بجٹ منظور۔ اب اگست کا انتظار- ارشاد احمد عارف

ذہین اور دانشور قانون دان اے کے بروہی 1950ء کی دہائی میں بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر تھے‘ حکومت پاکستان نے انہیں خصوصی پیغام بھیجا اور ہدائت کی کہ وہ بذات خود یہ پیغام وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو پہنچائیں‘بروہی صاحب نے وزیر اعظم ہائوس سے رابطہ کیا‘ نہرو نے انہیں پارلیمنٹ ہائوس میں واقع اپنے چیمبر میں بلا لیا‘ وقت مقررہ پر پاکستانی ہائی کمشنر پارلیمنٹ ہائوس پہنچے تو پتہ چلا کہ اجلاس جاری ہے‘ وزیر اعظم شریک ہیں اور انہوں نے بروہی صاحب کو انتظار کرنے کے لئے کہا ہے‘ بروہی صاحب مرحوم بتایا کرتے تھے کہ انتظار گاہ میں پارلیمنٹ کی کارروائی کا ایک ایک لفظ سنائی دے رہا تھا‘ مخالف اراکین پارلیمنٹ ‘وزیر اعظم اور حکومت کے لتّے رہے تھے‘ بے نقط کی سنا رہے تھے اور وزیر اعظم سمیت حکمران جماعت کا کوئی رکن کارروائی میں خلل ڈال رہا تھا نہ وزیر اعظم کی شان میں رطب للسان‘ آدھ پون گھنٹہ بعد اجلاس ختم ہوا تو جواہر لال نہرو سیدھے اپنے چیمبر آئے‘ بروہی صاحب سے معذرت کی کہ پارلیمنٹ کے اہم اجلاس میں شرکت کے باعث وہ مقررہ وقت پر ان کا استقبال نہ کر سکے۔ بروہی صاحب نے ازراہ تفنن بھارتی وزیر اعظم سے کہا ’’اہم اجلاس میں آپ کو ملاحیاں سنانے کے سوا کیا تھا‘ آپ یہی سننے کے لئے وہاں بیٹھے تھے یا مجھے انتظار کرانا مطلوب تھا‘ ‘نہرو نے کہا ’’ہمارا ملک جمہوریت سے آشنا نہیں‘ عام لوگ درکنار ارکان اسمبلی بھی مخالف نقطہ نظر سن کر سیخ پا ہو جاتے ہیں‘ میں اپنے ارکان کی تربیت کے لئے پارلیمنٹ کے سیشن میں باقاعدگی سے شریک ہوتا اور مخالفین کی جلی کٹی باتیں سنتا ہوں تاکہ یہ بھی اپنے اندر صبر و تحمل کا مادہ پیدا کریں اور سوچیں کہ اگر وزیر اعظم مخالفین کی باتیں سکون سے سنتے اور برداشت کرتے ہیں تو ہمیں بھی اس کی عادت ڈالنی چاہیے۔

پاکستان میں جمہوریت وہ اجنبی پودا ہے جسے لگانے کے بعد گھر کے بڑوں نے بار بار گملے سے اکھاڑ کر دیکھا کہ یہ جڑیں پکڑ رہا ہے یا نہیں؟ اسی اکھاڑ پچھاڑ میں یہ آج تک مضبوط تناور درخت نہیں بن سکا۔ جمہوریت کے پودے کی آبیاری سیاسی جماعتوں‘ سیاسی قیادت اور منتخب عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے مگر انہیں بھی جمہوریت صرف اس حد تک عزیز ہے کہ یہ ان کے ذاتی‘ خاندانی‘ قبائلی‘ گروہی مفادات کا تحفظ کرتی رہے۔پارٹی قائدین اور وزیر اعظم و صدر کے منصب پر فائز سیاست دان یہاں اپنے آپ کو کسی کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں نہ شاہانہ مزاج کے خلاف کوئی بات سننے ‘ ماننے پر تیار۔1958ء تک بری بھلی جمہوریت میں پارلیمنٹ سیاستدانوں کے احتساب اور تربیت کا ادارہ تھا اور وزیر اعظم اسمبلی سیشن میں باقاعدگی سے شریک ہوا کرتے۔ ذوالفقار علی بھٹو ‘محمد خان جونیجو‘ بے نظیر بھٹو اور یوسف رضا گیلانی کو بھی شرکت اور موقع محل کے مطابق ایوان سے خطاب کرنے کی عادت تھی مگر عمران خان اپنے سابقہ لاہوریے دوست میاں نواز شریف کی طرح اجلاس میں شرکت اور اپنے بیگانے ارکان اسمبلی کی تقریریں سننا کسر شان سمجھتے ہیں۔ ایک وجہ شائد یہ بھی کہ ارکان اسمبلی کو سیشن کے دوران وزیر اعظم سے ہاتھ ملانے‘ دل کے پھپھوڑے پھوڑنے اور اپنے حلقے کے کام کرانے کا موقع مل جاتا‘ جو طبع نازک پر گراں گزرتا ہے‘گزشتہ روز بجٹ اجلاس کے دوران یکے بعد دیگرے دو دن عمران خان نے پارلیمنٹ کے سیشن میں قدم رنجہ فرمایا تو وزیر‘ مشیر‘ ارکان اسمبلی خوشی سے پھولے نہ سمائے‘ جس ملک کے وزیر اعظم‘ جمہوریت اور جمہوری اقدار و روایات کی علمبردار سیاسی جماعتوں کے سربراہان پارلیمنٹ میں منتخب ارکان اسمبلی سے ہاتھ ملانے ‘ ان کے گلے شکوے سننے اور مخالفین کے تنقیدی تبصروں‘ طنز آمیز تقریروں کو برداشت کرنے پر تیار نہ ہوں وہاں جمہوریت پروان کیسے چڑھ سکتی ہے اور تحمل و برداشت کا کلچر فروغ کیونکر پائے گا ع ہم اگر عرض کریں گے تو شکائت ہو گی سارا قصور ان سیاسی لیڈروں اور وزیر اعظم کا بھی نہیں‘ عوام انہیں دیوتا اور مسیحا جبکہ منتخب عوامی نمائندے ظل سبحانی قرار دیتے نہیں تھکتے‘ کسی مسیحا‘ دیوتا اور ظل سبحانی کو کیا پڑی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے سیشن میں بیٹھ کر اپنے خلاف گستاخانہ جملے سنے اور کورنش بجا لانے والوں کے سلام کا خوش دلی سے جواب دے۔ فواد چودھری نے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیا‘ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں طوفان آ گیا۔

