اس کی امیدیں قلیل۔۔۔ اس کے مقاصد جلیل - وقاص انجم جعفری

ہم بھی کس ”عہد وبا“ میں جی رہے ہیں۔ کل جس کی صحت کے لیے گریہ کناں تھے، آج اسی کی مغفرت کے لیے رب کے حضور دست بہ دعا ہیں۔ اپنی مہلت عمل کو سمیٹ کر رخصت ہونے والے عام انسانوں کا تو ذکر ہی کیا کہ اب تو چاروں طرف ”مردہ شماری“ کے میٹر آویزاں ہیں۔ ادھر زندگی نے آخری ہچکی لی، ادھر بے شمار برقی اور ابلاغی اداروں کو وہ تر نوالہ میسر آجاتا جو ان کے اگلے 24 گھنٹوں کی جگالی کے لیے کفایت کرتا۔ انسان اب تو گوشت پوست کے وجود کےبجائے، کاونٹ ڈاون کی خاطر محض ایک بے جان عدد ( numeric) ٹھہرا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پہلو بہ پہلو ایسے بھی لوگ ہم سے بچھڑ رہے ہیں، جن سے مل کر زندگی کا عرفان نصیب ہوتا تھا۔

مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں انہیں زمین کا نمک اور پہاڑی کا چراغ کہا جاسکتا ہے۔ کردار ان لوگوں کو دیکھ کر اپنے گیسو سنوارتا ہے اور تقوی،ان کی زندگی کے ذریعہ انسانوں کو اپنی پہچان کراتا ہے۔

ان دنوں ہم دونوں اطراف سے کچلے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ٹڈی دل ہمیں ”قحط الاجناس“ میں مبتلا کررہا ہے تو دوسری طرف بحیثیت امت ہم ”قحط الرجال“ کے مارے ہوئے ہیں۔ یہ چند نفوس بھی ایک ایک کرکے ہم سے رخصت ہورہے ہیں جن کے توسط سے برکتیں نازل اور دعائیں قبول کی جاتی تھیں۔

اردو کے صاحب طرز ادیب مختار مسعود درست کہہ گئے ہیں کہ ”بڑے آدمی انعام کے طور پردیے جاتے ہیں اور سزا کے طور پر روک لیے جاتے ہیں۔“

ہمارے معاملے میں تو یہ سزا اس لیے بھی طویل ہوتی جارہی ہے کہ ان کی قدر افزائی تو دور کی بات، ہمارے بے بصیرت معاشرےاب تو ”بڑےآدمی“ کی پہچان سے بھی عاری ہوتے جارہے ہیں۔ سید منور حسن، بلاشبہ ہماری اس جوانی کے رومانس تھے، جب ہم نئے نئے انقلاب آشنا ہوئے تھے۔ نوجوان نسل کی مینوفیکچرنگ ہی ایسی ہوتی ہے کہ ان کوتبدیلی کی ہر چاپ اور انقلاب کی ہر آہنگ فریفتہ کرلیتی ہے۔ کیا مشرق ومغرب اور کیاسرخ وسفید، نوجوان ہی انقلاب کا خام مال ہوتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں یہ خواب تشنہ تکمیل ہی رہتا ہے۔ الا یہ کہ انقلاب کی منزل کو جانے والا راستہ اور رہبر دونوں ہی درست نصیب ہوجائیں۔


‏نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
‏اپنے سینہ میں اسے اور ذرا تھام ابھی

‏سیدمنور حسن صاحب، انہی نوجوانو ں کے ہر دلعزیز و محبوب تھے۔ آپ نے 80 اور 90 کی دہائی میں نوخیزجوانیوں کے شعور انقلاب کو جوش اور ہوش کے آمیزہ سے کندن بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی شاید ہی کوئی بڑی سرگرمی ایسی ہو جس میں منور صاحب دل اور دماغ کو یکساں مخاطب نہ کررہے ہوتے۔ آج کی اصطلاح میں وہ crowd puller مقررین میں سے تھے۔ الفاظ کا چناؤ، لہجہ کا زیروبم، موقع محل کے مطابق موزوں اشعار، اردو محاوروں اور ضرب الامثال کا برجستہ استعمال۔۔۔ یہ سب مل جل کر نوجوانوں کو یوں اپنے سحر میں جکڑتا کہ معلوم ہی نہ ہوتا تقریر کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوگئی۔ ان کی تقریر، الفاظ کے شکوہ اور دلائل کے جمال سے مرصع ہوتی۔

سید منور حسن اول تا آخر نظریاتی آدمی تھے۔۔۔ مگر پہلی صف کے، بائیں بازو کے خیالات ان کے دل میں گھر کیے تو وہ اس کراچی کے مطلع پر جگمگائے جو پاکستان کا دارالحکومت ہونے کےعلاوہ نظریاتی طلبہ سیاست کا گڑھ مانا جاتا تھا۔ یہی بانکپن سید مودودی کے ہاتھوں اسلام کی آغوش میں آیا تو بقول شاعر


‏مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

”خیارھم فی الجاھلیہ“ سے ”خیارھم فی الاسلام“ کی طرف مراجعت کے بعد سید نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کہ اب ان کی زندگی کو اسلامی نظریہ حیات کا مکمل، انقلابی، حیات بخش مقصود مل چکا تھا۔ سید مودودی کے بعد، اسلامی جمعیت طلبہ ہی، منور حسن صاحب کی محبتوں اور محنتوں کا مرکز تھی۔ اس کی وجہ بھی بڑی واضح ہے۔ نیشنلزم اور سوشلزم کی تنگنائے سے اسلام کی وسعت ہاتھ آنے میں سید مودودی کی شخصیت، فکر اور تحریر نے ان پر اگر جادوئی اثرات مرتب کیے تھے تو دوسری جانب جمعیت وہ خوبصورت اجتماعیت تھی جس سے وابستہ ہونے کے بعد اس ”نوجوان کامریڈ“ نے پھر وہ عہد وفا استوار کیا کہ جس پر اس کے ہمراہی تو ایک طرف رہے، خود راہ کی صعوبتوں کو بھی پیار آتا ہوگا۔

جمعیت کے ذکر پر ہمیشہ منور حسن کے چہرے پر بشاشت پھیل جاتی۔جمعیت کے لوگوں سے ملنے، ان کی دعوت کو قبول کرنے اور ان کے ساتھ کہیں بھی جانے پر وہ ہمیشہ آمادہ رہتے۔ ان کے اچھے گمان اور اچھی امیدوں میں جمعیت ہمیشہ سر فہرست رہی۔ اسلامی جمعیت طلبہ میں ہمارا دور (1995-1998) تو ”ان ہی کا دور“ تھا۔ سچی بات ہے اس پورے عرصہ میں جمعیت کو جو ”یکطرفہ“ محبت، سرپرستی، شفقت اور تعاون منور صاحب سے ملا، اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ ہم بھی ایک تعاون کے بعد ان کو اسی وقت ملتے تھے جب اگلی ضرورت اور تقاضا ہمیں اپنی چنگل میں جکڑ چکا ہوتا اور وہ ماتھے پر کسی شکن کے بغیر مسکراتے لبوں سے ہماری مسیحائی کرنے میں ذرا دیر نہ لگاتے۔

کمپیوٹر یا سوشل میڈیا کے ذریعہ ملنے والی تصویر کو اگر آپ بڑا(enlarge) کرنا چاہیں تو عموماً وہ تصویر بکھر جاتی ہے ،اسے ڈیجیٹل فوٹو گرافی کی اصطلاح میں low resolution تصویر کہتے ہیں جس کے پکسل، تصویر کو بڑا کرنے کے دوران پھٹ جاتے ہیں، بالکل یہی معاملہ انسانوں کا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ دور سے بہت اچھے لگتے ہیں مگرجوں جوں آپ اپنے کسی ممدوح، ہیرو اور محترم کے قریب جاتے ہیں، اس کی شخصیت کی کئی پرتیں اور اس کے پہلو بہ پہلو کئی تضاد اور کمپرومائزز نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ معروف مفکر والٹئیر نے شاید اسی لیے کہا تھا کہ ”کوئی بھی فرد اپنے گھر میں ہیرو نہیں بن سکتا“ ‏OPEN اور CLOSE بظاہر انگریزی کے دو متضاد الفاظ ہیں ،مگر ان دونوں کیفیات کا ایک دوسرا اور نسبتاً اہم رخ بھی ہے۔ جو فرد آپ سے جس قدر زیادہ CLOSE ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ وہ آپ کے سامنے OPEN ہوتا ہے۔ منور صاحب سے جو جس قدر قریب ہوتا، اسی قدر ان کی شفافیت سے متاثر ہوتا۔ ان معنوں میں وہ ایک High Definition Personality تھے۔ کسی فرد کے نقطہ نظر، فیصلوں اور موقف کے متعلق ایک سے زائد آرا ہوسکتی ہیں، مگر ان کی شخصیت کسی بھی تضاد، حسرت اور طمع سے ایسے ہی پاک تھی جیسے کسی غیرت مند کا بے نیاز دل۔

‏سید منور حسن صاحب کےتقوی، للہیت، فقر اور زہد کی گواہی ایک زمانہ دے رہا ہے۔ عموماً دیکھا یہ گیا ہے کہ زہد اور عبادت انسان کو انسانوں سے کاٹ دیتا ہے۔ کچھ تولوگ، اس فرد کو مقام بشر سے بلند کردیتے ہیں اور کچھ وہ ہستی خود زعم تقوی اور کبر نفس میں مبتلا ہوکر ”ہٹو بچو“ کی راہ پر گامزن ہوجاتی ہے۔ منور صاحب کے زہد وفقر کا شیرازہ اجتماعیت سے گندھا ہوا تھا۔ وہ سید مودودی کے تربیت یافتہ تھے جو ایسی اجتماعیت کو برپا کرنے کے لیے اٹھی تھی جو ایک طرف دین کے معاملہ میں روایتی صوفیوں سے زیادہ متقی پرہیزگار ہو اور دوسری طرف دنیا چلانے کی صلاحیت دنیاداروں سے زیادہ رکھتی ہو۔۔۔ بلاشبہ وہ تکبیر اولیٰ کے مقتدی اور صف اول کے نمازی تھے، مگر علم وتحقیق، کشمکش واستقامت، تنظیم و سیاست کی جنگاہوں میں بھی انہوں نے ایک لمحہ کے لیے پیچھے رہنا گوارا نہ کیا۔ ان کی خلوت اور جلوت ایک ہی رنگ میں رنگ ہوئی تھی اور وہ رنگ، ‏صبغت اللہ کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ ‏ان کی نمازمیں رغبت، مسجد سے تعلق اور خشوع پر بہت بات کی جاسکتی ہے۔ عبادت ان کی عادت تو تھی ہی مگر سچ یہ ہے کہ ان کی ہر عادت، عبادت کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ حضرت علی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ”عبادت ایسی کرو کہ تمہاری روح کو مزا آجائے، اس لیے کہ جو عبادت تمہیں اس دنیا میں مزا نہ دے، وہ آخرت میں جزا کیا دے گی!!!“ آج کے دور میں اس قول کی قابل رشک تعبیر، سید منور حسن صاحب کو عطا ہوئی تھی۔

‏منور صاحب کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی تھی کہ وہ بہت لیے دیے ( reserved) فرد تھے۔ گاہے یہ شکایت بھی سننے کو ملتی کہ مزاج کے تیکھے ہیں، سوالات کی حوصلہ افزائی کے بجائے ردعمل اور نکتہ آفرینی کی طرف چل دیتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک وہ ”غیر عوامی“ آدمی تھے۔ مجھے ان سے ”صحبت خاص“ کا کوئی بڑا دعویٰ نہیں، مگر لگ بھگ ایک عشرہ ان کی مصروفیات اور معمولات کے خاموش شاہد ہونے کے ناتے میرا نقطہ نظر ہے کہ انہوں نے اپنی حیات مستعار کا ایک ایک لمحہ اللہ کے حضور جوابدہی کے احساس کے ساتھ گزارا ہے۔ وہ ایک متعین ضابطے اور قاعدے کے انسان تھے جو سب سے پہلے اپنی ذات پر قدغنیں عائد کرنے والا تھا۔ تنظیم کے تقاضے پورے کرنے سے لیکر رب کے حقوق انجام دینے تک، وہ اپنی تسبیح روزوشب کا دانہ دانہ شمار کرتے تھے۔ تحریک نے انہیں جہاں بٹھایا، وہ جم گئے اور جہاں کھڑا کیا، وہ ڈٹے رہے۔ نظریات کی کشمکش ہو یا عصبیت کی مسموم ہوائیں، علم وتحقیق کا میدان ہو یا تحریک کے لیے پالیسی سازی کے مراحل، حوصلوں کو شل کرنے والی سیاسی شکستوں کا سامنا ہو یا اعصاب شکن تنظیمی بحران۔۔۔ ہر معاملہ میں وہ ”سر تسلیم خم“ کے خوگر تھے۔


‏اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے

‏وہ صف اول کے قائد،ہر دلعزیز راہنما، سردوگرم چشیدہ مدبر اورآج کے الفاظ میں پاپولر لیڈر تھے، مگر تحریک کی ضرورت اور مفاد میں طویل 15 سال پوری فعالیت، صلاحیت اور وقار کے ساتھ پاکستان کی سب سے بڑی اور منظم اجتماعیت کو لے کر چلنے اور سنوارنے میں لگادیے۔ مہمانوں سے ملاقات، خطوط کے جواب، تنظیمی دورے، انتظامی مجالس، ذاتی مطالعہ اور رب سے سرگوشی۔۔۔ سب چیزیں بہت خوبصورتی کے ساتھ ان کے نظام الاوقات میں پروئی ہوئی ہوتیں۔ دیکھا جائے تو ہم جیسے سخن نا شناس لوگوں کا منورصاحب سے گلہ لگ بھگ انہی شکایتوں سے ملتا جلتا تھا جو حمص کے گورنر سعید بن عامر کے متعلق لوگوں نے حضرت عمر کو دربار خلافت میں ارسال کی تھیں۔

‏منور حسن صاحب سے ملنے والا ان کی سادگی کے ساتھ ساتھ نفاست سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ نہ جانے کیوں ہم نے سادگی کے نام پربے ترتیبی اور تقویٰ کے نام پر بے ذوقی کو گوارا کیا ہوا ہے۔ سلیقے سے ترشے ہوئے بال، چہرے کے رعب میں اضافہ کرتی جناح کیپ، لباس سادہ مگر ان کی شخصیت کی طرح نفیس اورمرتب،ایک زمانے میں وہ سفید دوپلی ٹوپی بھی پہنا کرتے تھے۔ نفاست اور ترتیب منور صاحب کی ذات تک محدود نہ تھی۔ ان کا کمرہ ،سامان،میز غرض ان کی ایک ایک چیزان کے صاحب ذوق ہونے کی غماز تھی۔ تقویٰ کی مہک ان کی تحریر، تقریر میں یوں رچی بسی ہوتی کہ انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہ ہوتا۔ منور صاحب کے خطوط بھی ان کی تقریر کی طرح گل افشانی اظہار کے نوع بہ نوع پہلو لیے ہوتے۔ میں ان کی تحریر سے پہلے ان کے طرز تحریر (hand writing) کا لطف اٹھاتا۔ دینی اور سیاسی قائدین میں شاید ہی اب ایسے لوگ ملیں جو یوں خطوط لکھنے اور خطوط کا جواب دینے کی ”بار تہمت“ اٹھاتے ہوں۔ وہ محض ضابطہ اوررسم کو پورا کرنے کے لیے خط نہ لکھتے تھے۔ خطوط ان کی طرف سے انسانوں سے جڑنے،محبت کرنے اور ان کو ان کی اہمیت جتانے کا ذریعہ ہوتے۔ مجھے اس بات کا اندازہ اس وقت ہوا جب جمعیت سے فراغت کے بعد پہلی مرتبہ میں چند ہفتوں کے لیے امریکا کے دورہ پر تھا کہ ان کا ہاتھ سےلکھا ہوا خوبصورت، نصیحت آموز اور محبت بھرا خط میرا تعاقب کرتا ہوا نیویارک آپہنچا۔ ‏

سید منور حسن صاحب انسانوں کے رب کو دیے گئے وقت کے متعلق جس قدر حساس تھے، انسانوں کے ساتھ گزارے جانے والے وقت کے حوالے سے بھی کم فکر مند نہ تھے۔ عمر، علم، سماجی و سیاسی رتبہ سے قطع نظر فرد، ان کے نزدیک بہت اہم تھے۔ بارہا ایسا ہوا کہ کسی اہم اخبار/ ٹی وی انٹرویو یا کسی سیاسی شخصیت کی ملاقات سے انہوں نے صرف اس لیے معذرت کرلی کہ انہوں نے پہلے سے پنجاب، سندھ یا خیبر کے کسی چھوٹے سے ضلع یا یونٹ کو وقت دیا ہوا تھا۔ ان کے نزدیک طے شدہ کمٹمنٹ اور وعدہ کی پاسداری کسی بھی دوسرے کا م سے کم اہم نہ تھی۔ اس معاملہ میں ان کےھمعمر،ہمعصر،جمعیت کے حاضرین و سابقین،ذاتی دوست اور ھمدم دیرینہ، سب ان سے یکساں فیض اٹھاتے۔

دل کو سنبھالتا اور قلم کو لپیٹتا ہوں تو 85 سال پہلے لکھی جانےوالی اقبال کی نظم ”مسجد قرطبہ“ بانگ جرس بن کر ذہن میں گونجتی ہے اور مختار مسعود کی پر شکوہ نثر ”آواز دوست“ بن کر سماعتوں کو معطر کرتی ہے۔ سید منور حسن، اس دنیا میں رہنے کے باوجود کسی اور دنیا کے باسی تھے۔ اقبال نے تو دریائے وادی الکبیر کے کنارے ”کسی اور زمانےکا خواب“ صرف دیکھا تھا-مگر سیدمنورحسن نے اس دنیا میں ہونے کے باوجود ”کسی اور دنیا“ کا باسی بننا پسند کیا۔ منزل کی یکسوئی اور وفاداری کی استواری کے بعد انہوں نے لمحہ بھر پیچھے مڑ کر دیکھنا گوارا نہ کیا۔ یہ فقر، فقر اختیاری تھا اور یہ سودا، سودائے عشق۔۔۔ اس اعتبار سے سید منور حسن، حضرت عمر بن عبدالعزیز کی صف کے سپاہی تھے، جن کی وفات پر قیصرروم کو اعتراف کرنا پڑا کہ ”مجھے اس راہب کی حالت پر کوئی تعجب نہیں، جس نے اپنے دروازے کو بند کرکے دنیا کو چھوڑ دیا ہو اور عبادت میں مشغول ہوگیا ہو- مجھے تو اس شخص کی حالت پرتعجب ہے ،جس کے پاس دنیا ذلیل ہوکر آئی اوراس نے اسے پائے حقارت سے ٹھکرادیا۔

”قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی۔ مرگ انبوہ کا جشن ہو توقحط، حیات بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال، ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا، دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا۔“

سید منور حسن جس وقار کے ساتھ زندہ رہے، اس سے زیادہ بانکپن کے ساتھ اس جہاں سے رخصت ہوئے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی اور موت سے فنا اور بقا، فقر اور غنا، اجنبیت اور محبوبیت کو نئے مفہوم ملتے ہیں۔


خاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفات
‏ہردوجہاں سے غنی، اس کادلِ بے نیاز
‏ اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل
‏ اس کی ادا دل فریب،اس کی نگہ دل نواز
‏ نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
‏ نقطۂ پرکار حق، مرد خدا کا یقیں
اور یہ عالم تمام،وہم وطلسم ومجاز
‏عقل کی منزل ہے وہ عشق کاحاصل ہے وہ
حلقۂ آفاق میں گرمیٔ محفل ہے وہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com