میں ضائع کرنے کی بجائے کمال مستعدی اور جاں فشانی سے عملی اقدامات اٹھائے۔کیونکہ ان کے نذدیک اس وقت معیشت یا کاروبار کو بچانے سے کہیں ذیادہ اہم انسانی جانیں بچانا تھا۔

تقریباً تین ماہ قبل جب چین کے شہر ووہان پر اس خونی وبا نے اپنی پنجے گاڑے تو چینی حکومت اور عوام وقت ضائع کئے بغیر بر وقت عملی اقدامات میں جت گئی۔ کیونکہ وہ تاریخ میں پھیلی گئی وباﺅں کے حقائق سے بخوبی واقف تھی۔وہ جانتی تھی کہ وبائیں کبھی بھی مذاق نہیں ہوا کرتیں ۔1339 میں کریمیا کے ساحل کی جانب رواں دواں بحری جہاز کے مالک نے اپنے غلاموں کے جسم نوچتے چوہوں کو مذاق میں لیا تھا تو کیسے وہی چوہے بعد ازاں 1351 تلک بیس کروڑ لوگوں کی قیمتی جانوں کی تلفی کا باعث بن گئے تھے۔جب 1664 سے شروع ہونے والی طاعون کی وبا کو انگلستان میں غیر سنجیدگی سے لیا گیا، لوگ گلیوںاور بازاروںمیں بے فکر ہو کر ہجوم کی مانند ٹہلتے رہے تو کیا ہوا تھا؟ ایک ماہ کے اندر اندر کئی خاندان ،گاﺅں اور شہر لقمہءاجل بن گئے تھے۔وہ جانتے تھے کہ انیسویں صدی میں جب الجیریا کے شہر ”اوروں“ کے لوگوں نے وبا کا ہنسی ٹھٹھہ اڑایا تھا تو کیسے دیکھتے ہی دیکھتے وبا پورے شہر کو نگل گئی تھی۔

چین کے فوری اقدام میں مرض کی تشخیص کو اہمیت دی گئی۔ انتہائی ذمہ داری اور بغیر کسی تساہل سے لوگوں کی ٹیسٹنگ پر توجہ دی گئی۔ ٹیسٹنگ کا طریقہءکار انتہائی مستعد،درست اور حتمی بنایا گیا ۔اس کی افادیت کو جنوبی کوریا نے بھی امریکہ سے کہیں بڑھ کر تسلیم کیا یہی وجہ ہے کہ جنوبی کوریا میں ہر روز کی بنیاد پر دس ہزار لوگوں کے ٹیسٹ لئے جارہے تھے اور امریکہ میں اتنے ہی لوگوں کے ٹیسٹ ایک ماہ میں کئے جا رہے تھے۔ ٹیسٹ ہی وہ واحد طریقہ تھا جس کے زریعے مرض ایک سے دوسری انسانی آبادی تک منتقل ہونے سے روکا جاسکتا تھا۔عالمی ادارہ صحت بھی بار بار واویلہ کررہا تھا کہ ٹیسٹنگ کی سہولت جلد از جلد لوگوں کو مہیا کی جائے۔اس وقت جب کہ ہانگ کانگ آبی راستوں تک پر بخار ماپنے کی مشینیں پہنچا رہا تھا ۔پاکستان میں ایران سے یہ وبا بطور خاص ،تحفتاً اپنے ملک میں تفتان کے راستے اتاری جارہی تھی۔پاکستانی حکومت نے اس کے پھیلاﺅ کے ممکنہ اثرات کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا ۔اور اپنی غفلت کو ماننے سے بھی مفر اختیار کیا۔

ادھر دنیا اس وبا سے بچاﺅ کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔اور پاکستان قدرے غیر سنجیدگی سے معاملے کو دیکھ رہاتھا۔

