کالے چور - خالد ایم خان

وہ دن گئے جب میں نہیں مانتا تھااُس وقت میں نے بہت شور مچایا تھا اور بابانگ دہل کہتا تھا کہ میں نہیں مانتا ایسے دستور کو ،صبح بے نور کو میں نہیں مانتا ،،میں نہیں مانتا۔ میں چیخ چیخ کر لوگوں سے اس خوبصورت گلستاں کے اُجڑنے کی ،بربادی کی سدائیں دے رہا تھا ،لیکن افسوس
میں نے یہ بھی کہا کہ

برباد گلستان کرنے کو بس ایک ہی اُلو کافی تھا

ہر شاخ پے اُلو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

لیکن ۔ نہیں! ملک کا کوئی ایک اخباربھی اُسے چھا پنے کو تیار نظر نہیں آتا تھا،یہ الگ بات ہے کہ میں سمجھ گیا کہ کیوں نہیں پبلش ہو رہی ہے میری یہ تحریر،،،، بھئی ظاہر ہے ایسا کڑوا سچ کون پبلش کرتا ہے اور وہ بھی سٹنگ حکمرانوں کے خلاف۔ اب یہ الگ بات ہے کہ وہ چور تھے اب کالے چورتھے یا چٍٹے،،، ہنوز اس کا فیصلہ ممکن نہیں ہو پایا ہے ،دلی دور است کی کہانی دکھائی دے رہی ہے مجھے ۔ کیوں کہ ۔ ہمارے ملک کا عدالتی نظام بہت قابل رشق ہے ،جہاں مامے جی کی عدالتیں ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہیںجن کے فیصلے بھی مامے جی کی عدالتوں ہی جیسے ہیں کہ ۔۔۔۔ تو بنائی جا تہ ! تو پنی جا۔ اور اس عدالت کو اس حال تک پہنچانے والے کالے چور،،،، سوری کالے کوٹ والے اہم کردار ادا کرتے نظرآتے ہیں،جو شروع سے ہمیشہ سے دو اور دو پانچ بنانے کے فن میں ماہر ہو چکے ہیں بلکہ اب تو دو اور دوپانچ کے بجائے دو۔

اور دو بائیس اس طرح بناتے ہیں کہ محترم جج ساحبان بھی انگشت بدنداں دکھائی دیتے ہیں ۔جس کے بعد کیا تیتر کیا بٹیرسُدھ بدھ ہی کھو سی جاتی ہے صاحبان کی آدھے کالے کوٹ والے ایک طرف اور آدھے دوسری طرف ان کی گہمن گھیریاں دیکھ دیکھ کر ،سُن سُن کر محترم جج تو کیا اس ملک کی عوام کے دماغ بھی شل ہو چکے ہوئے ہیں،سوچ سمجھ سے آری ہو چکے ہیںیہ کا لے چوروں کا وہ نظام ہے جس کے تحت یہ لوگ کسی بھی سفید پوش کوا علیٰ ججوں کے سامنے چور ثابت کرنے اور کسی بھی شریف چور کو پارسا ثابت کرنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں ۔لیکن!

جا کو راکھے سانئیاں مار سکے نہ کوئی ۔

گلستان اپنی بے پناہ بربادی کے بعد ہماری آج کی اسی دنیا کے اندر موجود ہے اور اس آج کی دنیا کے نئے چیلنجز سے نبرد آزما بھی دکھائی دے رہا ہے بس فرق پڑا ہے تو صرف یہ کہ پچھلے دنوں ملک کے وزیر اعظم صاحب نے کمال جراء ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اپنے انتہائی قریب ترین رفقاء کو کرپشن کے کیس ہونے پر آڑے ہاتھوں لیا ،اس ملک میں تو ہمیشہ ہی سے اُلٹی گنگا بہتی دکھائی دی ہے یقین نہیں آتا تو ،، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا،، سندھ کی سائیں گورنمنٹ کو ہی دیکھ لیں جناب مراد علی شاہ صاحب! آپ کواپنے ہی ایک کارکن کو دھمکاتے دیکھ کر آپ کے بارے میںہمیں کچھ اچھا نہیں محسوس ہو ا ، لیکن کیا کیا جائے ،، یہی گناہ کا موسم ہے کیا کیا جائے ،، ایک آپ ہی نہیں آپ کے دیگر لوگ بشمول آپ لوگوں کی عدی (ادی ) بھی اپنے الیکشن میں اپنے حلقے کے لوگوں کوڈراتے دھمکاتے دیکھی گئی ہیں ۔