بجٹ اجلاس کے دوران حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور آئل ریفائنریز کے دبائو پر پٹرول کی قیمت میں ساڑھے پچیس روپے اضافہ کر دیا‘ ایک بار پھر شور مچا‘حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی اور اتحادیوں کی بے چینی دیدنی تھی مگر وزیر اعظم ایوان میں آ گئے‘ ون ڈش عشائیہ دیدیا‘ عوامی نمائندوں سے ہاتھ ملا لیا‘ گلے ملے بغیر ہی سارے گلے جاتے رہے‘ بجٹ یوں آسانی سے پاس ہو گیا کہ سب انگشت بدندا ںرہ گئے‘ اتحادیوں نے چوں چرا کی نہ اپوزیشن نے رکاوٹ ڈالی۔ فیصل واوڈا کی بات درست ثابت ہوئی کہ اپوزیشن خود بجٹ پاس کرائے گی۔ جمہوری ریاستوں میں بجٹ کی منظوری حکومت کے لئے عام انتخابات کی طرح زندگی موت کی حیثیت رکھتی ہے۔ کٹوتی کی ایک تحریک پر شکست حکومت کے خاتمے کا سبب بنتی ہے‘ پاکستان میں مگر حکومت کے خاتمے کی خواہش مند اپوزیشن بجٹ کو سنجیدگی سے لیتی نہ حکمران جماعت زندگی موت کا مسئلہ بناتی ہے۔ پچھلے سال مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کا رخ کیا تو اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے علاوہ عمران خان کے دیگر مخالفین نے اپنی ساری اُمیدیں دھرنا سے وابستہ کر لیں‘ یہ تک کہا گیا کہ موجودہ حکومت نئے سال کا سورج نہیں دیکھ پائے گی مگر نیا سال جس آب و تاب سے طلوع ہوا‘ عمران خان کی حکومت بھی اسی سج دھج سے برقرار رہی‘ یار لوگوں نے مارچ میں تبدیلی کی نوید سنائی‘ پھر بجٹ کی منظوری میں ناکامی سے اُمیدیں وابستہ کیں اور اختر مینگل کی اتحاد سے علیحدگی کو گریٹ گیم کا حصہ قرار دیا لیکن ؎ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا اب سنا ہے کہ بجٹ کے بعد اگست کے مہینے کو خطرناک قرار دیا جا رہا ہے البتہ اس بار سال کا تذکرہ نہیں‘ کہ کون سے سال کا اگست؟ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی طرز پر دو چار مزید حماقتیں کر دیں تو بلا شبہ عوامی حمائت میں کمی آئے گی اور عمران خان کے اقدامات کا دفاع کسی کے لئے آسان نہیں رہے گا‘ تبدیلی کی دعوے دار اور مافیاز سے فیصلہ کن جنگ کی علمبردار حکومت اگر دو سال گزار لے‘عوام کو خاطر خواہ ریلیف دے سکے نہ مافیاز کے قلع قمع کے لئے ابتدائی نوعیت کے اقدامات ہوتے نظر آئیں بلکہ مافیاز کے ماضی سے زیادہ مضبوط ہونے کا تاثر ملے تو مایوسی بجا ہے لیکن یہ اپوزیشن کا کارنامہ ہے نہ کونوں کھدروں میں کھسر پھسر کرتے منتخب عوامی نمائندوں اور سول بالادستی کی آڑ میں مفادات کا کھیل کھیلنے والے عناصر کی سازشوں‘ ریشہ دوانیوں کا ثمر۔ ویسے بھی مال بچائو اور کھال بچائو قیادت دوسروں کا کیا بگاڑ سکتی ہے البتہ عمران خان کو اپنی آستینوں میں چھپے سانپوںنے ڈس لیا تو کسی دوسرے کا کیا قصور؟ بائیس ماہ گزر گئے عمران خان وعدے کے مطابق مرکز اور صوبے میں کارگزاری نہ دکھانے والے وزیروں کو تبدیل کر سکے نہ بار بار شرمندگی سے دوچار کرنے والے مشیروں سے نجات پائی‘ اسمبلی سیشن میں شریک ہو کر کم از کم وہ اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کو یہ تاثر دے سکتے تھے کہ وہ اپنوں اور بیگانوں کی کھری باتیں سننے کا حوصلہ رکھتے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا شوق ہے مگر یہ نوبت بھی نہیں آئی۔ بجٹ منظور ہو گیا‘ اچھی بات مگر ہمارے ہاں بجٹ کی منظوری کسی حکومت کی کامیابی اور پائیداری کا پیمانہ کب تھی؟۔