کووڈ 19 اور پرائیویٹ سکولوں کا بحران - آصف لقمان قاضی

کووڈ 19 کورونا وائرس نے جہاں زندگی کے دیگر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے وہاں تعلیم کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اگرچہ اس وبا کے چند مثبت پہلوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیشتر تعلیمی اداروں نے آن لائن تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو درست سمت کی جانب ایک قدم ہے۔ ھمیں اپنے درس و تدریس کے طریقہ کار میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا چاھئیے۔

تعلیمی نظام کے جس حصے کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے وہ پرائیویٹ اسکول ہیں جو کہ درس و تدریس کے تعطل کے علاوہ مالی بحران کا بھی شکار ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ حکومت اور والدین کی جانب سے معاندانہ رویے کا انہیں سامنا ہے۔ یہ صورت حال کسی بھی طور ایک ایسے سماج کی عکاسی نہیں کرتی جہاں تعلیم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔ پرائیویٹ اسکولوں کو مافیا کے نام سے موسوم کرنا ایک قابل افسوس امر ہے۔

پرائیویٹ اسکولوں کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ کروڑوں بلکہ اربوں کماتے ہیں اور ان کا واحد مقصد والدین کی جیبوں سے پیسہ بٹورنا ہے، ایک درست تاثر نہیں ہے۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ھے کہ پرائیویٹ اسکولوں کی غالب اکثریت، چند اداروں کے استثناء کے ساتھ، اگر کوئی منافع کما بھی رہی ہے تو اس کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ جبکہ موسم گرما کی تعطیلات میں فیسوں کی وصولی میں کمی ہوجاتی ہے اور اخراجات بدستور برقرار رہتے ہیں۔ سکول نہ تو تعطیلات میں اساتذہ کو فارغ کر سکتے ھیں اور نہ ھی دو ماہ کے لئے عمارت چھوڑ سکتے ھیں ، اور ان دو ماہ کے دوران اگلے تعلیمی سیشن کی تیاری کا کام بھی جاری رھتا ھے۔ بیشتر سکول پیشہ ورانہ اخلاص کے ساتھ اپنے تعلیمی منھج کو بہتر بنانے کی کاوش کرتے ھیں۔ اس تمام محنت کے عوض کیا وہ اس کا حق نہیں رکھتے کہ اپنی سرمایہ کاری پر ایک مناسب منافع حاصل کریں؟ ایک غلط فہمی یہ بھی ھے کہ سکول کی فیس کی تمام رقم سکول کے مالک کی جیب میں جاتی ھے۔ حقیقت یہ ھے کہ اس کا نوے فیصد اساتذہ کی تنخواھوں ، عمارت کے کرایہ اور دیگر بلوں میں جا تا ھے۔ اگر والدین سکولوں کو فیس کی ادائیگی نہیں کریں گے تو سکول اساتذہ کو تنخواہیں نہیں دے سکیں گے۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسکول کی سطح پر پانچ سال سے سولہ سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے مناسب اور مفت تعلیم کا انتظام آئین کی شق 25 اے کی رو سے حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پرائیویٹ اسکول اس لیے معرض وجود میں آئے کیونکہ حکومت اپنی دستوری ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو پارہی تھی۔ سرکاری اسکولوں کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا ہر وہ شہری جو فیس ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے، اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں داخل کرواتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں سرکاری اسکولوں پر تقریبا ایک ہزار ارب روپے سالانہ سرکاری خزانے سے خرچ کرتی ہیں۔ اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں جانے والے ہر بچے پر بارہ ہزار روپے سے زائد رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ رقم سرکاری خزانے سے خرچ ہوتی ہے اس لیے اس کا کہیں تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ بجٹ سے ایک خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود تعلیمی معیار کی حالت زار سے سب لوگ واقف ہیں۔

اس صورتحال میں اگر پرائیویٹ اسکول معیار تعلیم کو بہتر بنانے کی کاوش کر رہے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ھے اور تعلیم کو بین الاقوامی معیار پر لانے کے لئے حکومت کو پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک کے ساتھ کام کرنا چاھئیے۔ اس کی بجائے حکومت والدین اور اسکولوں کو مد مقابل لانا چاہتی ہے۔ یہ یونین ازم کا وہی رویہ ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں صنعتیں تباہ ہوئی تھیں۔ ہو سکتا ہے کہ چند اسکول ایسے ہوں جن کا مطمح نظر صرف پیسہ کمانا ہو اور وہ والدین کا استحصال بھی کرتے ہوں لیکن اس کے ردعمل میں تمام پرائیویٹ اسکولوں کو نشانہ بنانا پاکستان میں تعلیم کے شعبے پر ایک کاری وار ہوگا۔

بمشکل دس فیصد شرح منافع (اگر کوئی کما رہا ہے) کے ساتھ چلنے والے اسکولوں کو یہ حکم دینا کہ وہ بیس فیصد رعایت بھی دیں اس حال میں جب والدین کی بڑی تعداد فیس بھی ادا نہیں کر رہی، پرائیویٹ اسکولوں کو بھی سرکاری اسکولوں کی طرح تباہی کی طرف لے جائے گا۔ نجی تعلیمی ادارے مالی لحاظ سے چلنے کے قابل ہوں گے تو درس و تدریس کا سلسلہ برقرار رکھا جاسکے گا۔ حکومت کاکام ان اداروں کو تحفظ اور سہولت دینا ہے، ان کا گلا گھونٹنا نہیں۔ کیا حکومتی ایوانوں میں کوئی رجل رشید ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com