تشخیص کے بعد اگلا مرحلہ جو ذمے دار قوموں کی سمجھ میں آرہا تھا وہ تھا مریضوں کی آئسولیشن کا بندوبست ۔ ٹیسٹنگ کے بعداگر کسی میں کووڈ 19کا امکان درست ثابت ہوجاتا تو اسے فوری طور پر قرنطینہ کیا جانے لگا۔ آئسولیشن کا مقصد وبا کو ہر گلی کوچے میں منتقل کئے جانے سے بچانا تھا۔ اس سلسلے میں ہسپتالوں ہی پر اکتفا نہ کیا گیا بلکہ شہر کے ہالوں،تھیٹروں، ہوٹلوں کو بھی قرنطینہ سنٹرز میں بدلا جانے لگا۔جو لوگ گھروں میں قرنطینہ ہوئے ان کی پوری دیکھ بھال کو بھی ممکن بنایا گیا۔ پیرا میڈیکل سٹاف کی حفاظت اور بچاﺅ کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔ یہ افتاد جن ملکوں پر ٹوٹ رہی تھی ان کے اقدامات اور ان اقدامات سے حاصل ہونے والے نتائج ہمارے سامنے آرہے تھے ۔قدرت نے ہمیں خاصی مہلت دی کہ ہم ان سے سبق سیکھ سکیں ۔لیکن ہم نے سبق سیکھنے کو کوئی اہمیت نہ دی ۔ یہی وجہ ہے کہ جس قسم کے قرنطینہ سینٹرز بنائے گئے ان کی صورتحال انتہائی مضحکہ خیز بھی دکھائی دے رہی تھی اور عوام کی دل گرفتگی و بے بسی کا باعث بھی بن رہی تھی۔

تیسرا سبق جو چین جیسے ملک ہمیں سکھارہے تھے وہ یہ تھا کہ لوگوں کو ان کے گھروں تک محدود کیا جانا انتہائی اہم اور ناگزیر ہے۔ حکومت کو ایسا کرنا ہی ہوگا خواہ اس کے لئے وہ کیسے ہی اقدامات کیوں نہ اٹھائے۔ جب لوگ اس سے باز نہ رہے تو ان ملکوں نے سزائیں بھی نافذ کیں اور جرمانے بھی مقرر کئے۔ ان کی آگاہی مہم بھی خاصی متحرک رہی ۔ اور لوگوں نے اپنی جان بچانے کے اس طریقے کو ہی اپنایا کہ وہ گھروں میں خود سے قرنطینہ ہونے لگے۔ چین نے اس اقدام سے اتنی کامیابی حاصل کرلی کہ یہ وبا ووہان کے علاوہ کہیں اور تباہی پھیلانے کا باعث نہ بن سکی۔ہمارے سامنے امریکہ،اٹلی اور برطانیہ کی مثالیں بھی سبق بن کر آئیں کہ کیسے ممکنہ تباہی کے ادراک میں کوتاہ فہمی اور بروقت اقدامات میں سستی و غفلت نے وہاں وبا کو ہلاکت خیزی پھیلانے کا موقع فراہم کردیا۔

ہمارے ملک میں عوام کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ جہالت پڑھے لکھے طبقے میں بھی پائی جاتی ہے۔ ناخواندہ لوگوں کے علاوہ پڑھا لکھا طبقہ بھی سماجی و معاشرتی سوجھ بوجھ سے سرے سے ہی عاری ہے۔لوگ عموماً عام حالات میں بھی قانون شکنی کو بہت دھڑلے سے انجام دیتے ہیں۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں موت اور زندگی دونوں کو ہی غیر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ لوگ شاید دہشت گردیوں اور دیگر حادثات میں اپنوں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر نڈر ہو چکے ہیں۔یا پھربیماری،بھوک،بےروزگاری ولاچاری ہم سے ہمارے حواس پہلے سے ہی چھینے بیٹھے ہے سو ہمیں ہمیشہ کی طرح کچھ خاص فرق نہ پڑا اور ہم اس وبا سے خوف کھانے کی بجائے اس پرہنسی ٹھٹھہ کرتے رہے۔ خود حکومت بھی دوسرے ممالک میں گرنے والی لاشوں کو مثال بنا کر یہ بیان جاری کرتی رہی کہ ”گھبرانے کی تو کوئی بات ہی نہیں کیونکہ ہمارے ہاں موت کی شرح حکومت کے اندازوں سے بہت کم ہے“ فیصلہ سازی میں انتہائی کمزوری اور سستی دکھائی گئی۔حکومت کی جانب سے لگایا جانے والا لاک ڈاﺅن بھی کچھ اس طور ہی لگایا گیا کہ وہ اک مذاق بن کر رہ گیا جب کہ حکومت کو پہلے دن سے ہی اندازہ تھا کہ اس ملک کو محض لاک ڈاﺅن نہیں بلکہ کچھ دن کے سخت کرفیو کی ضرورت ہے۔ ابتدائی دنوں میں سخت کرفیو لگایا جاتا تو شاید سعودیہ کی طرح ہم بھی وبا کے پھیلاﺅ پر قابو پالیتے۔ہماری فوج اگر سیاسی عدم استحکام کی آڑ میں اقتدار الٹنے سڑکوں پر آسکتی ہے تو عوام کی جانوںکو محفوظ بنانے کے لئے اس کی طاقت کو سڑکوں پر کیوں نہیں آزمایا جا سکتا؟

عید سے پہلے اس رہے سہے لاک ڈاﺅن کوبھی ہٹا دیا گیا ۔گویا وائرس کو ہمارے گلی محلوں اور گھروں میں پہنچنے کی مکمل سہولت دے دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے بعد کے دنوں میں کرونا کا شکار ہونے والے لوگوں میں ذیادہ تعداد تاجر وں تھی یا ان لوگوں کی جنہوں نے بازاروں کا رخ کر کے ہر روز چاند رات کا سماں باندھا۔
حکومت یا کسی ادارے سے متعلق اگر سوشل میڈیا پر کوئی منفی بات پھیلائی جا رہی ہو تو فوراً ان اداروں کے سوشل میڈیائی سیل حرکت میں آجاتے ہیں ۔ لیکن اس وبا سے متعلق کچھ لوگ مسلسل منفی وگمراہ کن سازشی تھیوریاں پھیلارہے تھے جنہیں روکنے کے لئے کچھ خاص اقدامات نہ کئے گئے ۔کبھی کرونا کو ایک مذاق کہا گیا ،تو کبھی مریضوں کو ہسپتال تک جانے سے روکنے کے لئے ہسپتالوں میں زہر کے ٹیکے لگانے جیسی من گھڑت کہانیاں پھیلائی گئیں۔جس سے نا صرف ڈاکٹروں اور نرسوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی تھی بلکہ مریض بھی اپنی بیماری کو چھپانے لگے ۔ہسپتال اور قرنطینہ سینٹرز انہیں قصاب خانے محسوس ہونے لگے۔ اس دوران وبا کو تحلیل و تقسیم ہونے کا بھرپور موقع میسر آتا رہا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر چوبیس گھنٹوں میں کم ازکم چار ہزار کیسز سامنے آرہے ہیں۔ہر پندرہ منٹ میں ایک ہلاکت ہورہی ہے۔مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی بڑھ گئی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو رکھنے کی گنجائش نہیں اور پرائیویٹ ہسپتال کرونا کے مریضوں کو لینے سے انکاری ہیں۔یا وہاں اخراجات اس قدر بڑھا دئے گئے ہیں کہ عام حیثیت کا مریض وہاں جا نہیں پارہا۔ لیکن حکومت بدستور ابھی بھی یہی کہہ رہی ہے کہ تباہی ہمارے اندازوں سے بہت کم ہے۔

وزیر اعظم صاحب حوصلہ رکھیں پاکستان میں ہلاکتوں اور مریضوں میں اضافے کی شرح کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ دنیا کا تیسرا بڑا متاثر ملک بننے ولا ہے ۔کیسز کے اعتبار سے اس وقت پاکستان تیسرے نمبر پر آچکا ہے اور روزانہ کی ہلاکتوں کی شرح چین سے بڑھ چکی ہے۔

دنیا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اس وبا کو شکست دے رہی ہے اور ایک ناکام حکمران اپنے عوام کو کہہ رہا ہے کہ ”اب آپ کو اس کے ساتھ جینا سیکھنا ہو گا “اس کے ساتھ جیتے رہے تو حالات کیسی سنگینی اختیار کرلیں گے اس کا اندازہ تو اب ہر پاکستانی بخوبی کر رہا ہے ۔وزیراعظم صاحب ہرگھر کے کفیل کو روٹی کماتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت کیا ہو رہا ہے یہ کہ گھر کے واحد کفیل ہی کو کرونا کھا رہاہے۔ اگر اس وبا سے نپٹنے کا کوئی عملی یا سائنسی طریقہءکار حکومت کی دسترس سے باہر ہے تو پھر اسے اپنے سادہ لوح لوگوں کے ڈھکوسلے کےلئے ثنا مکی یا کسی اور قہوے کو ہی سرکاری ٹوٹکے کا درجہ دے دینا چاہئے ، یا پھر کوئی بھی روحانی وظیفہ سرکاری طور پر جاری کر دینا چاہئے تاکہ عوام کو یہ احساس تو رہے کہ ان کی ریاست کا خلیفہ ان کے لئے متفکر رہتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com