عورت اور سیکولر طبقہ - سجاداحمدشاہ کاظمی

لفظ ’’ عورت ‘‘ کے لغوی معنی ’چھپی ہوئی شے‘ کے ہیں مگر ’چھپی ہوئی شے‘ سے مراد کچھ اور نہیں بلکہ ’ وہ شے جو عام نہ ہو ‘ ہے۔ اصطلاحی معنوں میں لفظ ’’ عورت ‘‘ کو مرد کے مخالف جنس کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں چونکہ ہزاروں سال سے مذہب اور سیکولر قوتوں کے درمیان کشمکش جاری ہے، لہذہ ہر بدلتے دور کے ساتھ ’’ عورت ‘‘ کی حیثیت کے حوالے سے مختلف اور عجیب و غریب نظریات ملتے ہیں، جن کی تفصیل کا بیان ضروری نہیں ہے۔

البتہ ہر دور میں عورت کے تقدس کو عورت تک رسائی کی کوشش کے ضمن میں اہل مغرب نے پامال کیا ہے۔ موجودہ دور میں اہل مغرب کے ہاں ’’ عورت ‘‘ کسی خاص قسم کی قابل استعمال شے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اور جب تک اس کا جسم کارآمد رہتا ہے تو اسے تمام سہولیات اور تمام خوشیاں بھی ملتی ہیں، جونہی جسم ڈھیلا پڑتا ہے اور اسکی جنسی استعداد کمزور پڑ جاتی ہے تو اسے یا تو اہل مغرب اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتے ہیں یا یہ بیچاری ’’ عورت ‘‘ بے یار و مددگار ماری ماری پھرتی ہے۔ اگر اپنے عروج کے زمانے میں اس نے بڑھاپے کی زندگی بسر کرنے کا کوئی بندوبست خود نہ کر رکھا ہو تو اسے بڑھاپا بھوکے اور ننگے رہ کر گزارنا پڑتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ اسلئے کہ اہل مغرب آزادی کے جس مفہوم پر انحصار کرتے ہیں، اس کی ہر اکائی ’’ دو اور لو مگر اپنی مرضی سے‘‘ پر مبنی ہے۔ آپ کے پاس دوسروں کی خواہش پوری کرنے کی استعداد ہے تو ٹھیک ورنہ محرومی آپ کا مقدر ہوگی۔ اسی آزادی کی بھینٹ جب اہل مغرب چڑھ گیا، عورت کو رشتوں کے تقدس اور صنفی امتیاز سے آزاد کر کے کھلے میدان میں چھوڑ دیا تو اہل مغرب کے ہاں عورت کی حیثیت محدود ہوئی، خاندانی نظام بکھر گیا اور ’’دم میں دم ہے تو سب کچھ ہے ‘‘ اسکے بعد عورت بے وقعت و بے حیثیت، بے بس و لاچار ہو کر رہ گئی۔

ہمارے ہاں بھی لبرل اور سیکولر لوگ جو مغربی طرز حیات سے متاثرہ ہیں، اب مغربی آزادی کے تجربہ کو مشرقی خواتین پر آزمانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ مرد و زن کو برابر کے حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ بھی جتاتے شرماتے نہیں کہ جنسی آزادی ’’ عورت ‘‘ کا حق ہے (دوسرے لفظوں میں نکاح کا بندھن عورت کے کیساتھ ناانصافی ہے، اسے کھلا چھوڑا جائے جب چاہے، جہاں چاہے، جیسے اور جس سے چاہے ’’ عورت ‘‘ اپنی جنسی خواہش پوری کر سکے) ۔ مغرب میں ایسا ممکن تھا کہ وہاں مذہب (کلیسا) اپنی کوتائیوں کی وجہ سے مغلوب رہا ہے۔ یہاں (مشرق) میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہاں مذہبی لوگوں کے مقابلے میں لبرل و سیکولرز (دس کے بعد ایک) کے حساب سے ہیں۔ الحمد و اللّٰہ یہاں فلحال اہل مذہب کا غلبہ ہے۔ مذہبی لوگ ( مسلمان) کسی بھی صورت یہاں ’’ عورت ‘‘ کو مکمل طور پر بھیڑیوں کی نذر ہونے سے بچانے کی تگ و دو میں کبھی بھی ناکام نہیں ہونگے۔