دکھ ہوتا ہے سندھ میں بستے انسانوں پر کہ ان کے دل ودماغ سے غلامانہ سوچ کب ختم ہوگی یہاں کے ہاری آج بھی وڈیروں کی جیلوں میں نسل در نسل قید کی زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں سندھ کے کسانوں کی بیٹیاں کیا آج بھی کاری کی جاتی ہیں اگر کی جاتی ہیں تو جناب سید مراد علی شاہ صاحب اس دنیا کے علاوہ ایک اور دربار موجود ہے جہاںایک دن آپ کو جوب دینا ہے اور یقینا سب کو حساب دینا ہی ہے ۔ اس ملک کے کالے چور ہمارا پیچھا چھوڑتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں اس بارے میں کیا لکھوں سب کے سب ہوس کے مارے ہوئے ہیں یہ وہ اہل ہوس ہیں جن کو ہم سب گلستاں کے باسیوں کا منصف بنا دیا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو صرف اور صرف اپنی ذاتیات کے لیئے وقت پڑنے پر دنیا کے سب سے بہترین مدعی بنے دکھائی دیتے ہیں ان کو اپنی ذات کے علاوہ کسی سے کوئی سرو کار نہیں ے،اس سے زیادہ اور کیا لکھوں بس اتنا ہی !کہ

بھولی صورت دل کے کھوٹے

نام بڑے اور درشن چھوٹے

مجھے محسوس ہو چلا ہے کہ انقریب سسٹم بدلنے جا رہا ہے،کس انداز میں بدلے گا یہ تو کہناقبل از وقت ہوگالیکن محترمہ فردوس عاشق اعوان کی تبدیلی سسٹم کی تبدیلی کی جانب پہلا قدم کہلایا جا سکتا ہے اگر ایسا ہے تو پھر میں بڑے وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ مجھے لگتا ہے کہ ملک خدا داد پاکستان میںوزارتی نظام کو بائے بائے کرنے کا وقت آگیا ہے ، ملک کے چوروں ،ڈکیتوں کے لیئے نیک شگون نہیںلگتا ، اگر یہ خواب سچ ہو گئے تو پھرآٹامافیا کے ساتھ ساتھ شوگرمافیابھی بُلبل کی مانند پنجرے میں پھانس لی جائے گی،دوسری طرف ہمارے ملک کے مونہہ زور بگڑے میڈیا چینلزاور اُن کے بدماش اینکرزکوپابند کیا جاسکتا ہے ،کیوں کہ ہمارے میڈیا کے بعض لوگ اپنی اوچھی حرکتوں سے باز نہیں آرہے۔

مولانافضل الراحمان والے دھرنے میں حامد میر اور سلیم صافی کا کردار کچھ نہیں بلکہ پورے کا پورا منافقت سے بھرپور دکھائی دے رہا تھااُن کی باڈی لینگویج کسی نے دیکھی یا نا دیکھی ہوگی ہم نے بڑے وثوق کے ساتھ دیکھی بھی تھی اور محسوس بھی کی تھی اور اب حامد میر اور مالک نے جناب محترم مولانا طارق جمیل صاحب کے خلاف جوجو کچھ بھی کیا میں بس آپ لوگوں کے لیئے دعا ہی کرسکتا ہوں کہ اللہ آپ لوگوں کو ہدایت دے۔ آمین ۔

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com