اسلام آباد میں مندر کیوں نہیں بن سکتا - آصف محمود

بزمِ ناز کا خیالِ حسن دیکھیے، پورے خلوص سے مضامین باندھے جا رہے ہیں کہ اسلام آباد میں ایک مندر کی تعمیر کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟یہ اضطراب بتا رہا ہے کہ ہماری فکری اور نفسیاتی گرہیں کتنی شدید ہیں اور ہم دنیا کی اجتماعی دانش اور عہد موجود کی حقیقتوں سے کس قدر کٹ کر جی رہے ہیں۔ سوچ رہا ہوں، اس نفسیاتی گرہ کے ساتھ دنیا میں ہماری حکومت ہوتی تو مفتوحین اور اقلیتوں کے ساتھ ہمارے حسن سلوک کا عالم کیا ہوتا؟

ہماری نفسیاتی گرہوں نے ہمارا فکری وجود الجھا دیا ہے اور ڈور کا کوئی سرا اب ہاتھ نہیں آ رہا۔ ہم غلطی ہائے مضامین بن کر رہ گئے ہیں۔ ہم اس عہد کے مسائل کا حل صدیوں قدیم فقہ میں سے تلاش کرنے نکلتے ہیں اور پھر دارالحرب اور دارالاسلام جیسی بحثوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ جدید مسائل کو سامنے رکھ کر کوئی اپنے نتائج فکر مرتب کرنے لگے تو ایسا رد عمل پیدا ہوتا ہے کہ یہ سماج اس کے لیے اجنبی ہو جاتا ہے اور اسے جائے امان تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سماج فکری طور پر منجمد ہو گیا ہے اور فکری مباحث کے نام پر دائروں کا ایک سفر جاری ہے۔

ہماری فقہ کا بین الاقوامی تعلقات سے جڑا بڑا حصہ اس زمانے میں لکھا گیا جب مسلمانوں کی دنیا کے بڑے حصے پر حکومت ہوا کرتی تھی۔ یہ ایک غالب قوت کی فقہ تھی۔ اب نہ وہ غلبہ رہا، نہ وہ حالات رہے، نہ غلام رہے نہ کنیزیں رہیں، نہ کہیں ان معنوں میں دارالحرب رہا کہ دارالاسلام اس سے اپنے تعلقات کی گرہیں کھول ہی نہ پائے۔ بہت کچھ بدل گیا ہے، نہیں بدلیں تو فکری مباحث کی وہ گرہیں جو آج بھی جوں کی توں ہیں۔

اب حالات بدل گئے ہیں۔ اب کوئی دارالحرب نہیں ہے۔ دنیا بھر میں مساجد موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے باہر مسلمان احتجاج بھی کرتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں۔ اب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو ملکہ برطانیہ کے محل میں مسلمان ملازمین کے لیے نماز کے لیے ہال مختص کر دیا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں مسلمان دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی وزیر اعظم کی موجودگی میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مسلمان شہریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کی مساجد میں جاتے ہیں۔ صادق خان اب لندن کے میئر بن جاتے ہیں۔

ایسٹ لندن مسجد برطانیہ کی معروف مسجد ہے۔ اس کے قیام کے لیے جب برطانیہ نے فنڈ قائم کیا تو کیا ہمیں معلوم ہے اس فنڈ کے وائس چیئر مین لارڈ لیمنگٹن تھے، اس فنڈ کے سیکریٹری ٹی آرنلڈ تھے اورسر جان وڈ ہیڈ اس کے خزانچی تھے؟ فقہ اپنے عہد کے تقاضوں سے بے خبر ہو توغیر اہم ہو جاتی ہے۔ ہر عہد کی اپنی فقہ ہوتی ہے جو اسلام کے آفاقی اصولوں کی روشنی میں اس عہد کے مسائل اور معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ہمیں بھی شاید بین الاقوامی معاملات اور امور ریاست میں اب اپنے زمانے کی نئی فقہ کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کی صورت بدل چکی ہے۔ اب جدید قومی ریاستوں کا زمانہ ہے۔ تنازعات کے باوجود باہمی تعلقات قائم ہیں۔ ایک عدد اقوام متحدہ ہے جو اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود موجود ہے اور ہم اس کے رکن ہیں۔ اقوام متحدہ نے اقلیتوں کے حقوق کے کچھ قوانین وضع کر رکھے ہیں۔ پھر ہمارا ایک آئین بھی ہے۔ جس کے تحت تمام شہری برابر ہیں۔ اقلیت سے تعلق رکھنے والا اب غلام یا ذمی نہیں کہ اس کے قتل عمد پر قصاص نہ لیا جائے۔ وہ برابر کا شہری ہے اور اس کے حقوق بھی برابر کے ہیں۔ جدید تصور ریاست اور جدید معاہدوں کے بعد وہ قدیم فقہی مباحث فی الوقت غیر اہم ہو چکے ہیں جن میں اقلیت کو برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا تھا۔

جس آئین نے اسلام کو ریاستی مذہب قرار دے رکھا ہے اسی آئین کے دیباچے کے چھٹے پیراگراف کو ذرا کھول کر دیکھیے اقلیتوں کے بارے میں کیا لکھا ہے: ’قرار واقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی سے اپنے مذہب پر ایمان رکھ سکیں اور اس پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں۔‘اقلیتوں کو کم تر سمجھنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے دستور پاکستان میں نہ صرف تمام شہری برابر ہیں بلکہ یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

ریاست صرف مسلمانوں سے زکوٰۃ نہیں لے رہی۔ وہ کئی دیگر ٹیکس بھی لے رہی ہے۔ یہ ٹیکس بھی سبھی پر لاگو ہیں۔ پٹرول پر ٹیکس ہندو بھی اتنا ہی دیتا ہے جتنا ہم مسلمان۔ ہر طرح کا ٹیکس مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر لگایا جاتا ہے۔ ٹیکس کے یہ پیسے اگر اقلیت کی ایک عبادت گاہ پر خرچ ہو رہے ہیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟ پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں کا بھی پاکستان پر اتنا ہی حق ہے جتنا آپ کا اور میرا۔ وہ یہاں بھارت کے نمائندے نہیں، پاکستان کے شہری ہیں۔

ہماری فکری الجھنیں اور تضادات پریشان کن ہیں۔ ایک طرف ہمارے ہاں ریاست کو مدارس کے معاملات میں مداخلت کا حق دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا جاتا ہے کہ یہ اسلامی نہیں ہے اور دوسری جانب یہ اعتراض ہے کہ اسلامی ریاست میں حکومت مندر بنانے کی اجازت کیسے دے سکتی ہے؟ اگراقلیتی امور کے نام وزارت کا قلمدان ایک مسلمان سنبھال سکتا ہے تو مسلمان حکومت اقلیتی امور میں کچھ خرچ کر ڈالے تو اس میں کیا قباحت ہے؟

ہماری خوف کی نفسیات بھی خوفناک ہوتی جا رہی ہیں۔ ہمیں ہر کام میں سازش نظر آتی ہے اور اپنا اسلامی تشخص خطرے میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ سازشیں یقیناً ہوتی ہوں گی اور ہوتی رہیں گی لیکن ایسا بھی کیا خوف کہ ایک مندر تعمیر ہونے سے ہمیں خود شکستگی کے بوجھ سے دم گھٹتا محسوس ہونے لگے؟ ہم اتنے تنگ نظر کیوں ہو گئے ہیں؟پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں نے شعوری فیصلے کے تحت پاکستان میں رہنے کا انتخاب کیا تھا، مسلمانوں نے انہیں کسی فتح کے بعد اپنا غلام نہیں بنایا تھا۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com