وہ حقوق جو جائز ہیں اور معاشرے کے چند ایک جاہل عناصر کے ہاتھوں پامال ہیں۔ انکے لئے لبرل و سیکولرز آواز اٹھانے سے ہی قاصر ہیں۔ ماں کے روپ میں ’’جنت‘‘ ، بہن ، بیٹی کے روپ میں ’’ رحمت ‘‘ اور بیوی کے روپ میں ’’ نعمت ‘‘ ہونے کا اعزاز بھی ’’عورت‘‘ کا حق ہے مگر لبرل و سیکولر ’’ عورت ‘‘ اس بنیادی حق کی بات سرے سے ہی نہیں کرتے۔ کہتے ہیں فلاں عورت نے فلاں کامیابی حاصل کی اور فلاں نے یوں کر دیا، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اگر کوئی ’’عورت‘‘ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو برقرار رکھ کر کسی ایکسٹرا کام میں بڑی کامیابی اپنے نام کرتی ہے تو ’’ اہل مذہب ‘‘ کو تو اسپر کوئی اعتراض ہی نہیں ہے۔ ’’ عورت ‘‘ نوکری، کاروبار، سیاست اور جو جو حلال اور جائز کام ہیں ضرور کرے ’’ اہل مذہب ‘‘کسی جائز کام پر قدغن قطعاً نہیں لگاتے مگر معاشرے کی بقاء اگر ’’ عورت ‘‘ کے وجود سے ہے تو ’’ عورت ‘‘ تمام ایکسٹرا کاموں سے پہلے اپنا وہ کردار بطریق احسن نبھائے دوم یہ کہ ’’ عورت ‘‘ اپنی عصمت کو برقرار رکھتے ہوئے فحاشی و عریانی سے دور رہے۔

’’اہل مذہب‘‘ کے ہاں جنسی اعتبار سے بھی عورت آزاد ہےـ وہ جس سے چاہے نکاح کرے، اور جب چاہے نکاح کا معاہدہ (بصورت خلع یا طلاق) ختم کر کے مقررہ مدت کے بعد اپنی پسند کے دوسرے مرد سے نکاح کر لے، مگر بغیر نکاح کے دن میں بیس پچیس بار زیادتی کروانے پر ڈٹ جانے والی ’’ عورت ‘‘ کو ’’ اہل مذہب ‘‘ روکنے اور ٹوکنے کی جسارت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

’’ عورت ‘‘ کو بحثیت انسان تو ازل سے ہی برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ ہاں مگر وہ حقوق کہ جن کا مطالبہ سیکولر کرتے ہیں، وہ دراصل حقوق نہیں محرکات بغاوت ہیں، کے بارے میں ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔ ’’عورت ‘‘ آزاد و خود مختار ضرور ہے مگر عورت اپنے فرائض اپنی فطرتی تقسیم کے مطابق سرانجام دینے کی پابند بھی ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ ’’ عورت ‘‘اپنے فطرتی کردار سے انکار کر کے معاشرے کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیلنے میں پیش پیش بھی ہو اور اپنی ہر منمانی کو اپنا حق کہہ کر اسکا مطالبہ کرنے لگے اور ’’ اہل مذہب ‘‘ بھی لبرل و سیکولرز کی طرح اس کے ہاں خود کو ہیرو ثابت کرنے واسطے یا اسکے قریب ہونے کی غرض سے اسکے حق میں بیہودہ آواز اٹھائے میدان میں آن کھڑے ہوں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */