پاکستان میں قیام امن - عبد الحنان کیلانی

29 جون بروز سوموار کراچی میں پاکستان کے معاشی مرکز سٹاک ایکسنچیج پر تخریب کاری کی کوششوں کو بری طرح ناکام بنا دیا گیا۔ جس سے پاکستان کے ہر شہری کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔ احساس تحفظ کا یقین ہوا ہے۔ انٹیلی جینس اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر بہت حدتک اطمنان ہوا ہے۔ پاکستان کے ذمہ داروں کی طرف سے اس دہشت گردانہ کاروائی کے پیچھے دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی راکا ہاتھ قرارا دیا جارہا ہے۔

لیکن یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ اس میں وطن عزیز کے نوجوانوں کوہی استعمال کیا گیا ہے۔ اسی دن جیونیوز کے پروگرام ’رپورٹ کارڈ‘ میں تجزیہ نگاروں نے درست سمت توجہ دلائی کہ ہمیں صحیح معنوں میں بلوچستان کے مسائل کو ایڈریس کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان سمیت ملک کے تمام محروم طبقات کی محرومیاں دور کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ احساس محرومی وقت کے ساتھ جب گہرا ہو جاتا ہے تو وہ تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتا۔

لیکن یہ واضح رہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ۔ اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا۔دوقومی نظریہ کی اساس ہی اسلام ہے۔ چنانچہ ملک کے تمام طبقات میں احساس محرومی ختم کرنے کے لیے ہمیں اسلام کا راستہ ہی اپنانا چاہیے۔ اسلام میں کالے، گورے، عربی، عجمی، بلوچی، سندھی، پنجابی، پختون، مہاجر، آبادکار، امیر، غریب اور اعلیٰ و ادنیٰ سمیت تمام طرح کی تقسیموں کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ انہیں صرف باہمی تعارف اور پہچان تک محدود رکھنے کا کہا گیا ہے۔ اسلام کی نظر میں جس طرح تمام افراد مساوی ہیں اسی طرح وسائل سے مستفید ہونے میں بھی وہ یکساں استحقاق رکھتے ہیں۔ بلکہ اسلامی اصول عدل کے مطابق وسائل حسب ضرورت خرچ کیے جاتے ہیں۔ جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں زیادہ وسائل صرف کیے جانے چاہییں۔
افسوس کہ اس سے پہلے اسلام کے ان سنہری اصولوں سے روگردانی اختیار کرنے کی وجہ سے ہمیں سقوط ڈھاکہ جیسے المناک سانحہ کا سامنا کرنا پڑا۔

جس کی وجہ سے اندراگاندھی کو کہنے کی جرات ہوئی کہ دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں دفن ہو گیا ہے۔ اب ہم مزید انتشار اور فسادات کے متحمل نہیں ہیں۔ لہذا حالات کی اصلاح کے لیے اسلامی اصولوں کو اپنانے کی جہاں ارباب اقتدار و اختیار کی ذمہ داری ہے وہاں عوام پر بھی یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی قیادت کا انتخاب کرنے کی کوشش کیا کریں جو اسلامی تعلیمات کو اپنانے میں ہی نجات سمجھتے ہوں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */