پاکستان پر اندرونی قرضہ کتنا ہے - آصف علی خان

موجودہ حکومت کے دو سال میں پاکستان کے اندرونی قرضوں میں 6500 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔30 جون 2018 کو ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کے اندرونی قرضوں کا حجم 17000 ارب روپے تھا جو اپریل 2020 میں 23575 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ دوسرے لفظوں میں ان 22 ماہ میں حکومت نے پاکستانی بنکوں، سٹیٹ بنک آف پاکستان، ، پرائز بانڈز اور دوسرے اندرونی ذرائع سے ہر روز اوسطاً 9 ارب روپے لیا۔

پاکستان کے مجموعی اندرونی قرضوں میں سے 5690 ارب روپے ٹریژری بلز کے ذریعے اکھٹے کئے گئے ہیں جبکہ قومی بچت سکیموں کے ذریعے حاصل کئے گئے قرضوں کا حجم 3636 ارب روپے ہے (جن میں سے 768 ارب روپے پچھلے دو سال میں جمع کئے گئے ہیں)اِسی طرح پرائز بانڈز کے ذریعے اکھٹے کئے گئے قرضوں کی کل مالیت 736 ارب روپے ہے اور پوسٹل لائف انشورنس اور سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈز سے لیا گیا کل قرضہ 146 ارب روپے ہے۔

اِن اندرونی قرضوں میں سب سے بڑا حصہ طویل مدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کا ہے۔ اس مد میں موجودہ حکومت نے دو سال میں 8944 ارب روپے اکھٹے کئے ہیں۔ جون 2018 میں ان بانڈز کے ذریعے حاصل کئے گئے قرضوں کی مالیت 3800 ارب روپے تھی مگر اپریل 2020 میں یہ بڑھ کر 12744 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔اگلے بارہ ماہ میں پاکستان سرمایہ کاری بانڈز کی مدد سے مزید 400 ارب روپے قرض لینے کا ہدف رکھا گیا ہے لیکن حکومت کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے اور گزشتہ دو سال کے رجحان کے پیشِ نظر اس قرض کا حقیقی حجم اس ہدف سے کہیں زیادہ ہو جانے کا خدشہ ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یکم جولائی 2020 سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں وفاقی حکومت نے قلیل مدتی قرضوں کے بجائے طویل مدتی قرضے لینے کا فیصلہ کیا ہے یعنی حکومت ٹریژری بلز کی ماہانہ نیلامی کے ذریعے مقامی بنکوں سے قرضہ حاصل کرنے پر انحصار کم کر کے ایسے بانڈز جاری کرے گی جن کے میچور ہونے کی مدت تین، پانچ، دس، پندرہ اور بیس سال ہو گی اور جن پر سود (یا منافع) کی شرح ایک ہی بار متعین کر دی جائے گی-

حکومت نے درحقیقت 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں ٹریژری بلز کی مد میں حاصل کئے گئے قرضے میں سے 286 ارب روپے واپس بھی کر دیئے ہیں اسی طرح ان اندرونی قرضوں کو ری پروفائل بھی کیا جا رہا ہے جو چھ ماہ میں واپس کرنا ہوتے ہیں تاکہ ان کو واپس کرنے کی مدت ایک سال سے لے کر دس سال تک کی جا سکے۔ گویا حکومت اس کوشش میں ہے کہ جو قرض وہ آج لے رہی ہے اس کا بڑا حصہ اس کو اپنے دورِ اقتدار کے خاتمے تک واپس نہ کرنا پڑے۔

اس سلسلے میں حکومت نے دوسرا اہم قدم یہ اٹھایا ہے کہ تمام اندرونی قرضوں پر لاگو شرحِ سود کو اب پہلے سے متعین کر دیا جائے گا تاکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کی جانے والی قلیل مدتی شرحِ سود میں اتار چڑھاؤ اس پر اثر انداز نہ ہو۔فی الوقت حکومت کے 70 فیصد اندرونی قرضوں پر شرحِ سود بار بار تبدیل ہوتی رہتی ہے اپریل 2020 میں ایسے قرضوں کا کل حجم جن پر شرحِ سود بار بار تبدیل ہوتی ہے 5975 ارب روپے تھا۔تاہم اس تبدیلی سے بھی آںے والی حکومتوں کو قرض کی واپسی کی پہلے سے طے شدہ شرائط کی وجہ سے اپنی مالی پالیسیاں بنانے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔

مگر اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس حکومت (اور آنے والی حکومتوں) کے پاس قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرض لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان پر واجب الادا کل اندرونی اور بیرونی قرض کے حجم میں پچھلے دو سال میں 12946 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یوں ملک کا مجموعی قرضہ 42820 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جو اس کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 98 فیصد کے مساوی ہے۔اسے سادہ لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان کو یکم جولائی 2020 سے شروع ہونے والے سال میں اپنا سارا اندرونی اور بیرونی قرض واپس کرنا ہو تو اسے اندرونی اور بیرونی، سرکاری اور نجی تمام ذرائع سے کمائے جانے والے ہر سو روپے میں سے 98 روپے اس مد میں دینا پڑیں گے۔اِن قرضوں پر صرف سود کی ادائیگی کے لئے یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے بجٹ میں 2946 ارب روپے رکھے گئے ہیں یعنی اگلے بارہ ماہ میں ہر روز لگ بھگ 8 ارب روپے اس مد میں خرچ ہوں گے-

ٹیکس امور کے ماہر محمد اشفاق تولہ کا کہنا ہے حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے لئے ٹیکس اکھٹا کرنے کا جو ہدف مقرر کیا ہے وہ کہیں سے بھی پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا جس کی وجہ سے اس کے اخراجات اور آمدن میں فرق تاریخ کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو مزید اندرونی اور بیرونی قرضے لینا پڑیں گے اور یوں قرض کا بوجھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائے گا۔

اگر صرف ٹریژری بلز کے ذریعے قرض لینے کو ہی دیکھا جائے تو بجٹ میں اس کا ہدف 400 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے مگر حکومت کو ٹریژری بلز کے ذریعے بھی اس سے کہیں زیادہ قرض لینا پڑے گا۔سابق وزیر خزانہ اور ماہرِ معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ پاکستانی معیشت پہلے ہی کساد بازاری کا شکار تھی مگر اب کورونا وائرس کی عالمی وبا نے اس میں ترقی کی رہی سہی گنجائش بھی ختم کر دی ہے۔ کاروبار اور صنعتیں بند ہو رہی ہیں ملک کی 48 فیصد آبادی غربت کی سطح سے نیچے جا چکی ہے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد اب تک بے روزگار ہو چکے ہیں اِن حالات میں حکومت ٹیکس آمدنی کا ہدف حاصل کرنا بھول جائے کیونکہ جب معیشت کا پہیہ نہیں چلے گا تو آمدنی کہاں سے آئے گی'-

ان کی نظر میں حکومت کے پاس سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں بچا کہ وہ مقامی اور غیر ملکی قرضوں پر پہلے سے بھی زیادہ انحصار کرے-بظاہر حکومت کو اس صورتِ حال کا کافی حد تک ادراک ہے کیونکہ اس نے اپنی بجٹ دستاویز میں پہلے ہی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وہ یکم جولائی 2020 سے لے کر 30 جون 2021 تک 2200 ارب روپے کے قرضے لے گی ان میں سے 1395 ارب روپے کے قرضے اندرونی ذرائع اور 800 ارب روپے بیرونی ذرائع سے قرض لئے جائیں گے۔

ایک بروکریج فرم کے چیف ایگزیکٹو محمد سہیل کہتے ہیں کہ اس طرح قرض لیتے رہنے سے پاکستان کے مالی اور معاشی مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں سرِفہرست ہے جہاں اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں لیکن آمدنی مسلسل گھٹ رہی ہے لہٰذا حکومتی اخراجات کو کم کیے بغیر قرضوں کے حجم کو کم کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */